Efforts, country, Islamic state, women empowerment, government
22 نومبر 2020 (12:47) 2020-11-22

پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے آئے دن تعلیمی اداروں، دفاتر وغیرہ میں واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ تہذیبی اخلاقی زوال کی تشویشناک صورتحال ننھی پھول سی بچیوں کو مسلنے پھینکنے میں بھی سامنے آتی ہے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ وجوہات کیا ہیں؟ ہم کدھر جا رہے ہیں۔ اسباب کا پتا چلانا تو ضروری ہے سدباب سے پہلے۔ اگرچہ دنیا بھر میں ملک ملک یہی المناک صورتحال ہے لیکن ایک مہذب مسلم معاشرے میں ایسے واقعات ناقابل معافی ہی نہیں، ناقابل یقین بھی ہیں۔ یہ سب گزشتہ 20 سالوں میں جس تیز رفتاری سے بڑھا پھیلا ہے، اس کی وجوہات کا کھوج لگانا کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ عورت بے وقعت کیوں ہوگئی؟ وہ معاشرے جو دین فطرت پر پروان چڑھے، ان میں ہمیشہ عورت ذی وقار اور محترم جانی گئی۔ ہمیں گزشتہ دو دہائیوں میں بالخصوص ترقی کا بخار چڑھا اور مغرب کی بے خدا تہذیب کے احمقوں کے نقش قدم پر چل کر عورت کو ارزاں کرنے میں ترقی جانی گئی۔ گھر خالی کردو۔ اسے معاش میں لگا کھپا دو تو ملک دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے گا۔ پچھلے دنوں وزیر خارجہ نے ایک بیان میں فرمایا تھا: ’ملک کو اسلامی ریاست بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ خواتین کو مکمل بااختیار بنانے کے لیے کوشش جاری رکھیںگے۔ ہماری قومی ترقی کا رخ صنفی احساس پر مبنی ہے۔‘ ایک ہی سانس میں دو متضاد باتیں! (خیال رہے کہ یہ صنفی احساس عورت کو مرد بنا کھڑا کرنے کا ایجنڈا ہے۔) اسلامی ریاست میں مرد وزن الگ صنفی شناخت رکھتے ہیں۔ دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں رفاقت کے پاکیزہ رشتوں میں بندھے، احترام باہمی کے ساتھ ایک مضبوط خاندانی نظام کے ذریعے ملک وملت کو بہترین انسان فراہم کرنے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ باہمی کھینچا تانی، رسہ کشی، مخالفت، مخاصمت کا ان گھروں میں گزر کہاں۔ لڑنے جھگڑنے سر پھٹول تو تو، میں میں کی فرصت یہاں نہیں ہوتی۔ بھرپور اعلیٰ مقاصد کے لیے لگی دن رات کی ایک لگن اور فکر کی بنا پر! 

عورت کے حقوق مرد کے فرائض ہوتے ہیں اور مرد کے حقوق عورت کے فرائض۔ دونوں اپنے فرائض کی ادائی میں ہلکان ہوتے ہیں، اس لیے دنگے فساد کا مشغلہ جو بہت وقت طلب، فرصت طلب ہے یہاں ممکن نہیں۔ کجا یہ کہ گھروں سے لڑ جھگڑ بال بچے اجاڑ کر عورت مارچ کرنے پر مارچ (کے مہینے) میں باہر سڑکوں پر نکل کھڑی ہو۔ گندے میلے کچیلے کپڑے چوراہے پر دھونے کو۔ یہ بنیادی غلطی مغرب کی اندھی تقلید میں گھر اجاڑنے سے شروع ہوئی ہے۔ احمقانہ تصورات کا اتباع۔ اگر مرد بازار سے سودے ڈھوتا نوکر نہیں بن جاتا، بیوی بچوں کے لیے گاڑی چلاتا ڈرائیور نہیں کہلاتا، تو عورت برتن دھونے کھانا پکانے سے بستر بنانے، صفائی ستھرائی سے ملازمہ کیوں ہوجاتی ہے؟ ہوٹلوں، کوچز، جہازوں میں پرائے مردوں کی خدمت بااختیار بنانے کا جھانسہ ہے! یہ اصلاً تو باہر کی مردانہ وار زندگی کے دھکے کھانے کی با اختیاری ہے۔ نتیجہ یہ کہ بلااجازت، بلاتردد ہراسانی اور بے وقعتی عورت ذات کے لیے بندھی چلی آتی ہے۔ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال جرمنی سے پڑھ کر کہتے ہیں: فاطمہ الزہراؓ بن کر زمانے کی نگاہوں سے اوجھل ہو جا تاکہ تیری آغوش میں حسینؓ پلیں!

پچھلے دنوں ایک اچھے خاصے لبرل موٹیویشنل اسپیکر نے کہیں عورت کو اچھی ماں اور اچھی بیوی بننے کی تلقین کردی۔ ایک طوفان لڑکیوں، خواتین نے کھڑا کیا۔ مثلاً ایک بی بی کا غیظ وغضب دیکھیے۔ لکھتی ہیں: اگر اچھی بیوی ہونے کا مطلب شوہر کا فرمانبردار، اطاعت گزار ہونا ہی ہے۔ اس کی ضروریات، خواہشات، پسند وناپسند کی فکر کرنا ہی ہے۔ ساری زندگی اسی کے گرد گردش کرے تو تعلیم کو اٹھاکر باہر پھینک دو۔ لڑکیوں کے گلے میں پٹا باندھو اور یہ شوہروں کو تھما دو۔‘ نئی نسل کی نفسیات اس ایک تبصرے میں دیکھ لیجیے۔ باقی بھی اسی قبیل کے تھے۔ ایک اور چلائی: ’کیا ہم 1950ء والی گھردار ہاؤس وائف بن کر رہیں؟‘ اصل میں یہ دور مکمل فکری اور صنفی انتشار کا ہے۔ سو اسپیکر موصوف کو عورتوں کو اچھا شوہر بن کر رہنے کا کہنا تھا کیونکہ ماڈرن گھر میں مرد وزن کی یہ تفریق، تقسیم کار قوامیت کے اعتبار سے ختم ہوچکی ہے۔ مرد قوّام کی بجائے (پان والا) قِوام بن کر رہ گئے ہیں۔ کچن میں برتن دھوتے، گوشت بھونتے، گھروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں کیونکہ فطری گھر اور خاندان ایک مرد اور ایک عورت سے بنتا ہے، دو مردوں سے نہیں۔ اگر گھر میں ایک مردانہ وار عورت اور ایک زنانہ وار مرد ہوتو الجھن یقینی ہے۔ بچوں کی اٹھان اگر اول جلول ہوتو عجب نہیں۔ یہ بااختیاری جس مغرب کو دیکھ کر ان کے فرمودات اور احکام پر اختیار کی گئی ہے اس کا احوال بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ حالیہ بیجنگ کانفرنس کی 25 سالہ ’برسی‘ کے موقع پر پیش کردہ رپورٹوں میں۔ 

مرد خواہ مشرق کا ہو یا مغرب کا، فطرتاً، جینیاتی، جسمانی، اعصابی، نفسیاتی طور پر یکساں ساخت، احساسات و جذبات کا حامل ہوگا اپنے باپ آدمؑ کے مطابق۔ اسی طرح دنیا بھر میں ہر عورت اماں حواؑ کی بیٹی ہونے کے ناتے ایک سی ہوگی۔ قوانین فطرت دونوں اصناف پر یکساں لاگو ہوںگے۔ سو آج 25 سال گزارکر بیجنگ کانفرنس میں طے کردہ اہداف اگر ترقی یافتہ ترین ممالک بھی (رپورٹوں کے مطابق) حاصل کرنے سے قاصر ہیں تو اس کی کوئی وجہ تو ہوگی؟ مثلاً غیرفطری اہداف طے کر بیٹھنا! چلیے بات سمجھنے کے لیے پہلے یہ واقعہ پڑھ لیجیے۔ سردار جی ایک دکان پر گئے اور پوچھا یہ الماری کتنے کی ہے؟ دکاندار نے کہا: ہم سکھوں کو مال نہیں بیچتے۔ سردار جی حلیہ بدل کر بابو بن کر اگلے دن جا پہنچے اور اپنا سوال دوہرایا۔ دکاندار نے وہی جواب دیا کہ ہم سکھوں کو اپنا مال نہیں بیچتے۔ سردار جی نے مزید حلیے بدل بدل کر دو دن قسمت آزمائی کی مگر بات نہ بنی۔ بالآخر سردار جی نے وجہ پوچھی کہ آپ ہر حلیے میں کیسے پہچان جاتے ہیں کہ بندہ سکھ ہے؟ دکاندار بولا ’’اس لیے کہ یہ الماری نہیں فریج ہے۔‘‘ سو بیجنگ کانفرنس میں 25 سال پہلے جو الماری خریدنے کا ڈول ڈالا تھا، وہ اب بھی نرا دل بہلاوا ہے۔ رپورٹیں یہی بتاتی ہیں کہ نہ صرف حقیقی پیشرفت نہ ہوسکی بلکہ الٹا کئی جگہ تنزل کا سامنا ہے۔

 صنفی مساوات اور بااختیاری کا حال تو مغربی دنیا میں چیختی چلاتی عورتوں کی ’می ٹو‘ تحریک ہے۔ عورت کو فیشن کے نام پر برہنگی دی۔ باہر لا کھڑا کیا۔ سونگھاچکھا اور مغربی مرد بھیڑیا بن گیا۔ اس کے برعکس مغرب میں خواتین کی بھاری تعداد اسلام کے دامن رحمت میں پناہ جو ہوکر عزت اور راحت، سکینت، احترام اور عافیت سبھی کچھ پا جاتی رہی ہے۔ امریکا قیام کے دوران ایسی کتنی ہی امریکن نو مسلم خواتین کو دیکھا جو صنفی تحفظ وتقدس پانے کو مسلمان ہوئیں، مغربی مرد کے ہاتھوں (آزادی کے نام پر) استحصال سے بچنے کو۔ ایک خاتون نے کہا: ’میری سب سے بڑی راحت یہ ہے کہ اب مجھے دو ٹکے کمانے کی خاطر مردوں بھرے دفاتر میں ہراسانی اٹھاتے خوار نہ ہونا پڑے گا۔ نوکری چھوڑکر سکون سے گھریلو زندگی اختیار کرسکوںگی اور میرا کریم شوہر میری ضروریات کا کفیل ہوگا۔‘ کافر مغربی خواتین کے برعکس، جو یا تو شادی کرتی ہی نہیں اور کرلیں تو سال بھر بھی نہیں 

ٹکتیں، طلاق دے کر یہ جاوہ جا۔ (کیونکہ طلاق دو طرفہ ہے!) امریکی نو مسلم خواتین دس سال بعد بھی انہی مسلمان شوہروں کے ساتھ گھر بچے پالتی چلاتی دیکھی گئیں۔ یہ دو الگ پیکج ہیں۔ ایک اچھی ماں، بیوی، بیٹی، بہن کا۔ معزز مکرم، محصنات قلعہ بند محفوظ ماحول میں رہتی بستی خوش وخرم خواتین۔ اپنے حقیقی رشتوں کے آگے ٹرے پیش کرتیں میزبانی کرتیں۔ محبت میں گندھی اطاعت وفرمانبرداری اس کریم مرد کی جو باپ ہو یا شوہر، باہر کی مشکل ترین زندگی کے تھپیڑوں سے (اللہ کے حکم کی بنا پر) صنف نازک کو بچاتا ہے۔ اس کی تمام تر معاشی، طبی، معاشرتی ضروریات پوری کرتا ہے۔ تھکا ماندہ گھر لوٹتا ہے تو قدردان، محبت کرنے والی، اس کی خدمات کا بھرپور صلہ جوابی خدمت سے دیتی عورت! نک چڑھی، لڑاکا اپنا کھانا خود گرم کر لو کی بجائے، بیوی، بیٹی کے رشتے میں گھر کو جنت نشان بناتی ہے! 

سو یو این کی حقوق نسواں کانفرنس میں باری باری 100 ممالک کے لیڈروں اور وزراء نے آکر یہی اقرار کیا کہ 25 سال بعد بھی کوئی ایک ملک بھی طے کردہ منزل نہ پاسکا۔ (الماری نہ خرید سکا!) فرنچ صدر میکرون نے کہا کہ ’یہ وقت نہ خود کو مبارکباد دینے کا ہے، نہ دن منانے کا، کیونکہ ہماری جمہوریتوں میں بھی عورت کی ترقی ناکام ہورہی ہے۔‘ (اور تم ابوجہل بنے، محسن نسواں صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف محاذ آرا ہو!) می ٹو، ہراسانی کی ماری بوائے فرینڈز کے ہاتھوں پٹتی، قتل ہوتی، مغربی عورت کی نقالی نے ہماری نئی نسل تباہ کر ڈالی۔ 

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن 

کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت

 موجودہ مردانہ وار تعلیم عورت کو بدترین 


ای پیپر