دنیا کے 65ممالک میں نہ توسفارتخانے اور نہ قونصلیٹ۔۔۔
22 اکتوبر 2019 (23:49) 2019-10-22

اسد شہزاد

میں جس خاکسار خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، میرے بزرگوں نے پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں، بے شمار جانوں کے نذرانے دیتے ہوئے پاکستان کو آزاد دھرتی کا نقش دیا، جس کا ذکر تاریخ کی کتابوں سے گم کر دیا گیا ہے۔ پاکستان تو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا گیا اور آج پاکستان تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ پاکستان میرے دل کی آواز اور میری شناخت ہے۔ 73 سال گزرنے کے بعد نیا پاکستان کا نعرہ لگانے والوں نے اپنی سوا سال کی مایوس کُن کارکردگی سے پوری قوم کو اندھیروں میں ڈبو دیا ہے۔ میرا یقین ہے کہ بہت کچھ دیکھنے سننے کے باوجود میرا یہ پاکستان ایک دن ضرور بڑی طاقت اور بڑی قوم بن کر اُبھرے گا۔ آج ہماری معاشی پالیسیز آئی ایم ایف بنا رہا ہے۔ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے ہیں، ہر کوئی پریشان، چھوٹے سے بڑے تاجر تک کی نیندیں اُڑی ہوئی ہیں، ایسے حالات پیدا کرنے میں کس کا کردار ہے، اس پر بحث نہیں کروں گا مگر یہ حقیقت ہے کہ اگر اس ملک میں روزِاوّل سے لیڈرشپ کی بنیاد رکھ لی جاتی تو شاید ہم بہت بہتر، بہت آگے اور بڑی قوموں میں شمار کیے جاتے۔ یہ باتیں خاکسار تحریک کے بانی علامہ عنایت اللہ المشرقی کے پوتے حامد خان المشرقی کی ہیں جو گزشتہ 15سال سے برطانیہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہاں کے سیاسی، سوشل اور کاروباری امور میں خود کو مصروف رکھے ہوئے ہیں، اہم بات یہ کہ ان کی بیگم بھی لندن میں وکالت کرنے کے ساتھ وہاں کے سماجی اور سیاسی ماحول میں سرگرم ہیں۔

گزشتہ دنوں حامد خان اور ان کی بیگم پاکستان آئے تو ہم نے ان سے ایک طویل نشست میں بیرون ممالک میں بسنے والے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل پر سوالات کیے، آیئے میاں بیوی سے کی اس گفتگو کو پڑھتے ہیں۔

حامد آپ پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں، آج حالات کو کہاں دیکھ رہے ہیں؟

بحیثیت ایک پاکستانی، میری سوچ اور فکر میں آج کے بدترین حالات اور پریشان کُن ہیں۔ نئی حکومت آنے کے باوجود بہت مایوسی کا عالم ہے۔ عمران حکومت سے جو توقعات تھیں ان میں سے ایک بھی پوری نہیں ہوئی۔ اہم بات جس کی میں نشاندہی کرنا چاہتا ہوں، حکمران کے ٹھیک ہونے سے پاکستان کے حالات درست ہونے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ اب یہ حکومت کیسے آئی، کون لایا یا جو الزامات لگائے جا رہے ہیں، میں اس کو حالات کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہتا بلکہ میری رائے یہ ہے کہ ایک شخص کبھی بھی نظام کو درست نہیں کر سکتا اور جب تک آپ اس بڑی غلط فہمی سے نہیں نکلیں گے حالات اور خراب ہونے کے خدشات بڑھتے جائیں گے۔ اگر میری ذاتی رائے لیں تو پھر سوا سال کی حکومت نے ایک اچھے وقت کو کھو دیا ہے، اس عرصہ میں مہنگائی نے تمام ریکارڈز توڑ دیئے ہیں۔ پریشانی یہ ہے کہ مہنگائی رُکنے کا نام نہیں لے رہی، ڈالر کے بڑھنے اور آئی ایم ایف کے قرضے نے پاکستان کو معاشی صورتحال کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انتخابات سے پہلے یہی ایک نعرہ دیا گیا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے مگر ہم نے اس کے آگے کشکول رکھ دیا۔

ایساکیا ہونا چاہیے کہ حالات کم ازکم بہتری کی طرف جانا شروع ہوں؟

اب تو اس حکومت کو ایک فیصلہ کرنا ہے آر یا پار۔ اگر اب بھی حکومت عوام کو ریلیف نہیں دے گی تو پھر حکومت کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔ آج پاکستان اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں چاروں طرف خطرات ہیں، یہ واحد حکومت آئی ہے جس کے پاس کسی پروگرام میں منصوبہ بندی نہیں۔ انتخابات سے قبل پی ٹی آئی نے بڑے دعوے، بڑے منصوبے اور بڑی ٹیم کا اعلان کیا مگر صدافسوس کہ بڑے منصوبے سامنے نہیں آ سکے۔ دیکھیں میں عمران خان کی نیت پر شک نہیں کرتا، وہ واقعی ایک کلین انسان ہے مگر اس کے اردگرد جو لوگ ہیں ان پر بے شمار کرپشن کے الزامات ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو پی پی پی اور ن لیگ کا حصہ تھے، اگر آپ نے کرپٹ لوگوں کو ملا کر ہی حکومت کرنا تھی تو اس سے بہتر تھا آپ حکومت ہی نہ کریں۔ عوام کو روزگار دینے والی حکومت میں روزگار بھی تو نہیں مل رہا، نہ نوکریاں، نہ گھر تو پھر تبدیلی کے دعوے تو دھرے کے دھرے رہ گئے ناں۔

آج اوورسیز پاکستانیوں کے بڑے مسائل کیا ہیں؟

اگر میں گزشتہ 73 سالوں کو دیکھتا ہوں تو کتنی حکومتیں بنیں، کتنی حکومتیں ٹوٹیں، مارشل لاءتک لگائے گئے، سب نے اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ بے شمار وعدے کیے، سیاسی حکمرانوں نے تو ایسے ایسے خواب دکھائے مگر صدافسوس کہ آج اوورسیز پاکستانی اپنے مسائل میں اس قدر اُلجھا دیئے گئے، اس قدر پھنسا دیئے گئے کہ وہ نہ ادھر تو نہ ادھر کی سوچ سکتے ہیں۔ آج ان کی حالت کا اندازہ یوں لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میں جائیداد خریدنے سے وہ ڈرتے ہیں، کاروبار کرنے کے لیے ان کے اندر خوف کے سائے ہیں گو کہ پاک فوج کے دلیرانہ اقدامات نے ملکی حالات کو بہتر کر دیا ہے، آپ کی کھیلوں کے میدان پھر آباد ہونے جا رہے ہیں، اس کے باوجود معاشی اور سیاسی حالات نے اوورسیز پاکستانیوں کے درد میں بے حد اضافہ کر رکھا ہے۔ دیکھیں ہم پہلے پاکستانی، پھر اوورسیز ہیں۔ ہمیں اپنی دھرتی سے محبت ہے۔ ہمارے آباﺅاجداد نے لاکھوں انسانی اور دوسری قربانیوں کے بعد پاکستان کو آزاد کرایا تھا لہٰذا ہم اندر سے اتنے ہی دُکھی اور پریشان ہیں جن کو آپ لوگ پاکستان میں رہتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اگر میں غیرممالک میں پاکستانی سفارتخانوں کی بات کروں تو ان کی کارکردگی غیرممالک میں آباد پاکستانیوں کے لیے نہ صرف پریشان کُن بلکہ مایوس کُن کہوں تو وہ بہتر ہو گا۔ جدید دور میں وہاں کے ماحول میں نہ تو پروفیشنل ازم ہے نہ حالات۔ ان کے دفاتر میں جائیں تو یوں لگتا ہے کہ ہم پاکستان واپس آگئے ہیں۔

سفارتخانوں کا بنیادی مقصد وہاں آباد لوکل پاکستانیوں کی آواز کو سننا ہوتا ہے جو نہیں سُنی جاتی۔ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، کاغذات، جائیداد کے بارے بڑے مسائل ہیں۔ ان میں پاور آف اُٹارنی کے بارے مشکلات، آپ یقین کریں کہ ہم بعض اوقات خود کو کوستے ہیں کہ جائیں تو کہاں جائیں۔ ہمارے تمام معاملات کو لٹکانے کی روش روزِاوّل سے برقرار ہے۔ یورپ کے بہت سے ممالک میں ہماری ایمبیسیز ایکٹو نہیں ہیں۔ یہ کس قدر ناکامی ہے کہ 60 ممالک میں ہمارے سفارتخانے یا قونصلیٹ بھی نہیں کھل پائے۔ بعض میں ایمبیسی تو ہے مگر سفیر نہیں۔ وہاں یہ فرائض قونصلر سرانجام دے رہے ہیں۔ ہمارے مقابلے میں بھارت کی مثال دوں تو وہاں ایک شکایت نہیں۔ اب میں آپ کی معرفت سے حکومتِ وقت سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے بیرون ممالک بسنے والے پاکستانیوں پر رحم کریں، وہ پاکستان کے لیے جیتے اور مرتے ہیں اور ہماری قسمتوں سے مزید نہ کھیلا جائے۔ بہت دعوے، بہت باتیں ہو گئیں اب مزید آپ ہمارا اور کیا امتحان لینا چاہتے ہیں، مجھے بتایئے کہ جتنی بھی حکومتیں گزریں کوئی ایک یہ بات ثابت کر دے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ایک بھی وعدہ وفا ہوا ہو، ایسا ہے تو پھر خداراہ دعوے نہ کریں، ہماری تو زندگیاں پاکستان کے لیے وقف ہیں۔

کیا آپ اس حکومت کے کیے وعدہ پر بھروسہ کرتے ہیں؟

عوام کا اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ اب جس رفتار سے ڈالر نے پروان پکڑی اس سے غیرملکی پاکستانیوں کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے پیسے بھیجے تو وہ کہیں ڈوب نہ جائیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنا اعتماد بحال کرنے کے لیے عوام کو ساتھ لے کر چلے۔ غیرملکی پاکستانی کو جب آپ اعتماد نہیں دیں گے تو وہ کیسے زرّمبادلہ دے گا، وہ تو آج شدید تحفظات کا شکار ہے۔ میرے نزدیک حکومت خود ابھی بڑے فیصلے نہیں کر پا رہی اور حکومتی پالیسیاں اور ان کے کاموں میں بہت بڑا تضاد ہے۔ اگر کوئی ایک فیصلہ آہی جاتا ہے تو اس پر یوٹرن لے لیا جاتا ہے۔

کیا اس حکومت سے بہتری کی اُمید ہے کہ آپ کے بڑھتے مسائل کم ہو جائیں گے؟

اُمید تو ہر دور حکومت میں ہوتی ہے مگر افسوس کہ آپ جن لوگوں کو سفیر بنا کر بھیجتے ہیں وہ سفیر کم اور بادشاہ زیادہ ہوتے ہیں اور ان کے رویئے غلامانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ جدید ماحول میں بھی فائلوں کو روکنا جلدی کام نہ کرنا، تسلیاں دینا، یہ سلسلے اب رُکنے چاہئیں اور میں یہ بات واضح کر دوں کہ اگر اس حکومت نے بھی ہمارے مسائل کم نہ کیے اور سفارشی، سیاسی سفیر مقرر کرنے کی روش نہ بدلی تو پھر اس حکومت کا چلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

زُلفی بخاری کے کردار کو کیسا دیکھتے ہیں؟

دوستیاں، تعلقات اور سیاسی ہمدردیاں رکھنے والے لوگ کیا جانیں کہ ہمارے 73 سالوں سے جو مسائل ہیں ان کا کس طرح حل نکالنا ہے۔ دعوﺅں اور وعدوں کی حد تک تو درست ہیں، باقی ان کے کردار کے بارے میں کیا رائے دوں، ابھی تک ان کی طرف سے کسی مسئلے کا کوئی ایک حل نکلا ہو تو مجھے بھی بتا دیں، شاید میں اس قدر بے خبر ہوں گا مگر پھر بھی بہتری کی دُعا اور اُمید ہے۔

کیسا ہے کل کی نسبت آج کا پاکستان؟

خواب تو بدلتے تھے مگر ایک کی بھی تعبیر نہ ملی، اسی فکر میں زندگی گزاری جا رہی ہے۔ ہم آگے بڑھتا پاکستان نہیں دیکھ رہے۔ مظلوم ومحکوم عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ذلت، رُسوائی اور بدنامی کے داغ مایوسی، غربت وافلاس کے اندھیروں کے جنگلوں میں بھٹکنے والی قوم ایسا پاکستان نہیں چاہتی تھی جیسا آج ہمارے مقدر میں لکھا جا رہا ہے۔

کیا اس کی قسمت سنورے گی؟

جب اس کی قسمت اچھے لیڈر کے ہاتھ میں ہو گی، اس میں قصوروار سیاستدان زیادہ ہیں کہ وہ لیڈر بننے کے شوق میں نہ تو لیڈر بن سکے اور نہ سیاستدان۔ انہی کی وجہ سے معاشرہ ڈرگ مافیا، کلاشنکوف مافیا، لینڈزمافیا بن چکا ہے۔ سیاستدان کم وطن فروش زیادہ لگتے ہیں۔ اس کے باوجود ایک بات ضرور کہوں گا کہ شہاب الدین غوری، سلطان محمود غزنوی، صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد، محمد بن قاسم پھر آئیں گے اور کتنی مار کھائیں گے اور کتنی قربانیاں دے لیں گے کہ ہم تو قربانیاں ہی دیتے آرہے ہیں، ان سب باتوں، فکرات اور سوچوں کے باوجود میرا دل کہتا ہے کہ یہی پاکستان ایک بار ضرور اُبھرے گا، بولے گا، بنے گا اور جگمگائے گا۔ یوں تو غیرممالک میں آباد پاکستانیوں نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے ساتھ خود کو بھرپور طریقہ سے منوایا اور وہاں نامور کہلائے۔ لندن میں آباد ایک گھرانے سے تعلق رکھنے والی مسزراشدہ برطانیہ میں پیدا ہوئیں۔ سکولنگ کی ابتدائی تعلیم کے بعد مانچسٹر سے ہیومن رائٹس اور ایل ایل بی آنر کی ڈگریاں لیں، پھر قانون کی بڑی ڈگری LPC حاصل کرنے کے بعد 2009ءسے باقاعدہ قانون کے ساتھ منسلک ہیں اور اب مانچسٹر ہی میں اپنی لاءکمپنی کے ساتھ مختلف اداروں کے کیس ڈیل کر رہی ہیں۔

میرے اس سوال پر کہ آپ برطانیہ کے تعلیمی ماحول میں پروان چڑھیں، گاہے بگاہے پاکستان آتی ہیں، یہ بتایئے کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں ہمارا نظام تعلیم کیوں ناکام ہے اور ہم کیوں میٹرک پاس نسل پیدا کر رہے ہیں؟

ہمارے ایک نہیں کئی مسائل ہیں۔ غریب کا بچہ اس لیے تعلیم حاصل نہیں کر سکتا کہ اس کے پاس پڑھنے کو نہ کتاب اور دینے کو نہ فیس ہے، ان کا بڑا مسئلہ فنانسنگ ہے۔ ظاہر سی بات ہے غربت کی لکیر تلے دبنے والے بچے کیسے پڑھ لکھ کر اُوپر آئیں گے، ہماری ایک وہ کلاس ہے جو لاکھوں روپے فیس دے کر ڈگری تک پہنچ جاتی ہمارے ملک کے معاشی مسائل آج تعلیم کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ میں ہیں۔ جب بھی پاکستان آئی تعلیم کے معاملے میں بُرے حالات ہی دیکھے کہ ہمارے لیے میٹرک تک پہنچنا بھی بہت دُشوار بنا دیا گیا ہے۔ میرے ذاتی خیال میں پاکستان کے اندر کام کے ساتھ وہ چیزیں ہونی چاہئیں وہ نہیں ہیں، خاص کر غریب طبقے کے بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی ضرور دی جائے بالفرض ان کو میٹرک کی ڈگری مل جاتی ہے تو پھر جاب سے محروم رہ جاتے ہیں تو پڑھنے کا کیا فائدہ لہٰذا میرے نزدیک جب تک فنانشل مسائل حل نہیں کیے جاتے آپ ایجوکیشن کے محاذ پر ناکام ہی نظر آئیں گے۔

اگر برطانیہ کی مثال لیں تو وہاں بنیادی سسٹم ہے کیا؟

برطانیہ یا دوسرے ممالک میں تعلیم کے ساتھ پریکٹیکل تعلیم پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، وہاں جو بچہ جس طرح کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اسی طرح اس کو مختلف کورسز کرانے کے بعد ڈگری اور نوکری کی گارنٹی بھی دی جاتی ہے۔

....یعنی پاکستان میں تھیوری ہے پریکٹیکل تعلیم نہیں دی جاتی یہی بنیادی نقصان ہے؟

بالکل ایسے ہی ہے، یہ بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا ہر پاکستانی بچہ شکار ہے۔ ہمارے پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ تو ہے مگر اس کو راستے نہیں مل رہے۔ اگر برطانیہ کا نظامِ تعلیم یہاں نافذ کر دیا جائے تو پاکستانی قوم دُنیا سب سے کامیاب ویژن کے ساتھ ترقی کرے۔ ہمارے ہاں گراس روٹ کا تصور ہی نہیں رکھا گیا کہ ایک بچے کو پہلے گروم کیسے کرنا ہے، وہ کیا بننا چاہتا ہے اور جو وہ بننا چاہتا ہے والدین کی خواہش کچھ اور ہوتی ہے لہٰذا وہ میٹرک تک تو یہ طے ہی نہیں کر پاتا کہ وہ بڑا ہو کر کیا بنے گا، یہاں جنریشن گیپ بہت ہے۔ بچے کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کی بجائے اس پر بھاری کتابیں، کاپیاں اور بھاری بستے تھوپ دیئے جاتے ہیں۔ جس بچے کو آپ صبح سے شام تک بھاری کتابوں کے بوجھ تلے رکھیں گے وہ اتنا ہی کُندذہن بن جائے گا۔

ماں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پڑھی لکھی ماں ہی پڑھے لکھے معاشرے کو جنم دیتی ہے، آپ پاکستان آتی رہتی ہیں، کیا آپ نے ایسا ماحول دیکھا؟

ماں کی گود بچے کا پہلا سبق ہوتا ہے اور حقیقت ہے کہ اگر ماں پڑھی لکھی ہو گی تو اس کے اندر یہ بات احساس پیدا کرے گی کہ بچے کو بھی پڑھانا ہے مگر ہمارے ہاں پڑھی لکھی ماں تو مل جائے گی مگر اس کا بچہ پڑھا لکھا نہیں ہو گا کہ اس ماں کے پاس فنانشل مسائل کا حل نہیں کہ وہ اپنے بچے کو بڑی تعلیم دلوا سکے۔ ماں ہی نے تو آپ کو زندگی اور کتاب کے درمیان چلنے کا راستہ دینا ہوتا ہے، یہی بات معاشرے کی طرف چلی جاتی ہے۔

اپنے تجربے سے بتایئے کہ ہم کیسے اپنے بچے کو تعلیم کی طرف راغب کر سکتے ہیں؟

میرے نزدیک یہاں بہت کام ہونے والا ہے۔ جب میں پاکستان آئی تو میں نے اپنی دونوں بچیوں کو جب یہاں کے ماحول میں داخل کرایا تو وہ گھبرا گئیں بلکہ میں زیادہ پریشان ہوئی کہ ہمارے بچوں پر اس قدر بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، اتنے بڑے بستے، ہر وقت لکھنے لکھانے کے کام، ہونا تو یہ چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ تفریح کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں، یہاں پڑھایا نہیں جاتا بلکہ رٹا لگانے کی ایکسرسائز زیادہ کرائی جاتی ہے۔ یہاں رٹاایجوکیشن سسٹم بھی تباہی کی بڑی وجہ ہے۔ اب انگلینڈ میں پڑھائی کے ساتھ میوزک اور گانے بناتے ہیں۔ ویڈیوز اور کلرز کے ساتھ بچے کے ذہن کو بدلتے رہتے ہیں، وہاں رٹا سسٹم نہیں ہے۔ ان باتوں سے بچوں کو تفریح اور تعلیم یکساں ملتی ہے تو وہ انجوائے کرتے ہیں۔ دیکھیں مغربی ممالک میں طریقہ تعلیم رائج ہے، ہمیں بھی تعلیم کو ذریعہ تکلیف نہیں ذریعہ تفریح بنانا چاہیے۔ ہر بچے کا اپنا ٹیلنٹ ہے جس کو لے کر وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ وہ تعلیم کے ساتھ تفریح کے مواقع بھی چاہتا ہے۔ ایسی تفریح جس میں ایجوکیشن کے پہلو نمایاں نظر آئیں اور ان کو آڈیو، ویڈیو اور تصویر کی شکل میں نصاب کا حصہ بنایا جائے، یہیں سے آرٹسٹ، کہانی نگار، افسانہ نگار، تخلیق کار جنم لیتے ہیں۔

کتاب کے بوجھ تلے علم دب گیا ہے، کیا خیال ہے آپ کا؟

آپ نے درست کہا، ہم ان کے ذہن نہیں کھول رہے بلکہ ان کو کتابی کیڑے بنا رہے ہیں کہ رٹا لگاتے جاﺅ، یہی تعلیم کا شاید یہاں کا نصب العین ہے، پوری دُنیا کا نظام اب ایجوکیشن کی بنیادوں میں کھڑا ہے اور ہمارا پاکستان ابھی تک ایک نصاب کی شکل نہیں دے سکا۔

آپ کے نزدیک وجہ کیا ہے جس سے نظام بگڑا؟

ایک دن کے وقفے میں آزاد ہونے والے پاکستان اور ہندوستان کی مثال لے لیں، وہاں کی آبادی تو ایک ارب سے بھی کراس کر چکی ہے، وہاں کا بچہ بچہ کس طرح بات کرتا ہے اور ہمارا بچہ یا تو آوارہ بنا دیا گیا یا اس کو ہوٹلوں اور دکانوں پر مزدوری کرتا دیکھ لیں۔ غربت شاید وہاں ہماری نسبت زیادہ ہو گی مگر انہوں نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا یا دوسری وجہ ماں باپ کا کردار زیادہ ہوتا ہے کہ حالات چاہے کیسے بھی ہوں وہ بچوں کو تعلیم ضرور دیں مگر نہیں دے پا رہے، ان کے پاس ایک ہی جواز ہے کہ فنانشل مسائل ہیں اور سب سے بڑی وجہ ہماری کسی حکومت نے تعلیم پر توجہ ہی نہیں دی اور جس پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تھی وہ آپ نے اندھیروں میں لے گئے اور سرکاری اداروں میں جب ایک ٹیچر ایک کلاس روم کے ستر سے زائد بچوں کو آدھے گھنٹے کے پیریڈ پرھائے گا تو پھر آپ بہتر جانتے ہیں کہ ہمارا نظام تعلیم ہے بھی کہ نہیں۔

آپ کیا تجاویز دیں گے کہ ہم ایک بہتر نظام تعلیم قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں؟

اگر حکومت یہی بات طے کرے کہ تعلیم ہو گی تو ملک چلے گا اور وہ پوری توجہ کے ساتھ گراس روٹ سے بڑی کلاسز تک کے سسٹم کو ایک جگہ لے آئے اور نیک نیتی کے ساتھ اپنی قائم پالیسیز کو نافذ کر دے تو کم ازکم ابتدا تو ہو جائے جو 73سالوں سے نہیں کی گئی۔ دوسری بات یہ کہوں گی کہ آپ جس طرح کی تعلیم دے رہے ہیں اسی طرح کی پریکٹیکل تعلیم کا ہونا ضروری ہے تاکہ وہ جس شعبے میں جانا چاہتا ہے، اس کو ڈپلومہ بھی دیا جائے تاکہ وہ جاتے ہی کمانے کے قابل ہوسکے یہ پوری دُنیا میں ہو رہا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر