دھرناختم !فیس سیونگ یا نیا چیلنج!
22 نومبر 2019 (00:05) 2019-11-22

جب سے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کا دھرنا جاری تھا، ہرطرف چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ شائد یہ دھرنا بھی 2014ءکے پی ٹی آئی دھرنے جیسی طوالت اختیار کر لے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور مولانانے 13نومبر کی شام دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پلان 'بی' کے تحت نئے محاذ پر جانے کا اعلان کردیا۔

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دو ہفتوں سے قومی سطح کا اجتماع تسلسل سے ہوا، اب نئے محاذ پر جانے کا اعلان کر دیا گیا ہے، ہمارے جاں نثار اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ہماری قوت یہاں جمع ہے اور وہاں ہمارے ساتھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو کا انتظار ہے، ہم آج اسلام آباد سے روانہ ہوں گے اور جس طرح یہاں آئے ہیں اب ا±سی طرح یہاں سے دوسرے محاذ پر جائیں گے۔مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت اراکین کی جانب سے ایسے جملے کہے جارہے ہیں جو حوصلہ شکنی کا سبب بنیں، حکومتی حلقوں میں خیال تھا کہ اجتماع اٹھے گا تو حکومت کے لیے آسانیاں ہو جائیں گی لیکن اب صوبوں اور ضلع میں حکومت کی چولہیں ہل گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت پر دباو¿ بڑھانا چاہتے ہیں، نئے محاذ پر ہم سڑکیں بلاک کرنے والوں کے ساتھ ہوں گے، ہم پرامن ہیں اور ہم نے ملک کا نقصان نہیں کرنا لہٰذا ادارے بھی اس آزادی مارچ کا احترام کریں جبکہ اپنے کارکنان کی طرح پاکستان کی سکیورٹی فورسز بھی عزیز ہیں۔انہوں نے کارکنان کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاج کے دوران ایمبولینس کا راستہ نہ روکیں، شہر کے اندر احتجاج سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا اس لیے ہم شہروں سے باہر جاکر شاہراہوں پر احتجاج کریں گے اور عام شہری کی زندگی متاثر نہیں کریں گے جبکہ ناجائز حکمرانی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر پانچ سال بعد پھر اسلام آباد کولاک ڈاو¿ن کرنے اور کاروبارزندگی اس حد تک متاثر کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی، پھر خیال آتا ہے کہ یہ پاکستان ہے یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے!کیوں کہ یہاں ہمیشہ انہونی ہی ہوتی آئی ہے، جس نے پاکستان میں دفن ہونے سے انکار کیا اُس کی آل اولاد یہاں حکومت کر چکی ہے اور دھرنوں میں سٹیج پر دکھائی دیتی ہے۔ اور یہاں سب کچھ ہونا اس لیے بھی ممکن ہے کیوں کہ یہاں پی پی پی جیسی لبرل جماعت بھی اقتدار کی خاطر مولانا کا ہاتھ تھامے دکھائی دیتی ہے، جیسا حالیہ دھرنے میں سب نے دیکھا۔

خیر دو ہفتوں تک اسلام آباد جیسے خاموش شہر کی رونقیں بڑھی رہیں، مولانا صاحب مدارس کے مکینوںکو لیے اسلام آباد کی شاہراہوں میں یوں پھرتے نظر آئے جیسے دہلی میں پاک پرچم لہرانے آئے ہوں۔دیر آئید درست آئید کے مصداق حکومت نے بھی خاصے شغل میلے کے بعد مولانا سے سنجیدہ مذاکرات کرنے کا دم بھرلیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ سیاسی افراتفری فقط دو بدترین سیاسی دشمنوں کی لڑائی لگ رہی تھی جو کئی سال سے ایک دوسرے کے خلاف سرد جنگ لڑتے رہے اور ایک دوسرے کو یہودی ایجنٹ کہتے رہے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک یہ حکومت وقت کے خلاف سازش کے سوا کچھ نہیں تھا کیوں کہ ایک طرف تو ملک و قوم کو اجاڑ دینے والی دو بدترین جمہوری حکومتوں کے بعد عوامی توقعات، امنگوں اور معاونت کے دوش پر سوار ہو کر برسر اقتدار آنے والی تبدیلی حکومت، جو بلاشبہ عوام دشمن سیاسی قوتوں کو مضروب کرنے میں تو کامیاب ہوئی، مگر سازشیوں سے پیچھا نہ چھڑا سکی۔

اسی سازش کا ایک حصہ مولانا کا دھرنا تھا جو بلاوجہ کا دباﺅ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے، حالانکہ مولانا کو چاہیے تھا کہ یہ دھرنا بھارت کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے دیتے! لہٰذامولانا صاحب! آپ نہ تو نوابزادہ نصر اللہ بن سکیں گے نہ کوئی زیرک سیاستدان۔ عالم تنہائی میں غور فرمائیں کہ آپ کس راہ پر ہیں اور کس نظام بد کی بحالی کے لئے اپنے مدارس کے نیٹ ورک کو استعمال کر رہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ آپ پاکستان کے دفاع اور کشمیریوں کی آزادی کے حوالے سے کس وقت پر کر رہے ہیں؟ تحریک انصاف اور اس کے قائد کے غیر سیاسی اور غیر پارلیمانی سیاسی ابلاغ کی سزا پورے پاکستان، پاکستانیوں اور کشمیریوں کو کیسے دی جا سکتی ہے؟ فرصت ہو تو بھارتی میڈیا دیکھ لیں۔اور یہ جو آپ نے مدارس کے طلبا کو نیم عسکری بنا کر پوری قوم کو چونکا دیا ہے کہ آپ ان شاگردوں کی فوج کو اپنی سیاست کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مدارس کے ملک گیر نیٹ ورک کے حوالے سے آپ استاذ الاساتذہ ہیں لیکن مدارس کا باضابطہ اخلاق تقاضا کرتا ہے کہ آپ اپنی ذاتی، گروہی، پارٹی اور اتحادی ملکی سیاست میں انہیں ہرگز ہرگز استعمال نہ کریں۔

آپ بڑی تعداد میں اساتذہ اور ان کے ہزارہا شاگردوں کو مدارس سے نکال کر کس راہ پر لے آئے ہیں؟ یہ آپ کیا مثالِ بد قائم کر رہے ہیں؟ آپ کرپشن سے لتھڑے جن طرح طرح کے اور بڑے بڑے وائٹ کالر کرائمز کے مرتکب سیاست دانوں کو ساتھ ملا کر ملک کے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے پر تل گئے ہیں، وہ بھی رائے عامہ کو اس حوالے سے جانتے ہیں کہ انہیں علم ہے کہ عوام اس راہ کو گمراہی سمجھتے ہیں۔ آپ صرف اپنے مدرسے کے طلبا کے بل بوتے پر کوئی عوامی تحریک نہیں چلا سکتے، جن معتوب سیاسی رہنماﺅں نے آپ کے ساتھ کنٹینر پر آکر فوٹو سیشن بھگتا دیا ہے وہ ان کی مجبوری تھی، یہ ہی سب آپ کو مارچ کے اعلان پر ”مذہبی کارڈ“ کا طعنہ دے رہے تھے۔ پھر بھی مولانا سے گزارش ہے کہ اگر وہ کسی سازش کا حصہ نہیں تو حالات کو محاذ آرائی کی طرف نہ لے کر جائیں اور پلان بی پر عمل کرنے کی بجائے سیاسی بصیرت کیا ثبوت دیں اور ملک میں جاری جمہوری کو چلنے دیں کیوں کہ محاذ آرائی کا دائرہ سیاسی جماعتوں سے بہت آگے تک وسیع ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں تمام فریقوں نے تدبر سے کام نہ لیا تو پاکستان ان مسلم ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے، جو سیاسی عدم استحکام اور انتشار کا خمیازہ بھگت چکے یا بھگت رہے ہیں۔ اب ساری ذمہ داری حکومت پر ہے مگر حکومت اب تک غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ لبنان اور عراق کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔

بہرکیف غیر واضح اور مشکوک ایجنڈے کی پذیرائی کوئی سمجھدار نہیں کر سکتا۔ پاکستان بدعنوانی کے خلاف لڑ رہا ہے، سرحدوں پر دباﺅ ہے۔ خطے کے اہم تنازعات میں پاکستان کو اہمیت مل رہی ہے۔ تنازع کشمیر کے حل کے لئے پاکستان کی کوششوں پر دنیا سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، حکمرانوں کے غیر ضروری اخراجات اور قرضوں نے ملک کی معاشی بنیادیں کمزور کر دی ہیں۔ پوری پاکستانی قوم ان چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں کسی جماعت کو کس طرح اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ پورے سیاسی نظام کے بخیے ادھیڑ دے۔ مولانا اور حکومت کو چاہیے کہ مکالمے کو موقع دیں اور ملک کو انتشار کا شکار ہونے سے بچائیں۔ اور ساتھ ہی اپوزیشن رہنماﺅں کو بھی یہ حقیقت ملحوظ رکھنا چاہیے کہ وہ حکومتی رویے کے کتنے ہی شاکی ہوں، انہیں اپنے بیان و عمل میں احتیاط کے پہلو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیں۔ دوسری جانب حکومت کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپوزیشن کی تنقید کا جواب الزامات کے ساتھ دے۔ سیاسی مخالفین کے لیے دشمن ملک کے شہری جیسے القابات کا استعمال ایسی روایات قائم کرنے کا سبب بن سکتا ہے جن سے مثبت نتائج کی توقع عبث ہے۔

اگر بنظرغائر دیکھا جائے تو آزادی مارچ اور دھرنے کا نتیجہ کچھ بھی نکلے مولانا فضل الرحمن نے کسی حد اپنی طاقت منوا لی۔ عالمی منظر نامے میں پھر یہ واضح ہوگیا کہ مذہبی جماعتیں کتنی مضبوط ہیں۔ اس دھرنے کا پہلا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہوا اور دوسرا پیپلزپارٹی کو پہنچ سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ حکومت کی مخالفت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئیں۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کا یہ آزادی مارچ کچھ نئی روایات قائم کر گیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کا اعلان تقریباً 6 ماہ قبل کیا تھا۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اورحکومت نے مولانا فضل الرحمن کے اعلان کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا، مگر مولانا فضل الرحمن کی ہدایت پر جمعیت علماءاسلام نے چاروں صوبوں میں نچلی سطح پر اپنے کارکنوں کو مارچ میں شرکت کے لیے آمادہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں جے یو آئی نچلی سطح تک منظم ہے، جے یو آئی کے کارکنوں نے شہروں اور گاو¿ں کی مساجد میں کارکنوں اور ہمدردوں کو مارچ میں شرکت کے لیے تیارکرنا شروع کیا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کی ناقص کارکردگی کی بناءپر بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں عام آدمی مولانا فضل الرحمن کے مارچ کی طرف متوجہ ہوا۔

مولانا فضل الرحمن نے بہت بڑے بڑے جلسے کیے۔ بلوچستان کے پختون علاقے میں ایک زمانے میں محمود اچکزئی کی ملی عوامی پارٹی جے یو آئی کے لیے چیلنج تھی۔ محمود اچکزئی نے اس دفعہ مولانا فضل الرحمن کی غیر مشروط حمایت کی، یوں اس علاقے سے خاصے افراد مارچ میں شرکت پر آمادہ ہوئے۔ مولانا شیرانی، حافظ حسین احمد بلوچ ہیں۔ یوں بلوچوں کو بھی اس مارچ کی طرف متوجہ کیا گیا مگر جے یو آئی کے کارکنوں کو اس علاقے میں جے یو آئی کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ تحریک انصاف کا لانگ مارچ ہلڑ کی بناءپر مشہور ہوا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے دھرنے اور جے یو آئی کے آزادی مارچ کے شرکاءکے طبقات میں فرق تھا۔ تحریک انصاف کے شرکاءکا تعلق متوسط اور امراءکے فیشن ایبل طبقوں سے تھا جب کہ جے یو آئی کے کارکنوں کی اکثریت نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے مقاصد کو اسی طرح مخفی رکھا جس طرح عمران خان نے اپنے دھرنے کے مقاصد کو پوشیدہ رکھا تھا۔ عمران خان نے چار حلقوں کو کھولنے کے مطالبہ پر لاہور سے دھرنا شروع کیا تھا۔ پھر انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی برطرفی، ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے قیام اور فوری انتخابات کے مطالبات کیے تھے۔ عمران خان نے ایک وقت ملک میں سول نافرمانی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سرکاری چینل سے پیسے نہ بھیجیں، پھر عمران خان وزیر اعظم کی برطرفی اور فوری انتخابات کے مطالبات سے دستبردار ہو کر سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن پر متفق ہوئے تھے۔ اس کمیشن نے انتخابات میں اجتماعی دھاندلی کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی زندگی کے کھٹن مراحل میں ہیں مگر سیاسی تحریکوں پر تحقیق کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ سیاسی جدوجہد میں کوئی ناکامی حقیقی ناکامی نہیں ہوتی اگر جدوجہد جاری رہے۔ اپوزیشن کی جماعتوں کو مہنگائی، بری طرز حکومت اور نجکاری کے خلاف پورے ملک میں احتجاج منظم کرنا چاہیے۔

المختصر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ دارالحکومت کے محاصروں سے حکومتیں رخصت کی بھی جا سکتی ہوں تو یہ کوئی صحت مند روایت بہرحال نہیں لہٰذا دونوں جانب سے اب معاملات درست سمت میں آگے بڑھائے جانا چاہئیں۔ حکومت اور اپوزیشن جمہوری نظام کی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ ان دونوں کو مل کر عوام کی خدمت کرنا ہے اور اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ ایک نقطہ نظر یا دوسرے مو¿قف کے اظہار میں وہ شدت اور تندہی نہ آئے جس سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ احتیاط اور توازن کے تقاضے سب کو ملحوظ رکھنے چاہئیں اور اختلافات کا حل مذاکرات کی میز پر نکالا جانا چاہئے۔


ای پیپر