کرسی بچانے نہیں تبدیلی کیلئے آیا ہوں، وزیراعظم عمران خان
22 نومبر 2019 (16:28) 2019-11-22

کیا نواز شریف سے ڈیل ہوئی ؟ عمران خان نے خاموشی توڑ دی

میانوالی : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرسی بچانے نہیں، تبدیلی کیلئے آیا ہوں، ڈاکووں سے ڈیل ملک سے غداری ہو گی، ان کا مقابلہ کرکے دکھاوں گا، اگر یہ مافیا رہ گیا تو پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں.

عمران خان نے کہا  نواز شریف کو جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو ڈاکٹرز کی رپورٹ یاد آ گئی، سوچ رہاہ ہوں جہاز دیکھ کر مریض ٹھیک ہوا یا لندن کی ہوا لگنے سے ،اس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے، ہارٹ ٹھیک نہیں، شوگر ٹھیک نہیں اور پلیٹیلیٹس بھی کم ہیں لیکن سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو کہا کہ اللہ تیری شان ہے، 2018 کے بعد جب پاکستان ملا تو دو بڑے مسئلے تھے، ہمیں تاریخی خسارہ ملا، بجلی میں ساڑھے 1200 ارب کا گردشی خسارہ ملا، ن لیگ گیس میں 154 ارب روپے کا خسارہ چھوڑ کر گئی، کرنٹ اکا ونٹ کا ساڑھے 19 ارب ڈالر کا خسارہ تھا،خیبرپختونخوا اور پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام لا رہے ہیں، نئے بلدیاتی نظام کے ذریعے فنڈز شہر سے گاوں کی جانب جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں اسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 23سال پہلے میانوالی میں سیاست کا آغاز کیا اور مجھے احساس ہوا کہ سب سے زیادہ مشکل لوگوں کو صحت کی سہولیات کا نہ ہونا ہے، آج میانوالی میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے سنگ بنیاد سے خوشی ہے، آج میانوالی میں صحت پر کام کرنے کی شروعات ہوئی ہے، میانوالی کے عوام کی صحت اور پانی کے مسئلے کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میانوالی کے بچوں کےلئے تعلیم پہنچانا میرا وعدہ ہے، نمل یونیورسٹی کو بڑھتا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے جبکہ قومیں تعلیم کی وجہ سے یہ ترقی کرتی ہیں اور ملک میں جتنے زیادہ اعلیٰ تعلیمی ادارے ہوں گے پاکستان اتنا ہی اوپر جائے گا، میانوالی میں سکولوں کو بہت بنایا جائے گا

 میانوالی میں سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنا رہے ہیں جس کےلئے زمین بھی خریدی جا چکی ہے، لوگوں کو اسلام آباد اور لاہور جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میانوالی تب میرے ساتھ کھڑا ہوا جب پورے پاکستان میں مجھے کسی نے ووٹ نہیں دیا، میانوالی کے نوجوان باشعور ہیں اور آج کے حالات پر بھی کہوں گا کہ سارے کنٹینر پر چڑھ گئے اور کہا کہ ملک تباہ ہو گیا، تحریک انصاف کی حکومت کو ورثے میں تاریخی قرضہ ملا اور قرضوں کی وجہ سے روپیہ گرا، پاکستانی روپیہ 35فیصد تک گر گیا جس کی وجہ سے مہنگائی ہوئی، مہنگائی ہماری حکومت نے نہیں لائی ہے، پچھلی حکومت کی قرضوں کا بوجھ چھوڑ کر جانے سے ملک میں مہنگائی ہوئی ہے، چار سال بعد ملک میں ڈالر آرہا ہے ملک میں باہر نہیں جا رہا ہے اس لئے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ سر پلس ہوا۔

آج پاکستان کا روپیہ چار روپیہ بڑھ گیا ہے ، سٹاک مارکیٹ میں تیزی آ گئی ہے اور ملک میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور ملک درست معاشی سمت کی طرف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی بے روزگار جو کنٹینر پر چڑھے تھے وہ اسلام آباد اس لئے نہیں آئے تھے کہ پاکستان کی معیشت خراب ہے وہ اس لئے آئے تھے کہ پاکستان کی معیشت ٹھیک ہونے جا رہی ہے، اس خوف سے آئے تھے کہ ان کی سیاسی دوکانیں بند ہونے لگی ہیں، مجھے پتہ تھا کہ وہ کیونکہ آئے اور کیونکہ اب ایف آئی اے سے ساری معلومات آ جاتی ہیں۔

انہوں نے ماضی میں جو کچھ کیا ہے ہم نے ان کا پیسہ واپس نکالنا ہے اور اس لئے یہ اکٹھے تھے، جب جہاں مافیا اور کرپٹ لوگ قابض ہو جاتے ہیں وہاں تبدیلی نہیں آتی اور جب تبدیلی آتی ہے تو یہ ہی کپٹ مافیا آپ کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے اور حکمران اپنی کرسی کو بچانے کےلئے ان سے مک مکا کر لیتا ہے، اس لئے تبدیلی نہیں آتی ےہ، جنرل مشرف نے احتساب شروع کیا تو لوگوں نے کہا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں، آپ کی کرسی چلی جائے گی، جس پر مشرف نے تمام کیسز ختم کر کے این آر او دے دیا اور پھر جب مشکل پڑی تو اپنی کرسی بچانے کےلئے آصف زرداری کو واپس لے آئے۔

وزیراعظم نے کہا خان ملک میں کرسی کےلئے نہیں آیا بلکہ تبدیلی کےلئے آیا ہے اور تبدیلی تب آئے گی جب ان مافیا کو شکست دیں گے، یاد رکھنا اگر ملک میں یہ مافیا رہ گئے تو اس ملک کاکوئی مستقبل نہیں ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کی دولت ملک سے باہر ہے، ملک ہنڈی حوالے سے پسہ باہر بھیجنے سے بھی تباہ ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شریف خاندان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا، نواز شریف کا بیٹا حسن نواز8ارب کے فلیٹ میں رہتا ہے، مریم نواز کے نام پر اربوں کے فلیٹ ہیں،اسحا ڈار سائیکل والے کا بیٹا آج اربوں پتی ہے، ان کے پاس پیسے کہاں سے آئے اور یہ کیوں ملک سے باہر بھاگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے بنی گالہ گھر اور لندن میں گھر کے بارے میں پوچھا جس کے تمام ثبوت پیش کئے، لیکن یہ آج عدالت میں جو بھی دستاویزات جمع کراتے ہیں وہ جعلی نکلتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں مدرسے کے بچوں کو جھوٹ بول کر لایا گیا اور کہا گیا کہ عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں جب تک اللہ نے زندگی دی ہے اگر میں نے ان کوچھوڑ دیا یا ڈیل کی تو یہ سب سے بڑی غداری ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام نے میری ٹیم بننا ہے، میں ڈاکوﺅں کا مقابلہ کر کے دکھاﺅں گا، جب نواز شریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو میں ڈاکٹرز کی رپورٹس سامنے رکھی جس میں کہا گیا تھا کہ مریض کا اتنا برا حال ہے کہ وہ کبھی بھی مر سکتا ہے، رپورٹ میں 15بیماریاں بتائی گئیں اور بتایا گیا کہ ان کا علاج پاکستان میں نہیں ہو سکتا ہے، میں سوچتا ہوں کہ جہاز دیکھ کر طبیعت ٹھیک ہو گئی کہ لندن کی ہوا سے طبیعت بہتر ہوئی ہے، اس کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ ایک دم طبیعت کیسے ٹھیک ہو گئی ہے۔


ای پیپر