”میرے ہر نقش میں پنہاں ہے کہانی تیری“گوہر نایاب
22 نومبر 2019 (00:12) 2019-11-22

سید رضی الدین کاظمی

پاکستان کی بھی ایک ایسی تاریخ مرتب ہو چکی ہے کہ ہم نے احسان فراموشی کرتے ہوئے انہی لوگوں کو مار دیا جو کبھی زمانے کے حوالے سے ہمارے ہیرو ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ کو ہم نے ان کی زندگی میں ہی مار دیا، جو رہ گئے ان کو فراموش کر دیا۔ ان کے دیئے ہوئے ویژن اس وقت تک تھے جب تک وہ قائم دائم رہے، منظرعام پر تھے اور دلوں پر راج کرتے تھے اور آنکھیں ان کو دیکھنے کو ترستی تھیں۔ ان سے ملنے کی بے تابی، ان کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش، ان کے ہر کارنامے پر تالیاں، شور اور پھر جب نظر سے ہٹ گئے یا ہٹا دیئے گئے تو پھر ہم نے احسان فراموش کی مثال بنا کر اس پر بھول کی مہر لگا دی۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ سیاست ہو، کھیل ہو، کلچر ہو، ادب ہو، صحافت ہو، تعلیم ہو، زراعت اور اکنامکس ہو .... ہم نے کہاں کہاں ہیروز پیدا نہیں کیے، کہاں کہاں ہم نے ہیرے نہیں تراشے، اپنی مدد آپ سے اُبھرنے والے گوہر ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے ختم کر دیئے۔

ایک وہ دور تھا جب بچے اپنے آئیڈیل کی تلاش میں سرگرداں تھے، وہ ان جیسا بننا چاہتے تھے اور ان جیسا ہی کرنا چاہتے تھے۔ ان کے کردار سے لے کر ان کے باطن تک ان کے کاموں سے سیکھنا چاہتے تھے، وہ جو ہیرو تھے میدانوں کے، وہ صرف ہماری ہی شناخت نہیں بنے بلکہ بیرون مماک میں وہ ہماری عزت ہماری آن وشان تھے۔ ہمارے پیارے وطن کی پہچان تھے۔ آج سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیوں اب تک اپنے ہیروز کی قدر نہ کر سکے؟

گزرے 73سالوں میں .... کتنا اچھے بُرا وقت بیت گیا۔ ان وقتوں میں ماضی و حال اور مستقبل سب شامل ہے۔ اس میں ان گنت چہرے جو ہمارے چاروں طرف چھائے ہوئے، سبز ہلالی پرچم کے سائے میں ان کے سینوں پر نشان حیدر تھے۔ گولڈ اور سلور میڈل تھے، وہ آتے تو قوم کی آنکھیں ان کی راہوں میں نچھاور ہو جاتی تھیں اور پھر ان کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا کہ جیسے ہی وہ اپنے کام سے دور ہوئے، ہم نے بھی ان کو ماضی کے دریچوں میں بند کر دیا.... پھر کبھی یاد نہ کرنے کیلئے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ محمد اقبالؒ، لیاقت علی خاںؒ، فاطمہ جناحؒ، ڈاکٹرعبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمرمبارک، ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بےنظیر بھٹو، نوازشریف، عمران خان، فضل محمود، آصف اقبال، حنیف محمد، مشتاق محمد، ظہیر عباس ، روشن خان، جان شیرخان، نورجہاں، مہدی حسن، نصرت فتح علی خان، محمدعلی، وحیدمراد، عابدہ پروین، مصطفی قریشی،عاصمہ جہانگیر، ریشماں، طارق عزیز، شہناز، صلاح الدین، ایدھی، علامہ طالب جوہری، ڈاکٹر اسراراحمد، مولانا شاہ احمد نورانی، ڈاکٹر عطاالرحمان،ایم ایم عالم، میجرعزیز بھٹی شہید ، فوادخان، افتخار چودھری، دراب پٹیل، سمیع اللہ خان، رشید عطرے، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، سعادت حسن منٹو، ممتاز مفتی، اشفاق احمد، رضیہ بٹ، معین اختر، شفیع محمد، سلطان راہی، عالم لوہار، ناہیداختر، روحی بانو، سنتوش کمار، سلطان راہی، حبیب جالب، احمد فراز، فیض احمد فیض، جاوید میانداد، ابن انشائ، حکیم محمد سعید، سیدنور، میرشکیل، ضیاءشاہد، مجید نظامی، عبداللہ اعجاز (ماڈل)، مہرین سید، ایس ایچ ہاشمی، اعصام الحق، ابرارالحق، اعجاز بٹالوی، بانوقدسیہ، جاوید اقبال (کارٹونسٹ)، چودھری غلام عباس، وسیم اکرم، وقار یونس، اعتزاز احسن، اسلم چودھری، مولانا حالیؒ، تلوک چند محروم، اخترشیرانی، حفیظ جالندھری، خوشی محمد ناظر، غلام بھیک نیرنگ، میراجی، ن م راشد، صوفی غلام مصطفی تبسم، ساحر لدھیانوی، مختارصدیقی، قیوم نظر، یوسف ظفر، ضیاءجالندھری، سیف الدین سیف، مجیدامجد، جگن ناتھ آزاد، ظہیرکاشمیری، صفدرمیر، ناصرکاظمی، منیرنیازی، شہزاداحمد، غالب احمد، کشورناہید، جاوید شاہین، ذوالفقار تابش، شیرافضل جعفری، ظفراقبال اور حبیب جالب جیسے اردو شاعروں کا پاکستان۔

مولوی غلام رسول، میاں محمد، فضل شاہ، ہاشم، دائم، مولانابخش کشتہ، استادکرم، عشق لہر، استاددامن، احمدراہی، شریف کنجاہی اور فخرزمان جیسے نامور لوگوں کا پاکستان۔

محمدحسین آزاد، مولانا ابوالکلام آزاد، خلیفہ عبدالحکیم، عطاللہ شاہ بخاری، چودھری افضل حق، مولانا غلام مرشد، محمد دین تاثیر، مولانا صلاح الدین احمد، پطرس بخاری، شیخ محمد اکرام، جسٹس شاہدین ہمایوں، جسٹس ایس اے رحمان، مولانا ابوالااعلیٰ مودودی، علم الدین سالک، عاشق حسین بٹالوی، حمیداحمد خان، باری علیگ، پروفیسر سراج الدین، ڈاکٹر نذیر احمد، غلام جیلانی برق، پروفیسر اشفاق علی خان، ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر جاوید اقبال، الطاف گوہر، ڈاکٹر مبشر حسن، ڈاکٹر کنیز، فاطمہ یوسف، پروفیسر شیخ محمود احمد، پروفیسر محمد عثمان، ڈاکٹر وحید قریشی، مظفر علی سید، وزیرآغا، سیدسبط الحسن ضیغم، عابد حسن منٹو اور فتح محمد ملک جیسے عالموں، ناقدوں اور دانشوروں کا پاکستان۔

امتیاز علی تاج، حکیم احمد شجاع، عابد علی عابد، رفیع پیرزادہ، منوبھائی، ڈاکٹر انور سجاد اور امجد اسلام امجد جیسے تمثیل نگاروں کا پاکستان۔ سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، مرزا ادیب، ایم اسلم، نسیم حجازی، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق احمد، اعجاز حسین بٹالوی، جمیلہ ہاشمی، صلاح الدین عادل، انورغالب، عبداللہ حسین، حمیرہ احمد، ہاشم ندیم، ایم اے راحت جیسے ناول نگاروں اور افسانہ نویسوں کا پاکستان۔

ظفرعلی خان، سرعبدالقادر، عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر، حمید نظامی، چراغ حسن حسرت، فضل کریم خان درانی، مرتضیٰ احمد خان مکیش، میاں بشیر احمد، حکیم یوسف حسن، شورش کاشمیری، عبداللہ بٹ، مجیدلاہوری، اے ٹی چودھری، عبداللہ ملک، مظہر علی خان، ظہیر بابر، احمد بشیر، شفقت تنویر مرزا، سیدامجد حسین، انتظار حسین، م۔ش۔ ظہور عالم شہید، مجید نظام، زیڈاے سلہری، میرخلیل الرحمن، عبدالسلام خورشید، محمد طفیل، مولانا کوثر نیازی، وقار انبالوی، بشیر ارشد، وارث میر، نثار عثمانی، حسین نقی، مجیب الرحمن شامی، عبدالقادر حسن، عبدالقدیر رشک، اوریامقبول جان، حسن نثار، ارشاد احمد حقانی، ضیاءشاہد، نذیر ناجی، اثرچوہان، انورقدوانی، زاہدملک، اسداللہ غالب اور شورش ملک جیسے مدیروں اور صحافیوں کا پاکستان۔ حاجی لق لق، شفیق الرحمن، ضمیر جعفری اور کرنل محمد خان جیسے مزاح نگاروں کا پاکستان۔

عبدالرحمن چغتائی، استاداللہ بخش، امرتا شیرگل، زوبی، زبیدہ آغا، معین نجمی، احمد پرویز، شمزہ، خالد اقبال، غلام رسول، انور دل، موجد اور اسلم کمال جیسے مصوروں کا پنجاب۔ عبدالمجید رقم، تاج الدین زریں رقم، محمد صدیق الماس رقم، حافظ یوسف سدیدی، سید انور حسین نفیس رقم، استاد محترمہ محمد حسین شاہ، عبدالواحد نادرالقلم اور شریف گلزار جیسے خوش نویسوں کا پاکستان۔ یہ تھا میرا پاکستان جس کے شہر لالہ موسیٰ میں ملکہ موسیقی روشن آراءبیگم رہتی تھیں۔ جس کے شہر قصور نے استاد بڑے غلام علی خان اور استاد برکت علی خان کے علاوہ ملکہ ترنم نورجہاں کو جنم دیا تھا۔ جس کے شہر ملتان میں اقبال بانو اور ثریا ملتانیکر اور لاہور شہر میں شمشاد بیگم، نسیم بیگم اور ملکہ پکھراج دلوں کے تار چھیڑتی تھیں، جس کی فضاﺅں میں ملکہ غزل فریدہ خانم کی مدھ بھری تانیں گندھی تھیں۔ جہاں استاد اللہ رکھا اور استاد شوکت حسین نے طبلے کا جادو جگایا تھا۔ جہاں شریف خان پونچھ والے کی ستار نے دل کے شعلے کو زبان دی تھی، جس کے سینے سے شام چوراسی اور پٹیالے کی گائیکی اُگی تھی۔ جہاں استاد نصرت فتح علی خان ، استاد امانت علی خان جیسے باکمال صداکار ملتے تھے۔ جس کے شہروں نے سہگل اور خورشید کی آوازوں کو اپنی دلکشی دی تھی۔ جس کے صحراﺅں نے ریشماں کی ہوکوں اور کوکوں میں اپنی آندھیوں اور بگولوں کا زور بھر دیا تھا جس کے میٹھے چشموں سے مہدی حسن اور غلام علی کی غزل پھوٹی تھی، جس کے تپتے میدانوں اور تھلوں نے عالم لوہار، طفیل نیازی، عنایت حسین بھٹی، شوکت علی اور عطااللہ نیازی کے لوک رنگ کو گداز بخشا تھا۔ یہ تھے میرے پاکستان کے ہیروز، بقول احمد فراز

پھول روتے ہیں کہ آئی نہ صدا تیرے بعد

غرقہ¿ خوں ہے بہاروں کی ردا تیرے بعد

آندھیاں خاک اُڑاتی ہیں سر صحن چمن

لالہ و گل ہوئے شاخوں سے جدا تیرے بعد

جاہ و منصب کے طلب گاروں نے یوں ہاتھ بڑھائے

کوئی دامن بھی سلامت نہ رہا تیرے بعد

پھر بھی مایوس نہیں آج تیرے دیوانے

گوہر اک آنکھ ہے ممدوم ضیاءتیرے بعد

پوری دُنیا کے مقابلے میں دیکھا جائے تو وہاں ایک دن کا بھی ہیرو صدیوں میں اُتار دیا گیا اور پاکستان میں کبھی بھی ہیروازم کے تصور کو اُبھرنے ہی نہیں دیا گیا۔ 1947ءمیں ہمارے سامنے قائداعظمؒ تھے، علامہ اقبالؒ تھے، لیاقت علی خانؒ تھے۔ ان تینوں کے بعد کوئی اور ایسا نہ بن سکا یا ہم نہ بنا سکے کہ ہمارے ہاں ہیرو کو زندہ رکھنے کے زاویے نہیں تھے۔ پھر اگر ادوار کے حوالوں میں اُترا جائے تو پھر ایک طویل فہرست ان گنت شعبہ جات ان گنت نام جو آپ اُوپر کے کالموں میں پڑھ چکے ہیں، یہ وہ نام تھے جو پاکستان کے نام پر لکھ دیئے گئے تھے اور پاکستان ان شناخت اور وہ پاکستان کی شان تھے۔

میرے ہر نقش میں پنہاں ہے کہانی تیری

فن کی معراج ہے تصویر بنانی تیری!

وہ جو فن کی حدوں کو چھو گئے

وہ جو میدانوں میں چھا گئے

وہ جو دھرتی کو امر کر گئے

وہ جو ہماری آن اور شان بن گئے

وہ جو ہماری تصویر تھے

وہ جو ہماری داستان تھے

وہ جو ہماری تاریخ تھے

یہ حقیقت ہے کہ زندگی گزر جاتی ہے کہ اس کو ایک دن سُنا ہے ایک دن سب کو اس کا ساتھ چھوڑنا ہے، ایک دن جدا ہونا ہے اور یہ آغاز وانجام سے عاری سفر ہے۔ اس کو ایسا مت رہنے دو، اس کے آغاز اور انجام کا تعین ضرور کرو اور یہی کیفیت ہمارے قومی ہیروز کے ساتھ ہونی چاہیے جو کبھی نہیں رہی، ہر ہیرو کی زندگی میں اس کا عزم، اس کی منزل اس کے سفر کا آغاز وانجام .... یہ وہ روایت ہے جو نسلوں میں قائم ہونے کے لیے رواں دواں رہتی ہے، انہی کو دیکھ کر زمانے بنتے اور کامیاب ہوتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک انٹرویو کے دوران کرکٹ کی دُنیا کے بے تاج بادشاہ فضل محمود (مرحوم) نے کہا تھا کہ 1955ءمیں دورہ انگلینڈ کے دوران گورے میرانام لے کر یہ کہتے تھے کہ اچھا فضل محمود کا پاکستان .... یہ کسی بھی کھلاڑی کے لیے بڑے اعزازکی بات تھی کہ ایک ملک کی پہچان کھلاڑی کے نام سے ہوتی تھی۔ہمارے ہاں آج تک کسی بھی شعبے کے ہیرو کی قدر، اس کے کام اور قدکاٹھ کو صرف اس وقت تک تسلیم کیا گیا جب تک وہ میدان میں موجود ہے، جیسے ہی وہ ریٹائر ہوا اپنے اس شعبے سے لوگوں کے لیے آج مرے کل دوسرا دن والی بات بن جاتی ہے اور جو وقت کے دوران چل رہا ہوتا ہے اس کو ہیرو کے طور پر مان لیا جاتا ہے۔ اگر آپ دوسری دُنیا کے ممالک کو دیکھیں تو وہاں ان کے ہیروز کے مجسّمے، ان کی زندگیوں پر کتابیں، ان کی زندگی پر بننے والی فلمیں مشعلِ راہ، نشان راہ کے طور پر نسلوں میں اُتاری جاتی ہیں اور ان کو سمبل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آنے والی نسلوں کو باور کرایا جاتا ہے کہ ہمارے اصل ہیرو تو یہ تھے جن کے عظیم کارناموں کی وجہ سے آج ان کی دھرتی کو پوری دُنیا میں یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے چوراہوں پر مجسّمے بار بار ان کے کاموں کی یاد دلاتے ہیں اور ان قوموں نے اپنے ہیروز کو فراموش نہیں کیا، ان کے ناموں پر ادارے بنائے گئے، ان کے نام پر شہر آباد ہوئے، ان کے نام پر اداروں کو مضبوط کیا گیا اور ہمارے ہاں وقت کے حکمرانوں نے اپنے ہی ناموں سے سڑکوں اور پارکوں کے نام رکھ لیے، بہت کم مثالیں ہیں جو یہ بات باور کراتی ہیں کہ یہ بھی ہمارے کل کے ہیرو تھے۔ جس طرح ہاکی سٹیڈیم اور قذافی سٹیڈیم میں تمام گیٹ نامور کھلاڑیوں کے نام سے منسوب ہیں اور چند بڑے نام جو آج زندگی میں نہیں رہے مگر کرکٹ کے شیدائیوں کو اس وقت ان کی یاد شدت سے آتی ہے جب وہ ان کے نام سے منسوب گیٹ کی ٹکٹ لیتے ہوئے ان کے نام کے سائے سے گزرتے ہیں۔

آئیڈیل ازم کی سوچ اور فکر اب کہیں نظر نہیں آتی۔ ایک دور تھا جب ہیرو کو دیکھ کر اس جیسا بننے کی بہت آوازیں آتی تھیں، جس قوم کے بچوں سے یہ سوچ اور فکر ہی چھین لی جائے، ایسے معاشرے زندہ معاشرے نہیں کہلاتے

اگر ماضی کی بات کروں تو ہمیں وہ تاریخی مقامات اور اس زمانے کے بادشاہوں کے نام سے پکارے جانے والے باغات، قلعے اور ان کے مزارات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم کن نسلوں سے چلے آرہے ہیں۔ بہت لمبی تاریخ ہے جس کی ایک ایک سطر میں بڑے نام، بڑے کردار، بڑی شناخت کے ساتھ آج بھی حوالوں میں یاد ماضی ہیں۔اور یہ کس قدر افسوسناک امر ہے کہ ہم ارسطو، گوئٹے سے لے کر بڑے سائنس دانوں کے نام لیتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں مگر مسلمان سائنس دانوں کے نام بھول چکے ہیں کہ ہم نے کبھی ان ناموں کو کتابوں کے حوالے ہی نہیں کیا۔ آپ دور نہ جائیں آج کے بچوں کو قائداعظمؒ، علامہ اقبالؒ، لیاقت علی خاںؒ، ایوب خان یا وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کی تاریخ بدلی، روایات بدلیں، رویئے بدلے، ان ناموں سے آج کی نسلیں بہت دور کر دی گئی ہیں۔

آئیڈیل ازم کی سوچ اور فکر اب کہیں نظر نہیں آتی۔ ایک دور تھا جب ہیرو کو دیکھ کر اس جیسا بننے کی بہت آوازیں آتی تھیں اور جس قوم کے بچوں سے یہ سوچ اور فکر ہی چھین لی جائے تو پھر وہ معاشرے زندہ معاشرے نہیں کہلاتے۔

٭٭٭


ای پیپر