۔۔۔راہ میں ہیں سنگ گراں اور
22 ستمبر 2018 2018-09-22

پاکستان کے تین دفعہ بننے والے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف۔ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کی 19 ستمبر 2018ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا اور اسی شام یہ تینوں خصوصی طیارہ سے لاہور جاتی عمرہ اپنے گھر پہنچ گئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم پر ظاہر ہے کہ مسلم لیگ نون والے بہت خوش ہیں اور اسے انصاف کا بول بالا قرار دے رہے ہیں ۔ا س کے برعکس تحریک انصاف اور اس کے ساتھی اس بات سے ناخوش ہیں وہ اپنا غم و غصہ یہ کہہ کر چھپا رہے ہیں کہ یہ تو ایک عارضی فیصلہ ہے اصل فیصلہ تو اپیل کی سماعت کے بعد ہوگا ۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم عدالت کے ہر فیصلہ کا احترام کرتے ہیں ۔

میاں محمد نواز شریف کو جس انداز اور جس فیصلہ کے تحت سزا دی گئی تھی اس کے بارے میں اس وقت بھی سنجیدہ اور سینئر وکلا کا کہنا تھا کہ یہ اتنا کمزور فیصلہ ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ان کا دفاع ممکن نہیں ہوگا اور بالآخر پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں انہیں باعزت بری کر دیں گیں۔

میاں محمد نواز شریف کو پاکستا ن کے سپریم کورٹ کے پانامہ کیس میں اقامہ کے الزام میں نااہل قرار دے دیا تھا اور NABکو کہا تھا کہ ان مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ میں کرے۔سپریم کورٹ اس فیصلہ پر ایک JITکی تحقیقی رپورٹ کے نتیجہ میں پہنچا تھا۔

جو لوگ اس سارے مقدمہ پر نظر رکھ رہے ہیں ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہNABمیاں محمد نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کے مقدمہ میں خواجہ حارث کی جرح کا سامنا نہ کر سکی اور NABکے سب سے بنیادی اور بڑے گواہ واجد ضیادھرام سے گر گئے ۔مگر اس کے باوجود NABعدالت نے میاں محمد نواز شریف(دس سال)،ان کی بیٹی مریم نواز(سات سال) اور داماد کیپٹن صفدر(ایک سال) کو اس وقت سزا دی (6جولائی )جب وہ انگلینڈ میں بیگم کلثوم نواز کی تیمارداری کے لئے گئے ہوئے تھے۔اس وقت بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ لوگ واپس نہیں آئیں گے مگر نواز شریف ان کی بیٹی اور کیپٹن صفدر پاکستا ن آئے (13جولائی) اور سیدھے اڈیالہ جیل لے جائے گئے۔ان لوگوں کا پاکستان واپس آنے کا فیصلہ بہت ہی مشکل تھا کیونکہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری اس سطح پر تھی کہ ان کی زندگی بچانے کے لئے ان کو ventilatorپر ڈال دیا گیا تھا۔

پھر ہم نے وہ افسوس ناک خبر سن لی کہ بیگم کلثوم نواز کا برطانیہ میں انتقال ہو گیا۔میاں محمد نواز شریف کو یہ اطلاح اڈیالہ جیل میں ملی ۔ان کے چھوٹے بھائی اور پاکستا ن مسلم لیگ کے صدر۔ نیشنل اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر فوراً اڈیالہ جیل پہنچے اور نواز شریف کو پیرول پر رہائی کی درخواست پر دستخط کرنے کے لئے کہا مگر نواز شریف نے ایسا کرنے سے انکار کردیا لہٰذا شہباز شریف نے خود ہی پیرول کی درخواست پر دستخط کئے اور اس طرح یہ تینوں لاہور پہنچے۔ بیگم کلثوم نواز کا آخری دیدار اور نماز جنازے میں شریک ہو سکے ۔بیگم کلثوم نواز کا یقیناًیہ تاریخی جنازہ تھا اور یہ اچھی بات تھی کہ ہر سیاسی جماعت اور مکتبہ فکر کے لوگوں نے اس میں شرکت کی۔بیگم کلثوم نواز اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کی وفات کے بعد شاید بہت کم لوگوں کے بارے میں اتنا لکھا گیا ہو جتنا کہ ان کے بارے میں لکھا گیا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ میاں محمد شہباز شریف نے بڑے بھائی کو بیگم کلثوم نواز کے چالیسیویں تک پیرول پر توسیع کے لئے رضامند کرنے کو کوشش کی مگر انہوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور قل کے اگلے ہی دن اڈیالہ جیل واپس چلے گئے۔میاں محمد نواز شریف ان کی بیٹی اور کیپٹن صفدر نے قانون کے مطابق اپنی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی تھی۔مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق

نہیں چاہتی تھی کہ وہ الیکشن سے پہلے جیل سے باہر آئیں اس لئے اُن کی اپیل پر فیصلہ دیر سے آیا ۔اب جب کہ اُن کے لاڈلے سیاسی رہنما عمران خان نیازی وزیر اعظم بن چکے ہیں اور خلائی مخلوق اور وہ ایک پیج پر ہیں اس لئے اب وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے باہر آنے سے وقتی طور پر انہیں کوئی چیلنج نہیں ہے اور سپریم کورٹ نے تو پہلے ہی نواز شریف پر عمر بھر کے لئے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی بھی لگا ئی ہوئی ہے۔

پاکستان میں یہ رواج ہے کہ ہم ہر اہم فیصلہ کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش یا ڈیل ڈھونڈتے ہیں اس لئے اسلام آباد کے ہائی کورٹ کے میاں نواز شریف کی سزا کی معطلی کے فیصلہ کے بارے میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں صدر اسحاق کی طرف سے نواز شریف کی حکومت توڑنے کے خلاف نواز شریف کی بحالی کا فیصلہ سپریم کورٹ کا سب سے اہم اور تاریخی فیصلہ تھا مگر بدقسمتی سے اس کے بارے میں بھی چمک کا الزام لگا کر پاکستان میں ایک مستحکم جمہوری نظام کو پنپنے نہیں دیا گیا۔خلائی مخلوق نے آخر میاں محمد نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان سے استعفیٰ لے لیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ فیصلہ سے میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے میاں محمد نواز شریف کا قد کاٹھ بڑھا ہے ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کے میاں محمد نواز شریف کو جیل کی سلا خوں کے پیچھے تنہائی میں اپنے بارے اور اپنی سیاست کے بارے میں خوب سوچنے سمجھنے اور ناقدانہ جائزہ لینے کا موقع ملا ہوگا۔

ابھی نواز شریف کے خلاف دو مقدمات NABعدالت میں چل رہے ہیں اور ان کا فیصلہ بھی جلد متوقع ہے۔اس کے علاوہ اس کیس میں بھی ابھی حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔NABبھی اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ (NAB والوں نے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا مگر سپریم کورٹ نے ان کی درخوست کو فضول کہہ کر رد کردیا بلکہ NABپر بیس ہزار روپیہ جرمانہ بھی کردیا)۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس وقت مرکز اور تین صوبوں میں ایسی حکومتیں ہیں جن کو میاں نواز شریف ایک آنکھ بھی نہیں بھاتا اور وہ یقیناًنواز شریف کو ہی نہیں بلکہ شہباز شریف کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پہلی ہی کیبنٹ میٹنگ میں انہوں نے نواز شریف کا نام Exit Control Listمیں ڈال دیا تھا۔

لاڈلہ اور اس کی پارٹی یہ فیصلہ کس طرح ہضم کرتی ہے ؟ لیکن یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ خلائی مخلوق نے میاں نواز شریف کے خلاف اتنا زہریلا پراپیگنڈہ کیا ہوا ہے کہ اس کا اثر بہت دیر تک رہے گا۔پاکستان کے بہترین مفاد میں یہ بات ہے کہ حکومت وقت کو برداشت کا مادہ پیدا کرنا چاہئے اور سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہئے ۔یہ عمران خان کی حکومت کے لئے بھی اچھا ہے اور پاکستان میں صحت مند سیاسی روایات ڈالنے کے لئے بھی مفید ہے۔ اگر تحریک انصاف کے پنجاب کے وزیریاسر ہمایوں کے فیصلہ کو مد نظر رکھا جائے تو مریم نواز کی سزا کی معطلی کے اس فیصلہ کے بعد ضمنی الیکشن لڑ نے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔لوگ مریم نواز کو ہی مستقبل کا لیڈر سمجھتے ہیں ۔


ای پیپر