مکرو دغا سے پاک سیاست۔۔۔
22 ستمبر 2018 2018-09-22

عمران خان حکومت اڑان بھرنے سے پہلے ہی ہمہ نوع تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ ان کے چاہنے والے بھی ناقد و ناصح بنے بیٹھے ہیں۔ سیکولر طبقہ عمران کے چاہنے والوں میں غالب تر ہے۔ سو قادیانی مشیر لگانے پر خوشی سے بغلیں بجانے والے ان ہم نواؤں کو، عاطف میاں کے ہٹائے جانے پر بغلیں جھانکنی پڑ گئیں۔ ساری امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ قادیانیوں کا بھی امیدوں کا چراغ گل ہو گیا۔ سو خوب انگریزی واویلا رہا۔ دوسری جانب عوام الناس دھرنا دور میں بھاری وعدوں کی بنا پر دودھ شہد کی نہروں کی توقع لگا بیٹھے تھے۔ مہنگائی، بے روزگاری کے ستائے عوام اچھے دنوں کے سنہرے خواب دیکھ رہے تھے۔ اب جو منی بجٹ کا تودہ آن گرا۔ تو بجلی گیس کی مہنگائی کے نتیجے میں گرانی کی عفریت نے تمام بنیادی ضروریات مہنگی کر دیں۔ اشرافیہ یہ دکھ کیا جانے۔ تمام ارباب حکومت فرانسیسی شہزادی کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ارب، کھرب پتی! ’روٹی نہیں ملتی تو کیک کھالو‘۔ نمائشی اقدامات سے پیٹ نہیں بھرا کرتا۔ گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دینے سے کچھ دن تو دل بہل جائے گا۔۔۔ لیکن حقیقی مسائل تو منہ پھاڑے وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ چند گاڑیوں کے بک جانے اور سرکاری بھینسوں کے فروخت کیے جانے کی خبریں تو بھوکے معاشی، اقتصادی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ لیلائے اقتدار، 22 سال کے انتظار بعد سامنے آئی تو منہ دکھائی دینے کی بھی تیاری پاس نہ تھی! اگرچہ جس برطانیہ کے سائے میں پل کر جوان ہوئے وہاں تو اپوزیشن میں رہتے ہوئے مکمل ظلی کابینہ (Shadow Cabinet) تیار رہتی ہے۔ تاہم یہاں کیونکہ ایمپائر کی انگلی ہی کے مرہون منت رہے۔ سو یقین اور فرصت کی شاید کمی تھی۔ اب کابینہ کی صورت حال یہ ہے کہ پہلے تو سیاسی مجبوری والی کرسیاں رکھی گئیں۔ ہر آ کر بیٹھنے والے کو قوم اور انصافیوں نے حیرت سے دیکھا۔ دانتوں تلے انگلی دابی، ہنس دیئے، چپ رہے! منظور تھا پردہ ترا۔۔۔ اس کے بعد دوستیوں اور عالمی ایجنڈوں کی باری تھی۔ عالمی ایجنڈہ ، عاطف میاں پر قادیانیت کے ہاتھوں دم توڑ گیا۔ اب دوست لائے جا رہے ہیں۔ زلفی بخاری، وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے بیرون ملک پاکستانی، وزیر مملکت کی حیثیت سے آئے ہیں۔ اس پر کھلاڑیوں کے علاوہ کھلے ڈلے خوش باش طبقے نے خوب خوشیاں منائیں۔ گلو کارہ، اداکارہ صنم سعید کی طرف سے ’مثبت تبدیلی‘ اور ’نئے پاکستان‘ پر چہکتی ہوئی ٹویٹ آئی۔ آتی بھی کیوں نہ۔۔۔! صنم سعید اور زلفی بخاری کی بہت قریبی گہری دوستی والی تصویر ’دی نیوز‘ نے ہمراہ چھاپی۔ اس تقرری پر وضاحت کرنے والوں نے کہا کہ اصلاً صاحب کردار، با صلاحیت، ہنر مند افراد درکار تھے! اب ’صاحب کردار‘ پر ناک بھوں چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ شہد اور زیتون کا تیل پینے والے، اداکاراؤں کے قرب والے ’باصلاحیت‘ تو ہوتے ہی ہیں۔ پہلے سیکولر حضرات ماتم کرتے رہے۔ اب تکلیف ہو رہی ہے ’ریاست مدینہ‘ کے دعوؤں، وعدوں پر تکیہ کر بیٹھنے والوں کو! آپ با حجاب خاتون اول اور برہنہ پا مدینہ منورہ جانے پر ہی مطمئن ہو رہئے۔ اب یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ ریاست مدینہ میں صحابہؓ کی روایت ننگے پیر کی بجائے حرمت دین کے لیے کفر کے مقابل صف آراء ہو کر سر کٹوانے کی ہے۔ اسلام کا برانڈ نام جو وہاں چلا تھا وہ ایک ہی ہے۔ شریعت اور حکومت الٰہیہ ! تاہم اب دنیا کے پلوں تلے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ چکیں۔۔۔ مسجد اقصیٰ یہودیوں کے ہاتھوں پامال ہو رہی ہے۔ فلسطینی تنہا کیے جا چکے ہیں صرف لاشیں اٹھانے کو۔ اب دور ہے سعودی عرب کے دورے

میں محمد بن سلمان (وژن 2030ء کی شہرت والے!) کا۔ وہاں سے امارات بھی گئے۔ پرتپاک استقبال، بہترین وعدے ہمراہ ہیں۔ تاہم یہ دونوں شہزادے ٹرمپ کے یہودی داماد کشنر کے بہتر دوست، شراکت کار اور اسرائیل امریکہ سے دوستی میں سہولت کار بھی ہیں۔ ادھر عمران خان کے تینوں بچے (عمران کی برہنہ پائی کے باوجود) یہودی خاندان کی گود میں پل رہے ہیں۔ سو بہت سہانے خواب دیکھنے کی گنجائش نہیں۔ فتنۂ دجال کے سر پر سینگ تو نہ ہوں گے۔۔۔ تمام اسباب و آثار سامنے ہیں۔ ہمارے ہاں تمام تقرریاں انہی آقاؤں کی مرہون منت ہیں جن کے ٹکڑوں پر ہم پلتے ہیں۔ اللہ کا دیا کھانے کی فکر ہوتی تو سودی نظام کے تحفظ کے لیے ہر حکمران یوں کمر بستہ نہ ہوتاً سو امریکہ کا دیا کھاتے رہے۔۔۔ برطانیہ دبئی ہمارے حکمرانوں کے میکہ، سسرال اور ہسپتال کادرجہ رکھتے ہیں۔ بلا استثناء سبھی کے لیے! اب ملالہ وہاں نرسری میں تیار ہو رہی ہے۔۔۔!

(خاکم بدہن!) امریکہ افغانستان پر منہ پھلائے بیٹھا رہا تو پروا نہیں۔ چین اور روس موجود ہیں۔ روس مسلمانوں کی ’خیر خواہی‘ میں امریکہ سے کچھ کم تو نہیں! 1979ء تا 1989ء کا افغانستان اور اب بشار الاسد کا اتحادی، شام کی اینٹ سے اینٹ بجانے والا روس! چین کے حوالے سے جو عالمی حقوق انسانی کے اداروں کی رپورٹیں مسلم آبادی بارے چھپ رہی ہیں، ان سے ہمیں سروکار رہا بھی کب ہے! اسلام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے میں تمام عالمی طاقتیں ایک پیج پر ہیں، کسی نہ کسی عنوان سے ۔ رپورٹیں شائع کرتے ہیں تو صرف بغض معاویہ میں ایک دوسرے کے بخیئے ادھیڑنے کو! ورنہ باری باری سبھی کے ہاتھ ہمارے خون میں رنگے جا چکے ہیں۔ مسلمانوں اور حکمرانوں کا خون سفید ہو چکا ہے۔ اس قتل عام میں بالواسطہ یا بلا واسطہ سبھی شریک ہیں الا ماشاء اللہ! انتہا پسندی ، دہشت گردی کی اصطلاحوں نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔ اس دوران پوری دنیا آفات سماوی کی لپیٹ میں مسلسل رہی ہے گلوب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک۔ غیر معمولی طوفانوں کا تسلسل! امریکہ کے بعد اب برطانیہ بھی اس کی زد میں ہے۔ طوفانوں کے نام بڑے اہتمام سے ، ان کی پیدائش اور آمد سے پہلے ہی رکھ لیے جارے ہیں۔ وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ طوفانوں کو انسانی نام دینے سے شاید وہ کچھ انسانیت اختیار کر لیں۔ ان کی آمد سے انسانیت پر جو گزرتی ہے ہے شاید اس کا لحاظ کر لیں! کیا شاندار منطق ہے! اس کے باوجود گزشتہ سال بھر سے مسلسل آتے طوفانوں کی تباہی جنگی پیمانے کی ہے۔ جنگل کی بے مہار آگیں جو جا بجا لگیں پھیلیں وہ اس پر مستزاد ہیں۔ اس وقت بھی امریکہ فلورنس نامی ہولناک طوفان کی زد میں ہے جس سے 15 لاکھ آبادی انخلا پر مجبور ہوئی ہے۔ کئی دہائیوں میں ایسا طوفان یہاں نہیں آیا۔ میری لینڈ، ورجینیا ، کیرولینا اور واشنگٹن اس کی زد میں ہیں۔ بلند طوفانی لہریں، شدید بارشیں اور سیلابی صورت حال متوقع ہے اور ایمرجنسی نافذ ہے۔ ٹیکساس میں نہایت غیر معمولی جسامت کے مچھر اور کیڑے مکوڑے حملہ آور ہیں۔ گھبرا کر لوگ نقل مکانی بھی کر گئے ہیں۔ مسلم کش نما رود اور فراعنہ مچھروں اور لہروں کی زد میں ہیں۔ طوفانوں سے انسانیت کی توقع رکھنے والے خود کتنے وحشی ہیں! یہ مکافات عمل ہے۔ ان کے عوام کے لیے جو اپنے ٹیکسوں سے دنیا بھر میں بربادی پھیلانے والی جنگوں میں حصہ دار بنے بیٹھے ہیں۔ خود وہی سب کچھ سہنا پڑ رہا ہے جو انہوں نے ہم پر مسلط کیا۔ اموال و جائیداد کی تباہی، دربدری، خوف، آسمانی آفات کی گھن گرج اور چکنا چور کر دینے والے بگولے، لاکھوں بجلی سے محروم، پروازیں منسوخ!

وزیراعظم کی کراچی آمد پر لاپتا افراد کے لواحقین، ان سے ملاقات اور داد رسی کی امید لیے مزار قائد پہنچے۔ اب تک وزیراعظم نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔ پچھلے دنوں سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے پولیس سے سوال کیا لاپتگان کے مقدمے میں۔۔۔ ’صرف اتنا بتا دیں کہ لاپتا افراد زندہ ہیں یا نہیں؟‘ یہی ایک سوال پورے پاکستان کے پاپتگان کے لواحقین پوچھتے ہیں۔ ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ اس بے رحم عالمی جنگ نے مفروضوں کی بنیا دپر اہل دین نوجوانوں کو جبری لاپتگی کا نشانہ بنایا ہے۔ عدالتوں میں نہ پیش کیا۔ یک طرفہ اندھے انصاف نے فرد جرم عائد کی۔ کہیں پولیس مقابلوں میں مارا۔ گھروالوں کو خبر اور جسد خاکی تک سے محروم رکھا۔ ریاست مدینہ کا نام لینے والو۔۔۔! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر ننگے پاؤں چل کر گئے تھے؟ وہ ذات پاک کافر کے ساتھ بھی انصاف اور رحم میں کس معیار پر تھی؟ غزوۂ بدر کے قیدی سہیل بن عمرو جو اسلام دشمنی میں شدید تھے، کے لیے حضرت عمرؓ نے اس کے سامنے کے دانت توڑنے کی اجازت مانگی، تاکہ آپؐ کے خلاف بول نہ سکے۔ اس پر مغلوب قیدی دشمن کے لیے فرمایا۔ ’میں اس کا مثلہ نہیں کروں گا کہ کہیں اللہ میرا مثلہ نہ کر دے اگرچہ میں نبی ہوں‘۔ بلا ثبوت مسلمانوں، پا بند شریعت، حفاظ کے ساتھ سالہا سال سے روا مظالم کی شنوائی کیا اس حکومت میں ہوگی؟ انسان دوستی کے الاپے جانے والے راگ ، حقیقت کا روپ کب دھاریں گے؟ تحریک انصاف ، صاف چلی شفاف چلی، ادھر کب دیکھے گی؟ ماضی کے تجربات تو یہی کہتے ہیں کہ:

ہر دم فریب قوم کو دیتے ہیں رہنما

مکر و دغا سے پاک سیاست نہ ہو سکی


ای پیپر