آبی طور پر محفوظ پاکستان کی تشکیل۔۔۔!!
22 اکتوبر 2018 2018-10-22

سپریم کورٹ آف پاکستان اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ’’ آبی طور پر محفوظ پاکستان کی تشکیل ‘‘ (Creating A Water Secure Pakistan) کے عنوان سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد بالا شبہ ایک انتہائی اہم ، یاد گار اور ضروری اقدام ہے، جس میں ملک میں پانی کی اہمیت، قلت اور نئے آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر کے معاملات اور مسائل کے حل کے لیے جامع اور قابل عمل پالیسی کی ترتیب و تشکیل کے امور ہی زیر بحث نہیں لائے گئے بلکہ ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے پانی کی قلت دور کرنے کے لیے تکنیکی تجاویز اور سفارشات بھی پیش کیں۔ سمپوزیم کے پانچ سیشن ہوئے جن میں سندھ طاس کے قانونی پہلوؤں کے جائزے کے ساتھ ڈیمز اور پانی کے ذخائر کی تعمیر اور انکے لیے ضروری فنڈز کی فراہمی کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے ساتھ گرؤنڈ واٹر ، واٹر ریچارج اور پانی کی قیمت اور دوسرے کئی متعلقہ اہم امور پر بھی ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور قیمتی تجاویز اور مشورے پیش کئے۔ سمپوزیم کے اختتا م پر ماہرین کی سفارشات اور آرا کو حتمی شکل دے کر بیس نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں پانی کے مسئلے پر ٹاسک فورس قائم کرنے، زرعی اراضی کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر طریقہ کار اور تکنیک کے استعمال کو یقینی بنانے کے ساتھ پانی کے ذخائر بڑھانے ، ملک کے مختلف حصوں میں ترجیحی بنیادوں اور تیزی سے چھوٹے بڑے ڈیم بنانے، انڈس بیسن(سندھ طاس) سے متعلق پاکستان کے کردار کو فوری طور پر تسلیم کرنے اور اسکے تحت آبپاشی کے نیٹ ورک کو مزید توسیع دینے، پاکستان کے زیریں علاقوں میں پانی کی رسائی کو یقینی بنانے کے نکات کے ساتھ سرمایہ کاری کے ذریعے ڈیمز کی تعمیر اور زیر زمین پانی کے استعمال کو عملی جامہ پہنانے، پانی صاف کرنے کے لیے مناسب ٹیکنالوجی استعمال کرنے، ری سائیکلنگ کے ذریعے صاف پانی کی دستیابی پر توجہ دینے ، ملک میں پانی کی طلب اور رسد میں توزن قائم رکھنے، پاکستان کی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی کرنے اور اسے دوبارہ زیر بحث لانے، جدید ترین ڈیٹا کلیکشن کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے پانی کی مقدار کا باضابطہ تعین کرکے صوبوں میں مفاہمتی عمل کو فروغ دینے اور نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے 

رقم کی فراہمی کے روایتی اور غیر روایتی طریقے اپنانے کو اختیار کرنے کے نکات شامل ہیں۔یقیناًان نکات پر عمل درآمد سے ہمیں قومی آبی پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے صوبوں میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور پانی کی قلت اور پانی کے ذخیرہ کرنے کے مسائل جن میں نئے ڈیموں کی تعمیر سر فہرست ہے جیسے مسائل سے عہدہ برأ ہونے میں مدد ملے گی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سمپوزیم کے انعقاد سے پوری قوم میں ملک کو درپیش پانی کی قلت اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے مطلوبہ وسائل نہ ہونے کے انتہائی سنگین مسئلہ سے آگاہی حاصل ہوئی ہے اور یہ شعور ابھارنے میں مدد ملی ہے کہ پانی زندگی ہے، اللہ کی بڑی نعمت ہے اور اسکو ہم نے کفایت سے استعمال کرنا ہے اور ضائع نہیں ہونے دینا ہے۔ 

’’ آبی طور پر محفوظ پاکستان کی تشکیل ‘‘ کے موضوع پر اس سمپوزیم کے انعقاد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی ذاتی دلچسپی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ وہ ملک کو آبی قلت اور پانی کے موجودہ وسائل کو صحیح طور پر ذخیرہ نہ کرنے دوسرے لفظوں میں نئے ڈیمز کی تعمیر نہ کرنے جیسے سنگین قومی مسئلے کے حل کے لیے پرخلوص کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انکی تحریک پر دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لیے رضاکارانہ فنڈاکھٹا کرنے کے لیے ’’ دیا میربھاشا، مہمند ڈیمز فنڈ‘‘ کا قیام عمل میں آیا جس میں اس وقت تک چھ ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم جمع ہوچکی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی یہ خدمات یادگار رہیں گی تاہم انہوں نے دو روزہ سمپوزیم کے افتتاحی اور اختتامی سیشنز میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ بھی بلاشبہ قابلِ قدر ہیں۔ لیکن پہلے تھوڑا سا تذکرہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے سمپوزیم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کا جس میں صدر مملکت نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔ جناب صدر مملکت کا خطاب بھی بلاشبہ بڑا پر مغز اور چشم کشا کہلا سکتا ہے۔ انہوں نے ملک کو درپیش آبی قلت اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل و معاملات پر تفصیل سے روشنی ڈالی انہوں نے اپنے خطاب میں ملک میں بڑے ڈیمز کی تعمیر اور قومی آبی پالیسی کے نافذ کرنے کو ناگز یرقرار دیتے ہوئے بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر مذکرات پر زور دیا اور کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے آبی مسائل حل کرنا ہوں اور سب سے پہلے پاکستان کے بارے میں سوچنا ہوگا ۔ اس کے لیے اتفاق رائے اور باہمی اعتماد سازی وقت کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں اس بات کا ذکر کیا کہ نئے آبی ذخائر کی تعمیر ، پانی کے بچاؤ کی منصوبہ بندی واٹر آڈٹ کے طریقہ کار ، پانی کی قیمت کے تعین آبپاشی کے نظام کی استعدادِ کار میں اضافے، اور پانی کی مساویانہ تقسیم کے لیے سیٹلائیٹ ٹیلی میٹری سسٹم نصب کرنے جیسے ضروری اور اہم اقدامات کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

صدر مملکت کا یہ خطاب ملک کو درپیش آبی مسائل کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔ تاہم چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے سمپوزیم کے افتتاحی سیشن میں جہاں اپنے خطاب میں پاکستان میں پانی کی قلت اور پانی ذخیرہ کرنے اور ڈیم نہ تعمیر کرنے جیسے مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی وہاں انہوں نے اختتامی سیشن میں بھی اپنے خطاب میں بڑے جذباتی انداز میں پانی کے مسائل کے حل کے لیے آخری حدوں تک جانے کے عزم کا اظہار کیا۔جنا ب چیف جسٹس نے افتتاحی سیشن میں اپنے خطاب میں کہا کہ آبی وسائل خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ پانی کی قلت کے مسئلے کوسنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے۔ کوتاہیوں پر قابو پانے کا اب بھی وقت ہے قوم کو خشک سالی ، قحط اور سیلاب سے بچانا ہوگا۔ خدشا ہے کہ سن 2040ء تک پاکستان پانی کی شدید قلت کے شکار 33ممالک میں 23ویں نمبر میں آجائے گا۔ ضروری اقدامات نہ کیے تو 2025ء میں خشک سالی کا سامنا ہوگا۔ اس پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنے ضروری ہیں۔ ہمارے پاس بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لیے سرمایہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لیے ڈیمز فنڈ قائم کیا ۔ اس میں اب تک 6 ارب 37 کڑوڑ روپے جمع ہو چکے ہیں۔ ہمیں بھاشا اور مہند ڈیمز کی فوری تعمیر کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جناب چیف جسٹس نے سمپوزیم کے آخری روز(دوسرے دن) اختتامی سیشن سے خطاب کے دوران بڑی درد مندی سے کہا کہ پانی کے لیے پانی کے مسائل کے حل کے لیے آخری حد تک جانا ہوگا۔ جنتے دن ہوں قوم کو مایوس نہیں کروں گا۔ اگر آج اقدامات نہیں اٹھائے جاتے تو پاکستان میں زندگی بہت مشکل ہو جائے گی۔


ای پیپر