Sardar Usman Bazdar, honest, sincere, Chief Minister, PTI
22 نومبر 2020 (12:21) 2020-11-22

آگے بڑھتی انسانی زندگی کا مشاہد ہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے۔کامیابی کی پہلی سیڑھی ایمانداری اور دوسری محنت ہے۔اگر ویڑن سامنے رکھتے ہوئے ایمانداری سے محنت کی جائے تو قانون قدرت ہے۔انسان کی عملی زندگی میں اس کا صلہ کسی نہ کسی صورت ضرور ملتاہے۔حیات کے سفر میں کامیاب لوگ ہمت اور حوصلہ کے ساتھ اپنے کام سے محبت کرتے ہیں۔اور خوش قسمت کہلاتے ہیں کیونکہ جس کام سے وہ جنون کی حد تک محبت کرتے ہوئے اس میں محنت کرتے ہیں۔پھر ایک روز کامیابی ان کے قدم چوم لیتی ہے۔

ہماری یہ تمہید باندھنے کا مقصد ہے۔اپنے کام میں ایمانداری کا مظاہر ہ محبت کا عنصر اور محنت کے جذبہ جیسی تینوں خوبیاں پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔جنہوں نے اپنے دور اقتدا ر کے رواں ڈھائی سالوں اپنے کام میں کبھی کوئی غفلت نہیںبرتی ہے۔اپنے منصب کا فائد ہ اٹھاتے ہوئے ماضی کے حکمرانوں کی طرح کوئی فیکٹریاں ،شوگر ملیں یا بے نامی جائیدادیں نہیں بنائی ہیں۔وہ ہفتہ وار معمول کی اتوار کی چھٹی بھی نہیں کرتے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے فرمان کام ،کام اور کام کے مطابق اپنے عمل میں ایماند اری ،محنت اور محبت اٹوٹ رکھتے ہیں۔اسی طرز حکمرانی سے پنجاب اور اس کے عوام کی بے لوث خدمت کررہے ہیں۔

اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ 30برس کے دوران وسائل لوٹنے والے بااثر مافیا پر پہلی بار ہاتھ ڈالا گیا ہے۔ملکی خزانہ لوٹنے والے بڑے مگر مچھوں کو قانون کے شکنجے میںلایا گیا ہے۔اب ہر خاص و عام اس بات پر یقین رکھتا ہے۔پنجاب بدل کر رہے گا۔اس ضمن میںیہ بتاتی چلوں کہ خزانے کے لٹیروں سے  پنجاب انٹی کرپشن کی خصوصی ٹیم نے ان  27ماہ کے دورا ن 206ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔جو پچھلے 10سالوں کے مقابلے میں 532فی صد زیادہ وصولی ہے۔کیونکہ سابقہ 10سالوں کے دوران خانہ پری کے لیئے محض 43کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی۔اسی طرح رواں 27ماہ کے عرصے میں سرکاری اراضی واگذار کرانے کی شرح ماضی کے 10سالوں کے نسبتاََ61.72فی صد زیادہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے وزیر 

اعلی جن کو وزیر اعظم عمران خان وسیم اکرم پلس کا خطاب دے چکے ہیں کی سربراہی میں سیلیسن مافیا پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔سردار عثمان بزدار وہ مثالی وزیر اعلی پنجاب بھی ہیں جنہوں نے محکموں کو بااختیار کیا ہے۔ادارے اب کسی بھی قسم کے سیاسی اثرورسوخ سے ماورا ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اپوزیشن کے کرپٹ عناصر ایک محنتی ،ایماندار اور دیانت دار وزیراعلی کے سامنے بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔

سرائیکی خطہ کو دیرینہ محرومیوں سے نجات دلانے کا سہرا بھی وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے سر ہے۔وہ جب بطور سربراہ پنجاب کے اقتدار میںآئے۔اپنامنصب سنبھالنے کے بعد 28دسمبر 2018کو پنجاب کابینہ کے اجلاس کا انعقاد جنوبی پنجاب کے شہر بہاول پو رمیں کرایا۔جس میں پنجاب کابینہ کے تمام وزرا اور سکریٹریز نے شرکت کی۔یو ں اس اجلاس نے پنجاب میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔

بہاول پور ،جنوبی پنجاب کا اہم شہر ہے۔جو 1955سے پہلے صوبہ ہوا کرتاتھا۔ جس کی اپنی کابینہ تھی۔اپنے وزرا ہوا کرتے تھے۔۔ پنجاب میں اب جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے۔لیکن  بد قسمتی سے آج  پنجاب کابینہ میں بہاول پور ڈویڑن سے خواتین کی ایک بھی نمائندگی نہیں ہے یہاں کی پڑھی لکھی سیاسی خاتون اپنی شناخت کیسے کروائے جو سیاسی یتیموں سے برتر سلوک ہے۔۔۔ جو ایک المیہ ہے۔امید کرتی ہوں۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار خطہ بہاول پور کی پڑھی لکھی خواتین کو پنجاب کابینہ میں لائیں گے انہیں ان کا حق اور سیاسی پہچان دیں گے۔کیونکہ سیاسی بصیرت سردار عثمان بزدار کے خون میں شامل ہے۔

جنوبی پنجاب کے اہل علاقہ کے لیئے اب نئی خوشخبری یہ ہے کہ پنجاب کابینہ کا اگلا اجلاس جنوبی پنجاب کے شہر جنوبی پنجاب میں ہوگا۔پنجاب کابینہ کے ایک اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب نے جنوبی پنجاب سکریٹریٹ میں تعینات افسروں کے لیئے سائوتھ پنجاب ری ایلویشن الائونس دینے کی منظوری دی ہے۔جبکہ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ میں 17محکموں کے لیئے 605پوسٹیں رکھی گئی ہیں۔237آفیسرز گریڈ 17اور اس سے زیادہ ہوں گے۔154افراد پر مشتمل سٹاف آٹی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا ہوگا۔264افراد پر مشتمل دیگر عملہ بھی ہوگا۔اس سلسلے میں سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ مکمل طور پر پیپر لیس ہوگا۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بخوبی جانتے ہیں۔پاکستان کے جھنڈے میں شامل سفید رنگ ملک میں رہنے والی اقلیتی برادری کی علامت ہے۔پاکستان کا آئین اقلیتی افراد کو شہری ہونے کے برابر حقوق دیتا ہے۔جس کے تحت اقلیتی طلبا و طالبات کے لیئے ہائیر ایجوکیشن کے تعلیمی اداروں میں 2%کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ملازمتوں میں 5%کوٹہ دیا جارہا ہے۔اقلیتی طلبا و طالبات کے لیئے ایجوکیشنل اسکالر شپ میں 5کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔جس میں سے 50فی صد وسطی پنجاب ،35فی صد جنوبی پنجاب اور 15فی صدشمالی پنجاب کے طلبا و طالبات کے لیئے ہوگا۔اسی طرح میٹرک سے اعلی تعلیم تک 50فی صد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طالب علموں کو 15سے 50 ہزارروپے تک کی اسکالر شپ دیا جارہا ہے۔اس سال 714اقلیتی طلبا و طالبات کو اسکالرشپ دیا گیا ہے۔جبکہ 50کروڑ روپے اقلیتی برادری کے علاقوں کی ترقی کے لیئے خرچ ہورہے ہیں۔جو وزیر اعلی پنجاب کا نہایت اہم اقدا م ہے۔جسے اقلیتی برادری کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔

بحیثیت قوم ہمار ا مسلہ ہے۔ہم کوئی بھی کام شروع کرتے ہوئے اس کے ناممکنات کو زیادہ سوچتے ہیں۔حالانکہ اگر انسان مصمم ارادہ کرلے۔ اس دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔مشکل ہوسکتا ہے۔لیکن  ایمانداری اور محنت سے کوئی بھی کام آسان ہوجاتا ہے۔یاد رکھیں۔جب کسی کام میں سست روی برتی جائے تو کام کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ پھر ہم ہمت ہارجاتے ہیں۔اگر آج حکمران قوم میں یہ عزم یقین پید ا کردیں کہ ہم ایک قوم کی حیثیت سے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔تو وہ قوم بن جاتی ہے۔اس حوالے سے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار رول ماڈل ہیں۔جنہوں نے اپنی عملی جدوجہد اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی حکومتی 


ای پیپر