Emmanuel Macron,extremist actions,strict laws,french muslims
22 نومبر 2020 (17:30) 2020-11-22

پیرس:پوری  دنیا میں امت مسلمہ کی طرف سے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے انتہا پسندانہ اقدامات کیلئے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے لیکن فرانسیسی صدر اس سارے عمل میں کوئی بھی سبق حاصل کرنے سے گریزاں ہیں اور اب انہوں نے فرانس میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کرنے کیلئے سخت قوانین متعارف کروانے کیلئے عملی اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایمانوئیل میکرون کا دعویٰ ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کو انتہا پسندی سے روکنے کیلئے نئے قوانین کی ضرورت ہے اور اس کیلئے انہوں نے فرانس میں مسلمانوں کی تنظیم کو 15 دن کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر قوانین کے حوالے سے تجاویز مکمل کریں اور ان کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ ان پر عمل درآمد شروع کیا جائے اور اسے فرانسیسی قوانین کا حصہ بنایا جا سکے۔

ان قوانین میں مسلمانوں کی تنظیم فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ کو جن خطوط پر کام کرنے کیلئے ہدایات دی گئیں ہے اس کے مطابق فرانس میں کسی بھی امام مسجد کی تعیناتی حکومت کے احکامات کے بعد ہوا کرے گی اور اس کی اجازت اب فرانس کی حکومت دیا کرے گی ٗ اسلام ایک مذہب ہے اور یہ کوئی سیاسی تحریک نہیں ہے اور اسے اسی طرح سے دیکھا جائیگا ٗ فرانس کے رہنے والے مسلمانوں کے معاملات میں بیرونی مداخلت کو ختم کیا جائیگا۔

مسلمان بچوں کی مذہبی تعلیمات اب گھروں پر ممکن نہیں ہو ں گی ٗ اگر کوئی مسلمان مذہبی بنیادوں پر فرانس کی حکومت سے الجھے گا تو اس کیلئے سخت سزائوں کا تعین کیا جائیگا۔مسلمان بچوں کو الگ شناختی نمبر الاٹ کیا جائیگا تاکہ سکولوں میں ان کے رجحانات کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔اگر کوئی مسلمان اپنے بچوں کو سکول میں داخل نہیں کرائے تو اسے سخت سزا ملے گی۔


ای پیپر