نادیہ مراد
22 اکتوبر 2018 2018-10-22

جون 2017 کو نادیہ کے ہم نسل ایزدی والہانہ انداز میں اپنے گھروں سے نکل آئے جب انہیں یہ پتا چلا کہ ان کے گاو¿ں سے جنسی غلام بنائی جانے والی لڑکی نادیہ مراد آج اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر بن کر گاو¿ں واپس آرہی ہے۔

نادیہ مراد 1993ءمیں شمالی عراق کے صوبہ نینوا کے علاقے کوہِ سنجار میں ایک گاو¿ں کوجو میں پیدا ہوئی۔ اس کا تعلق ایک کسان گھرانے سے تھا۔ بچپن سے کم سنی اور زندگی کے انیس سال اپنے بھرے خاندان کے ساتھ اس نے کیسے گزارے اسے پتا ہی نہیں چلا۔ تعلیم کی روشنی کی اہمیت کو جانتے ہوئے نادیہ اس وقت کالج میں پڑھ رہی تھی۔ صرف س±ن رکھا تھا کہ داعش نامی عفریت نے اس کے ملک کو نوچنے کا آغاز کیا ہوا ہے۔ کالج میں اس حوالے سے سہیلیاں داعش سے متعلق ذکر کو چھیڑ بھی دیا کرتی تھیں۔ لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ 15 اگست 2014 کا وہ خوفناک دن اس پر اور اس جیسی کئی معصوم زندگیوں پر ایسی قیامت برپا کرے گا جس کے لگائے ہوئے زخم جسم تو جسم روح سے مندمل ہونا بھی ناممکن ہوں گے۔ دہشت گرد آن کی آن میں آئے اور دنیا ہی ویران کرگئے۔ داعش کے جنگجوو¿ں نے ہر شخص کو گاو¿ں سے باہر اسکول میں جمع ہونے کا حکم دے دیا۔ اسکول میں جنگجوو¿ں نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ جمع کیا۔ ان میں نادیہ اور اس کے گاو¿ں کی دیگر عورتیں بھی شامل تھیں۔ دہشت گردوں نے اس کی آنکھوں کے سامنے 312 مردوں کو بے دردی سے قتل کردیا جبکہ 6 ہزار 7 سو ایزدی عورتوں اور ننھی بچیوں کو مال غنیمت جانتے ہوئے اپنے گڑھ موصل شہر میں لے گئے۔ نادیہ پر سب سے بڑا غم کا پہاڑ تب ٹوٹا جب اس کے 6 بھائی اس کی آنکھوں کے سامنے بربریت کے ساتھ قتل کردیے گئے۔ یوں چند دنوں میں صرف سنجار کے علاقے میں 5 ہزار ایزدیوں کا قتل عام کیا گیا۔ جبکہ 50 ہزار سے زائد ایزدیوں نے بھاگ کر کوہِ سنجار میں پناہ لی مگر نادیہ اور دیگر لڑکیوں کا زندہ رہنے کے لیے ابھی بہت سے مصائب سے گزرنا باقی تھا۔ موصل میں دہشت گردوں نے ان خواتین اور بچیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ حیوانیت کا عالم یہ تھا کہ کچھ عورتوں کو فروخت بھی کرتے رہے اور کچھ کو تحفتاً ایک دوسرے کو بھی دے دیا۔ یوں نادیہ نے 3 ماہ جنسی غلامی میں گزارے جہاں اسے کئی ہاتھوں بیچا گیا۔ اجتماعی زیادتی، جسمانی تشدد، جس میں گرم لوہے اورسگریٹ سے داغا جانا بھی شامل ہے اور جنسی غلام بنا کر بار بار فروخت ہونے کے عمل نے نادیہ سے عورت تو دور انسان ہونے کا احساس بھی ختم کردیا تھا۔ ظلم چاہے جتنا بھی کاری ہو اگر انسان کو ڈھارس دینے والی کسی ہستی کا آسرا ہو تو سانس لینے کے احساس میں کچھ گنجائش نکل سکتی ہے۔ اور اگر وہ ہستی ماں ہو تو؟ لیکن بدقسمت نادیہ کی ماں ان بوڑھی عورتوں میں شامل کر کے ماردی گئی جن کو جنسی غلام نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ نادیہ اپنی کتاب 'آخری لڑکی' میں لکھتی ہے مجھ سمیت تمام لڑکیاں صرف دعا مانگتی تھیں کہ کاش شام، عراق، تیونس اور یورپ سے آئے ہونے ان انسان نما جانوروں کے ہاتھوں جنسی درندگی کا نشانہ بننے کے بجائے وہ اپنے بھائیوں اور والدین کی طرح قتل کردی جاتیں۔ نادیہ لکھتی ہے کہ بعض خواتین نے اپنے آپ کو بدصورت بنانے کی کوشش بھی کہ تاکہ وہ خونی درندوں کی زیادتی سے محفوظ رہ سکیں، کچھ نے اپنے بال نوچ پھینکے، کسی نے بیٹری کا تیزاب اپنے چہرے پر چھڑک لیا اور تو اور کچھ کمروں میں خون کے تالاب سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ کئی لڑکیوں نے اپنی کلائیاں کاٹ کر اپنی زندگی ختم کردی تھی۔

قدرت کو اس 19 سالہ لڑکی سے کچھ بڑا کام لینا تھا۔ نومبر 2014 میں دوسری کوشش کے دوران نادیہ قید خانے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ ہوا یوں کہ جنگجوو¿ں میں سے ایک گھر کو تالہ لگانا بھول گیا۔ یوں نادیہ اپنے ہی طرح کے مصیبت کے شکار خاندان کی مدد سے عراق میں کردوں کے علاقے دھوک میں پناہ گزین کیمپ میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی جہاں سے وہ دیگر تارکین وطن کے ہمراہ ایک امدادی تنظیم کے ذریعے جرمنی پہنچ گئی۔ پھر کیا تھا ظلم و ستم اور صبر کے بعد دوسرا امتحان انتظار کررہا تھا۔ یہ بہادری، جرا¿ت اور ہمت کا امتحان تھا۔

داعش کی قید سے نجات پانے کے بعد نادیہ نے ایک مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر کسی طرح استعمال کیا جاتا ہے دنیا کی اس طرف توجہ دلانا تھا۔ اس کی تنظیم کا نام تھا ' نادیہ انیشی ایٹِو' جس کا مقصد انسانی قتل عام، ظلم و تشدد، انسانی سمگلنگ سے متاثرہ خواتین اور بچوں کی مدد کرنا اور ان کی زندگی کی بحالی ہے۔ نادیہ مراد کو 2016 میں 'کونسل فار یورپ' کی جانب سے 'واکلیو ہیومن رائٹس' کا انعام دیا گیا۔ 2016 میں ہی اقوام متحدہ نے انسانی تجارت کا شکار بننے والے افراد کے لیے نادیہ مراد کو خیر سگالی سفیر مقرر کیا۔ یہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہے کہ ظلم سہنے والے کسی فرد کو اس عہدے پر فائز کیا گیا ہو۔

یہاں تک کہ نادیہ مراد کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تاریخی تقریر نے سیکرٹری جنرل سمیت دنیا بھر کے رہنماو¿ں کو آبدیدہ کردیا۔

صرف 23 سال کی عمر میں بالوں میں چاندی اترچکی تھی۔ ٹائم جریدے نے 2016 کی 100 بااثر افراد کی فہرست میں نادیہ کا شمار کرکے اس کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔ یورپ میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا ایوارڈ 'سخاروف' بھی اس جرا¿ت مند لڑکی کا امین ٹھہرا۔ جنگی جرائم پر توجہ مرکوز کرانے اور ان کا مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر اس سال امن کا نوبل انعام بھی نادیہ مراد کے قدموں میں گرایا گیا۔ لازوال ہمت اور بہادری کی مالک نادیہ مراد جون 2017 میں اپنے اسکول اور آبائی گھر کو دیکھنے واپس عراق گئی۔ اپنی ل±ٹی پ±ٹی کائنات کو دیکھتے ہوئے نادیہ کی ملاقات اپنے واحد بچ جانے والے بھائی سے بھی ہوئی جو آجکل کرد اور عراقی فوج کے دستوں کے ساتھ مل کر داعش کو عراق سے باہر نکالنے کی لڑائی لڑ رہا ہے۔

نادیہ اپنی کتاب میں بتاتی ہے کہ تاریخ اس کا پسندیدہ سبق تھا اور وہ پڑھ لکھ کر استانی بننا چاہتی تھی۔ اور اب یوں کہیے جب جب گِر کے اٹھنے والوں کی تاریخ کا ذکر آئے گا انسانیت میں نادیہ مراد کا نام ضرور سر فہرست ہوگا۔ رہی خواہش استاد بننے کی تو عورتوں اور بچوں کے بنیادی حقوق کو دنیا کے سامنے باور کرانے والی اس لڑکی کو زمانے بھر کی یونیورسٹیاں اور ادارے استاد کی حیثیت سے لیکچر کی دعوت دیتے ہیں۔


ای پیپر