حضرت عمرؓ بن عبدالعزیزکا نظامِ عدل واحتسا ب
22 نومبر 2019 (00:04) 2019-11-22

رشید اختر ندوی

اس دور میں یہ بات کچھ ناممکن سی نظر آئے گی لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ اموی خلیفہ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز جب تک برسراقتدار رہے، ان کی پوری قلمرو میں جو دس پاکستانیوں سے کہیں زیادہ وسیع تھی، شاذونادر ہی کبھی ایسا ہوتا جب ان کا کوئی افسر شریعت کے منشا سے دور ہٹتا۔ ان کا احتساب بڑا سخت تھا اور وہ ایک لمحہ کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ ان کا کوئی افسر عدل وانصاف اور اسلامی ضابطہ حیات کی خلاف ورزی کرے۔ اگر کوئی ایسا کرتا تو وہ اُسے یا تو معزول کر دیتے یا سخت سزا دیتے۔

ابن الجوزی کا بیان ہے کہ مدینہ کے والی، ابن حزم نے جو خود بھی بڑے فقیہ تھے، ردِمظالم کا کام شروع کیا۔ تب کئی ملازم ایسے تھے جنہوں نے عوام کے مال میں خیانت کی تھی لیکن غصب شدہ مال رقوم واپس نہیں کر رہے تھے۔ یہ صورتحال ابن حزم نے حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کو لکھی اور ان سے اجازت چاہی کہ جو عمال غصب شدہ رقوم واپس نہ کریں انہیں سزا دے سکیں۔ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے یہ خط پایا تو ابن حزم کو خاصا سخت خط لکھا:”یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم مجھ سے بندوں کو سزا دینے کے باب میں اجازت چاہتے اور سمجھتے ہو کہ اگر میں نے اجازت دے دی تو تمہیں یہ اللہ کے غصّے سے بچالے گی۔ دیکھو! جس کے خلاف مضبوط شہادتیں مل جائیں، اس سے تو شہادتوں کے مطابق وصول کر لو یا جو خود اقرار کرلے، اس سے اس کے اقرار کے مطابق لے لو لیکن جو انکار کرے، اُس سے قسم لو، اگر وہ قسم کھائے تو اس کا راستہ چھوڑ دو“۔

اس قسم کا خط اُن کے ایک دوسرے عامل عدی بن اوطاة نے بھی انہیں لکھا، اُسے بھی انہوں نے ڈانٹا، ادھر سے جواب آیا ”اس طرح تو بیت المال خالی ہو جائے گا“۔ حضرت عمرؓ نے انہیں لکھا ”تو اس میں گھاس بھر دو“۔

جرح بن عبداللہ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کی طرف سے خراسان کے نائب السلطنت تھے۔ انہوں نے ایک اموی شہزادے، عبداللہ بن الاہتم کو اپنے ماتحت ایک بڑا منصب دے دیا۔ وہ آدمی نااہل تھا۔ اس نے عوامی حقوق کا احترام نہیں کیا تو حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے جراح بن عبداللہ کو ایک سخت خط لکھا:”اللہ عبداللہ بن الاہتم کے کسی کام میں کبھی برکت نہیں دے گا۔ اُسے معزول کر دو حالانکہ وہ امیرالمومنین کا رشتے دار ہے۔ مجھے یہ بھی خبر ملی ہے کہ تم نے عمارہ کو کوئی منصب سونپا ہے۔ مجھے نہ کسی عمارہ کی ضرورت ہے اور نہ اس کے ظلم کو پسند کرتا ہوں۔ مجھے ایسے آدمی کی قطعاً ضرورت نہیں جو مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے، اُسے معزول کر دو“۔

حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کسی قسم کی ناجائز آمدنی کو وصول کرنے کے حامی نہ تھے۔ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کی طرف سے نیک اور اچھے کاموں میں عمال کو پوری آزادی حاصل تھی۔ اگر کبھی کوئی افسر نیک کاموں میں بار بار مشورہ لے لے کر وقت خراب کرتا تو وہ اُسے سختی سے ڈانٹتے مثلاً انہوں نے یمن کے گورنر کو لکھا: ”میں نے تجھے لکھا کہ مسلمانوں کے مظالم انہیں لوٹا دو اور تو مجھ سے بار بار استفسار کرتا ہے حالانکہ تو اس مسافت ودُوری سے آگاہ ہے جو مجھ میں اور تجھ میں ہے۔ تو ایسا کرتے وقت موت کے شکنجے کو بھول گیا۔ میں نے جب تجھے لکھا، مسلمانوں پر جو مظالم ہوئے ہیں ان کا ازالہ کرو، تو تُو مجھ سے اُس کی رنگت اور قسم کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ خیال رکھ، تیرا کام مسلمانوں پر کیے گئے مظالم کی تلافی ہے۔ مجھ سے بار بار کچھ نہیں پوچھو اور اپنا فریضہ انجام دو“۔

مگر حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کی طرف سے عمال کو اس بات کی قطعاً آزادی نہ تھی کہ وہ جسے چاہیں، سزا دیں اور جتنی چاہیں۔ انہیں صرف اس امر کا حق تھا کہ وہ گناہگاروں کو ان کے قصوروں کے مطابق سزا دیں۔ ابن الجوزی نے اس باب میں ان کا ایک مکتب نقل کیا جو تمام عمال کے نام لکھا گیا تھا:”لوگوں کو ان کے گناہوں کے حساب سے سزا دو خواہ یہ ایک کوڑا کیوں نہ ہو اور اللہ کی مقررکردہ حدود سے تجاوز سے احترام کرو“۔

البتہ جو لوگ مجرم تھے یا جن کی ذہنیت جرائم پیشہ تھی، ان کے احتساب سے انہوں نے اپنے عمال کو کبھی نہیں روکا۔

حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز افسروں کو ماتحت کارکنوں پر غیرضروری سختی کرنے اور بے کار جستجو سے بھی روکتے رہے۔ انہوں نے جزیرہ کے والی کو اس باب میں مکمل ہدایات دیں اور حکم دیا:”اللہ نے تمہیں جن لوگوں کا والی بنایا ہے، ان کے قصوروں اور عیوب میں انہیں نصیحت کرو۔ ان کی کمزوریوں پر حتی الوسع پردہ ڈالو، سوائے ایسے عیوب کی جن کی پردہ ہوشی اللہ کے نزدیک جائز نہیں۔ جب تمہیں ان کی کسی بات پر غصہ آئے تو خود پر قابو رکھو۔ اگر ان سے راضی ہو تو بھی اپنے آپ میں رہو۔ اگر ان سے راضی ہو تو بھی اپنے آپ میں رہو۔ دونوں باتوں میں تمہیں اُن کے اور اپنے مابین ایک عمدہ اور اچھا مسلک اختیار کرنا چاہیے۔ ان پر عنایات، حقوق کے لحاظ اور ان کی محرومی میں احتیاط واعتدال سے کام لو۔ جو دن بھی گزر جائے اور اس میں تم آدمیوں کے حقوق پورے کر سکے، اسے غنیمت سمجھو“۔

گو حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز بات بات پر افسروں کا احتساب کرتے تھے، ان کی خبرگیری فرماتے اور وقتاً فوقتاً اپنے آدمی ان کے اعمال کے لیے بھیجتے رہتے، اس کے باوجود وہ مجرم افسروں کے خون سے ہاتھ نہ رنگتے۔ جو اُن کے معیار پر پورے اُترتے، ا ن کو برقرار رکھتے، جو نااہل ہوتے انہیں معزول کر دیتے اور ایسی سزا دیتے جس سے وہ ظالم نہ ٹھہرائے جاتے۔ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ انہوں نے اپنے کسی عامل یا عہدے دار کے خون سے ہاتھ نہیں رنگے۔ وہ خود فرمایا کرتے:

”وہ اللہ کے پاس اپنی خیانتوں کے بوجھ سے لدے جائیں، یہ مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ اُن کے خون سے ہاتھ رنگے ہوئے اللہ کے حضور حاضری دوں“۔

مدینہ کے والی، ابوبکر محمد بن حزم عالم اور بہت ہی ذہین فقیہ تھے۔ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے اُن سے بہت کام لیے۔ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز بڑی باقاعدگی کے ساتھ انہیں خطوط لکھتے اور ہر ضروری امر پر ان کو احکام دیتے۔ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کے شروع دور میں ابن حزم کے نام ان کے جو مکتوب آئے ان میں یہ اہم مکتوب بھی تھا۔

”گھر میں بیٹھ رہنے سے اجتناب کرو۔ لوگوں سے ملو جلو، ان کے پاس بیٹھو۔ انہیں اپنے پاس بلاﺅ۔ جب وہ تمہارے پاس آئیں تو اپنی مجلس میں انہیں ایک جیسی نشستیں دو۔ ان پر ایک طرح کی نگاہ ڈالو۔ ان میں کوئی آدمی خواہ وہ کوئی بھی ہو، تمہارے نزدیک زیادہ معزز محترم نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ یہ کہیں کہ امیرالمومنین کے جو عزیز واقارب ہیں، آج کے دن یہ سب عوام کے ہم پلہ ہیں بلکہ میرے نزدیک اگر کبھی ان میں اور عوام میں کوئی جھگڑا پیدا ہو تو عوام کو ان پر ترجیح دی جائے۔ اگر تمہیں کسی فیصلہ میں دُشواری محسوس ہو تو ہمیں لکھو“۔

کوفہ وملحقات کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن الخطاب حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کے پسندیدہ گورنر تھے۔ یہ اسلامی مملکت کا سب سے بڑا صوبہ تھا۔ وہاں اکھڑ قسم کے لوگ آباد تھے، خصوصیت سے کوفہ کے لوگ تو بہت ہی ظالم تھے۔ وہ کسی صلح جُو اور امن پسند حاکم کی پروا نہیں کرتے تھے۔ انہیں تو عبیداللہ بن زیاد اور حجاج بن یوسف قسم کے حاکم سیدھا کر سکتے تھے لیکن حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کو اس قسم کے حاکم پسند نہ تھے۔

ان کے نزدیک حجاج سب سے بُرا حاکم تھا اور اس کی روش اللہ کے دُشمنوں کی روش تھی۔ یہی سبب تھا انہوں نے کُوفہ اور اس کے ملحقات کی حکومت عبدالحمید کے سپرد کی جو خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے بھائی زید کے پوتے تھے۔ وہ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور بہت بڑے سیاستدان تھے۔ عبدالحمید کی عادتیں بہت سُلجھی ہوئی تھیں۔

ابن سعد فرماتے ہیں، عبدالحمید دمشق سے چل کر اور پروانہ امارت لے کر کوفہ آئے تو انہیں حضرت عمرؓ کا جو پہلا مکتوب موصول ہوا، اس کی صرف ایک سطر تھی اور چند یہ الفاظ تھے:”لوگ شیطان کی کارفرمائی اور ظالم بادشاہ کے ظلم کے سبب تباہ ہو جاتے ہیں۔ میرا خط جب تمہارے پاس آئے، اسی لمحے ہر حق دار کو اُس کا حق دے دو۔ حقدار کی حق رسی ہی اچھے نظام کی بنیاد ہے، یہی سنت خداوندی ہے اور یہی طریق اسلام ہے“۔

مصر حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کو بہت پسند تھا کہ وہاں انہوں نے والد کے ساتھ بہت وقت گزارا تھا۔ انہوں نے ایک قابل عالم، حیان بن شریح کو مصر کا حاکم مقرر کیا۔ شریح نے مصر میں اللہ کی حدود کی پابندی کی۔ لوگوں کے ساتھ انصاف وعدل برتا۔ کسی پر زیادتی نہ کی۔ ہر ایک کے حقوق پورے کیے۔ مسلمانوں ہی کو خوش نہیں رکھا، غیرمسلم رعایا کے دل بھی جیت لیے، تب غیرمسلم رعایا بڑی کثرت سے مسلمان ہوئی، حیان نے حضرت عمرؓ کو لکھا:”ذمی بہت کثرت سے اسلام لارہے ہیں اور جزیہ بہت کم ہوگیا ہے“، حضرت عمرؓ نے انہیں لکھا:

”اللہ نے حضور اکرم کو داعی بنا کر بھیجا تھا۔ انہیں جزیہ وصول کرنے یا انسانوں پر جرمانے لگانے والا نہیں بنایا تھا“۔

حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کو یہ فخر حاصل ہے کہ ان کے ساتھیوں میں حضرت حسن بصری، حضرت ہران اور حضرت شعبی بھی تھے۔ حضرت حسن بصری بصرہ کے قاضی القضاة تھے۔ پھر انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے باوجود بصرہ کے گورنر کو حکم تھا کہ ان سے پوچھے بغیر کوئی اہم فیصلہ نہ کرے۔

حضرت ہران حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کے بہت گہرے دوستوں اور بڑے مشیروں میں سے تھے۔ ابن سعد کی روایت رو سے حضرت ہران کے علاوہ رجار بن حیوة، عمرو بن قسیس، عون بن عبداللہ اور محمد بن زیر بھی ان کے مشیر تھے۔

ہران کوحضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے جزیرہ کی حکومت سونپی تھی۔ کام ذرا سخت تھا، انہوں نے کئی بار استعفیٰ دیا مگر حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے اُن کا استعفیٰ قبول نہیں کیا۔ جب بھی انہوں نے کام کی زیادتی کی کوشش کی، انہیں تسلی وتشفی دی اور لکھا:

”تم نے لکھا ہے کہ حکومت اور خراج کی وصولی کا کام بہت مشکل ہے، تمہیں زیادہ تکلیف دینا نہیں چاہتا۔ تمہارے پاس جو مال آئے اس میں سے حق کے ساتھ حلال مال قبول کر لو اور جو مسائل پیش آئیں، ان میں صداقت کو ملحوظ رکھ کر فیصلہ کردو۔ اگر کوئی بات اُلجھ جائے تو مجھ سے مدد لو اور مجھے لکھو“۔

ہران کے علاوہ دوسرے عمال کے نام بھی ان کی ہدایات اسی قسم کی تھیں۔ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز اپنے عمال پر جس طرح نظر رکھتے، یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ عمال رعایا پر زیادتی نہ کرپاتے۔ ان کے دورِحکومت میں پوری کی پوری رعایا یوں سمجھنے لگی تھی جیسے مہربان اور فرض شناس ماں باپ کے سائے تلے جی رہی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر