آصف زرداری کا تازہ بیانیہ
22 اکتوبر 2018 2018-10-22

وزیراعظم عمران خان گزشتہ روز سینئر صحافیوں سے ملاقات میں تین اہم امور سامنے لائے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے سیاستدانوں میں سے اکثر مجرم ہیں اور ان کیخلاف اتنے ثبوت موجود ہیں کہ وہ بچ نہیں سکتے۔ دوسرا یہ کہ بیوروکریسی انتظامی سطح پر ہمارے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔تیسرا یہ کہ ان کی حکومت گرائے جانے کی سازشیں کی جارہی ہیں تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کے ابتدائی دو ماہ میں ملکی معیشت سخت بحران کی لپیٹ میں آ گئی ۔ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی، درآمدات کا بڑھتا ہوا بل، برآمدات میں کمی، ڈالر کی اونچی اڑان، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نے فوری اور براہ راست عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو لپیٹ میں لے لیا۔ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے میں ہچکچاہت کے بعد اسٹاک مارکیٹ کریش ہو گئی۔ تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بڑے بڑے وعدے کئے۔ اور الہ دین کا چراغ دکھایا کہ بس اقتدار میں آتے ہی سب کچھ ٹھیک کردیا جائے گا۔ عوام کو مصائب سے نجات ملنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ جب تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا تو احساس ہوا کہ معاملات بہت گمبھیر ہیں۔عوام کو ایک بار پھر مختلف اعلانات کر کے ایک بار پھر سبز باغ دکھانے کی کوشش کی گئی۔ 

مشرف کو نائن الیون کے بعد امداد ملی تو حالات بہتر ہوئے۔حالیہ صورتحال میں اس طرح کی امداد کاکوئی امکان نظر نہیں آتا۔ سی پیک کا معاملہ بھی کچھ گڑبڑ ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ سعودی عرب بھی ادھار تیل دینے یا سی پیک میں شراکت داری پر راضی نہیں۔ بلکہ ترکی کے دارلحکومت استنبول میں سعودی سفارت خانے میں جلاوطن سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی حکومت بھی سیاسی بحران کی لپیٹ میں آگئی ہے۔ ملک کو درپیش معاشی بحران سے گلو خلاصی کے لئے اسے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔

تحریک انصاف نے اپنی مقبولیت اس طرح سے چنی تھی کہ اس کے پاس سب مسائل کا حل اور تبدیلی ہے ۔دوسرے یہ کہ کم سے کم وقت میں عوام کے مسائل حل کردے گی ۔یعنی یقین دہانیاں بھی بڑی تھیں اور مقررہ مدت بھی کم تھی۔اگر یہ دو چیزیں نکال دی جائیں تو تحریک انصاف پاکستان پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں کا متبادل نہیں بن سکتی تھی۔ لوگ منتظرتھے کہ ان وعدوں کو عملی شکل دی جائے۔ اب یہ انتظار بے چینی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ تحریک انصاف بھی ماضی کی حکمران جماعتوں کی طرح دعوے اور وعدے بڑے بڑے کرتی ہے لیکن جب اس کو عمل کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو وہ دوسری جماعتوں سے مختلف نہیں۔ 

حکومت کو درپیش مشکلات سیاسی مخالفین یا بیوروکریسی نہیں، بلکہ معروضی حالات ہیں۔ جن کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں۔ بیوروکریسی کے ارکان کے خلاف ان الزامات کی حقیقت کیا ہے؟کیا اس امرکے ثبوت و شواہد ہیں؟یہ درست ہے کہ بیوروکریسی میں اصلاحات لانا تحریک انصاف کے ایجنڈہ کااہم حصہ ہے۔ لیکن ان اصلاحات پر ایک خصوصی کمیٹی ابھی کام کر رہی ہے۔ اس سے پہلے بلاامتیاز بیوروکریسی پر سرعام حملہ خود ان 

اصلاحات کو مشکوک بنا دے گا۔ بیوروکریسی عوام کی خدمت اور منتخب حکومت کے صحیح فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اس طرح کے الزامات بیوروکریسی میں سیاسی انتقام کے دائرے میں چلے جائیں گے۔ ملک میں سیاسی طور پر مفاہمت کی صورتحال نہیں۔ گزشتہ روز عجیب صورتحال تھی۔ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری تینوں مقدمات میں پیشی بھگتنے کے لئے عدالتوں میں تھے۔ دوسری طرف تمام تر مراعات کی پیشکش کے باوجود ریٹائرڈ جنرل مشرف عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لئے تیار نہیں۔ایک منتخب وزیراعظم کی جانب سے سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہرانا یا انہیں مجرم قرار دینا غیر سیاسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ سیاستدانوں کو برا بھلا کہنا کسی غیر سیاسی ادارے کا کام تو ہوسکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ، ایک سیاستدان کو زیب نہیں دیتا۔ عمران خان خود کو کچھ بھی سمجھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی سیاستدان ہیں،وہ بھی عوام سے رجوع کرتے ہیں، ان سے مینڈیٹ لیتے ہیں۔ کل بھی وہ ایسا کر رہے تھے، اور آنے والے وقت میں بھی انہیں ایسا کرنا پڑے گا۔ ایسا نہ ہو کہ آنے والے کل کو انہیں پھر ایک ’’یو ٹرن‘‘ لینا پڑے۔ 

حالیہ انتخابات کے بعداپوزیشن جماعتیں متعدد مواقع پر متحد ہونے کی کوشش کر چکی ہیں۔ لیکن کوئی نہ کوئی مشکل یا مصلحت آڑے آتی رہی ہے۔ چند ہفتے کی غیرحاضری کے بعد سابق صدر اورپیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سیاسی صورتحال پر براہ راست اظہار خیال کیا ہے۔ زرداری کی اس’’ سیاسی حاضری‘‘ پر وزیراعظم عمران خان کو شاید پہلی مرتبہ سنجیدگی کا احساس ہوا۔ شہباز شریف کی گرفتاری اور نواز شریف کی سیاسی میدان سے عدم موجودگی کی صورت میں پیپلزپارٹی کا رول بڑھ گیا ہے۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ اس صورتحال میں اہم پاور بروکر کا کردار ادا کر سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کی نااہلی کے بعدتمام سیاسی جماعتوں کوموجودہ حکومت کوہٹانے کیلئے ملکر قراردادلائیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ حکومت چل سکتی ہے نہ ہی ملک چلاسکتی ہے۔ انہوں نے نواز شریف سے دو شکوے کئے۔ یہ کہ ہم اچھی پالیسیاں لائے تھے جو نوازشریف کو پسندنہیں آئیں۔ دوسرا یہ کہ میرے ساتھ جوہورہاہے اس کے ذمہ دار نوازشریف ہیں لیکن پھر بھی ان سے ملاقات اوربات چیت ہوسکتی ہے۔ نواز شریف سے متعلق ان کے ریمارکس کا یہ مطلب لیا جارہا ہے کہ نواز شریف اپنی ان ’’غلطیوں ‘‘کو مانیں۔ یعنی اب متحدہ اپوزیشن پیپلزپارٹی کے شرائط پر بنے۔ آصف زرداری کہتے ہیں کہ این آر او کا انہیں کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، ان کے خلاف سارے کیس کھل گئے تھے۔سابق چیف جسٹس نے این آر او ختم کر دیا تھا۔میں تو آج بھی نوازشریف دور میں قائم مقدمات بھگت رہا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان کے اس الزام پر کہ ان کی حکومت کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں سابق صدر نے کہا کہ حکومت سازشوں کا مرکز جبکہ اسلام آباد سازشوں کا شہرہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن جولائی کے انتخابات کے بعد زیادہ سرگرم عمل ہیں۔ وہ متحدہ اپوزیشن کے ئے کوشاں ہیں۔ دو بڑی اپوزیشن پارٹیوں پی پی پی اور نواز لیگ کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم عمران خان مولانا صاھب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ 

آصف علی زرداری کے موقف پر حکومت کہتی ہے کہ یہ زرداری کے بیان سے مری ڈیکلریشن کی بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ پی پی رہنما کو سہارے سے اسمبلی لایا جاتا ہے وہ کیا قرار داد لائیں گے۔ آصف زرد ار ی اس لئے پریشان ہیں کہ حسین لوائی اور انور مجید طوطے کی طرح بول رہے ہیں۔وفاقی وزیر علی زیدی نے یہ کہہ کر بھی ڈرایا ہے کہ ایان علی اور عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی سامنے لائی جا ئیں۔ مری ڈیکلئیریشن کوئی خفیہ چیز نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے درمیان ایک سیاسی معاہدہ تھا، جو عام بھی کیا گیا تھا۔ حکمران جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ ملک کی ترقی کیلئے سازگار اورپرامن سیاسی ماحول ضروری ہے۔ لہٰذا حکومت کو سیاسی ماحول میں غیرضروری طور پر اشتعال سے گریز کرنا چاہئے۔مخالف سیاسی جماعتوں کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ حکومت وقت کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں کی مخالفت کریں اور اس کے لئے رائے عامہ مرتب کریں۔ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں اپوزیشن اسی طرح کام کرتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کام اس وقت سازش کے زمرے میں آئے گا جب وہ کسی ایسے ادارے یا شخص کے ساتھ مل کر حکومت کو گرانے کی کوشش کریں۔ آج اگر اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو یہ اس کا جمہوری حق ہے۔ عموماً ہوتا یہی ہے کہ اپوزیشن تب تک کچھ نہیں کر سکتی جب تک حکومت کسی بحران میں نہ پھنسے یا کوئی غلط فیصلہ یا پالیسی اختیار نہ کرے۔ یعنی حکومت کی پالیسیاں ہی اپوزیشن کو موقعہ فراہم کرتی ہیں۔


ای پیپر