میری ماں! مجھے حکم دو!
22 ستمبر 2018 2018-09-22

ابھی کل کی بات لگتی ہے۔! لوگ کہتے ہیں، اس 16 ستمبر کوپورے چھبیس برس ہو چکے اس حادثے کو گزرے، جس کے اثرات میرے اندر جوں کے توں موجود ہیں۔ سولہ ستمبر 1992ء کی وہ صبح،جب پی اے ایف سرگودھا کے ICUمیں، بیڈ نمبر 4 پر، میں نے اپنی ماں کو سفید چادر اوڑھے خاموش دیکھا تھا! عجب لمحہ تھا وہ، جس کی تشریح کے لئے میں موجود لغت سے کوئی بھی حسبِ حال لفظ ابھی تک نہیں ڈھونڈ سکی! کامل چھبیس برس بیت گئے۔۔۔ کیلنڈر نے اس دفعہ جب ان گزری دو دہائیوں کا اعلان کیا، تو میں نے ششدر ہو کر خود سے پوچھا، اتنی لمبی جدائی۔۔۔ اور اس جدائی کا بے آب و گیاہ سفر، کیسے کاٹ لیا میں نے؟ میں اتنی بہادر کب سے ہو گئی؟ مجھے اتنا سلیقہ کیسے آ گیا زندگی گزارنے کا؟ وہ زندگی جو اس سفید چادر میں لپٹے ٹھٹھرے، ٹھنڈے وجود کی لمحہ لمحہ مرہون منت رہتی تھی۔۔۔ وہ زندگی، جسے اس خاموش سنگِ مرمر میں ڈھلے چہرے کے نقوش سے، بھولے بھٹکے راستوں کا شعور میسر آتا تھا! وہ زندگی جس کے بے ڈھب طور طریقوں کوسلیقہ بخشتا تھا، وہ وجود، جو 16 ستمبر کو برف کی ٹھنڈی سِل کی طرح میرے سامنے پڑا، مجھے پکار پکار کر کہتا تھا! میرے بچے! اب زیادہ محتاط زیادہ خبردار ہو جانا۔۔۔ تمہاری پشت ننگی ہوگئی ہے۔۔۔ اب وہ دیوار درمیان سے ہٹ گئی، جو دنیا کی سختیوں کو تم تک آنے سے روکتی تھی۔۔۔ وہ دعا خاموش ہو گئی، جو آرزوئے خاص کی طرح تمہاری ماں کے دل میں ہمہ وقت تڑپتی رہتی تھی۔۔۔ وہ لب خاموش ہو گئے، جن پر تمہارا ذکر زندگی کے نغمے کی طرح جاری و ساری رہتا تھا! میرے بچے! اب دنیا کے خارزار میں ننگے پاؤں تنہا چلنے کا عمل شروع ہو چکا، دیکھو تلوے بچانا۔۔۔ کہیں زیادہ زخمی ہو گئے، تو ان پر مرہم کون رکھے گا؟؟؟

میں وحشت سے اُس چادر میں ڈھکے، بے حس و حرکت وجود کو دیکھ رہی تھی، جوخاموش تھا، اس چہرے کو دیکھ رہی تھی، جس کی آنکھیں، میری نیلی آنکھوں والی گڑیا(جسے بچپن میں، میں اپنے ساتھ سلایا کرتی تھی) کی طرح دوبارہ کھلنے کی خواہش میں ہمیشہ کیلئے بند ہوچکی تھیں۔۔۔ مجھے یاد ہے میں تو اپنی گڑیا کی موت پر بھی ہفتوں روئی تھی۔۔۔ یہ تو۔۔۔وہ ہستی تھی، جس کے بغیر مجھے رہنا ہی نہیں آتا تھا، وہ جس کی رہنمائی کے بغیر میرا ایک دن نہ گزرتا تھا، وہ جس کی آواز سنے بغیر میری صبح نہ ہوتی تھی، وہ جس کے لمس کے بغیر، میرا وجود پتھر کا ہو جاتا تھا، بھلا میں اس کے بغیر کیسے رہ سکتی تھی، کیسے جی سکتی تھی؟ یہی مشکل ICU میں، کھڑے کھڑے چند لمحوں میں مجھ پر بیت گئی! اور یہی وہ بیتی ہے، جسے پچھلی دو دہائیوں سے، اُسی ICU میں کھڑی مسلسل دہرا رہی ہوں۔ نظمیں لکھ کر، کہانیاں اور کالم لکھ کر، مگر یہ بیتی ہے کہ اس نے دکھائی نہ دینے والی زنجیروں کی طرح میری رفتار کو جکڑ رکھا ہے، میرے دل کو مٹھی میں بھینچ رکھا ہے، میری آنکھوں کے منظروں پر قبضہ کر رکھا ہے، نتیجہ! میں آج بھی وہیں، پی اے ایف کے ICU میں کھڑی پتھرائی نگاہوں سے، سفید چادر سے ڈھکے خاموش وجود کو دیکھتی ہوں، اور خود سے پوچھتی ہوں مجھے اس ہستی کے بغیر رہنا کب آئے گا؟ مجھے اس مہربان وجود کے بغیر جینا کب آئے گا؟؟

میں اپنی پیاری ماں کی تیسری اولاد تھی۔ ضدی، لڑاکی، غصیلی! جو ذرا سی بات پر پاؤں پٹخ پٹخ کر زمین ادھیڑ دیتی تھی، جس کی ضد فوراً پوری نہ ہوتی تھی، تو وہ رو رو کر قیامت اٹھا دیتی تھی اور جو ماں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے بہانوں بہانوں سے اپنی موجودگی کا اظہار کرتی تھی، مگر جسے بچپن میں بیاہ کر، ماں نے صبر کی نکیل اس کے ناک میں ڈال دی اور تحمل اور برداشت کا سبق اس کے کانوں میں انڈیل دیا اور کہا! میرے بچے! یہ وہ سوغاتیں ہیں جو ہمیشہ تمہارے کام آئیں گی، اور ان سب سے بڑھ کر میری دعائیں! گھبرانا نہیں، زندگی کا مقابلہ کرنا! بھلا اک کمزور چھوٹی نابالغ بچی، خوفناک اور پل پل ناقابل فہم ہو جانے والی زندگی کا مقابلہ کیسے کرسکتی تھی؟ کیسے سمجھ نہ آنے والے لوگوں اور رویوں کے سامنے کھڑی ہو سکتی تھی؟ چنانچہ گھبراتی تھی اور ماں کے سامنے ڈھیر ہو جاتی تھی، وہ اُس ڈھیر کو پھر پوری محبت سے پرانے سانچے میں ڈھال کر، ترتیب دیتی تھی اور میدانِ کارزار میں اتار دیتی تھی، یہ کہہ کر ہمت نہیں ہارنا، جاؤ اللہ تمہارا نگہبان ہو! سو اللہ کی نگہبانی اور ماں کی دعا کے سہارے مرحلے آتے رہے، گزرتے رہے۔۔۔ اور ایک چھوٹی کمزور نابالغ بچی، بڑی ہو گئی! مگر یہ بچی اپنے پورے قد کے ساتھ 16 ستمبر 1992ء کے ایک تاریک لمحے میں اچانک ریت کا ڈھیر ہو گئی! پورے چھبیس برس ہو گئے، اسی ریت کے ڈھیر کو اک جیتا جاگتا کامیاب انسان ثابت کرتے، پیچھے مڑ کر نہ دیکھتے، ہمت نہیں ہارنا، جاؤ اللہ تمہارا نگہبان ہو کی تسبیح پڑھتے، اور خود کو پل پل یہ باور کراتے! وہ مہربان عورت مر گئی، جس کی آواز سورج کی پہلی کرن کی طرح دل کی تاریکی کو روشن کر دیا کرتی تھی، جس کا لمس ریت کے ڈھیر کومضبوط چٹان میں بدل دیا کرتا تھا، جس کے قدموں میں بیٹھ کر، عافیت کے جہان میسرآ جاتے تھے، جس کی آنکھوں کی نرمی، نور کے ہالے کی طرح اپنے گھیرے میں لے لیا کرتی تھی، وہ اب اس جہانِ رنگ و نور سے روشنی اور ہوا کی طرح نکل گئی اور اس مٹی کی ڈھیری میں منتقل ہو گئی، جو خاموش ہے، گونگی ہے، بہری ہے! جہاں جا کر میں اپنی بچھڑی ماں کوپکارتی ہوں، زور زور سے آوازیں دیتی ہوں۔ دنیا کی زمانے کی بے مہر رتوں کے قصے سناتی ہوں، اسے بتاتی ہوں، تمہارے بعد میرے پیارے ابا جی بھی جب چلے گئے تو ماں ! تمہارے گھر کے درودیوار بالکل ہی غیرمانوس اور اجنبی ہو گئے۔ انہوں نے ہمیں پہچاننے سے انکار کر دیا، گھر کے ہال میں رکھی تمہاری تصویر جس پر اک زندہ مسکراہٹ چپکی ہوئی تھی، اچانک مردہ ہو گئی، ابا جی دو سو ستاسی اے، سیٹلائٹ ٹاؤن سے کیا نکلے، جیسے زندگی نکل گئی، وہ زندگی جس سے وہ چھوٹا سا کنبہ جیتا تھا، جس کی حفاظت وہ خوبصورت، مہربان، پروقار اور شفیق ماں باپ کرتے تھے، جنہوں نے اپنے بچوں کو انسانوں سے پیار، خدا کی پہچان، رشتوں کی ضرورت، خودآگہی، دیانت داری ، اور صلہ رحمی جیسی خوبیوں کا شعوردیا، اوربتایا، میرے بچو! یہ دنیا دارالعمل ہے، اک امتحان گاہ ہے، جس کے بارے پرچے حل ہو جائیں، تو بھی پاس اور فیل کا اختیار تمہارے پاس نہیں ہے، لہٰذا نتیجے کی فکر میں پڑے بغیر، نہایت دیانت، خلوص اور محنت سے پرچے حل کئے جانا،بس یہی تمہارا کام ہے۔ کامیابی وہ ہے، جوتمہیں نہیں دوسروں کو دکھائی دے، جس سے صرف تمہاری ذات کو نہیں خلقِ خدا کو

بھی فائدے پہنچے۔۔۔ چنانچہ، اُس کامیابی کو ترجیح دینا، جس میں بظاہر تمہیں خسارہ بھی چاہے مل جائے، مگر اللہ کی مخلوق کا فائدہ ہو جائے! یہ چھوٹا سا میرے درویش ماں باپ کا کنبہ، ان کے جانے کے بعد اپنی ناقص العملی کی وجہ سے،کامیابی کے ان اعلیٰ معیارات تک تو نہیں پہنچ سکا، مگر اس نے اپنی ذات سے دوسروں کوتکلیف پہنچانے سے ہمیشہ گریزکیا۔! اُسی چھوٹے سے کنبے کی یہ فرد، پل پل خود کوبتاتی ہے، وہ کن ماں باپ کی بیٹی ہے، اور اس کے فرائض اورذمہ داریاں کیاہیں؟ کوشش کرتی ہے،اپنے تلوے زخمی ہو جائیں، مگر کسی دوسرے کو کانٹا نہ چبھے، تکلیف نہ ہو،مگرمیری ماں ۔۔۔ یہ ہے بہت مشکل،بہت ہی مشکل! اپنے بچپن سے بچھڑ جانے والی تمہاری یہ ضدی، غصیلی اور لڑاکا بیٹی۔۔۔ جس کی ناک میں تم نے صبر کی نکیل ڈال کرسیدھا چلنے، دائیں بائیں نہ دیکھنے اورپیچھے مڑ کر نہ دیکھنے کا عہد لیاتھا۔! وہ صابر ہو گئی، غصہ جیسے اس کے لہو کے ذرات سے بھی نکل گیا۔ اور رہا لڑنا، تو وہ اب جتنا بھی لڑتی ہے، خودسے لڑتی ہے، اس دنیا سے نہیں، جو ہمہ وقت اسے پچھاڑنے کیلئے تیارہوتی ہے، مگر ایک بات یاد رہے میری ماں ! تمہاری یہ تیسری اولاد ، تمہاری پیاری بیٹی! ابھی تک ICU میں کھڑی ہے، وہیں جہاں تم اسے چھوڑ کر گئی تھیں۔۔۔ پتھر ہو گئی ہے، مجھے معلوم ہے اس پتھر میں تمہارا لمس جان ڈال سکتا ہے۔۔۔ آؤ، میرا ہاتھ پکڑو اور مجھے پی اے ایف سرگودھا کے آئی سی یو سے نکال کر، زندگی میں دوبارہ شامل کر دو ، آؤ میرے ماتھے پہ بوسہ دے کر، مجھے حکم دو ۔۔۔ اب یہاں کبھی نہ آنا، اِس آئی سی یو کے دروازے تم پر ہمیشہ کے لئے بند ہوگئے۔۔۔؟


ای پیپر