Educational institutions, target, pandemic, second wave, NCOC
22 نومبر 2020 (12:05) 2020-11-22

پہلی مرتبہ پاکستان میں جب کروونا کی آمد ہوئی تو عوام نے اس کو مذاق سمجھا اور سریس نہیں لیا مگر جب کیس اور شرح اموات میں اضافہ ہوا تو پھر حکومت بھی ایکشن میں آئی ۔ملک بھر میں لاک ڈاؤن سے پہلے 14مارچ سے فوری طور پرتمام سکولز اور مدارس کو بند کیا گیا اس کے بعد ملک میں لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا۔اگست ستمبر کے ماہ میں پاکستان میں کروونا کیس میں کمی ہوئی تو حکومت نے سکول کھولنے کا اعلان کیا۔مرحلہ وار ستمبر میں سکولوں کو کھولنا شروع کیا۔ پہلے مرحلے میں ہائی کلاسز کو اجازت ملی اس کے بعد مڈل کلاسز اور آخر میں پرائمری کلاسز کو ۔ 

ابھی سکول کھلے ڈیڑھ سے دو ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ ایک بار پھر سکول بند ہونے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کرونا کی تعلیم سے ہی دشمنی ہے یا کسی اور سے بھی ہے؟ کیونکہ پہلے بھی سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا اور اب پھر جب کرونا کے کیس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے تو پھر سب سے پہلے تعلیمی اداروں سے قربانی لی جارہی ہے جبکہ باقی سب کاروباری ، تجارتی، ٹرانسپورٹ اور گورنمنٹ ادارے ابھی تک اپنی روٹین میںکام کررہے ہیں ۔ حالانکہ صوبائی و وفاقی وزیر تعلیم نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ایس او پیز کو تعلیمی ادارے فالو کررہے ہیں مگر پھر بھی انہی کو بند کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں کیلئے یہ تجاویز صوبوں کو بھجوا دی ہیں۔ تین تجاویز سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو 24 نومبر سے 31 جنوری تک بند کر دیا جائے۔تجویز میں کہا گیا ہے کہ 24 نومبر سے پرائمری سکولز، 2 دسمبر سے مڈل سکولز، اور 15 دسمبر سے ہائیر سیکنڈری سکولز بند کر دیئے جائیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی سیشن کو 31 مئی تک بڑھانے اور 

انٹرمیڈیٹ امتحانات جون 2021میں لینے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم اجلاس میں ہوگا۔ 23 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں صوبے اپنی تجاویز لائیں گے۔ 

اگر سکولوں میں کرووناکے کیس کی تعداد دوسری جگہوں کی نسبت زیادہ ہے تو پھر تو لازما سکولوں کو بند کیا جائے اور اگر سکول کی نسبت اور جگہوں پر تعداد زیادہے تو پھر ادھر توجہ مرکوز کی جائے کیونکہ سننے میں یہی آیا ہے کہ کرونا ایک دوسرے سے لگتا ہے اگر وہ کنٹرول ہوگئے تو سکول پھر خودبخود محفوظ ہوجائیں گے۔ اگر لاک ڈاؤن کرنا ہے تو پہلے ان جگہوں پر کیا جانا چاہیے جہاں کرونا پھیل رہاہے۔ جب سکول اوپن ہوئے تھے تو حکومت کی طرف سے اعلان تھا کہ سکول بند نہیں ہونگے بلکہ جس شہر یا گاؤں میں کروونا ہوگا اس ایریا کو سیل کیا جائے گا مگر یکدم یوٹرن لیتے ہوئے پھر پاکستان بھر کے سکول بند کرنے کی خبر زور و شور سے سنائی جارہی ہیں جس سے لگتا ہے کہ کروونا صرف تعلیم کادشمن ہے بس۔

پہلے بھی لاک ڈاؤن تو ایک بہانہ تھا حقیقت یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی لاک ڈاؤن نہیں ہوا۔ تمام کاروباری حضرات نے اپنے اپنے طریقوں سے کاروبار چلائے رکھا۔ بازار وں میں شٹر ڈاؤن کرکے تاثر یہ دینا کہ دکان بند ہے اور اند ر دکانداری ہورہی ہوتی تھی۔ جوتے کپڑوں سے لیکر باربر تک اسی طرح اپنا کاروبار چلا رہے تھے۔بڑے بڑے تاجر اپنے گھر میں سے کاروبار کرتے رہے تبھی تو چھوٹے تاجر شٹر بند کرکے کام چلاتے رہے۔ کاروبار چلاتے کیوں ناان کی بھی مجبوری تھی کہ کمائیں گے نہیں تو کھائیں گے کہاںسے؟ 

حیرت اس بات پر ہے کہ ہسپتالوں میں کوئی ایس او پی نظر نہیں آتا۔ ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ ہسپتال میں پرچی بنوانے کے لیے لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہیں لیکن بند سکولوں کو کیا جا رہا ہے 

پچھلے مارچ سے ستمبر تک سب سے زیادہ نقصان بھی تعلیمی اداروں کوہوا اور اس میں چھوٹے پرائیویٹ تعلیمی ادارے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ آن لائن کلاس کے نام پر بڑے بڑے اداروں نے خوب کمایا اور بچت بھی خوب کی۔ یونیورسٹی ، کالج اور بڑے سکولوں نے آن لائن کلاس کے بہانے فیس تو پوری لی مگر تعلیم ادھوری دی۔ 

اگر کرونا میں کوئی ادارہ متاثر ہوا ہے تو وہ پرائیویٹ خصوصا چھوٹے ، ذاتی اور دیہاتی سکول ہیںجن کی مارچ سے تاحال فیس پوری وصول نہیں ہوئی۔ فیس زیادہ ہوجانے پر والدین بچے کو اٹھا کر کسی دوسرے سکولز میں داخل کروا دیتے ہیں یا پھر خالی دلاسہ دیکر سکول مالکان کا دل بہلادیا ہے۔ اگر اب پھردوماہ سکولز بند ہوگئے تو یہ پرائیویٹ سکولز والے نہ صرف ذلیل و خوار ہوجائیں گے بلکہ خطرہ ہے کہ خدانخواستہ وہ خود کشی پر مجبور ہو جائیں گے۔ 

اگر حکومت کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور عمران خان مانتے ہیں کہ وہ سب کے وزیراعظم ہیں تو پھر ایک دفعہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہوگی یا پھر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لیے الگ سے بجٹ مختص کرے جس سے ان سکولز مالکان کا چولہا جل سکے۔ 

تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے کئی لاکھ بچہ سکولز سے ڈراپ آؤٹ ہو چکاہے اور جو سکولز میں آئے وہ بھی اتنے نکمے ہوکر آئے ہیں کہ اپنا نام تک لکھنا بھول گئے۔ اگر تعلیمی ادارے بند کرنے ہیں تو پھر حکومت کو ایسے اقدام اٹھا نے ہونگے کہ بچے گھر کے علاوہ کسی تفریحی مقام، بازار یا فیکٹری، دکانوں اور ورکشاپ پر کام کرتے نظر آئیں تو والدین اور کام کرنے والے لوگوں کو سخت سزائیں دیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو کہ حکومت بچوں کو کروونا سے بچانے میں مخلص ہے ورنہ لوگ یہ ہی کہیں گے کہ حکومت خود بچوں کو پڑھانے میں مخلص نہیں اور غریب کہ بچوں کو تعلیم سے دور رکھنا چاہتی ہے کیونکہ آن لائن کلاس 


ای پیپر