فوٹوبشکریہ فیس بک

شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کی ملاقات نہیں ہوگی: بھارتی دفتر خارجہ
22 ستمبر 2018 (11:15) 2018-09-22

اسلام آباد: بھارت نے پہلے ہاں اور پھر ناں کرکے ثابت کر دکھایا کہ مودی سرکار کی 56 انچ کی چھاتی کو انتخابی ہار سے ڈر لگتا ہے۔

مودی سرکار کو اپنی ہی انتہا پسندی نے رسوا کردیا، پاکستان کی امن کی دعوت پہلے قبول کرلی پھر یاد آیا صرف ایک ماہ میں ریاستی اور پھر آئندہ سال عام انتخابات ہونے ہیں۔ نفرت کی بھاشا سناتے سناتے، اچانک امن کی آشا کہیں ہرا نہ دے یہ سوچ کر مودی سرکار نے تھوک کر چاٹ لیا۔

نومبر میں مدھیہ پردیش، راجھستان، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں پولنگ ہوگی۔ پاکستان سے ہاتھ ملایا تو اپوزیشن دباؤ بڑھائے گی، آر ایس ایس، شیوسینا کی حمایت بھی ہاتھ سے چلی جائے گی اور برسوں میں تیار کیا انتہا پسند ووٹر بھی بی جے پی کا منہ لال کرسکتا ہے۔

ہمسایہ ممالک میں امن کی پکار بھارتی میڈیا بھی سننے کو تیار نہیں بھارت میں کبوتر پکڑے جائیں یا غبارے؟ بھارتی میڈیا نے ہمیشہ نفرت کو ہوا دی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


ای پیپر