برطانوی شاہی جوڑے کا دورہ ،بہترین خارجہ پالیسی یا حالات کا تقاضا؟
22 اکتوبر 2019 (23:45) 2019-10-22

شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن جب 14اکتوبر بروز سوموار کو پانچ روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا، یہ دورہ پاکستان اور برطانیہ کے لیے کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل رہا۔ شاہی جوڑے کی آمد سے دونوں ممالک کے درمیان موجود باہمی اور دو طرفہ تعلقات میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہو گی۔ شاہی جوڑے نے اپنے پانچ روزہ دورے میں جہاں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقاتیں وہیں انہیں پاکستان کے رویوں کو بھی سمجھنے کا موقع ملا۔

ڈیوچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن نے اپنے شوہر شہزادہ ولیم کے ساتھ دورہ پاکستان کے موقع پر اپنی ساس لیڈی ڈیانا کی یاد تازہ کر دی۔ برطانوی شاہی جوڑا شہزادہ ولیم اوران کی اہلیہ ڈیوچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن جب پاکستان پہنچے تو کیٹ مڈلٹن نے ہلکے آسمانی رنگ کی سادہ لیکن نہایت خوبصورت میکسی اور ٹراو¿زر زیب تن کیا ہوا تھا۔ اپنے دورے کے دوسرے روز یعنی منگل کی صبح شاہی جوڑے نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول یونیورسٹی کالونی اسلام آباد کا دورہ کر کے کیا اور ”ٹیچ فار پاکستان“ مہم کے اثرات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر برطانوی شاہی مہمان سکول کے طلبا میں گھل مل گئے۔ اس موقع پر سکول انتظامیہ نے شاہی جوڑے کو سکول سے متعلق بریفنگ دی اور انہیں پاکستان کے تعلیمی نظام سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر کیٹ مڈلٹن جو لباس پہنا ہوا تھا وہ حیرت انگیز طور پر لیڈی ڈیانا کے اس لباس سے مشابہ تھا جو انہوں نے 1996ءمیں دورہ پاکستان کے موقع پر پہنا تھا۔ ۔ شاہی مہمان اسلام آباد میں ٹریل 5 کے مقام پر ماحولیاتی تحفظ سے متعلق تقریب میں شریک ہوئے جہاں انہیں اس حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔

شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیتھرین مڈلٹن نے ایوانِ صدر میں صدر مملکت عارف علوی سے بھی ملاقات کی جس میں شاہی جوڑے کے ہمراہ برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو اور دیگر سفارتی عہدیدار بھی شریک ہوئے۔ صدر مملکت اور خاتون اوّل نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ذہنی صحت، ماحولیاتی تبدیلیوں اور غربت کے خاتمے جیسے مسائل کی آگاہی فراہم کرنے کے لیے دورہ کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ نے والہانہ استقبال پر صدر کا شکریہ ادا کیا اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے اور غربت کے خاتمے کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ جس کے بعد وہ وزیراعظم ہاو¿س پہنچے جہاں وزیراعظم عمران خان نے خود ان کا پرتپاک استقبال کیا، وزیراعظم ہاو¿س آمد کے موقع پر انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں بھی شرکت کی۔

شاہی جوڑے کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور مقامی فورسز کی معاونت کے لیے برطانیہ سے بھی سیکیورٹی اہکار آئےتھے۔ برطانیہ سے آنے والے 6 رکنی دستے نے دارالحکومت کی سکیورٹی کا جائزہ لیا اور شاہی جوڑے کی حفاظت کے لیے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ پاک فوج، رینجرز اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دستے بھی وی وی آئی پی دورے کے دوران سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔

قبل ازیں شاہی مہمانوں کی نور خان ایئر بیس پر آمد پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ا±ن کی اہلیہ نے ا±ن کا استقبال کیا تھا۔ جب کہ برطانوی ہائی کمشنر ٹامس ڈریو بھی موجود تھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایئر بیس پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کے شاہی خاندان کے افراد کے ماضی میں پاکستان کے دوروں کی تفصیل بتائی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شاہی جوڑے کی ملک میں آمد سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت اور پ±رامن چہرہ ابھر کر سامنے آئے گا۔ ا±ن کا کہنا تھا کہ برطانوی شاہی جوڑے کا دورہ پاکستان تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور شاہی جوڑے کی پاکستان آمد سے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

ویسے بھی پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کی ناپائیداری کے پیش نظر پاکستان اب دیگر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں مزید تقویت دینے میں مصروف ہے۔ اس کے دیرینہ دوست ممالک چین، سعودی عرب اور ترکی وغیرہ تو پاکستان کے حامی ہیں ہی لیکن اب بین الاقوامی منظر نامے میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ نئے نئے بلاک معرضِ وجود میں آ رہے ہیں۔ اس تناظر میں اب برطانیہ اور پاکستان کے درمیان موجود تعلقات میں مزید گہرائی اور وسعت آ رہی ہے۔ برطانیہ پاکستان کو درپیش مسائل سمجھتا ہے اور ان کے حل میں پاکستان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو روایتی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں لانا ہوںگی اور صرف پاکستانی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے تعلقات دیگر ممالک سے استوار کرنے ہوںگے۔ موجودہ حکومت اس سلسلے میں ماضی کی حکومتوں کی نسبت زیادہ متحرک دکھائی دے رہی ہے۔ اس بات کا اندازہ وزیراعظم عمران کی سمتبر میں اقوام متحدہ میں ہونے والی تقریر اور اس سے قبل مختلف اسلامی اور یورپی ممالک کے رہنماو¿ں سے ملاقاتیں ہیں، جن میں انہوں نے پاکستان کا کیس انتہائی مو¿ثر اور مدلل انداز میں پیش کیا۔اس سے قبل جولائی 2019ءمیں وزیراعظم عمران خان نے بورس جانسن کو کنزرویٹو پارٹی کا لیڈر اور برطانیہ کے وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی اور ساتھ یہ امید بھی ظاہر کی تھی کہ بورس جانسن کی قیادت میں برطانیہ اور اس کے عوام نہ صرف خوشحال ہوں گے بلکہ پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کو بھی مزید فروغ ملے گا۔

واضح رہے کہ ماضی میں شہزادہ ولیم کی والدہ اور کیٹ مڈلٹن کی ساس لیڈی ڈیانا بھی پاکستان کے 3 کامیاب دورے کئے تھے۔ لہذا لیڈی ڈیانا کے دوروں کے باعث ہر آنکھ شاہی جوڑے کی پاکستان آمد پر لگی ہوئی تھی اور لوگ یہ جاننے کے لیے بے چین تھے کہ کیا کیٹ مڈلٹن لیڈی ڈیانا کی طرح اپنے اسٹائل سے سب کو متاثر کرپائیں گی یا نہیں۔ تاہم ڈیوچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن نے اپنے اسٹائل سے سب کو دنگ کر دیا۔

اس دورے سے پہلے برطانوی شاہی خاندان کے کئی دیگر افراد بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں: ملکہ الزبتھ دوم برطانیہ کی تاریخ میں سب سے طویل مدت تک برسرِاقتدار رہنے والی ملکہ ہیں۔ انھوں نے 1961ءمیں برصغیر کا دورہ کیا اور پاکستان بھی آئیں۔ کراچی میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے ان کا استقبال کیا تھا۔ اس دن ایسے معلوم ہوتا تھا کہ ملکہ کا استقبال کرنے پورا کراچی ہی سڑکوں پر ا±مڈ آیا ہو۔ ملکہ نے اپنے دورے میں کراچی کے فریئر ہال میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی۔ شہزادہ فلپ نے کورنگی ٹاو¿ن شپ منصوبے کا بھی دورہ کیا تھا جو اس وقت امریکہ کے اشتراک سے تعمیر کیا جا رہا تھا۔ کراچی کی صدارتی رہائش گاہ میں ملکہ کے اعزاز میں ایک عشائیہ بھی منعقد ہوا۔ انھوں نے لاہور کی بادشاہی مسجد کا بھی دورہ کیا۔

شہزادہ ولیم کی والدہ شہزادی ڈیانا تین بار پاکستان آئیں۔ ان کا پہلا دورہ انتہائی کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔ اس دورے میں انھوں نے پاکستان کے طول و عرض کا سفر کیا اور اپنے سادہ انداز اور مقامی فیشن کو اپنانے کی کوششوں کے ذریعے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے تھے۔ شہزادی ڈیانا نے اسلام آباد میں لڑکیوں کے ایک سکول کا دورہ کیا اور بچیوں میں گھل مل گئی تھیںشہزادی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا تھا جب ان کے اور شہزادہ چارلس کے درمیان تناو¿ چل رہا تھا۔ اس کے بعد 1996 میں لیڈی ڈیانا دوسری بار پاکستان آئی تھیں۔ اس وقت وہ عمران خان کی سابق بیوی جمائما خان کی دعوت پر دو دن کے نجی دورے پر لاہور آئیں اور یہاں انھوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لیے پیسے اکٹھے کرنے کی غرض سے منعقد کی جانے والی چند تقریبات میں حصہ لیا تھا۔ جمائما کے ساتھ اپنی گہری دوستی کی بدولت شاہی خاندان کے روایتی انداز کے برعکس شہزادی یہاں بھی لوگوں میں گھل مل گئیں۔ تیسری بار شہزادی ڈیانا 1997ءمیں اپنی وفات سے چند ماہ قبل شوکت خانم کینسر ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے پاکستان آئی تھیں۔ شہزادی ڈیانا نے ہسپتال میں زیرِ علاج کینسر کے مریضوں سے ملاقات کی اور شاہی قلعہ میں دیے گئے عشائیے میں شرکت کی۔

1997ءمیں ملکہ الزبتھ نے پاکستان کی آزادی کے 50 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں ہونے والی تقریبات میں بھی حصہ لیا تھا۔ یہ دورہ شہزادی ڈیانا کی ہلاکت کے محض پانچ ہفتوں بعد منعقد ہوا تھا۔ وہ اکتوبر میں اسلام آباد آئیں جہاں ان کی ملاقات ملک کے صدر فاروق لغاری سے ہوئی۔ اس دورے میں ملکہ نے پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا اور ان کی ملاقات سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو سے بھی ہوئی۔ اس کے علاوہ وہ فیصل مسجد بھی گئیں۔ راولپنڈی میں اس وقت پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچ بھی جاری تھا۔ ملکہ نے میچ کے تیسری دن کا کھیل دیکھا اور کھلاڑیوں سے بھی ملیں۔لاہور میں انھوں نے ایک چرچ کا دورہ کیا اور ان کے اعزاز میں شاہی قلعے میں ایک عشائیہ بھی منعقد کیا گیا۔

شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ ڈچس آف کارن وال کامیلا پارکر اکتوبر 2006ءمیں پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ شہزادے نے اپنے دورے میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور دیگر رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کیں اور پرنس کریم آغا خان کے ساتھ پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ اور سکردو بھی گئے۔ اس دورے میں انھوں نے 2005ءمیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آنے والے زلزلے سے مچنے والی تباہی سے نمٹنے کیلئے جانے والے اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔ شہزادے اور ان کی اہلیہ نے اپنے دورے میں لاہور میں ایک سکھ گرودوارہ بھی دیکھا اور مشہور بادشاہی مسجد بھی گئے۔

کہا جاتا ہے کہ دو ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد مفادات پر مبنی ہوتی ہے، شاہی جوڑے کے دورہ پاکستان کے بارے میںیہ حقیقت وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئے کی کہ آیا شہزادہ اورشہزادی کی آمد انسانی بنیادوں کی وجہ سے تھی یا پھر عالمی سطح پر برطانیہ کو پاکستان کی ضرورت ہے؟

٭٭٭


ای پیپر