ایک سلسلہ ایمرجنسی ہے اور ہم ہیں دوستو ! 
22 اکتوبر 2018 2018-10-22

چلو، ایک ایمرجنسی میں، ہم بات کرتے ہیں ، ہوا میں تحلیل ہوجائے یا پہنچ جائے ان کے خاص کانوں تک جو صاحبان اختیار ہیں ۔ ہمیں تو بات کرنی ہے ۔

یہ ایمرجنسی بھی کیا ظالم چیز ہے ملک میں لگ جائے تو جمہوریت کی خیر نہیں، کسی ادارے میں ہو تو ملازمین کی خیر نہیں۔ لیکن یہی ایمرجنسی اگر ہسپتالوں میں عملی جامے کی صورت میں ملے تو بیماریوں کی خیر نہیں، مگر کاش ایسا ہو۔ یہاں اپنی قسمت میں تو وہ ایمرجنسیاں زیادہ ہیں جو بگاڑ کے دریچے کھولتی اور بناؤ کے دروازے بند کرتی ہیں ۔ اہل نظر اس بات سے آشنا ہیں کہ 7 تا 28 وہ ساری آئینی دفعات جو انسان اور انسانی حقوق کیلئے ایمرجنسی لگاتی ہیں ان پر صرف سیاست ہوتی ہے یا وہ صفحات پر کندہ ماتم کرتی رہتی ہیں ۔

واپس آتے ہیں ایمرجنسیوں کے قصہ کی جانب تاہم آج جس ایمرجنسی کی بات کرنی ہے وہ ضرورت کے اعتبار سے انتہائی مطلوب و مقصود ہے ۔ سابق وفاقی وزیر برائے ترقیات و اصلاحات و منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال اور سابق وفاقی وزیر تعلیم انجینئر بلیغ الرحمن کی مشترکہ کاوشوں نے ہائر ایجوکیشن کا بجٹ اپنے سے قبل زرداری حکومت سے کئی گنا بڑھایا۔ 2018 تک اس میں مزید 6 فیصد اضافہ کے ساتھ 109 بلین کردیا اپنی جگہ یہ ایک قابل ستائش پیش رفت تھی مگر گڈگورننس کے فقدان نے وہ نتائج فراہم نہ کئے جو ممکن تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت ہائر ایجوکیشن کو کس طرح دوام بخشتی ہے ۔ لیکن ایک بات بہرحال یہاں بیان کرنا ضروری ہے کہ ن لیگی حکومت میں کم از کم پنجاب حکومت کی وائس چانسلر سرچ کمیٹی 10 سال متنازع ہی رہی، بہت سارے امور میں کیس عدالتوں میں رہے، ایک وقت پر تو ایسے لگا کہ نہ صرف یونیورسٹیوں کو عدالتیں چلا رہی ہیں بلکہ پاکستان ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی) کی رہنمائی اعلیٰ عدالتیں ہی کر رہی ہیں گویا اعلیٰ تعلیم کا نظام ہی ہوا کے دوش پر رکھا چراغ ہو جیسے۔ پنجاب سرکار نے پچھلی حکومت کے بجٹ میں اگلے 6 ماہ کیلئے میں 0۔89% اضافہ کرکے اونٹ کے منہ میں زیرہ تو دیا ہے ، اس کے علاوہ صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے ڈاکٹر عطاء الرحمن، ڈاکٹر عارف نذیر بٹ اور شاہد حفیظ کاردار پر مشتمل ایک تھنک ٹینک بھی بنایا ہے بہرحال ابھی دیکھنا ہے کہ تلوں میں تیل کتنا ہوتا ہے اور اس کی ایمرجنسی کتنے پانی میں ہے ؟ 

ایمرجنسیوں کے قصے کی ایک کڑی یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی ایک اعلیٰ سطح کمیٹی نے پاکستان کے شعبہ تعلیم میں کمزور اور پیچیدہ نظام کے حوالے سے ایک منصوبہ بندی پر زور دیا ہے اور ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دی یے۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اپریل میں ایک کمیٹی قائم کی تھی، جس کے سربراہ وفاقی محتسب سید طاہر شہباز کو بنایا، علاوہ بریں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد، عبدالرؤف چوہدری، یو اے جی عیسانی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی، جوائنٹ سیکرٹری تعلیم رفیق طاہر اور دیگر اس کمیٹی کا حصہ تھے۔ کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ آئین کی دفعہ 25 اے کو نافذ کرے، جس کے تحت 

ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔

رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ ملک کو 5 سے 16 سال کی عمر کے اڑھائی کروڑ بچوں کے سکول نہ جانے جیسے چیلنج کا سامنا ہے جبکہ اس تعداد میں ہر سال 20 لاکھ بچوں کا اضافہ ہورہا ہے ۔ اور کہا گیا کہ، ا?رٹیکل 25 اے، 37 بی اور 38 بی کی صورت میں آئین کی واضح شقیں تو ہیں ہی مگر ترقیاتی اہداف اور پائیدار ترقی کے لیے ملک کا عزم ضروری بھی ہے ۔ اداروں کو بااختیار بنانے، تعلیمی بجٹ میں اضافے کی ضرورت قومی سطح پر جی ڈی پی کے 2۔2 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کرنے اور صوبوں کو کل بجٹ کا کم از کم 25 فیصد دینے کی تجاویز سامنے لائی گئیں۔ اس کے علاوہ عوامی شعبے میں نئے سکولوں کی تعمیر اور بڑی تعداد میں اساتذہ کی بھرتیاں ، تربیت ، گھوسٹ اور غیر فعال اسکولوں کو بھی فعال بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے کہا گیا کہ ملک میں 36 فیصد طلبہ کی خدمات پرائیویٹ سکیٹر سرانجام دے رہا ہے ۔ تاہم ان کے فیس سٹرکچر پر غور کی ضرورت ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ یہ 10 فی صد غریب گھرانے کے بچوں کو ایڈجسٹ کرے۔ اعلیٰ حکام کو کوئی یہ بھی یاد کرائے، ایک ایمرجنسی کا نفاذ ہائر ایجوکیشن میں بھی درکار ہے کیونکہ اپنے ملک میں کم و بیش 63 فیصد نوجوان ہیں جن میں سے صرف 5 فی صد ہائرایجوکیشن کا حصہ ہیں ۔ یوں 22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 13 لاکھ طلبہ ہائرایجوکیشن کے دائرے میں ہیں ۔ ان 13 لاکھ میں سے تقریباً 5 لاکھ پرائیویٹ سیکٹر میں زیر تعلیم ہیں ۔ 2017 کی ایجوکیشن پالیسی اور فہم کے مطابق کم ازکم 33 لاکھ طلبا و طالبات کو ہائرایجوکیشن میں ہونا چاہئے اور 2018 تک کم ازکم 18 لاکھ تو کئے جائیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا سرکاری سیکٹر اتنی کشادگی رکھتا ہے ؟ یقیناًنہیں رکھتا۔ اس میک اپ کیلئے 2002 میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پراجیکٹ (پی پی پی پی) کو متعارف کرایا گیا تاکہ سبھی ریسورسز سے استفادہ ہو لیکن سرکار کی عدم دلچسپی و بد انتظامی و کم فہمی اور پرائیویٹ سیکٹر کے حرص و ہوس نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا۔ نالج اکانومی کا فلسفہ زمین بوس ہوتا چلا گیا۔ حالانکہ پچھلے دو عشروں میں 2009 اور 2017 میں ایجوکیشن پالیسیاں بنائیں گئیں افسوس کہ جو کسی تعلیمی ایمرجنسی کیلئے باعث کشش نہ ہوئیں! پاکستان میں کئی خالصتا پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے سماجی و اقتصادی معاملات کے سنگ سنگ تعلیم و تحقیق کو چار چاند لگائے ان قابل تحسین یونیورسٹیوں کی پذیرائی ایچ ای سی اور سرکار پر فرض تھی لیکن کسی نے جایا ہی نہ جاہنے والوں کی طرح۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ، پرائیویٹ یونیورسٹیاں، الحاق شدہ پرائیویٹ ادارے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پروگرام والے بھی 10% غریب طلبہ کو خصوصی رعایت دے اپنے دامن میں جگہ دیں۔ ذہن نشیں رہے کہ امریکہ میں 20 ٹاپ کلاس یونیورسٹیوں کا تعلق ہی پرائیویٹ سیکٹر سے ہے جن میں شہرہ آفاق ہاورڈ یونیورسٹی، ییل (YALE) اور ایم آئی ٹی شامل ہیں ۔ پاکستان میں تقریباً 192 ادارے اعلی تعلیم فراہم کررہے ہیں جن میں سے 80 ادارے پرائیویٹ سیکٹر کے ہیں ۔ لیکن پچھلے کئی سالوں سے سرکاری نیورسٹیوں میں سیاست کا راج ، سفارشی کلچر، پلیجرزم کے آسیب کے سائے، دہشتگردی کے خوف کی پاداش میں وائس چانسلرز کے گلے میں پھندے، کئی جگہوں پر ہائرایجوکیشن کمیشن اور سرچ کمیٹیوں کی دوغلی پالیسی سے وائس چانسلرز کی غلط تعیناتیوں کا سلسلہ پھر ان میں سے کچھ پر تو عدالتوں کے ایکشن اور کچھ قدرتی نظر انداز ، ایک ستم یہ بھی کہ ماضی میں مرکزی اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن میں سرد و گرم جنگیں بھی رہیں لیکن کسی ایمرجنسی کا یہاں تو کوئی نفاذ نہ رہا! ہائر ایجوکیشن کی آہیں سوال کرتی ہیں کہ کہاں گئیں وہ سب ایمرجنسیاں ، کدھر گئے وہ ایچ ای سی کے نئے اور پرانے سربراہان، اور کدھر ہیں وہ چانسلر اور پرو چانسلر جب سابق وائس چانسلرز ڈاکٹر اکرم چوہدری (سرگودھا یونیورسٹی) اور ڈاکٹر مجاہد کامران (پنجاب یونیورسٹی) کو الزامات کے ثابت ہونے سے قبل ہتھکڑیاں لگا کر استاد کی حرمت کو پاش پاش کیا۔ جہاں ایک طرف قابل استاد کے ساتھ یہ ہوگا اور دوسری طرف سفارشی کو اشرافیہ مسند دے گا آخر عدالت عظمی کو لاہور کالج وومن ہونیورسٹی کی وائس چانسلر کو برخاست کرنا پڑے اور جہاں ایک دفعہ ایچ ای سی کسی وائس چانسلر کو ٹینیور ٹریک اور گیپ یا کم ریسرچ کے سبب وائس چانسلر کے قابل نہ سمجھے اور لیٹر بھی جاری کردے مگر پھر وہی چئرمین ایچ ای سی کسی وزیر یا کبیر کے کہنے پر عدالت میں اپنا کہا واپس لے کر بیان بدل لے اور اسی ناقابل شخص کو وائس چانسلری کے قابل سمجھے، تو ہم ایسے چئرمین اور ان کی تعلیمی ایمرجنسی کی سفارشات کو کیا سمجھیں؟ 

اللہ کرے یہ ایمرجنسیاں اور پالیسیاں چمن کیلئے خوش آئند ہوں لیکن کچھ ایمرجنسیاں سسکتی انسانیت، بالوں کی سفیدی، استاد کی حرمت، چشم بینا کے فروغ اور حقیقی انصاف کے حصول کیلئے بھی درکار ہیں !


ای پیپر