بڑھتی ہوئی تلخیاں
22 اکتوبر 2018 2018-10-22

پاکستان کے وزیراعظم کے اعلان کردہ سو دن کا فاصلہ اتنا دور نہیں۔ اب ان کی سو دن کی کارکردگی جانچنے کا مرحلہ آیا ہی چاہتا ہے۔ حکومت بہت سے متنازع کام کر رہی ہے۔ مخالف سیاست دانوں کو ڈاکو اور چور کہا جا رہا ہے۔ اپوزیشن میں رہ کر گالی گلوچ کرنا۔ یہ کہنا کہ حکومت میں آتے ہی یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا۔ اب کپتان اپوزیشن میں ہے یا اب آپ کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ آپ حکومت ہیں۔ لیاقت علی خان سے شروع ہونے والے پروڈا کی یہاں سے مخالف سیاست دانوں کر رگڑا لگاؤ۔ سہروردی کو روکا گیا اس قانون کے تحت وہی سیاست دان آیا جو حکومت مخالف تھا۔ ایوب صاحب تشریف لائے نشانہ سیاست دان تھے پورے 78سیاست دان بلکہ سب سیاست دان نکال باہر کیے چھ سال کے لیے۔ سیاست دانوں کو نکالا فاطمہ جناح ایوب کو للکارنے کے لیے میدان میں تھی۔ پرانے سیاست دانوں کی نا اہلی کی مدت ختم ہوتے ہی میدان پھر انہی سیاست دانوں کے ہاتھ آ گیا ۔ بھٹونے اپنے سب سے بڑے مخالف قائد حزب خان عبدالولی خان کو ہی نہیں بھٹو نے تو اختلاف کرے اپنی جماعت کے لیڈروں کو ایسا سبق سکھایا جن میں معراج محمد خان، جے اے رحیم، محمود قصوری، رسول بخش اور علی محمد تالپور زیر اعتاب رہے۔ پھر مشرف نے دو تہائی اکثریت والی جماعت توڑنے کے لیے ایک اور مسلم لیگ کھڑی کی تو پھر میثاق جمہوریت ہوا اچھے دس سال گزرے احتساب عدالتوں کے ذریعے ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ ہم نئے پاکستان میں ریاست مدینہ کے ماڈل کی حکمرانی کا زرا حال تو دیکھو عام لوگوں کی جائیداد جس میں پلازے شادی حال اور گھر تھے۔ سب گرا دیئے۔ اسی جگہ بنی گالہ بھی ہے جہاں ملک کا وزیراعظم دن میں ایک دو چکر ہیلی کاپٹر پر لگاتا ہے جس پر 55 روپے کلو میٹر نہیں بلکہ ہزاروں روپے ایک بار آنے اور جانے کا خرچ آتا ہے۔ نواز شریف کو بدنام کرنے کے لیے وزیراعظم ہاؤس کا معاملہ سیکنڈ لائز کیا کہ دعوے تو زمین پر ہی لڑھک رہے تھے۔ میڈیا پر جبر کبھی ایسا دیکھا نہیں تھا ایوب خان نے نیشنل پریس ٹرسٹ بنایا۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ اب میڈیا کی شتر بے مہار آزادی کو کنٹرول کرنا ہے۔ ضیاء الحق نے اخبارات سے مکالمہ کیا صاف صاف کہہ دیا پریس ان سے پوچھ کر ہی کلمہ حق کہہ سکتا ہے اب تو انتقام روا رکھا جا رہا ہے۔ پھر غدار سازی کی فیکٹری کھل گئی ہے جس سے اختلاف ہوا اس پر دشمن کی مہر لگا دو۔ عجب بات ہے یہ سب تو ماضی کی بات ہے۔ بھٹو نے اکثریت کے باوجود اتفاق رائے پیدا کیا اور 1973ء کا آئین نافذ ہو گیا۔ نافذ ہو گیا اسے بار بار صدارتی بنایا جاتا رہا۔ آئین میں کبھی آٹھویں اور کبھی 17 ویں ترمیم ڈالی گئی۔ یہ ساری عجب کہانیاں ہیں۔ نوا زشریف جس کے بارے میں بڑے طنز یہ انداز میں کہا جاتا ہے کہ وہ ضیاء الحق کی پیداوار ہے پھر فرعون کے گھر ایک موسیٰ پیدا ہوا جس نے آئین سے ضیاء الحق کے نظریے اور جبر کو نکالا۔ نواز شریف چوٹی پہنچے صدر پاکستان فاروق لغاری سے درخواست کی 13 ویں ترمیم آ گئی۔ ’’لوٹا گردی‘‘ کو ختم کرنے کے لیے 14 ویں ترمیم لائی گئی۔ وزیراعظم طاقت ور بن گیا سب کچھ بمشکل 2 سال ہی برداشت کر پائے ’’کارگل فیم‘‘ بن بلائے آن دھمکے مشرف نے خود کو ملک کا چیف ایگزیکٹو ہونے کا اعلان کر ڈالا۔ مشرف کی 17 ویں ترمیم نے ایک بار پھر آئین کو صدارتی بنا دیا جس میں لگاتار تین وزیراعظم تبدیل ہوئے۔ پھر سیاست دان میثاق جمہوریت کر کے جمہوریت آگے بڑھنے لگی۔ اقامہ آیا نشانہ وزیراعظم نوا زشریف۔ عوام کے ووت لینے والے پارلیمنٹیرین ان کو ’’سلیکٹ ‘‘ وزیراعظم کہتے تھے۔ شاہد خاقان عباسی صاحب تو حالیہ الیکشن کو پاکستان کی تاریخ کے دھاندلی الیکشن کہتے ہیں۔ اب کپتان جن کی وزارت نے جمہوریت سے جنم لیا ہے۔ وہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانا چاہتے ہیں ۔ 

نوا زشریف جب وزیراعظم بنے زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے تین ارب ڈالر، نہ بجلی تھی گیس ڈالر کنٹرول سے باہر پھر چیزیں کنٹرول ہوتی گئیں جب اسد عمر وزیر خزانہ بنے تو زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تھے۔ حکومت ملی وہ تو حکمرانی کرنے جا رہے تھے مگر انہوں نے تو اپنی حکومت کے خلاف ہی دھرنا دے ڈالا۔جنہوں نے ساری زندگی ہار اور جیت کی کشمکش میں گزار دی۔ کرکٹ 

ختم تو دشمنی اور مقابلے بھی ختم۔ ریٹائر منٹ کے بعد زندگی کافی مشکل ہوتی ہے ماں جو کینسر سے مری ان کی یاد میں ہسپتال بنانے کی سوجھی اس اچھے کام میں سب سے پہلے نواز شریف نے ہاتھ پکڑا اور خود اپنے ہاتھوں سے شوکت خانم کا سنگ بنیاد رکھا۔ شاہد خاقان عباسی کا انٹرویو زبردست تھا حکومت کی کارکردگی کا پردہ چاک کیا۔ دبے لفظوں میں کچھ اور لوگوں کا نام لیا۔ معاملہ شروع ہو ا، خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ سے ملک کو جس معاشی صورت حال کا سامنا ہے ، سٹاک ایکسچینج میں اربوں ڈالر خسارے کا معاملہ اٹھا اور اس کا حل پوچھا گیا تو انہوں نے سب سے اچھا مشورہ دے ڈالا ملک کی اقتصادی حالت ایسی تھی کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بچا جا سکتا تھا۔ عمران خان اور ان کی ٹیم کو اچھی مینجمنٹ دکھانے کی ضرورت تھی۔ وزیر خزانہ کہے کہ لٹ گئے۔ وزیراعظم کہے ہم تباہ ہو گئے۔ اس کے ترجمان کہیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک کو تباہ کر دیا۔ ایسی صورت حال میں جب یہ آئی ایم ایف کے پاس جا رہے تھے تو انہیں منہ بند رکھنے کی ضرورت تھی ۔ آئی ایم ایف کو قرضہ دینے میں کوئی اعتراض نہیں دس سے بارہ ارب ڈالر کا معاملہ ہے۔ اب جب آپ جائیں گے آئی ایم ایف کے پاس تو شرائط بھکاری کی نہیں آئی ایم ایف کی ہوتی ہیں وہ ٹیکس بڑھانے پر زور دیتا بجلی، گیس ،پٹرول اور کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اب حکمرانوں کو اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع ملا ہے،ایک مطالبہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کر ڈالا اور نشانہ بنایا ہے وزیراعظم عمران خان کو اور کہا ہے موجودہ حکومت کی نا اہلی کم وقت میں سامنے آ گئی ہے اور تمام جماعتوں کو اکٹھا ہو کر قرار داد لانا ہو گی۔ یہ تو اپوزیشن ہے مریم اورنگ زیب اور زرداری صاحب نے جو فرمایا ہے وہ اپوزیشن کا کام ہے۔ ایک مرتبہ کپتان نے افغان مہاجرین کو پاکستان کی شہرت دینے کا ارادہ باندھا ان کے ایک اتحادی ان کے ساتھ ایک ایک کر کے پورے چھ نکات لکھے گئے ہیں۔ اختر مینگل نے اس پر کپتان سے احتجاج کیا پر مینگل کو یقین دلایا گیا کہ اب ایسا نہیں ہو گا۔ اختر مینگل کے والد سردار عطا اللہ مینگل بھی وزیراعلیٰ رہے۔ اب تحریک انصاف نے تحریری معاہدہ کیا ہے۔ کپتان یو ٹرن لے چکے۔ اس کے علاوہ احتساب کے نظام کو جانب دار سمجھتے ہیں 63 دنوں میں ہی حکومت کے لیے معاملہ کہاں سے چلا گیا۔ بلوچستان کی حکومت نئے بنتے ہوئے اتحاد کی وجہ سے اقلیت میں جاری ہے۔ ایم کیو ایم اس بار بھی کراچی میں ہونے والے انتخاب پر احتجاج کر رہی ہے۔ مرکز میں حکمران الائنس بکھر رہا ہے۔ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف دشمن تھیں۔ دشمن وزارت میں رہ کر بھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔


ای پیپر