نئی حکومت‘احتساب اور معاشی چیلنجز!
22 ستمبر 2018 2018-09-22

ملک اس وقت معاشی مشکلات اور اندرونی و بیرونی چیلنجز کے بھنور میں گھرا ہوا ہے حکومت کی جانب سے جو منی بجٹ پیش کیا گیا اس میں جو حکومت نے ٹیکس عائد کئے ہیں اس سے نہ صرف مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا بلکہ عام آدمی بھی مایوسی کے دوراہے پر آکھڑا ہے۔ مہنگائی کے جن نے بوتل سے نکلتے ہی بلند و بانگ خوشنما وعدوں کے میناروں میں دراڑیں ڈال دی ہیں ۔عمران خان نے جب سے زمام اقتدار سنبھالا اسوقت سے لیکر ابتک چند ہفتوں کی مسافت طے کرنے کے باوجود ملکی خزانہ خالی ہے زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر ہیں لیکن یہ بھی زمینی حقائق ہیں کہ کہ اس صورتحال میں نئے ٹیکسز لگا کر ہی حکومت اور ریاستی امور کو چلایا جا سکتا ہے لیکن مزید مہنگائی سے غریب عوام کی کمر میں ہی خم پڑے گا۔ مہنگائی‘ غربت و بیروزگاری‘ لوڈشیڈنگ‘ کرپشن و بدعنوانی‘ رشوت‘ سفارش‘ اقرباء پروری‘ انصاف کی عدم دستیابی جیسے مسائل کے حل کیلئے ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آئی جس کی وجہ سے نئی حکومت کی گورننس سوالیہ نشان کی زد میں ہے۔عمران خان کی حکومت جب سے قائم ہوئی ہے تب سے عوام نئی حکومت کی جانب سے عوامی ریلیف کے ولولہ انگیز عملی اقدامات کئے جانے کی منتظر ہے۔ اور نقاد بھی حکومت کی کارکردگی پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں کہ عمران خان نے جو نئے پاکستان کا نعرہ عوام کو دیا تھا اس نعرے کو تبدیلی کے ذریعے کیسے عملی جامہ پہناتے ہیں۔بطور وزیر اعظم عمران خان کی پہلی قومی تقریر کو سیاسی و عوامی حلقوں میں بہت سراہا گیااور اس تقریر پر بحث و مباحثہ کے بعد ناقدین بھی یہ مان گئے کہ انتخابات سے قبل عوامی جلسوں سے خطاب کرنیوالے اور بطور وزیر اعظم عمران خان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ چونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مرکز اور کے پی کے‘پنجاب میں حکومت سازی کے مراحل بخوبی طے کر لئے ہیں اب عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی نظریں تحریک انصاف کے سو روزہ پلان پر ہیں جس میں تحریک انصاف

نے پاکستان کی اقتصادی حالت کو بدلنے‘وفاق کو مضبوظ کرنے‘سوشل سروسز اور گورننس کو بہتر بنانے‘زراعت کے شعبہ مین ترقی‘پانی کی قلت کا خاتمہ‘جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے‘عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے‘صوبہ بلوچستان میں مفاہمتی عمل کا آغاز‘ریاستی اداروں کو مضبوط کرنے کے وعدے شامل ہیں اگر تحریک انصاف سو روز میں ان کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے ملک کو ڈائریکشن دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر یقیناًپاکستان دنیا کے معاشروں کیلئے بہتریں مثال بن کر ابھرے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سو دن بعد عوام کو یہ تحریک دینے میں کامیاب ہو پاتی ہے کہ یہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے یہ تحریک انصاف کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔تحریک انصاف نے یقیناًاپنے سو دن کے پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پاکستان کی عوام کو درپیش مسائل کا بھی احاطہ کر لیا ہو گا لیکن اس پلان اور حکومت کو اپنی آئینی مدت پورا کرنے کیلئے اپوزیشن کے تعاون اور دیگر ممالک کی بھی ضرورت پڑے گی کیونکہ اس کے بغیر نہ ہی معاشی ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے اور نہ ہی قانون سازی کے مراحل طے ہو سکیں گے۔ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں میں سے پاکستان تحریک انصاف اپنے منشور کیساتھ اقتدار میں آئی ہے گزشتہ پانچ سالوں میں کے پی کے میں اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کے باوجود اپنے نئے منشور میں خود اپنے لئے مشکل چیلنج مقرر کئے ہیں ۔بائیس سالہ محنت کے بعد عمران خان نے وزارت عظمی کے منصب کا ہدف تو حاصل کر لیا ہے اب یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ عمران خان اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑی ثابت ہوتے ہیں یا سیاستدان اس کا فیصلہ آنیوالا وقت کریگا۔موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے اہداف مکمل کرنے کیلئے ملکی معاشی مفادات کیلئے ایسے ممالک کیساتھ معاہدے کرنے چاہیے جہاں قرض کے عوض قومی خود مختاری پر کوئی قدغن نہ آئے ۔عمران خان کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے حوالے سے حکومتی ترجمان فواد چوہدری نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سی پیک میں اب ہمارا تیسرا سٹریٹجک یا اقتصادی پارٹنر جو ہوگا وہ سعودی عرب ہے اور بہت بڑی سرمایہ کاری سعودی عرب سے پاکستان کو اس راستے سے ملے گی معاشی اہداف حاصل کرنے کیلئے پاکستان کی سفارتی سظح پر یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور اسی طرح دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مخالفت کی پالیسی اپناتے ہوئے پاکستان کوچاہیے کہ ملک کو دہشت گردی سے پاک کر کے ہمسایہ ممالک کیساتھ طویل المدتی جنگ نہ کرنے کے معاہدے کر کے ملکی تمام تر وسائل ملک و ملت کے مفادات پر صرف کرے تاکہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی خودمختاری کی جانب قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کو چاہیے کہ قومی حمیت اور اپنی خودمختاری کو یقینی بناتے ہوئے مسلم ممالک کیساتھ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ مسلم ممالک کیساتھ بہترروابط مضبوط ہونگے اور دوسرا فائدہ یہ کہ ملک کی خارجہ پالیسی کی درست سمت کا رخ متعین ہو جائگااورپھر پاکستان امریکہ سمیت کسی بھی ملک

کا کبھی ایندھن نہیں بنے گا۔دوسری جانب ملک میں احتساب کے عمل کو مزید تیز کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر سعودی ماڈل کو اپناتے ہوئے کرپٹ افراد سے ملک کی لوٹی گئی دولت واپس لیکر قومی خزانے میں جمع کی جائے اور جن کرپٹ افراد کے خلاف ثبوت مل جائیں ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے تاکہ ملک جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے اس میں کمی واقع ہو سکے اور یہ ملک معاشی بنیادوں پر استوار ہو کر حکومتی و ریاستی امور چلانے کے قابل ہو سکے کیونکہ اگر پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض کیلئے دروازہ نہیں کھٹکھٹانا تو پھر کرپٹ افراد کے خلاف بے دریغ اور بلا امتیاز کارروائی عمل میں لاتے ہوئے لوٹی گئی دولت واپس لیکر قومی خزانے میں جمع کرنا ہو گی۔پاکستان کے دورہ پر آئے برطانوی وزیر ساجد جاوید نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بد عنوانی کے خاتمے کیلئے انصاف و احتساب کی شراکت کے آغاز کا اعلان کیا ہے جو کہ بڑا خوش آئند اقدام ہے کیونکہ پاکستان کو اس وقت مطلوب متعدد اہم شخصیات جن میں متحدہ قومی موومنٹ کے سابق سربراہ الطاف حسین‘سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار شامل ہیں یقیناًدونوں ممالک کے درمیان تعاون‘معلومات اور انٹیلی جنس تبادلے کے بغیر ان قومی مجرمان تک رسائی ممکن نہیں اس لئے حکومت کو چاہیے کہ اس پیشرفت کو تسلسل دے ۔کیونکہ سو دن کا پلان ہی کپتان کیلئے اصل ٹیسٹ کیس ہے اب وہ اس پلان میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں وہ دن اب دور نہیں رہے،نظریات پر سودے بازی‘الیکٹیبلز کو اپنی صفوں میں شامل کرنا سیاسی سمجھوتے کے بل بوتے پر وزارت عظمی کی دہلیز پر قدم رکھنا یقیناًایسے سیاسی عوامل پاکستان کی روایتی سیاست کا وتیرہ رہے ہیں جیتنا شاید آسان تھا لیکن عوامی توقعات کے کوہ ہمالیہ کو سر کرنا اب کپتان کا اگلا ہدف ہونا چاہیے۔۔۔!


ای پیپر