کیا موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کر پائے گی ؟ 
22 اکتوبر 2018 2018-10-22

یہ پہلی حکومت ہے جسے اقتدار میں آئے ابھی صرف ساٹھ دن ہوئے ہیں لیکن اس کے اپنے پرائے کے ذہن میں یہ سوال لہرا رہا ہے کہ کیا یہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کر پائی گی ۔ظاہر ہے اس سوال کے در آنے کی کوئی وجوہات ہونگی۔ پچھلی حکومتیں اس ملک کو جس حالت میں چھوڑ کر گئی ہیں وہ سب کے سامنے ہے لیکن جس انداز میں موجودہ حکومت نے روزمرہ کی اشیا پر انواع و اقسام کے ٹیکسز لگا کر قوم کو مہنگائی کے طوفان کے سامنے لا کھڑاکیا ہے اس نے تو نئی حکومت سے خوش گمانیاں رکھنے والوں کو بھی تذبذب کا شکار کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت عوام کو دلاسا دیتے ہوئے کہتی ہے کہ پچھلی حکومتوں نے اس ملک میں کچھ یوں تباہی مچائی تھی کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ انشااللہ یہ پیریڈ بہت مختصر ہوگا اور ملک بہت جلد ان بحرانوں سے نکل کر بہتری کی طرف گامزن ہو جائیگا ۔ سچ پوچھیں اس ملک کے عوام نے اس حکومت سے بہت امیدیں لگا رکھی تھیں اس لیے وہ اب سینے پر پتھر رکھ کر حکمرانوں کے دلاسوں کو ماننے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ لیکن چلو یہ تو اس حکومت کی مجبوریاں تھیں کہ وہ قوم کو کوئی فوری ریلیف نہیں دے سکی لیکن اس کے علاوہ اس حکومت نے جو iniativesلیے ہیں وہ بھی تو قوم کے لیے باعث پریشانی بن رہے ہیں۔ مثلاً موجودہ حکومت نے بڑے پیمانے پر پورے ملک میں تجاوزات کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ تجاوزات کسے پسند ہیں ، ہر شہری ان کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن اس قسم کی مہم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بہت ہی احتیاط برتنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ً عموماً اس قسم کی مہمات میں افسر شاہی اپنا پورا زور اور حکومتی جاہ و جلال بروئے کار لاتی ہے جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہً عام آدمی کے ساتھ بہت زیادتی ہو جاتی ہے جس کی compensation بہت مشکل ہوپاتی ہے۔ ایسی مہمات میں ہمیشہ حکومتی افسران اور اہلکاران ہی فیصلے کرتے ہیں کہ کونسی چیز تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے اور کونسی نہیں۔عام آدمی کو اتنا موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ اپنا نکتہ نظر پیش کر سکے ۔ ایسے میں لوگوں کے ناقابل تلافی نقصان ہو جاتے ہیں۔ سچ پوچھیں موجودہ حکومت کی اس مہم کے دوران بھی پورے ملک میں لوگ بہت sufferکر رہے ہیں اور وہ حکومت کے سامنے اپنے آپ کو محض مجبور سمجھ رہے ہیں جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر حکومت کے خلاف ایک نفرت جنم لے رہی ہے جو اس نوزائیدہ حکومت کے لیے کسی طور سود مند نہیں ہے۔ نہ جانے کن افلاطونوں نے حکومت کو اس مہم کے شروع کرنے کا مشورہ دیا۔یہ وقت اس مہم کے لئے کسی صورت مناسب نہیں تھا ۔ ایسی مہمات کو شروع کرنے کا مناسب وقت وہ ہوتا ہے جب حکومت خوب establish ہو لیکن پھر بھی ایسے کام انتہائی سوجھ بوجھ اور مکمل طور پر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنے چاہیں۔ ایک اور بات بھی گردش کر رہی ہے کہ تحریک انصاف بڑے زور شور سے اس ملک کے بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے قانون سازی میں مصروف ہے اور اس کے بعد ان اداروں کے لئے پارٹی بنیادوں پر نئے الیکشنز بھی کرانا چاہتی ہے۔ساری دنیا کی جمہوریتوں میں بلدیاتی اداروں کی ایک بنیادی حیثیت ہوتی ہے۔ یہی ادارے ہوتے ہیں جو عوام کی ضروریات اور خواہشات کے مطابق ترقیاتی کام کراتے ہیں۔ ان اداروں کے نمائندے چونکہ انہی علاقوں سے عوام کے منتخب کردہ ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے اپنے علاقوں میں مناسب منصوبوں کی ضرورت سے صحیح طور آگا ہ ہوتے ہیں۔لیکن اس ملک کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی تو ان اداروں کے الیکشنز کرانے کے لیے بھی تیار نہیں تھیں۔ سار ی دنیا کے سامنے ہے کہ اس ملک کی سپریم کورٹ کو ان اداروں کے الیکشن کرانے کے لیے کتنا زور لگانا پڑا۔ الیکشن ہو جانے کے بعد ان دونوں جماعتوں نے حتی المقدور یہ کوشش کی کہ ان اداروں کو غیر فعال ہی رکھا جائے۔ انہیں برائے نام سے فنڈز جاری کیے گئے اوریہ ادارے ابھی تک بے حیثیت ہیں۔تحریک انصاف اس ملک کی واحد جماعت ہے جو ان اداروں کو مضبوط بنانا چاہتی ہے ۔ مالی اور انتظامی اختیارات انہیں دینا چاہتی ہے جو ایک قابل ستائش سوچ ہے لیکن اس تمام میں ایک سقم یہ نظر آرہا ہے کہ پہلے سے منتخب شدہ عوامی نمائندوں کی آئینی اور قانونی مدت کو ختم کرکے نئے نظام کے نفاذ ساتھ نئے الیکشن کرا دئیے جائیں۔ ایسا کرنا تحریک انصاف کے لیے بہت نقصان دہ ہوگا ۔ پہلے سے منتخب نمائندگان چاہے کسی بھی جماعت کے ہوں وہ اس سے آزردہ خاطر ہونگے اور ان کے اند ر تحریک انصاف کے خلاف ایک نفرت جنم لے گی ۔ یہ لوگ چونکہ Grassroot level سے تعلق رکھتے ہیں لہذا ان کی نفرت سے مراد عوام کی نفرت۔ساری دنیا کو معلوم ہے کہ چونکہ ان کے ساتھ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کا سلوک مناسب نہیں تھا اس لیے ان کے دلوں میں بھی ان پارٹیوں کے لیے کوئی خاص محبت باقی نہیں ہے۔ اس لیے تحریک انصاف کو چاہیے کہ اپنے نئے نظام کو ان ہی نمائندوں کے ذریعے نافذ کرے تاکہ یہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔یقیناً اس سے ان نمائندوں اور عوام کے دلوں میں تحریک انصاف کی قدر ومنزلت بڑھے گی اور یوں تحریک انصاف کی عوام میں پذیرائی بڑھ جائے گی ۔تحریک انصاف کے لیڈران کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ اگر ان نمائندوں کو ختم کرکے نئے الیکشنز کرائے گئے تو ان کی جماعت کو خاصی خفت اٹھانا پڑے گی اور نتائج کسی طور ان کی favourمیں نہیں ہونگے۔آخر میں سب سے اہم بات جو تحریک انصاف کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے وہ اس جماعت کے اندر مختلف گروپس کی موجودگی۔ ایکدوسرے کے خلاف سازشیں اور نفرتیں۔مثلاً پنجاب ہی کو لے لیں جو اس ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور جہاں تحریک انصاف کو پہلی بار حکومت ملی ہے۔ یہاں آج تک کوئی سیاسی استحکام نظر نہیں آتا، ایک تو عددی حساب سے یہ ایک کمزور حکومت ہے دوسرے یہاں حکومت گروہ بندیوں کا شکار ہے۔ ہر آدمی کی زبان پر ہے کہ ایک برادری کے لوگ ایک طرف اکٹھے ہو گئے ہیں اور دوسری طرف وہ وزیر صاحب ہیں جنہوں نے پارٹی کے لیے بے دریغ دو لت لٹائی ہے اور اپنا سب کچھ پارٹی پر نچھاور کر دیا ہے۔اسی وزیر صاحب نے جنرل الیکشن میں اپنے حلقے کو نظر انداز کرکے خانصاحب کے حلقے میں رات دن کام کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے حلقہ سے تو الیکشن ہار گئے لیکن خانصاحب جیت گئے۔ انہیں ایک اہم وزارت تو سونپ دی گئی ہے لیکن دوسرے گروپ کے صوبہ میں مکمل اثر و رسوخ کے باعث وہ اپنی وزارت میں بھی اپنے آپ کو بے دست و پا سمجھتے ہیں۔ دوسرے خانصاحب نے اس بڑے اور اہم صوبہ کو ایسے وزیراعلیٰ سونپ رکھے ہیں جن میں اتنی capcity ہی نہیں ہے کہ وہ پارٹی کے اس قسم کے معاملات میں اپنا ایک کردار ادا کرتے ہوئے پارٹی اور حکومت کی مضبوطی کا باعث بنیں۔کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ یہ وزیر صاحب روز بروز اگر اسی طرح بددل ہوتے گئے تو وہ کسی بھی وقت حکومت سے کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر پنجاب میں خانصاحب کی پارٹی ان راہوں پر چل نکلی تو تحریک انصاف کا انجام پھر کسی تباہی سے کم کیا ہوگا۔ خانصاحب کو چاہیے کہ وہ فوراً پنجاب کے اندر پارٹی کے معاملات کو سنبھالیں تاکہ کہیں پارٹی بکھر نہ جائے ۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ وہ صوبہ کو ایک سیاسی طور پر تجربہ کار اور جہاں دیدہ وزیراعلیٰ دے دیں ۔ لیکن لوگ خانصاحب کو ایک ضدی کھلاڑی کے طور پر جانتے ہیں اور سیاست میں ضد کوئی بارآور چیز نہیں سمجھی جاتی ۔

یہی وہ چند عوامل ہیں کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال لہرا رہے ہیں کہ کیا تحریک انصاف کی حکومت اپنے پانچ سال پورے کر پائے گی ۔


ای پیپر