ڈیل نہ ہونے کے حق میںکالم
22 نومبر 2019 2019-11-22

توبہ، توبہ، میں یہ کہوں کہ نواز شریف کے ساتھ کسی نے کوئی ڈیل کی ہے کہ میرے پاس ایسے کوئی ثبوت موجود نہیں جوکسی بھی عدالت میں پیش کرسکوں۔ یہ سب محض اتفاق ہے کہ تحریک انصاف کے جو مہربان ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے ستر برس کے کہنہ مشق سیاستدان کو جیل کی کال کوٹھڑی میں ٹیلی وژن اور ائیرکنڈیشنز کے بغیر، بلکہ دروغ بہ گردن حسین نواز ،باقاعدہ زہر دے کر مارنا چاہتے تھے اب آٹھ آٹھ آنسو رو رہے ہیں، جھولیاں اُٹھا اُٹھا کے بددعائیں دے رہے ہیں مگر کسے دے رہے ہیں اس کا میںذکر نہیں کر سکتا، جسے شک ہو وہ معروف شیف گلزار سمیت ایسے بہت سارے دوسروں کو سوشل میڈیا پر اپنے سر پر باقاعدہ جوتے مارتے ہوئے دیکھ لے جو نواز شریف کے بغض میں اپنی بوٹیاں نوچ رہے ہیں۔ نواز شریف جا چکا ہے اور یہ فیصلہ اب وہ خود کرے گا کہ اس نے کب واپس آنا ہے۔

نواز شریف کے معاملے کو دیکھئے اور بتائیے کہ کیا کاروبار ہستی خود بخود چل رہا ہے یا اسے کوئی چلانے والا ہے۔نواز شریف اچانک اتنے بیمارہوئے کہ ان کے پلیٹ لیٹس دوہزار تک آ گئے۔ ان کے دل اور گردوں کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر اور شوگر کے امراض بھی پیچیدہ صورت اختیار کر گئے مگر نواز لیگ والوں کے مطابق وہ ہمت اور حوصلے والے تھے لہذا جب نیب کی تحویل سے ہسپتال منتقل ہوئے تو اپنے پیروں پرچل کر جا رہے تھے۔ یار لوگوں کا خیال تھا کہ جب وہ پاکستان سے براستہ دوحہ لندن جا رہے ہوں گے تو اس وقت ہی وہیل چئیر پر ہوں گے مگر ان کی تمام تر تصویریں او ر ویڈیوز ظاہر کر رہی ہیں کہ انہیں اسٹریچر اور وہیل چئیرکی کوئی ضرورت نہیںتھی ۔ اب اگر کوئی نامراد یہ کہتا ہے کہ نواز شریف بیمار نہیں ہیں تو اس کے منہ پر بیگم کلثوم نواز کی علالت کے موقعے پر انصافیوں کے روئیے کی وہ چپیڑ موجود ہے جسے مارا جاسکتا ہے کہ اے بے شرمو! کیا اس ملک میں اپنی بیماری ثابت کرنے کے لئے مرنا ضروری ہے؟

جی ہاں ! اسے محض اتفاق سمجھئے کہ جب میاں نواز شریف کی طبیعت خراب ہوئی تو اس کے ساتھ ہی مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ بھی شروع ہو گیا جس کی وجہ سے سیاسی اور حقیقی دونوں حکمران دباو کا شکار ہو گئے۔ جیسے سن دوہزار میں نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی اچانک اے آر ڈی بن گئی تھی اور اس کے پہلے باضابطہ اجلا س سے پہلے جلاوطنی کا واقعہ پیش آ گیا تھا۔ آزادی مارچ کا پلان اے سب سے سخت تھا جس میں پورے ملک سے سخت گیر مذہبی کارکنوں نے اسلا م آباد پہنچنا تھا اور پھر یوں ہواکہ میاں نواز شریف کی ضمانت کے بعد پلان اے ختم ہو گیا اورپلان بی آگیا جس کے تحت ملک بھر میں شاہراوں کو بند کرنا تھا۔ میاں نوازشریف کو جیسے ہی ملک سے جانے کی اجازت ملی تو پلان سی آ گیا جس کے تحت اب ضلعی مقامات پر جلسے ہوں گے۔ میں مولانا فضل الرحمان کو ایک نہایت کائیاں سیاستدان سمجھتا ہوں مگر مجھے ان کی تحریک کی الٹی گنگاکی ہرگز سمجھ نہیں آئی۔ طبعی اصول ہے کہ چیزیں آہستہ آہستہ گرم ہوتی ہیںمگر یہ تحریک شدید گرم سے نرم ہوتی چلی گئی۔

یہ بھی محض اتفاق ہی تھا کہ جب میاں نواز شریف کے باہر جانے کاحتمی فیصلہ ہو رہا تھا تو’ این آر او نہیں دوں گا‘ فلم کے مولاجٹ ایک اہم ملاقات کے بعد دو دن کی رخصت پربنی گالہ تشریف لے گئے حالانکہ میرے پی ٹی آئی کے دوست بتاتے ہیں کہ ان کے وزیراعظم نے وزیراعظم بننے کے بعد ایک دن بھی ضائع نہیں کیااور جب نواز شریف کے بیرون ملک جانے میں اشٹام جیسی کوئی رکاوٹ بھی نہیں رہ گئی توعمران خان میدان میں نکل آئے، وہ ہزار ہ میں نواز شریف کی بنائی ہوئی موٹر وے پر پہنچے اور کہا کہ وہ کسی چور کو نہیں چھوڑیں گے۔ اب اس کو بھی اتفاق ہی کہا جاسکتا کہ نواز شریف کو عبرت کا نشان بنانے کے عزم کا بائیس برسوں میںکم و بیش بیس بائیس ارب مرتبہ اعلان کرنے والے عمران خان کے دل میں اچانک اس وقت رحم پیدا ہو گیا جب کابینہ کی اکثریت بھی نواز شریف کو ملکی سرحدوں کے قید خانے میں رکھنے کی رائے دے رہی تھی اور سب سے اہم اتفاق یہ ہواکہ جس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف وزیراعظم عمران خان کے بیانات سے گلی محلوں کے انصافیوں کی قابل مذمت مغلظات تک سب کچھ آ رہا تھا اس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہزارہ موٹر وے کا خطاب پالیسی تھی یا کابینہ میں کیا گیا فیصلہ؟

یہ بھی اتفاق ہی تھا کہ مشرف دورمیںجب نواز شریف جلاوطن ہوئے تو اس سے پہلے شریف فیملی کے تین اہم ترین ارکان نے قطر کا دورہ کیاتھا اور اب بھی انہیں جو ائیرایمبولینس لینے کے لئے آئی وہ قطرکے شاہی خاندان کی تھی جس نے براستہ دوحہ اپنا سفر مکمل کیا۔ اسے بھی نظراندازکرنا انتہائی ضروری ہے کہ جب میاں نواز شریف سروسز ہسپتال کی قید سے جاتی امرا منتقل ہو رہے تھے تو انہوں نے اس وقت تک گھر جانے سے انکار کر دیا تھا جب تک مریم نواز شریف کی رہائی کی رُوبکار اسی ہسپتال میں نہیںپہنچی تھی جہاں دونوں باپ بیٹی موجود تھے ۔رہ گیا شہباز شریف کی بہو کا وہ ٹوئیٹ جس میں انہوں نے اپنے سُسر کو ” گیم چینجر“ کہا تھا تو اسے نادانی اور بے وقوفی ہی کہا جاسکتا ہے حالانکہ واقفان حال کہتے ہیں کہ اس ٹوئیٹ نے ’ سی ابی ایمز‘ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی جیسے میاں صاحب کے بچپن کے دوست خواجہ آصف کی فتح کے نشے میں مست تقریر جس کا ازالہ انہوں نے اگلے روز ایک روہانسی تقریر سے کیا۔

بہرحال، یہ بہت بری بات ہو گی کہ اگر مریم نوازشریف کی رہائی کے باوجود ٹوئیٹر ہینڈلر کے غیر فعال ہونے کو کسی ڈیل کا حصہ سمجھا جائے گا کیونکہ وہ کہہ چکی ہیںکہ ان کے لئے سیاست سے زیادہ اہم ان کے والد کی صحت ہے اور اگر کوئی بدگمانی ظاہر کرے تو میرے پاس وہ تمام لیکچرز موجوو ہیں جن میں بتایا جا سکتا ہے کہ ایک بیٹی جب اپنے والد کی صحت اور زندگی بارے پریشان ہو تو اس سے سیاست جیسی فضولیات بارے پوچھنا انتہائی غیر اخلاقی اور غیر انسانی قسم کا عمل ہے۔ جہاں مریم نواز شریف کی خاموشی بارے پوچھنا بری بات ہے وہاں یہ سوال کرنا بھی انتہائی خطرناک ہے کہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت ملنے پر شروع ہونے والی بیان بازی کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ ملانصیرالدین یہاں ہوتے تو اس مقدمے کے فیصلہ اسی طرح کرتے کہ جب یہ کہاجاتا، نواز شریف کی رہائی کا فیصلہ عدلیہ نے کیا تو وہ کہتے تم ٹھیک کہہ رہے ہو، جب یہ کہاجاتا کہ نواز شریف کو جانے کی اجازت کابینہ نے دی تو وہ کہتے کہ تم بھی ٹھیک کہہ رہے ہو اورجب ان سے پوچھا جاتاکہ یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں کیسے ٹھیک ہوسکتی ہے اور کیا فیصلہ کرنے والا کوئی تیسرا تھا تو وہ کہتے تم بھی ٹھیک کہہ رہے ہو۔

امام ابوحنیفہ کا ایک دہرئیے سے مناظرہ روایت کیا جاتاہے جس میں دہریہ خدا کا انکار کرتے ہوئے کہتا تھا کہ کائنات خودبخودہی بنی اور چل رہی ہے، لوگوں نے اپنی طاقتوں کوخواہ مخواہ ایک غیبی طاقت کے تابع کر دیا ہے۔ امام اعظم اس سے مکالمہ کرنے بہت تاخیر سے پہنچے ، استفسار پر بتایا کہ انہوں نے دریا پار کر کے آنا تھا مگر ان کے پاس کوئی کشتی نہیں تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ درخت خود بخود اُگے، بڑے ہوئے، تنے خود بخود کٹے اور تختے بنے، ان تختوں نے خود بخود کشتی کی صورت اختیار کر لی، اس کشتی نے مجھے سوار کیا اوربغیر کسی ملاح، چپو اور بادبان کے لہروں کے رخ کے مخالف تیرتی ہوئی بادشاہ کے محل میںلے آئی ۔ دہریہ بہت ہنسا اور بولا یہ سب کچھ اپنے آپ ہونا کس طرح ممکن ہے۔ امام نے فرمایا کہ جب یہ معمولی واقعات از خود ہونا ممکن نہیں تو اتنے بڑے جہان کا از خود چلنا کس طرح ممکن ہے؟

اے میرے پیارے قارئین ! آج کا کالم بس اتناہی، یہ اب آپ پر ہے کہ آپ اس کالم کے پہلے چھ پیراگرافوں سے متاثر ہوتے ہیں یا ساتویں سے ۔مجھے مزید کچھ نہیں کہنا،آپ سے اب اگلے کالم میں ملاقات ہو گی ، تب تک کے لئے اللہ حافظ۔


ای پیپر