بابری مسجد، مودی سیاست اور بھارت
22 نومبر 2019 (00:07) 2019-11-22

1856ءسے پہلے بابری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثبوت نہیں ملا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے جج رانجن گنگوئی نے اپنے فیصلے میں یہ لکھا اور انصاف کا خون کر دیا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ 1527-28ءمیں میرباقر اس مسجد کو بنوا کر اسے نمازیوں کے بغیر ہی چھوڑ گیا۔ اگر نمازی نہیں تھے تو مسجد کس کے لیے بنوائی یقینا وہاں مسلمانوں کی آبادی تھی اور پھر 1527ءسے 1949ءصدیوں تک ہندوﺅں کو اپنے مقدس استھان کے متعلق معلوم نہ ہو سکا، پھر 1949ءسے لے کر 1992ءتک مقدمہ بازی کر کے اس دھیان گیان کو پکا کیا گیا کہ مقدس استھان رام جنم بھومی پر ایک مسجد بنا دی گئی ہے اور پھر یکایک ہندوﺅں کو شاید یہ الہام ہو گیا کہ مندر کے اُوپر مسجد بنا دی گئی ہے، بس پھر سادھو، سنت، فقیر، امیر، وزیر، ہندو جتھے، ایل کے ایڈوانی، مُرلی منوہرجوشی، اوم بھارتی، اُترپردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ حتیٰ کہ اٹل بہاری واجپائی جو کہ بعد میں وزیراعظم بھی بنے، وہ بھی ان حملہ آور جتھوں میں شامل ہوئے اور اپنی انتہاپسندی کا ثبوت دیتے ہوئے مسجد شہید کر دی، یقینا آپ سمجھ گئے ہوںگے کہ یہ بابری مسجد کی شہادت کا ذکر ہے، جس کی شہادت 6 دسمبر 1992ءمیں ہوئی۔

بابری مسجد کی تاریخ اور محل وقوع

بھارت کی ریاست اُترپردیش کے شہر ایودھیا ضلع فیض آباد میں واقع یہ مسجد ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کی ہدایت پر 1527-28ءمیں میرباقر نے اسے پہاڑی پر تعمیر کرایا۔ 1885ءمیں کچھ شرارتی ہندوﺅں نے یہ دعویٰ کیا کہ جس جگہ مسجد بنائی گئی ہے یہ ”رام چندرجی“ کی جنم بھومی/ جنم استھان (پیدائش کی جگہ) ہے لہٰذا یہاں مسجد کو شہید کر کے ”رام چندرجی“ کا مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ دعویٰ اتنا بے بنیاد تھا کہ جج جو کہ خود بھی ایک ہندو تھا، اُس نے صرف پانچ دن کی سماعت کے بعد مقدمے کو خارج کردیا۔ 1947ءمیں یہ مسئلہ پھر کھڑا کر دیا گیا اور 22 دسمبر 1949ءکو کسی نے شرارتاً مسجد میں رام اور سیتا کے مجسّمے رکھ دیئے۔ ایک مرتبہ پھر حالات کشیدہ ہوئے اور حکومت نے مسجد کو مقفل کر دیا تاہم 1990ءمیں جب بی جے پی (بھارتیہ جنتاپارٹی) کی حکومت آئی تو اس مسجد کو 6 دسمبر 1992ئ، یوپی کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کی ایماءپر شہید کر دیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم نرسہیما راﺅ اگر اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے تو یہ ممکن نہ ہوتا کیونکہ اُس وقت ”سُنی وقف بورڈ“ کی پیروی میں کیس عدالت میں زیرسماعت تھا اور کانگریسی حکومت پولیس کو اختیارات دے کر اس مسماری کو روک سکتی تھی لیکن ہوا یہ کہ پولیس بھی شرپسندوں کے ساتھ شامل ہو گئی جس کے بعد بی جے پی اور آرایس ایس کے انتہاپسند غنڈوں نے مسلمانوں کے گھروں پر حملے کر کے گھر مسمار کر دیئے اور اڑھائی سے تین ہزار مسلمان قتل کر دیئے اور ان کے قیمتی سامان لوٹ لیے۔

انہدام کے بعد بابری مسجد کا کیس الٰہ آباد ہائیکورٹ میں چلتا رہا۔ ججز نے ہندو مو¿قف جاننے کے لیے کہ کیا یہ پہلے رام مندر تھا، اس کے لیے بھارتی آثارِ قدیمہ کے ماہرین سے مدد لی، اُنہوں نے بابری مسجد کے اطراف میں کھدائی کر کے اپنی رپورٹ پیش کی کہ مسجد سے پہلے یہاں مندر کے آثار موجود ہونے کے شواہد ہیں، یہ رپورٹ سراسر جھوٹ پر مبنی تھی اور ہندو انتہاپسند تنظیموں کے سخت دباﺅ کے زیراثر جاری کی گئی تھی لہٰذا سنی وقف بورڈ نے اسے مسترد کر دیا لیکن جج صاحبان بھی سخت دباﺅ کا شکار تھے لہٰذا انہوں نے 30 ستمبر 2010ءکو اپنا فیصلہ جاری کر دیا کہ مسجد کے تین حصے کر دیئے جائیں، ایک حصہ مسجد، ایک حصہ مندر اور ایک حصہ ایودھیا کے عوام کے سپرد کر دیا جائے لیکن سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی لیکن اس کے بی جے پی کے ایک لیڈر نے بھی سپریم کورٹ میں بابری مسجد اور رام مندر کی تعمیر کے ضمن میں ایک درخواست دائر کی جسے بھارتی سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ اس درخواست میں کہا گیا کہ اس مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔ BJP کے لیڈر رام سوامی نے اس درخواست میں ایک عجیب موقف اختیار کیا کہ مسجدیں ٹوٹ سکتی ہیں، انہیں کسی دوسری متبادل جگہ پر تعمیر کیا جاسکتا ہے لیکن اگر مندر ایک بار بن گیا تو اسے توڑا نہیں جا سکتا اور مندر کی یہی خصوصیت ہے حالانکہ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ برصغیر پاک وہند کے مسلمان حکمرانوں کو ہندو ریاستوں کے راجاﺅں نے خود کئی گزارشات کی تھیں کہ جو مندر ہندوﺅں کے زیراستعمال نہیں ان کو توڑ کر مسجدئیں بنا لیں لیکن اُس دور میں بھی ایسا نہیں کیاگیا۔

بابری مسجد اور پاکستان کا کردار

6دسمبر 1992ءکے اس سانحہ پر پاکستان بھر میں احتجاج شروع ہو گیا تھا اور پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی تو حکومت نے 8دسمبر 1992ءکو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا، تمام دفاتر اور کاروباری مراکز بند رہے اور احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ 19دسمبر کو اُس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا لیکن اپوزیشن کی نمائندہ سیاسی جماعتوں نے شرکت نہ کی، باقی چھوٹی جماعتوں کی شرکت سے اجلاس کے بعد ”اعلان اسلام آباد“ جاری کیا گیا جس میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بابری مسجد کو فوری طور پر ازسرنو تعمیر کیا جائے۔ بھارت میں تمام مساجد کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مسلمانوں کی جان ومال اور املاک کو جو نقصان پہنچا ہے۔ بھارتی حکومت اس کا معاوضہ ادا کرے لیکن پاکستان کے اس اعلان اسلام آباد پر کسی نے کان نہ دھرے اور کوئی معاوضہ اب تک ادا نہیں کیا گیا۔ ایک جائزے کے مطابق ان گھروں کو جن کو بابری مسجد کے معاملے میں فسادیوں اور انتہاپسندوں نے گرایا یا نقصان پہنچایا تھا، وہ گھر اب بھی مرمت کے انتظار میں ہیں تاہم لٹکتے ہوئے پردے، ٹاٹ اور ”تپڑ“ اُن گھروں کی زبوں حالی کی کہانی ان کہے لفظوں میں سناتے ہیں۔ خاموشی کی زبان سے کہہ رہے ہیں کہ دیکھ لو دُنیا والو ہمارے ساتھ بھارت میں جو سلوک ہو رہا ہے۔ مسلمانوں پر روزگار کے مواقع بند ہوتے جا رہے ہیں، بہت سوں کو گھر کا چولہا بند ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ مزدوری ملنا مشکل ہو رہی ہے۔ بچوں کو تعلیم ملنا محال ہو رہی ہے۔

رام چندرجی اور سیتا کے بت بابری مسجد میں کیوں رکھے گئے؟

رامائن اور مہابھارت بھی ہندوﺅں کی مقدس کتابیں ہیں۔ رامائن 48 ہزار سے زائد اشعار پر مبنی کتاب ہے۔ اسی کتاب میں شری رام چندرجی کی اُن لڑائیوں کا ذکر ہے جو انہوں نے لنکا کے بادشاہ ”راون“ سے اپنی بیوی ”سیتا“ کو چھڑانے کے لیے لڑی ہیں۔ ہندوﺅں میں رام چندرجی کو دیوتا اور اوتار کی حیثیت حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ ہندو رام چندرجی اور ان کی بیوی سیتا کے بت بنا کر ان کی پوجا کرتے ہیں حالانکہ رام اور لکشمن دونوں کا باپ بادشاہ تھا اور یہ دونوں اپنی سوتیلی ماں کیکٹی کی سازشوں کی وجہ سے جلاوطن ہوئے۔ رام اپنی بیوی سیتا اور بھائی لکشمن کو لے کر جنگل میں چلے گئے، وہاں راون کی بہن رام چندر جی پر عاشق ہو گئی اور سیتا کو برباد کرنے کا ارادہ کر لیا لیکن رام بھی راون کی بہن کے عشق کے جال میں نہ پھنسے بلکہ اُس کے کان اور ناک کاٹ ڈالی۔ وہ انتقام لینے کے لیے چالیس ہزار راکشسوں کی فوج لے آئی۔ رام نے اس فوج کو شکست دی تو وہ اپنے بھائی کے پاس مدد کے لیے گئی اور سیتا کو اُٹھانے کی خواہش ظاہر جو راون نے پوری کر دی اور سیتا کو اُٹھا کر لے گیا۔ رام چندر جی نے پھر سیتا کو ”ہنومان“ کی مدد سے آزاد کرایا۔ راون کو شکست دی اور چودہ سال کی جلاوطنی کے بعد اپنے باپ کا تخت دوبارہ حاصل کر لیا۔

ہندو چونکہ رام اور سیتا کو مقدس اور دیوتا مانتے ہیں۔ ان کے بت بنا کر پوجا کرتے ہیں ، اس لیے ان کے بت بابری مسجد میں چھپا کر رکھے گئے تاکہ برآمد کر کے یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ رام چندر جی کی جنم بھومی ہے اور یہاں مسجد کا قبضہ ناجائز طریقے سے لیا گیا ہے۔ آثار قدیمہ کے ہندو ماہرین کو یہاں کسی مندر کے آثار نہیں ملے لیکن پھر بھی جھوٹی رپورٹ تیار کر کے عدالت کے حوالے کی گئی جسے سنی وقف بورڈ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

بھارت کی مندر مسجد مذہبی سیاست

مظفرآباد سے 270 کلومیٹر دور شمال میں آٹھ کام اور دودنیال کے درمیان ایک مندر واقع ہے اس کا نام ”شاردا پیٹھ مندر“ ہے۔ یہ مندر شاردا کے مقام پر نیلم اور مدھوتی نالوں کے سنگم پر واقع ہے۔ جنوری 2017ءمیں RSS کی ایک شاخ کی طرف سے دہلی اور جموں میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ”شاردا پیٹھ مندر“ کی مٹی کی پوجا کی گئی، کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف یہاں گرماگرم تقریریں کی گئیں اور لائن آف کنٹرول کو کھولنے پر زور دیا گیا تاکہ ہندو زائرین اس مندر میں پوجا کر سکیں۔ سوال یہ ہے کہ بھارت میں ہزاروں مندر اُجڑے ہوئے اور ایران پڑے ہیں جہاں پوجا پاٹھ نہیں ہوتی، مورتیاں مٹی میں اٹی پڑی ہیں۔ چوہے اور بندر یہاں رہائش پذیر ہیں۔ پرساد یہاں بٹتا نہیں تو ایسے میں کسی خاص مندر کے متعلق جھگڑا کھڑا کرنا چہ معنی دارد۔ شاردا پیٹھ مندر چونکہ کشمیر میں واقع ہے اور بابری مسجد ایودھیا جیسے شہر میں واقع ہے، افتخار گیلانی لکھتے ہیں کہ ”شاردا مندر کی یاترا پر کوئی اعتراض نہیں مگر جو لوگ اس کی وکالت کر رہے ہیں (RSS اور BJP) انہیں چند منٹ جنوبی کشمیر میں امرناتھ اور شمالی بھارت کے صوبہ اُترکھنڈ کے چار مقدس مذہبی مقامات پر کیدارناتھ، گنگوتری اور یمنوتری کی مذہبی یاترا کو سیاست اور معیشت کے ساتھ جوڑنے کے مضمرات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ایک دہائی تک امرناتھ یاترا میں محدود لوگ شریک ہوتے تھے لیکن اب ہندو قوم پرستوں کی طرف سے چلائی گئی مہم کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ اس یاترا کو فروغ دینے کے پیچھے کشمیر کو ہندوﺅں کے لیے ایک مذہبی علامت کے طور پر اُبھارتا ہے تاکہ بھارت کے دعویٰ کو مزید مستحکم بنایا اور جواز پیدا کر دیا جا سکے“۔ اسی طرح بابری مسجد کے ساتھ مندر کو تعمیر کر کے ہندوتوا کو فروغ دیا جا سکے اور Hate Muslim India کے نعرے کو مزید تقویت دی جا سکے۔ دوسری بات یہ کہ مندر سے معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں جبکہ تیسری بات یہ کہ مسجد کے ساتھ مندر سے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی جائے اور آخری بات یہ کہ BJP اور RSS کی غنڈہ گردی، بدمعاشی اور تشدد کی بھارت بھر میں دھاک بٹھا دی جائے اور ایم ایس گول والکر جو کہ RSS کے طویل عرصہ تک سربراہ رہے، اُس کے نظریات کو اُبھارتا ہے مثلاً ”بھارت ایک ہندو ملک ہے جس پر ہندوﺅں کا ہی حق ہے“ یا ”بھارت میں ہندوتوا ہی چلے گا“۔ مندروں کی سیاست کرنے میں مشہور موجودہ وزیراعظم مودی جب گجرات یونٹ کے 1938ءمیں آرگنائزنگ سیکرٹری (BJP) منتخب ہوئے تو پھر 1990ءمیں ایل کے ایڈوانی کے ساتھ مل مشہور ”ایودھیا رتھ یاترا“ کی تھی اور BJP کے ہی مُرلی منوہر جوشی کے ساتھ مل کر 1991-92ءمیں ”ایکتا یاترا“ کی تھی (ایکتا بمنی ایک ہونا/ متحد ہونا اور یاترا یعنی مقدس سفر)۔ غنڈہ گردی اور دھاک بٹھانے کے عمل کو وقتاً فوقتاً دُہرایا بھی گیا تاکہ تسلسل قائم رہے مثلاً گودھرا ریلوے سٹیشن کا واقعہ۔ یہ ایودھیا میں بھارتی ہندوﺅں کی مذہبی تقریب سے 27فروری 2002ءمیں بذریعہ ٹرین واپس جانے والی ٹرین کے ساتھ پیش آیا جس میں ہندو سوار تھے کہ گودھرا سٹیشن پر آگ لگ گئی اور سانحہ میں سترہزار لوگ مارے گئے۔ BJP نے اس کا الزام مسلمانوں پر لگا کر ہندو مسلم فسادات کرائے گئے جس میں اندازاً 2000 کے قریب لوگ مارے گئے تھے۔ گجرات میں اُس وقت بھی حکومت مودی کی ہی تھی۔ ان اقدامات سے اور بہت سے دوسرے اقدامات سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ مودی BJP اور RSS کے ہاتھوں مجبور اور بے بس ہوتے جارہے ہیں اور ان انتہاپسند تنظیموں کے ہاتھوں میں کھلونا بنتے جا رہے ہیں جو کہ پاکستان اور مسلمانوں اور خصوصاً دُنیا بھر کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

بھارت میں جس طرح مودی دور میں مسلمانوں کو رگیدا جا رہا ہے اور دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاری ہے وہ بھارت کے سیکولر چہرے پر کالک ملنے کے مترادف ہے۔ بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم وستم اور جبرو استبداد کی جو داستانیں رقم کی جا رہی ہیں، وہ تاریخ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں، جس میں مودی کی چانکیہ پالیسی اور مکاری کو دُنیا دیکھ رہی ہے مگر اپنے معاشی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے سوئی ہوئی ہے یعنی دُنیا مادی اور معاشی فوائد کی خاطر انسانیت سے کھیل رہی ہے، شرم کا مقام ہے اور بھارت میں گاندھی کی آہنساپالیسی کا جنازہ ہے۔


ای پیپر