بدلتی صورت حال
22 ستمبر 2018 2018-09-22

کہا جا رہا تھا۔ نواز شریف کے ساتھ انہیں مندرجہ ذیل مسائل ہیں۔ وقت صحیح ثابت کر رہا ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کا خاتمہ

پچھلی پارلیمنٹ اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے تیار نہیں تھی۔ چنانچہ اپنی مرضی کی پارلیمان لائی گئی اور اب عمران حکومت نے اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کا عندیہ دے دیا ہے۔ یاد رہے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو جو مالیاتی خود مختاری دی گئی تھی۔ اس نے وفاق کی آمدن میں کمی کر دی تھی۔ نتیجتاً اداروں کے مالی حصے میں بھی کمی آ گئی تھی۔

امریکہ اور سی پیک

امریکہ سی پیک کو لے کر خوش نہیں تھا۔ ہمارے اداروں پر امریکی دباؤ بڑھ رہا تھا۔ فوجی امداد بند ہو چکی تھی۔ عمران حکومت آئی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر کا بیل آوٹ پیکیج لینا چاہ رہی تھی۔ امریکہ نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اور آئی ایم ایف کو منع کر دیا۔ چنانچہ ایک بار پھر مالی دباؤ کا شور مچا کر سعودی عرب کو سی پیک میں شامل ہونے کی آفر کر دی گئی ہے۔ اب اگر سعودی عرب سی پیک پر سرمایہ کاری کرتا ہے۔ تو یہ سمجھنا مشکل نہیں۔ وہ کن شرائط پر یہ پیسہ دے گا۔ اور سعودی عرب کی آڑ میں کونسا ملک سی پیک پر اپنا تسلط قائم کرے گا۔ کیا ہم چین کو ناراض کر سکتے ہیں۔ ساؤتھ چائنہ

مارننگ پوسٹ نے خبر دی ہے۔ چینی صدر شی پنگ نے جنرل باجوہ کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں زور دے کر یہ بات کہی کہ سی پیک کو لے کر دونوں ملکوں میں اعتماد کا رشتہ قائم رہنا چاہیے۔ غالباً صدر شی پنگ کا اشارہ اس جانب تھا کہ عمران حکومت سی پیک پر نظرثانی چاہتی ہے تاکہ پاکستان کو مزید فائدہ ہو سکے۔ مارننگ پوسٹ نے یہ بھی لکھا۔ دونوں لیڈروں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر سی پیک کے قرضوں کو لے کر پاکستان کسی تیسرے ملک کی سرمایہ چاہتا ہے۔ تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ لیکن سوال وہی ہے۔ کیا سی پیک کسی اور ملک کی شرائط کے مطابق چل سکتا ہے۔ جبکہ یہ منصوبہ اپنی کامیابی کے لیے مکمل طور پر چینی تجارت پر انحصار کرتا ہے۔

پراپرٹی بزنس اور ٹیکس

آپ کو یاد ہو گا۔ اسحاق ڈار نے پلاٹوں اور پراپرٹی بزنس پر ٹیکس عائد کر دیا تھا۔ اور اس ٹیکس کو پراپرٹی کی خریدو وفروخت پر تین سالوں کے حساب سے فکس کر دیا تھا۔ اسی طرح اسحاق ڈار نے بڑے شہروں میں پراپرٹی کی خریدو فروخت کی قیمتوں میں انڈر انواسنگ روکنے کے لیے ایف بی آر کو قیمت طے کرنے کے اختیارات دے دیے تھے۔ اس سے نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ ہونا تھا۔ اور فراڈ اور بلیک منی پر کنٹرول ہونا تھا۔ اور پراپرٹی کی صحیح قیمت پر ٹیکس لگنا تھا۔ جس سے ریاست کی آمدن میں اضافہ ہوتا۔ آپ جانتے ہیں اس وقت ملک میں کون لوگ پلاٹ، پلازہ اور پراپرٹی کا کاروبار کر رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کی اس ٹیکس پالیسی کو مخصوص حلقوں میں سخت ناپسند کیا گیا تھا۔ اب دیکھ لیں۔ اسد عمر نے اسحاق ڈار کی اس ٹیکس پالیسی کو ختم کر دیا ہے۔ اور نا ٹیکس دہندگان کو پراپرٹی اور کاریں خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ یعنی جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں۔ ان پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ اور نان فائلرز کو فائدہ پہنچا دیا ہے اور اندر انواسنگ کا پھر سے دروازہ کھول دیا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی قیمتوں کا تعین کرنے کا جو اختیار حکومت کو دیا گیا تھا۔ اس کا نوٹیفکیشن روک لیا گیا ہے۔ اب آپ خود سوچیں۔ فائدہ کسے پہنچایا گیا ہے۔ اور اسحاق ڈار کیوں اتنا ناپسندیدہ ہو گیا تھا۔ جو بجٹ سے بالا پیسے بھی نہیں دے رہا تھا۔ اور پراپرٹی بزنس پر ٹیکس بھی لگا رہا تھا۔ اگر آپ نے اس نقطے کو مزید سمجھنا ہے تو ایک نظر ملک کے ان تمام وزراء خزانہ پر ڈال لیں جو ستر سال میں آے۔

اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے کس قدر قریب تھے۔ اور اسد عمر جو جنرل عمر کا صاحبزادہ ہے اور کیوں اسٹیبلشمنٹ کو اتنا عزیز ہے۔ منی بجٹ میں اسد عمر نے نئے ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کی شکل میں 163 ارب مزید رقم اکھٹی کی ہے۔ جبکہ 250 ارب کی ترقیاتی فنڈ میں کٹوتی کی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا ہے کہ بجٹ کا کل خسارہ 890 ارب تک پہنچ گیا ہے۔ اور صرف دو ماہ کے امپورٹ بل کے برابر غیر ملکی کرنسی ذخائر رہ گئے ہیں۔ گویا نئے ٹیکسز اور ڈیوٹیوں میں مزید اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اگر کسی غیر ملک یا بین الاقوامی فنڈر سے امداد یا قرض کی آفر نہ آئی۔ آپ کو یاد ہو گا۔ عمران خان نے اپنی الیکشن مہم میں نئے ٹیکس دہندگان کے ذریعے 800 ارب روپے مزید اکھٹے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ تقریباً بجٹ خسارے کے برابر ہی رقم بنتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر نئے ٹیکس دہندگان کی بجائے پرانے ٹیکس دہندگان پر ہی بوجھ ڈال دیا گیا ہے اور پراپرٹی مافیا اور آٹو موبائل مافیا کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ جس سے نہ صرف مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گا بلکہ لوگوں کو جابز سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔ یہ صورت حال تحریک انصاف کے اس انتخابی نظریے کی خلاف ورزی ہے۔ جس میں نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ اور نئی جابز کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اور ہاں وہ جو ڈیلی اربوں روپے کی کرپشن پر قابو پا کر ریونیو بڑھانا تھا۔ وہ وعدہ بھی ہوا ہو گیا۔ اسی طرح وہ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی؟

بھارت سے تعلقات

اچھا یہ کچھ عجیب سی بات ہے۔ نوازشریف بھارت سے تعلقات کی بات کرنے لگا تو اسے مودی کا یار ڈکلیئر کر دیا گیا۔ کلبھوشن یادیو نکال لیا گیا۔ بھارت میں نواز شریف کا بزنس قائم کر دیا گیا۔ نوازشریف کے کھاتے میں 450 ارب ڈال دیے گئے جو اس نے بھارت پہنچائے اور ڈان لیکس نکال کر نواز شریف کو سکیورٹی رسک ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ بھارت سے امن اور دوستی اور تجارت کی بات کرتا ہے۔ لیکن اب عمران حکومت خط لکھ لکھ کر بھارت سے امن مذاکرات مانگ رہی ہے۔ تجارت کی بات کر رہی ہے۔ بھارت کو وسط ایشیا تک تجارت کی راہداری دینے کی آفر کر رہی ہے۔ اور سب خاموش ہیں۔ سوچتا ہوں الٰہی یہ ماجرا کیا ہے ؟ لگتا ہے نواز شریف کی شکل بطور وزیراعظم قبول نہیں تھی یا اس کی وجہ سے کہیں سے بوٹ شدید دکھ رہا تھا؟ یا پریشر بہت بڑھ گیا ہے۔ حیرت ہے۔ نواز شریف واجپائی کو لاہور بلاے تو کارگل ہو جاے اور پھر کارگل کا ہیرو جنرل مشرف بھارت سے امن اور تجارت کی بات کرے۔ نواز شریف پھر یہی بات کرے تو مودی کا یار ، اور اب اپنی یعنی عمران حکومت مذاکرات کی دعوت دے اور سناٹا۔ کم از کم اب آپ کی حکومت ہے۔ بھارت میں نواز شریف کا بزنس اور وہاں بھجوایا پیسہ ، اس کے ثبوت ہی دے دیں۔

بجٹ میں مختص مالی حصے سے زیادہ کا تقاضہ

خواہ اضافی ٹیکس لگاو ، ترقیاتی فنڈ میں کمی کرو یا سی پیک سے نکالو۔ پیسے کی سخت ضرورت ہے۔ نوازشریف حکومت نے انکار کر دیا تھا۔ عمران حکومت نے خزانہ خالی ہونے کا رولا ڈال کر اضافی ٹیکس لگا دیے ہیں۔ اشیاء کی قیمتیں بڑھا دی ہیں اور سی پیک میں مخصوص حصے کے لیے نظر ثانی جاری ہے۔

سویلین محکموں پر کنٹرول

ریلوے کارگو اور پی ٹی وی پر آغاز ہو چکا۔ باقیوں پر جلد علم ہو جائے گا۔ ریڈیو کی مرکزی عمارت لیز پر دینے کی خبر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔باقی خاکی و سویلین برتری کی کشمکش تو ہے ہی، اب تو اندھوں کو بھی نظر آ رہا اس وقت ملک پر کون حکومت کر رہا ہے۔ اور کون چندے اکٹھے کر رہا ہے؟


ای پیپر