”باغی اراکین اور روایتی سیاست“ 
22 May 2021 2021-05-22

 ایک وکیل نے عدالت میں جج سے کہا:

”جناب ! میں آپ سے درخواست کروں گا کہ میرے موکل کے مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع کی جائے میرے علم میں ایک نیا ثبوت آیا ہے جس سے اس مقدمے میں جان پڑ سکتی ہے“۔

جج نے پوچھا: کیسا ثبوت؟

وکیل : ”اس بات کا ثبوت کہ میرے موکل کے پاس ابھی ایک لاکھ روپے اور بھی ہیں“ حکومت بھی ”حدیبیہ پیپر ملز“ کا مقدمہ دوبارہ شر وع کرنا چاہتی ہے سنا ہے کہ اب کچھ اور ثبوت بھی سامنے آئے ہیں ابھی مقدمے کھلنے کی باتیں ہو رہی تھیں کہ حکومت کی گود میں بیٹھے اپنے لوگ حکومت کی ”داڑھی“ سے کھیلنے لگ گئے ہیں‘ آپ کہیں گے کہ عمران خان یا شاہ محمود قریشی سمیت کسی کی داڑھی نہیں ہے‘ بالکل ٹھیک ہے ہم تو داڑھی کا بے حد احترام کرنے والوں میں سے ہیں یہاں داڑھی علامتی طور پر استعمال کی جا رہی ہے اصل میں تحریک انصاف کے ”باغی گروپ“ کے اراکین عمران خان کو تو کسی حد تک پسند کرتے ہیں مگر ”بزدار“ پنجاب کی کرسی پر بیٹھا انہیں انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا‘ اور یہ صرف باغی اراکین کا ”معاملہ“ نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف کے بیشتر لوگ عثمان بزدار کے خلاف ہیں‘ حق میں صرف عمران خان ہیں اور عمران خان نے بھلے درجنوں ”یوٹرن“ لئے ہیں مگر بزدار والی غلطی کا یوٹرن لینے پر کسی طور تیار نہیں ہیں‘ بعض تجزیہ نگار کہتے رہے ہیں کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ جہانگیر ترین کے لئے مختص تھی گو اس عہدے کے لئے شاہ محمود قریشی علیم خان سے لے کر فواد چوہدری تک خود کو ”حق دار“ سمجھ رہے تھے یہ تو جہانگیر ترین کی قسمت ”نکلی“ اور وہ نااہل ہو کر کسی ”جوگے“ نہ رہے اور اب تو جس طرح نوازشریف‘ شہباز شریف اور اپوزیشن کے کچھ دیگر لوگ زیرعتاب ہیں جہانگیر ترین بھی اس صف میں شمار ہوتے ہیں‘ حالانکہ ترین کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں‘ عمران خان مجبور بھی ہیں مگر ان کی پارٹی کا نام تحریک انصاف انہیں بہرحال انصاف کرنا ہے بدقسمتی سے ان کی دائیں بائیں کے لوگ اور بعض وزراءپاکستان کی روایتی سیاست کے دلدادہ ہیں ا ور ہر کوئی کسی نہ کسی طرح مال بنانے کے لئے سیاست سے وابستہ ہے عمران خان نے جہانگیر ترین کو یقین دلایا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی لیکن وہ ہمیشہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ”کرپشن“ چاہے ہماری پارٹی کا کوئی رکن بھی کرے گا تو اسے معاف نہیں کیا جائے گا سو ترین کو علم ہے کہ انہیں اپنا کیا دھرا بالاآخر بھگتنا پڑے گا یہ جو ان کے ساتھ اراکین اچانک حلف اٹھا کر ان کے حق میں ”بانگیں“ دینے لگے ہیں اس کا مقصد بھی سوائے ”بلیک میلنگ“ کے کچھ نہیں‘ انہیں عوام کے مسائل اور خاص طور پر مہنگائی کی اتنی فکر ہوتی تو وہ اپنے نئے لیڈر جہانگیر ترین سے کہتے کہ آپ پر ”الزامات“ ہیں تو کلیئر ہو جائیں۔ ”شوگر مافیا“ کے پیچھے کہیں نہ کہیں مبینہ طور پر جہانگیر ترین کا نام تو آتا ہے۔

جہانگیر ترین کو علم ہے کہ بجٹ تک ہی حکومت سے کچھ منوایا جا سکتا ہے بعد میں کس نے پوچھنا ہے؟ سو وہ کھل کر دھڑے بندی کا اعلان کر چکے ہیں‘ لیکن ساتھ یہ بھی فرما رہے ہیں کہ ہم تحریک انصاف ہی میں ہیں‘ بھئی اگر ایسا ہوتا تو عدالت میں ممبران اسمبلی کا جلوس لے کر جانے کی ضرورت کیا ہے آپ سچے ہیں تو عدالت سے بری ہو جائیں گے مگر جہانگیر ترین اپنے پتے شو کر کے دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ انہیں کلین چٹ دیں ورنہ پنجاب کی حکومت تو کسی لمحے بھی ہم گرا سکتے ہیں‘ عوام جتنے بے حس اور جاہل سمجھے جائیں اتنی بات تو ہر شخص سمجھتا ہے کہ یہ سارے لوگ ”مفادات“ کے ”فصلی بٹیرے“ ہیں اور اس حمام میں سارے الف ننگے ہیں‘ جب آپ اسمبلی میں الگ پارلیمانی لیڈر بنا کر اپنی علیحدہ شناخت یا گروپ کے ساتھ بیٹھنے کی باتیں کر رہے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہے؟ عمران خان کو ذرا اونچا سنائی دیتا ہے ایک دو روزبعد اسے پتہ چلے گا کہ اس کی حکومت کے لئے کون کون اس کا ”اپنا“ خطرے کی علامت ہے؟ عمران خان کو اخلاقی طور پر اس گروپ کے سامنے آنے کے بعد حکومت سے الگ ہو کر اپوزیشن میں بیٹھ جانا چاہئے اور اپوزیشن کو حکومت سونپ دینی چاہئے۔ اصولاً تو شروع ہی سے خالی خزانے کے ساتھ اسے وزارت عظمیٰ نہیں سنبھالنی چاہئے تھی مگر اب بھی اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کا اعلان کرنا چاہئے یا پھر سب کو کلین چٹیں دیکر ” روایتی“ پاکستانی سیاست کرنی چاہئے ملک اور عوام ان سیاستدانوں کے لئے چاہے جائے بھاڑ میں‘ انہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے‘ یہ عوام کے لئے تھوڑی آتے ہیں یہ تو اپنے پیٹ کے لئے آتے ہیں اور بس!!


ای پیپر