’’ کربلا آج بھی ہے ، فوج یزید آج بھی ہے ‘‘
22 ستمبر 2018 2018-09-22

نزولِ اسلام سے پہلے اہل عرب کے لا دین قبائل لات منات اور عزیٰ اور ان کے جیسے سینکڑوں خداؤں کو اپنا رب مانتے تھے۔ آنحضرت صلعم کی بعثت کی شکل میں خدائے ذوالجلال نے ان پر احسان کیا اور انہیں کفر کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے نورِ حق سے سرفراز کیا لیکن آنحضرت محمد صلعم کے وصال کے بعد جیسے جیسے نبوت کا زمانہ دور ہوتا گیا اسلام کے نام پر گمراہ کن روایات اور نظریات نے اسلام پر یلغار کر دی جس کے سرخیل کہنے کو تو مسلمان تھے ان کی لمبی لمبی داڑھیاں بھی تھیں وہ نماز روزہ کے پابند بھی تھے لیکن فتنہء خوارج کی طرح ان کے خطرناک نظریات اسلام کو ایک ایسے راستے پر لیے جا رہے تھے جو نجات کا نہیں بلکہ تباہی کا راستہ تھا یہ دور امام عالی مقام سید نا حضرت امام حسن علیہ اسلام کا دور تھا جنہوں نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی قربانی سے دین حق کی شمع فروزاں کو گل ہونے سے بچایا اور فتح اور شکست کو نئے معنی و مفہوم عطا کیے۔

یزید ملت اسلامیہ کا خود ساختہ جانشین تھا جس نے اسلام میں ملوکیت کا نظام پھر سے رائج کر دیا اور اپنے والد حضرت امیر معاویہ کے بعد خلافت اسلامیہ کو وراثت کی شکل دیدی اور استحصال اور قومی خزانے کی لوٹ مار کا ایک ایسا ظالمانہ اور آمریت پر مبنی نظام مسلط کر دیا جس میں باد شاہت تھی اور بادشاہ کی خواہش حکم اور قانون کا درجہ اختیار کر گئی تھی۔ اس کے خلاف جو سب سے پہلی آواز اٹھائی گئی وہ حضرت امام حسینؓ کی آواز تھی کہ ہم یزید کی بیعت نہیں کریں گے یہ انکار کسی ذاتی بنار پر نہیں تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ امام حسینؓ نے ایک فاسق و فاجر کی اطاعت سے انکار اس لیے کیا تھا کہ وہ اس دستور اور آئین کو ماننے سے انکاری تھے جس کی بنیاد عوام کے استحصال پر رکھی گئی تھی حالانکہ امام حسینؓ کو اقتدار کی قطعی طور پر خواہش نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے بادشاہ وقت کے خلاف مسلح بغاوت کا اعلان کیا تھا انہوں نے صرف ایک غلط اور کرپٹ حکمران کو ووٹ دینے سے انکار کیا تھا۔ ووٹ کا لفظ میں نے استعمال کیا ہے کہ جس طرح آج کے دور میں حکمران کا فیصلہ ووٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے اس دور میں خلیفا کی Legitimacy کا مآخز عوامی حلقوں کی جانب سے اس کی بیعت پر منحصر ہوتا تھا سادہ الفاظ میں امام حسینؓ کی قربانی کا نقطہء معراج یہ ہے کہ آپ نے ایک غلط اور اسلام مخالف شخص اور مطلق العنان حکمران کی حمایت کرنے اور اسے ووٹ دینے سے انکار کر دیا۔ آج کے دور میں ہمارے لیے کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ قیادت کے چناؤ میں کسی ایسے شخص کی تائید نہ کریں جو صادق اور امین نہ ہو اور جو اسلامی حدود اور شعائر اسلام کی

واضح خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔ مولانا مودودی مرحوم سے کسی نے سوال کیا کہ جب ساری دنیا نے یزید کی بیعت کرلی تھی تو امام حسین نے انکار کیوں کیا آپ نے فرمایا کہ یہ سوال ہی غلط ہے سوال یوں ہونا چاہیے تھا کہ جب امام حسینؓ نے بیعت سے انکار کر دیا تھا تو باقی لوگوں نے اس کے باوجود اس کی بیعت کیوں قبول کی۔ اس تناظر میں اگر آج آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں آج بھی انہی حالات کا سامنا ہے مگر جب بیعت کرنے کا وقت ( عام انتخابات ) آتا ہے تو ہم امام حسینؓ کے سنہری اصولوں کو بھول جاتے ہیں جو دین اسلام کی اساس ہے ۔حالانکہ بقول شاعر:

کربلا آج بھی ہے فوج یزید آج بھی ہے

حضرت امام حسینؓ کے حالات زندگی پر غور کریں تو جب وہ مدینہ سے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے تو پرانے لوگوں نے انہیں منع کیا تھا کہ وہ کوفی حمایت پر اعتبار نہ کریں لیکن امام عالی مقام کے ذہن میں ان ہزاروں علماء کے فتوے گونج رہے تھے جنہوں نے یزید کی حکمرانی کو غیر شرعی و غیر آئینی قرار دیا تھا مگر بعد ازاں جب یزید نے انہیں بلا کر دھمکیاں دیں تو یہ سارے مفتی اپنے فتوے سے منحرف ہو گئے تھے حضرت سلطان باہو نے اسی بات کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

جے کر دین علم وچ ہوندا سر نیز ے کیوں چڑھدے ہُو

18 ہزار جو عالم باہو اگے حسین ؑ دے مردے ہُو

لیکن اپنی جان کو خطرے میں دیکھ کر ان علماء نے اپنے ضمیر کی آوز کو کو دبا کر فتوے سے رجوع کر لیا حالانکہ امام حسینؓ کا سبق یہ تھاس کہ حق اور اصولوں کی سر بلندی کے لیے ڈٹ جائے اور حق کی خاطر جان دینی پڑے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ لیکن امام حسینؓ سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں پر نظر دوڑائیں تو دنیاوی عزت و جاہ اور مالی مفادات کی خاطر اصولوں پر ایسی ایسی قلابازیاں کھائی جاتی ہیں کہ غیر مسلم بھی دیکھ کر شرما جاتے ہیں بقول علامہ اقبالؒ :

تہذیب میں ہم ہیں نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

امام حسینؓ کا یزید کی بیعت سے انکار اس بناء پر بھی تھا کہ وقت کے حکمران کی طرف سے اگر حرام کو حلال قرار دیدیا جائے تو وہ حلال نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے حق کی خاطر باطل کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے امام حسینؓ کی عظیم قربانی کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہو یا امام حسینؓ کے اصولوں کی پاسداری کی ہو شاعر مشرق نے کیا خوب کہا ہے کہ

قافلہء حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں

گرچہ ہے اب بھی تابدار گیسوئے دجلہ و فرات

حق اور باطل کی اس جنگ میں یزید کی جھوٹی فتح کی وجوہات کا اندازہ لگائیں تو منظر ہمارے آج کے سیاسی منظر سے مختلف نہیں ہے اس وقت کی آرمی اس وقت کی جوڈیشری اور بیورو کریسی ساری یزید کے ساتھ تھی کیونکہ انہیں حاکم وقت سے ملنے والے ذاتی مفادات اپنے دین اپنے ضمیر اور اخلاقیات سے زیادہ عزیز تھے اور جب آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہو تو

کیسا نبی کیسا خدا

پیسہ نبی پیسہ خدا

ایک روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمرؓ خانہء کعبہ سے ملحقہ حطیم میں عبادت میں مشغول تھے کہ ان کی آنکھ لگ گئی آپ اپنے وقت کے عالم اور مفتی ایک شخص نے آ کر نیند سے جگا کر کہا کہ طواف کعبہ کے دوران تیسرے چکر کے دوران میرے ہاتھ پر مکھی بیٹھی جسے میں نے غیر ارادی طور پر مار دیا اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ مجھ سے حرم میں قتل ہو گیا ہے میرے لیے کیا کفارہ ہے ؟ عبد اللہ بن عمرؓ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو اس نے جواب دیا میں کوفہ کار ہنے والا ہوں آپ نے نہایت جذباتی انداز میں اس کا گریبان پکڑ لیا اور نہایت غصے سے سوال کیا کہ اس مکھی پر تم اس قدر رنجیدہ ہو تم اس وقت کہاں تھے جب اہل بیت نبی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا او کسی کوفی نے آواز نہیں اٹھائی ۔ یہ واقعہ ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنے کے لیے دعوت فکر دیتا ہے کہ ہم کسی بد عنوان کرپٹ اور غیر صادق و غیر امین کی تائید نہ کریں بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری

کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اند وہ و دیگری

تیرے دین و حرم سے آ رہی ہے بوئے رہبانی

یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری

امام حسینؓ کی عظیم قربانی نے اس خطرناک آئیڈیالوجی کو مسترد کر دیا کہ طاقت حق ہے بلکہ اس کے برعکس آپ نے آنے والی نسلوں پر بھی یہ ثابت کیا کہ طاقت حق نہیں بلکہ حق طاقت ہے ۔ اور اگر کبھی اقتدار اور حق میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو اقتدار کے ایوانوں کو ٹھوکر مار دیں۔

ہماری نئی نسل کو امام حسین کی قربانی کا اصل سیاق و سباق لکھایا جائے تو ہماری بہت سی معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں DPS سکول چکوال کی ایک ہونہار طالبہ نے امام حسینؓ کے لیے اپنے منظوم خراج عقیدت میں علینہ احسان نے لکھا ہے :

جس نے نانا کا وعدہ وفا کر دیا

گھر کے گھر کو سُپرد خدا کر دیا

کچھ دیکھ کر ہوا ہے زمانہ حسینؓ کا

مہنگا پڑا یزید کو سودا حسینؓ کا


ای پیپر