fazalur rehman,PDM,peshawar jalsa,pak army,political,interference,criticized
22 نومبر 2020 (18:41) 2020-11-22

پشاور:اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ  فوج دفاعی ادارہ ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں لیکن سیاست میں مداخلت ہوگی تو تنقید بھی کی جائے گی اور نام بھی لیا جائے گا،جنگ کا اعلان کر چکے  ،میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا  حرام  ہے

پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عظیم الشان جلسے کے ذریعے دھاندلی کے ذریعے آنے والی حکومت کومسترد کردیا ہے۔ہمارا موقف واضح ہے، دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کی گئی ہے، ہمیں دھاندلی کرنے والا بھی معلوم ہے، وہ نامعلوم بھی ہمیں معلوم ہے،حکومت سیاسی طور پر ناجائز اور کارکردگی کی بنیاد پر نااہل اور معاشی قاتل ہے، ناکام خارجہ پالیسی، امریکا اور چین، افغانستان اور ایران بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں،  مودی کو دعائیں دینے اور اس کو اقتدار میں لانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل بتانے والے تم ہو اور اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے ہی دن اعلان کیا تھاالیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے اور تمام جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا تھا اور وہ آواز آج عام آدمی کی آواز بن گئی اور اب پوری قوم کی متفقہ آواز ہے اور آج اس جلسے سے حکومت اور اس کے سہولت کار گھبرائے ہوئے ہیں۔ان اس حکومت نکالنا ہے، ہم اعلان جنگ کرچکے ہیں اور اب جنگ سے پیچھے ہٹنا حرام ہے، ہم نے چیلنج کردیا ہے اور واضح طور پر کہنا چاہتا ہیں، ہمارا موقف واضح ہے، دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کی گئی ہے، ہمیں دھاندلی کرنے والا بھی معلوم ہے، وہ نامعلوم بھی ہمیں معلوم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم فوج کا ادارے کا احترام کرتے ہیں جب وہ دفاعی امور نمٹائیں گے لیکن جب سیاست میں مداخلت کریں گے تو پھر اس کو تنقید کا سامنا کریں گے اور پھر نام بھی لیا جائے گا۔ جب دھاندلی ہوگی تو کچھ نہیں بولیں گے لیکن ہم احتجاج کریں گے تو تم خفا ہوں گے، آپ نے دو سال میں معیشت تباہ کردی ہے، ریاست کی بقا کا دار ومدار مستحکم معیشت پر ہوا کرتا ہے، جب ہم حکومت چھوڑ کر جارہے تھے تو بتایا کہ ترقی 5 اور اگلے 6 فیصد ہوگی لیکن آپ کے دوسرے سال میں ترقی کا تخمینہ صفر پر آگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے واجپائی خود چل کر بس میں پاکستان آیا اور مینار پاکستان میں کھڑے ہو کر تسلیم کیا اور ہم سے تجارت کرنا چاہتا تھا، افغانستان ہم سے تجارت کرنا چاہتا تھا لیکن اب کوئی رابطہ نہیں ہے، ایران اب بھارت کی لابی میں جاچکا ہے، چین 72 برسوں سے ہمارا ایسا دوست تھا کہ ہمالیہ سے اونچا اور سمندر سے گہری تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ٹرمپ نے دوسرے ٹرمپ سے کہا کہ سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے، جس طرح امریکا کے عوام نے وہاں کے ٹرمپ کو نکال دیا ہی اسی طرح پاکستان کے عوام بھی ان کو نکال دیں گے۔ روس معشیت کی وجہ سے ٹوٹ گیا اور آج پاکستان کی یہی حالت ہے، یہ پاکستان کا گورباچوف بن رہا ہے، عجیب بات ہے اور کہتا ہے کہ سیاست مجھ سے این آر او چاہتے ہیں، این آر او دینے والا یہ منہ نہیں ہے۔جو حکومت سیاسی طور پر ناجائز اور کارکردگی کی بنیاد پر نااہل اور معاشی قاتل ہے، ناکام خارجہ پالیسی، امریکا اور چین، افغانستان اور ایران بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں، سعودی عرب نے دو ارب دیے اور متحدہ عرب امارات نے بھی دو ارب ڈالر واپس لیا، تم نے پاکستان کے دوستوں کو ناراض کیا ہے۔


ای پیپر