کراچی طیارہ حادثہ کی تفصیلی خبر
22 May 2020 (22:25) 2020-05-22

کراچی:ملیر کینٹ کے قریب ماڈل کالونی کے علاقے میں قومی ائیرلائز پی آئی اے کا طیارہ گر گیا،جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے.

تفصیلات کے مطابق جمعے کی دوپہر قومی ائیر لائنز کی پرواز نمبر پی کے 8303 لاہور سے کراچی آرہی تھی،طیارہ جب لینڈنگ کے لئے ائیر پورٹ کے قریب پہنچا تو اس کے وہیل نہیں کھل سکے،جس کی وجہ سے طیارے کا کپتان جہاز کو دوبارہ بلندی پر لے گیا اور دوبارہ لینڈنگ کی کوشش کی،تاہم وہ ناکام رہا اور جہازجناح گارڈن نامی ہاو¿سنگ اسکیم پر گر گیا،طیارے میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے،آخری اطلاعات آنے تک 18 افراد کے جاںبحق اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں،جہاز کو کپتان سجاد گل ،معاون پائلٹ عثمان اعظم کے ہمراہ اڑا رہے تھے اور دیگر عملے میں فرید احمد چوہدری،عبداقیوم اشرف،مدیحہ ارم،آمنہ عرفان،ملک عرفان اور اسمہ شہزاد ی شامل ہیں،طیارہ آبادی پر گرا،جس کی وجہ سے تین گھر مکمل طور پر منہدم ہوگئے،طیارہ گرنے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیںاور حادثے کے مقام فائر بریگیڈ ،ایمبولینسز اور امدادی کاررائیوں میں حصہ لینے والی گاڑیاں موقع پر پہنچ گیں اور انہوں نے امدادی کارروائیوں کا آغاز کردیا.

حادثے کی جگہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،مئیر کراچی وسیم اختر اور دیگر حکام بھی پہنچ گئے اور انہوں نے امدادی کارروائیوںکا جائزہ لینا شروع کردیا،حادثے کے بعد10خواتین سمیت جہاز کے کپتان سجادگل اور دیگر افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو جناح اسپتال کراچی پہنچایا گیا،طیارہ حادثے میں بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسود اور دیگر کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں،زخمی ہونے والے بعض افراد کو طبی امداد دینے کے بعد گھروں کو روانہ کردیا گیا،پی آئی اے حکام کے مطابق جہاز گرنے کا واقعہ تقریبا2:40 منٹ پر پیش آیا،پی آئی اے حکام نے یہ بھی بتایا کہ جہاز 8 سے 10 سال پرانہ تھا،دریں اثناءجہاز گرنے کی وجوہات لینڈنگ گئیر میں خرابی بتائی جاتی ہے،آخری اطلاعات آنے تک جہاز اور گھروں کے ملبے کو ہٹانے کا کام جاری تھا اور وہاں سے جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو اسپتال پہنچایا جارہا ہے۔

ادھر ایدھی فاﺅنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ اب تک 50 افراد کی لاشیں اور 7 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، زخمیوں میں ایک مسافر باقی علاقہ مکین ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل ایدھی نے بتایا کہ اب تک ایدھی فانڈیشن کی ایمبولینسز کے ذریعے پچاس افراد کی میتیں کراچی کے دو اسپتالوں میں منتقل کی گئی ہیں جن میں مسافر اور مقامی شہری شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جن زخمیوں کو ریسکیو کیا گیا ان میں سے 1 مسافر باقی علاقہ مکین تھے، حادثے میں پندہ سے بیس گھر بہت زیادہ متاثر ہوئے جس کے ملبے تلے پچاس سے زائد لاشیں موجود ہوسکتی ہیں۔فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ہیوی مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا جائے تو دو سے تین گھنٹے میں سب کلیئر ہونے کا امکان ہے مگر گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے، جس کی بنیاد پر میں آج ہفتہ کی صبح تک کا وقت دے سکتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ بینک آف پنجاب کے صدر ایک گاڑی کے اوپر گرے تھے جبکہ اسی گاڑی میں تین لوگ پہلے سے موجود تھے جن میں سے و بلکل محفوظ رہے جبکہ بینک صدر اور ایک دوسرے شخص کو معجزانہ طور پر بچ جانے والوں نے گاڑی سے باہر نکالا۔ نجی ٹی و ی کی رپورٹ کے مطابق طیارے حادثے کے 17 متاثرین کو جناح اسپتال جبکہ 15 کو سول اسپتال کراچی منتقل کیا گیا جبکہ چند زخمیوں کو نجی اسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا۔سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ طیارہ حادثے میں دو مسافر معجزاتی طور پر محفوظ رہے جن میں بینک آف پنجاب کے ظفر مسعود اور محمد زبیر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دونوں زخمیوں کا جسم جھلسا ہوا ہے البتہ ڈاکٹرز نے ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی ہے۔واضح رہے کہ پی آئی اے کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا جس کے نتیجے میں متعدد مسافر اور علاقہ مکین جاں بحق ہوئے، حادثے کی جگہ سے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ وزیراعظم نے طیارہ حادثے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ترجمان پی آئی اے نے ایئربس320 کے گرنے کی تصدیق کردی اور پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے،سی ای او پی آئی اےایئرمارشل ارشد ملک کا ناگہانی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان پی آئی اے جبکہ سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے میں 99مسافر اور 8 کریو ممبر سوار تھے۔ڈی آئی جی نعمان صدیقی کا کہنا ہے کہ طیارہ گرنے سے زمین پر 4 گھر تباہ ہوئے ہیں ، طیارہ گرنے کی جگہ کوگھیراکرکے مکمل سیل کردیا گیا ۔دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے پر دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ پی آئی اے طیارہ حادثے پررنج و غم کا شکار ہیں اور جاں بحق مسافروں کیلئے دعاگو ہیں۔

پی آئی اے کے حادثے پر ہم سب رنج اور غم کا شکار ہیں۔ جاں بحق مسافروں کو اللہ غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ لواحقین کے لیئے اللہ سے دعا ہے کہ انکو صبر جمیل عطا فرمائے۔اللہ ہم پر رحم کرے۔ آمین۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے پر شدید دکھ اور صدمہ ہوا، پی آئی اے کے سی ای او ارشد ملک کراچی جارہے ہیں اور ان سے رابطے میں ہوں۔انہوں نے کہا کہ حادثے کی فوری طورپر انکوائری شروع کی جائے گی۔وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پی آئی اے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔زرمی چیف نے پاک فوج کو امدادی کارروائیوں میں سول انتظامیہ سے مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی طیارے کے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔سابق صدر نے ہدایت کی ہے کہ حکومت سندھ جاں بحق افراد کے لواحقین کی اخلاقی مدد کرے اور پارٹی عہدیدار اور وزرا حادثے سے متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کریں۔خیال رہے کہ قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 8303 کو لینڈنگ کے وقت حادثہ پیش آیا اور طیارہ 2 بجکر 37 منٹ پر گرگر تباہ ہوگیا جبکہ جہاز میں عملے کے 7 ارکان سمیت 98 افراد سوار تھے۔حادثے نتیجے میں متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں ۔

کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے)کے طیارے کو حادثے کے بعد سندھ حکومت نے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے جبکہ جائے حادثہ سے اب تک 32 افراد کی لاشیں جناح اور سول اسپتال منتقل کی جاچکی ہیں۔ جمعہ کو صوبہ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کا سلسلہ شروع کیا ہے اور تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال کی تمام صورتحال سے مطمِئن ہیں کیونکہ کورونا کی وجہ سے پہلے ہی اسپتالوں میں ہائی الرٹ تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ طیارہ گرنے کا افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے، گھروں کے اوپر طیارہ گرنے سے زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے اور متعدد لاشیں و زخمی جناح اسپتال لائے گئے ہیں۔دوسری جانب جائے حادثہ پر ملبے سے لاشوں و زخمیوں کو نکالنے کیلئے امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 32 افراد کی میتیں سول اور جناح اسپتال پہنچائی گئی ہیں جہاں ان کی شناخت کیلئے ڈی این اے کا عمل جاری ہے۔خیال رہے کہ قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 8303 کو لینڈنگ کے وقت حادثہ پیش آیا اور طیارہ 2 بجکر 37 منٹ پر گرگر تباہ ہوگیا جبکہ جہاز میں عملے کے 7 ارکان سمیت 98 افراد سوار تھے۔حادثے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں ۔


ای پیپر