Pakistan, United States, constitutional, democratic crises, Joe Biden, Trump, Imran Khan
22 نومبر 2020 (12:58) 2020-11-22

پاکستان اور امریکہ دونوں کو اپنی اپنی نوعیت کے آئینی و جمہوری بحرانوں کا سامنا ہے… دونوں ملکوں میں جمہوریت کا مستقبل اپنے اپنے لحاظ سے خطرے میں ہے… پاکستان میں اپوزیشن کی ایک نہیں گیارہ جماعتیں مل کر 2018 کے انتخابی نتائج تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں… اس کے تحت وجود میں آنے والی عمران حکومت کو جائز اور عوام کی صحیح طور پر نمائندہ ماننے سے انکار کرتی ہیں… امریکہ میں موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ 3 نومبر کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنے مقابلے میں واضح کامیابی حاصل کرنے والے جو بائیڈن کے حق میں کرسی صدارت سپرد کرنے پر کسی طور آمادہ نہیں ہو رہے… 21 جنوری کو نئے منتخب صدر نے عہدے کا حلف اٹھانا ہے مگر صدر ٹرمپ تبدیلی اقتدار کی راہ میں رکاوٹ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں… ان کا دعویٰ ہے انتخابات جائز طریقے سے منعقد نہیں ہوئے… ووٹوں میں ہیراپھیری ہوئی… بصورت دیگر وہ کامیاب ہوتے… اب بھی انہیں اپنی انتخابی برتری پر اصرار ہے… لہٰذا وہائٹ ہائوس خالی کرنے اور انتقال اقتدار کے عمل میں ضروری تعاون فراہم کرنے سے انکاری ہیں… پاکستان میں انتخابی نتائج کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا… انتخابات عمومی طور پر جائز ہوں یا پس پردہ قوتوں نے اثرانداز ہو کر مرضی کے نتائج حاصل کئے ہوں ہر دو صورتوں میں ہارنے والی جماعت نے اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے… نئی حکومت کے آئینی اور جمہوری ہونے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں ہمیشہ اس کو گرا دینے کے لئے عوامی تحریک برپا کرنے کا عزم باندھا ہے… عمران حکومت اور اس کے حواریوں کا دعویٰ ہے 2018 کے انتخابات ہر لحاظ سے جائز اور شفاف تھے… اپوزیشن کی جماعتیں جنہوں نے اب پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ) کے نام سے نیا اتحاد بنا لیا ہے کہتی ہے سب کچھ مقتدر ترین اسٹیبلشمنٹ کے بے پناہ اثرورسوخ کا شاخسانہ ہے… اسے مرضی کا وزیراعظم چاہئے تھا … اس کی خاطر پہلے خود عمران کا انتخاب کیا اس کے بعد سیاسی انجینئرنگ کا جال بچھا کر اس کے حق میں انتخابی نتائج حاصل کر لئے… امریکہ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ہارنے والے صدارتی امیدوار نے انتخابی نتائج کو اس حد تک مشکوک ٹھہرایا ہو کہ مدمقابل کی فتح پر مہر تصدیق ثبت کرنے سے انکار کر دیا … وہاں تو ہارنے والا خواہ صدر مملکت ہو ابتدائی نتائج کے سامنے آتے ہی جیتنے والے کو ٹیلیفون کر کے کامیابی کی مبارکباد دیتا ہے… اسے وہائٹ ہائوس آ کر اپنے ساتھ کافی کا کپ پینے اور مملکت و حکومت کو درپیش تازہ ترین اندرونی حالات سے آگاہی حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے یوں انتقال اقتدار کے عمل میں پوری طرح مددگار ثابت ہوتا ہے… یہ امریکی آئین، جمہوریت اور خود اس ملک کی 1789 سے لے کر اب تک وجود میں آنے کی تاریخ ہے… مگر اس مرتبہ چشم فلک اس تمام تر روایت سے انحراف کا منظر دیکھ رہی ہے… اسی لئے کہا جا رہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اور پرانی امریکی جمہوریت کا مستقبل خطرے میں ہے… پاکستان میں اس کے برعکس جمہوری پودے کو کبھی نشوونما پانے ہی نہیں دیا گیا… آئین کو کئی بار روند ڈالا گیا… 1970 کے انتخابات کو ہر کوئی آزادانہ اور مقابلتاً شفاف قرار دیتا ہے مگر تب حکمران فوجی جنتانے انتقال اقتدار سے یہاں تک گریز سے کام لیا کہ اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان سے اکثریت حاصل کرنے والی جماعت بغاوت پر اٹھ کھڑی ہوئی… فوجی آپریشن ہوا… دشمن بھارت نے فائدہ اٹھایا حملہ کیا ہم جنگی شکست سے دوچار ہوئے… ملک دولخت ہو گیا… جمہوریت مگر اب تک قائم نہ ہو سکی… تب سے اب تک نصف صدی ہونے کو ہے ایسی روایت قائم ہوئی ہے کہ انتخابات عمومی طور پر جائز ہوں یا ناجائز ان کے نتائج کو کبھی قومی سطح پر اور اتفاق رائے کے ساتھ تسلیم نہیں کیا گیا…

امریکہ میں اصل جنگ سفید فام اکثریت اور 

رنگ دار نسلوں کے درمیان ہے… یہ کشمکش کئی دہائیوں سے جاری ہے… کالوں نے اپنے حقوق منوانے کے لئے لمبی اور جاں گسل جدوجہد کی ہے… اب وہاں روزگار اور کاروباری مقاصد کے لئے ہجرت کر کے آباد ہو جانے والی دوسری نسلوں مثلاً ہسپانوی، ایشیائی (خاص طور پر بھارت پاکستان اور چینی لوگ) عربوں اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والوں نے کالوں کی عددی قوت اور سیاسی طاقت میں اضافہ کر دیا ہے… اس کے نتیجے کے طور پر 2008 میں کالی نسل کا باراک اوبامہ واضح اکثریت کے ساتھ صدارتی انتخاب جیت گیا… ردعمل میں سفید نسل کے عوام نے 2016 میں ڈونالڈ ٹرمپ جیسے خودپرست اور نسلی بالادستی پر یقین کرنے والے کو صدر منتخب کر لیا… اس کے پہلے چار سال مکمل ہونے پر گزشتہ 3 نومبر کو منعقدہ صدارتی انتخاب میں مقابلے کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایسے پینل کو کامیابی ملی ہے جس میں صدر سفید نسل کے جو بائیڈن اور نائب صدر کالے رنگ کی پامیلا ہارس کو نامزد کیا گیا… یہی بات ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو ہضم نہیں ہو رہی… وہ جمہوری قدروں کو پامال کرنے پر اتر آئے ہیں… چنانچہ امریکہ کہ ابھی تک خطہ ارض کی واحد سپرطاقت اور دنیا کا معاشی لحاظ سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے وہاں کے داخلی سیاسی حقائق میں بڑی تبدیلی جنم لے چکی ہے… سفید نسل کی اجارہ داری اور حاکمیت مطلقہ کا دور ختم ہوا چاہتا ہے… پاکستان میں پہلے سمجھا جاتا تھا کہ اصل کشمکش پنجاب اور چھوٹے صوبوں کے درمیان ہے… پنجاب کا حکمران طبقہ اور اس کی اشرافیہ اپنی بالادستی قائم رکھنے کی خاطر جمہوریت کو چلنے نہیں دیتے… مگر اب پنجاب میں بھی سیاسی بیداری اور آئینی جمہوری بیداری کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے… اصل جنگ حکمران جرنیلوں اور جمہوری قوتوں کے مابین رہ گئی ہے… جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں پنجاب بھی چھوٹے صوبوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا نظر آنے لگ گیا ہے… یہ امر بلاشبہ بڑی تبدیلی کا پتا دے رہا ہے… امریکہ میں کہا جا رہا ہے ٹرمپ کی ماں کب تک خیر منائے گی… جو بائیڈن انتخابی ادارے کے 306 ووٹ حاصل کر چکا ہے… جبکہ ٹرمپ کو صرف 232 ووٹ ملے ہیں… اگر وہ خود عہدہ چھوڑ کر وہائٹ ہائوس سے نہ نکلا تو نکال باہر پھینک دیا جائے گا… ٹرمپ کی بدقسمتی ملاحظہ کیجئے کہ اسے کسی قسم کی اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ سیاسی حمایت یا سرپرستی حاصل نہیں… وہاں کے جرنیل علانیہ اپنے آپ کو غیرجانبدار اور آئین کا ماتحت ہونے کا اعلان کر رہے ہیں… پاکستان میں صورت حال یکسر مختلف ہے… آئین کے ساتھ وفاداری کا حلف تو اٹھایا جاتا ہے مگر عمل اس کے برعکس ہوتا ہے…

پاکستانی اپوزیشن کا نوزائیدہ اتحاد (پی ڈی ایم) عمران خاں کی حکومت کو انجینئرڈ شدہ انتخابات کی پیداوار قرار دے کر اسے گھر کی راہ دکھانے کی خاطر عوام کو سڑکوں پر لانے کی سعی کر رہا ہے… گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ میں بڑے بڑے جلسہ عام کئے گئے ہیں… لوگوں نے متاثرکن تعداد میں شرکت کی… اب اگلے مرحلے کے طور پر پشاور، ملتان اور پھر لاہور میں اتنے ہی بڑے عوامی اجتماعات کا پروگرام ہے… اس کے بعد اعلان کے مطابق لاہور تا اسلام آباد عوامی مارچ ہو گا جس کی یلغار کے آگے اپوزیشن والوں کے دعوے کے مطابق حکومت ٹھہر نہ سکے گی کیونکہ بہت کمزور ہے… اس کے پاس وفاق یا پنجاب میں سادہ اکثریت بھی نہیں… اتحادیوں کی بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہے… اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کا تحفظ حاصل ہے… مگر جب مقابلے پر عوام کا سیلاب نکل آئے تو ٹانگیں کپکپا اٹھیں گی… زیادہ دیر تک چل نہ پائے گی… ایسا ہوتا ہے یا نہیں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا جو زیادہ دور نہیں… مگر حکومت گھبرائی ضرور نظر آ رہی ہے… آج پشاور کا جلسہ عام منعقد ہونے جا رہا ہے… حکومت کورونا کی آڑ میں اس کی اجازت دینے سے انکاری ہے… اپوزیشن ڈٹی کھڑی ہے کہ جلسہ ہو کر رہے گا… تصادم کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا… اگر پشاور، ملتان اور لاہور کے جلسوں میں عوام نے بھرپور شرکت کی اور معاً بعد اسلام آباد پر یلغار کی گئی تو دو میں سے ایک نتیجہ ضرور سامنے آئے گا… حکومت اس کے آگے جم کر کھڑی نہ ہو سکے گی… قوی امکان ہے اتحادی بھی ساتھ چھوڑ دیں گے… اگر ایسا نہ ہوا اور حکومت مقابلے پر کھڑی ہو گئی تو تصادم جنم لے سکتا ہے جو خطرناک ثابت ہو گا… خون خرابہ ہو سکتا ہے اسٹیبلشمنٹ پھر بیچ میں آن کھڑی ہو گی… بڑا مگر روایتی قدم بھی اٹھا سکتی ہے… اسی لئے فہمیدہ حلقوں کی رائے ہے عمران حکومت اور مولانا فضل الرحمن جمع نوازشریف جمع آصف زرداری کی اپوزیشن دونوں اطراف ہوش کے ناخن لیں… مذاکرات کی میز پر مل بیٹھیں… آئین اور جمہوریت کی بحالی پر ایک ہو جائیں… قومی اور آئینی نقطہ نظر اپنائیں… نئے اور شفاف ترین انتخابات پر باہمی متحد ہو جائیں… اس میں عمران کا بھی فائدہ ہو گا… اسے سیاسی LEGITIMACY مل جائے گی… اس وقت عوام میں جتنا کچھ مقبول ہے اس سے زیادہ پذیرائی ملے گی… پوری اور جائز سیاسی شناخت اور حقیقی عوامی قوت کے ساتھ انتخابات میں دوبارہ حصہ لے سکتا ہے… کامیابی بھی قدم چوم سکتی ہے… آخر کبھی نوازشریف بھی اسٹیبلشمنٹ کا بے بی سمجھا جاتا تھا مگر جب سے اس نے یہ چولا اٹھا پھینکا ہے برطرفی اور عدالتی نااہلی کے باوجود اس نے عوام کے دلوں میں ایسا گھر بنا لیا ہے کہ رائے عامہ کے غیرجانبدارانہ جائزوں کے مطابق کل اگر آزادانہ انتخابات ہوں تو جیت سکتا ہے… عمران خان کو بھی اگر خود کو آزاد کر لے تو یہ مقام حاصل کرنے میں دیر نہ لگے گی… ملک کے اندر آئینی بالادستی کے یقینی بن جانے کے ساتھ اصل جمہوریت کی بحالی میں مدد ملے گی… پھر متحارب اور ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف رکھنے والے سیاستدان آپس میں مذاکرات 


ای پیپر