صنعتی تنزلی کا سفر,کب شروع ہوا، کیسے رُکے گا؟
22 اکتوبر 2019 (23:40) 2019-10-22

کارخانے چلانے کیلئے حکومت کو سرمایہ کاروں کا اعتماد جیتنا ہوگا

حافظ طارق عزیز

کتابوں میں پڑھا اور بزرگوں سے سنا ہے کہ پاکستان نے صنعتی حوالے سے سب سے زیادہ ترقی ایوب دور میں کی تھی۔ اس کے بعد کوئی بھی حکومت ان خطوط پر اس طرف دھیان نہ دے سکی۔ جس کی وجہ سے صنعت میں ترقی کے بجائے ترقیِ معکوس کا وہ سفر شروع ہوا جو آج تک تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی نا صرف وطن عزیز کے بازاروں بلکہ عرب ممالک میں میڈ ان پاکستان اشیاءکو معیار کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن اب حالات یہ ہیں کہ آپ بازار چلے جائیں، ایک سوئی یا بال پوائنٹ سے لے کر کھلونے، پہننے کے کپڑے، مشینیں، اوزار، سینٹری کا سامان، لوہا ، سٹیل ،پتھروغیرہ تک ہر چیز ”چائینہ“ کے مال میں دستیاب ملے گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کے پاس اتنی بڑی انڈسٹری مارکیٹ ہے کہ آپ اُس سے جو چاہیں بنوا سکتے ہیں۔کبھی یہ ”اعزاز“ پاکستان کے پاس ہوا کرتا تھا۔1970ءسے پہلے پاکستان صنعتی لحاظ سے دنیا کا 12واں بڑا ملک تھا، لیکن ورلڈ اکنامک فورم کی ہفتہ رفتہ کے دوارن آنے والی رپورٹ کے مطابق آج پاکستان 107ویں سے 110ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔

اس حوالے سے تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو صنعتی ترقی میں رخنہ ڈالنے کے لیے پہلا کٹ 1972ءمیں لگا جب صنعتوں کو ”قومیانے“ کی پالیسی نے ترقی کے عمل کو روک دیا۔ ملیں اور کارخانے جب قومی تحویل میں چلے گئے تو صنعت کار بھی حکومتی پالیسی سے نالاں نظر آنے لگے۔ ملک میں پیداواری عمل میں رکاوٹ پیدا ہونے لگی اور پھر ملک میں درآمدات میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ اس سے پہلے پاکستان میں محض خام مال ہی درآمد کیا جاتا تھا، جبکہ ہر پاکستانی Made in Pakistanاشیاءپر فخر محسوس کرتا اور انہیں ہی استعمال کرتا۔ قومیانے کی وجہ سے یہاں صنعتی عمل میں دراڑ پڑ گئی اور بہت سے قابل انجینئرز اور مکینک بیرون ملک چلے گئے، چونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں ترقیاتی عمل کا آغاز ہو چکا تھا اس لیے عرب ممالک نے پاکستانی ہنرمندوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اُن کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ ایک اندازے کے مطابق چند سالوں میں 23 ہزار ہنر مند پاکستان سے نکل گئے۔ حتیٰ کہ کئی کمپنیوں نے پاکستانی ہنرمندوں کو اللہ کی عطا کہہ کر بڑے بڑے اعزازات سے بھی نوازا۔ لیکن اس کے برعکس پاکستان میں صنعت کا پہیہ رک گیا جس کے ساتھ ہی الیکٹرانکس اور دیگر ضروریات یا سہولیات زندگی کی اشیا کی طلب میں اضافہ ہوا جس سے غیر ملکی مصنوعات کی طلب بہت زیادہ بڑھ گئی اور غیرملکی درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ بعد میں آنے والی حکومتوں نے اس پر خاص توجہ نہ دی، ہاں جنرل ضیاءالحق نے صنعتی ترقی کے خلاءکو پر کرنے کے لیے ایک سکیم متعارف کروائی کہ بیرون ملک ”پاکستانی ہنر مند“ پاکستان آ جائیں انہیں اتنی ہی تنخواہ اور مراعات ملیں گی جتنی وہ دوسرے ممالک میں لے رہے ہیں مگر اس سکیم سے محض چند سو انجینئرز نے فائدہ اُٹھایا۔

1992ءکے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں صنعتکاری میں 30 درجے نیچے جا چکا تھا اور پہلی بار ہماری امپورٹ ایکسپورٹ سے بڑھ چکی تھیں۔ اس الارمنگ صورتحال پر کسی نے توجہ نہ دی اور ویسے بھی جو قومیں اپنے ہاتھ سے اپنا مستقبل مفاد پرست اور خود غرض لوگوں کے ہاتھ میں تھما دیں وہ بھکاری بن جاتی ہیں، یہی حالت ہمارے ملک کی بنتی گئی۔ اپنے منتخب کئے ہوئے ہر دلعزیز لیڈروں نے اپنی جیبیں تو خوب بھر لیں لیکن ملک کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ یہ ہمارے وہ ہی لیڈر ہیں جن کے کردار کی حالت یہ ہے کہ ان کی اپنی ماضی کی زندگی کرپشن کی وجہ سے جیلوں میں گزرتی ہے اور باہر آکر پاکستان کی تقدیر بدلنے کی باتیں کرتے ہیں ان لوگوں نے پاکستان پر چالیس سال سے زیادہ حکومت کر لی اور اس ملک کو اتنا خود مختار بنا دیا کہ یہ ملک بال پوائنٹ بھی باہر سے امپورٹ ہو کر آتا ہے۔

آج ہماری ذلت، بے بسی اور ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اس ملک کے قومی خزانے اور اس کے عوام کے ٹیکس کو اس کی ترقی اور خوشحالی کیلئے استعمال کرنے کی بجائے اپنے بینک اکاوئنٹس بھرنے کیلئے استعمال کیا گیا اور اس طرح وہ پاکستان کے دوسرے اور تیسرے امیر ترین افراد میں شامل ہونے لگے جبکہ ملک غربت میں صف اوّل کے ممالک میں شامل ہونے لگا۔

یقین مانیں یہ باتیں ریکارڈ پر ہیں کہ پی پی اور ن لیگ کی حکومتیں کمیشن بنانے کے چکر میں ڈیم کے بجائے متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے لگیں، حتیٰ کہ پی پی پی کے سابقہ دور میں 45 روپے فی یونٹ تک بجلی بنا کر صارفین کو دی گئی جس سے ملکی خزانے پر بوجھ بڑھا اور خمیازہ End یوزر کو بھگتنا پڑا۔ لہٰذاخطے کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں بجلی، گیس اور لیبر وغیرہ مہنگی ہونے کے سبب رہی سہی انڈسٹری بنگلہ دیش، انڈیا، نیپال اور سری لنکا میں شفٹ ہو گئی۔ جہاں کی حکومتوں نے انہیں گلے سے لگایا اور ہر ممکن سہولت دے کر وہاں سیٹ ہونے میں مدد فراہم کی۔ ایک جاننے والے جو کپڑے بنانے کی فیکٹری بنگلہ دیش شفٹ کر چکے ہیں، بتاتے ہیں کہ یہاں کس کس طرح سے انہیں ہر سطح پر ”بلیک میلنگ“ اور رشوت ستانی و بھتہ وصولی کے مسائل کا سامنا رہا۔ اس لیے خاندان کے پرزور اسرار پر انہیں مجبوراََ یہاں سے شفٹ ہونا پڑا ۔ وہ کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں بھی انہیں کئی ایک مسائل کا سامنا رہتا ہے مگر وہاں کی حکومت براہ راست اُن کے کسی بھی قسم کے نقصان کا ازالہ پورا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے اور اس حوالے سے ایک خاص ”فورس“ بھی قائم کر رکھی ہے جو صنعتکاروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس یہاں زرداری دور میں مائیکروسافٹ پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی لیکن اُسے محض اس لیے بھگا دیا کہ وہ کمیشن نہیں دے رہی تھی۔ مسلم لیگ ن کے دور میں صنعتی ترقی اس حدتک نیچے آگئی کہ ہم نے 100کا ہندسہ بھی عبور کر لیا اور جب تحریک انصاف کو حکومت ملی تو پاکستان صنعتی ترقی میں 107ویں نمبر پر تھا۔

یعنی حالات فوری طور پر کنٹرول ہونے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ پاکستان کو فوری طور پر ملک چلانے اور ادائیگیاں کرنے کے لیے 15سے 20 ارب ڈالر کی ضرورت تھی جسے ادھر اُدھر سے پکڑ کر پورا کیا گیا جس سے روپے کی قدر کم ہوئی اور مہنگائی میں اضافہ ہوگیا۔ حکومت کو مجبوراََ آئی ایم ایف کے پروگرام بھی لینا پڑے جس کے بغیر گزارا نہیں تھا،آئی ایم ایف نے حکومت کو تاجروں اور صنعتکاروں کی ”کھچائی“ کے لیے کہا۔ جس کے بعد حکومت نے نا چاہتے ہوئے بھی نئے ٹیکس لگائے جس سے ہماری مزید کم و بیش 200 صنعتیں بند ہو کر یا تو دوسرے ملک شفٹ ہو گئیں یا فی الوقت پروڈکشن روک دی گئی جس سے ہم 107سے110ویں نمبر پر آگئے۔

مختصر یہ کہ اب ہماری بچی کچھی صنعتیں جو پراڈکٹس بنا رہی ہیں یا تو وہ مہنگی ہیں یا وہ عالمی معیار پر پورا نہیں اترتیں اس لیے ہمارا مال خریدنے کو کوئی تیار نہیں ہے، حتیٰ کہ مقامی تاجر بھی یہاں کا مال خریدنے کے بجائے چین کی طرف رجوع کر رہا ہے جس سے ہماری برآمدات کا حجم محض 16ار ب ڈالر سالانہ رہ گیا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس آپ دوسرے ملکوں کے مقابلے میں اپنی برآمدات دیکھ لیں اور اندازہ لگائیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی صنعت بن چکا ہے جس کی برآمدات 5 ٹریلین ڈالر(پانچ ہزار ارب ڈالر) تک پہنچ چکی ہیں۔ امریکہ کی برآمدات 4 ٹریلین ڈالر، جاپان 1800ارب ڈالر، جرمنی 1200 ٹریلین ڈالر جبکہ اس فہرست میں بھارت کا نمبر پانچواں ہے جس کی برآمدات 700 ارب ڈالر، جنوبی کوریا 600 ارب ڈالر، برطانیہ550 ارب ڈالر، فرانس 500 ارب ڈالر اور اٹلی 450 ارب ڈالرکی برآمدات دوسرے ملکوں میں بھیجتا ہے۔ جبکہ ہم جو اپنے آپ کو دنیا کی ذہین ترین قوم گردانتے ہوئے بھی نہیں ہچکچاتے، دنیا کی ترقی میں کوئی کردارادا نہیں کر رہے۔ اگر ہم آج بھی اپنی ترجیحات کو بدل کر صنعت کی ترقی کا بیج بو دیں تو انشاءاللہ پاکستان کے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ یقین جانیے ملکی دولت کا بڑا حصہ صنعتی عمل میں استعمال ہونے کے بجائے سونے کی صورت میں ڈالر کی صورت میں لوگ اپنے پاس جمع کرنے لگے ہیں۔ پلاٹوں، جائیدادوں کی خرید میں بڑی بڑی رقوم لگائی جا چکی ہیں۔ مختلف اشیائے صرف اور اشیائے ضرورت کی ذخیرہ اندوزی میں رقوم لگائی جا رہی ہیں۔ وہ صنعت کار جو پہلے صنعتی عمل میں حصہ لیتے تھے سابقہ حکومتوں کی غفلت کے نتیجے میں اب دیگر تجارت پر توجہ دینے لگے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں بیروزگاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر صنعتوں کی ترقی کے لیے اقدامات کرے، پیکجز کے اعلانات کرے، سیمینارز منعقد کروائے ،ان کے مسائل کے حل کے لیے ون ونڈو پالیسی کا اعلان کرے، نئے کارخانوں کے قیام کے سلسلے میں ہونے والی کرپشن کا قلع قمع کرے اور اگر کوئی بڑی انویسٹمنٹ کرنا چاہتا ہے تو حکومت اُس کے لیے اسے لیز پر جگہ دے۔ لہٰذا حکومت کو ایسے منصوبے وضع کرنے کی ضرورت ہے جس سے کارخانے قائم ہو سکیں اور ان میں بھرپور پیداواری عمل کا آغاز ہو سکے اور ایسے کارخانے قائم کیے جائیں جن میں مزدوروں کی زیادہ سے زیادہ کھپت کی جا سکے۔ الغرض صنعتی ترقی کے لیے ایسے منصوبے شروع کیے جائیں جن سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار حاصل ہوں۔ ایسی صورت میں ہی لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا اور غربت میں بھی کمی واقع ہو گی۔ کاروبار کے حوالے سے اگر پاکستان ملائیشیا اور انڈیا کی تقلید کرے، سرمایہ لگائے، پیداوار بڑھائے اور برآمد کرے۔ صحیح فارمولا اپنائے، ترجیحات مقامی ضروریات کے مطابق بنائی جائیں۔اس سے جی ڈی پی اور آمدات میں اضافہ اور دنیا کی منڈیوں میں ہمارے لئے رسائی کشادہ ہو گی۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت کو مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ انہیں پُرکشش مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ وہ بغیر کسی ڈر کے سرمایہ کر سکیں، فی الحال تو نوبت یہاں تک پہنچی چکی ہے کہ لوگ اپنا سرمایہ بینکوں میں بھی محفوظ نہیں سمجھ رہے، اور اسے بینکوں سے نکلوا کر گھروں میں محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ ان حالات میں سرمایہ نوبت بھلا کیسے آ سکتی ہے۔ جب تک بد اعتمادی کی یہ فضا قائم رہتی ہے، لوگ سرمایہ نہیںکریں گے، اور جب تک سرمایہ کاری نہیں ہوگی ملکی صنعت کی بحالی اور اس میں بہتری کی صورت نہیں نکل سکتی۔


ای پیپر