کراچی میں رشوت سے تنگ آکر خود سوزی کرنے والا رکشہ ڈرائیور چل بسا
22 اکتوبر 2018 (16:43) 2018-10-22

کراچی : کراچی میں مبینہ رشوت اور چالان سے تنگ آکر خود سوزی کرنے والا رکشہ ڈرائیورسول اسپتال برنس وارڈن میں دوران علاج دم توڑ گیا، رکشہ ڈرائیورخالد نے ہفتے رات ٹریفک اہل کار سے تلخ کلامی کے بعد صدر چوکی کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگالی تھی۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق رکشا ڈرائیور کی موت رات 3 بجے ہوئی، میت ورثاء کے حوالے کردی گئی۔واضح رہے صدر ٹریفک پولیس چوکی کے قریب ٹریفک پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر رکشہ ڈرائیورخالد سے رشوت کامطالبہ کیاتھا ،انکار پرچالان کاٹ دیا ۔ دلبرداشتہ ہوکر رکشہ ڈرائیورنے خود پرتیل چھڑک کرآگ لگالی، جھلس کرزخمی ہونے والے رکشہ ڈرائیورنے خود سوزی سے قبل لکھے گئے خط میں سارا معاملہ تحریر کیااور کہا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ خودکشی حرام ہے لیکن اگر میری موت سے لاکھوں غریب رکشہ ڈرائیوروں کوبلا جواز چالان سے نجات مل جائے تواچھا ہوگا۔

آئی جی سندھ کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لینے پر چوکی میں تعینات اے ایس آئی حنیف کو معطل کر دیا گیا۔بعدازاں کراچی پولیس چیف امیر شیخ نے اہلکاروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب رکشے والوں کا 100 تا 150 سے زائد کا چالان نہیں ہوگا، کوئی رکشے والاچالان نہ بھرسکاتو میں بھروں گا۔اے آئی جی نے رکشہ ڈرائیور کوا مدادی چیک دینے کی کوشش بھی کی تاہم خالد اور اسکے اہل خانہ امداد ٹھکراتے ہوِئے ٹریفک قوانین میں بہتری اور انصاف فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔


ای پیپر