India,modi,journalists,banned,false claims
22 نومبر 2020 (22:07) 2020-11-22

نئی دہلی :سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت میں آزادی اظہار کے جھوٹے دعوئوں کی ساری قلعی کھل گئی ہے اور اب وہاں پر صحافیوں اور دانشوروں کے آن لائن خطاب پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں انتہا پسند حکومت نے ممبئی شہر میں ایک سیمینار پر پابندی لگا دی ہے جس میں عالمی دانشور اور صحافیوں نے خطاب کرنا تھا۔ اس سیمینار میں امریکہ سے مشہور صحافی نوم چومسکی جبکہ بھارت سے آزاد خیال دانشور وجے پرشاد نے آن لائن خطاب کرنا تھا۔ اس سیمینار والے دن ہی بھارتی حکومت کی طرف سے پابندی لگا  دی گئی کہ کیونکہ اس سیمینار میں متنازعہ معاملات پر گفتگو ہونا ہے اس لئے اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

بھارتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ پابند ی اس لئے لگائی گئی ہے کیونکہ اس سیمینار میں بھارت میں رائج کالے قانون سی اے اے پر بھی بات چیت ہونا تھی اور یہ اس سیمینار کے ایجنڈے کا حصہ تھا۔ یہ سیمینار پانچ روز تک جاری رہا جس پر اس کے آخری دن اس وقت پابندی لگا دی گئی جب نوم چومسکی اور وجے پرکاش کے بارے میں بھارتی حکومت کو اطلاع ملی کہ انہوں نے اس میں بھارتی کالے قوانین پر بات چیت کرنی ہے۔

امریکی دانشور نوم چومسکی اور بھارتی صحافی وجے پرکاش نے اس اقدام پر مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ آزادی اظہار پر بھارتی حکومت کی ایک ضرب ہے اور اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت میں کسی بھی صحافی کو بات کرنے کی کتنی آزادی ہے۔


ای پیپر