Image Source : Naibaat

پاک چائنہ ”شادی سکینڈل“کڑیاں دور تک جائیں گی؟ تلخ حقائق پر مبنی خصوصی رپورٹ
22 May 2019 (23:12) 2019-05-22

ہزاروں خواتین آج بھی چین میں پھنسی ہوئی ہیں جن کے لواحقین ”عزت“ کی خاطر سامنے نہیں آرہے....

تلخ حقائق پر مبنی خصوصی رپورٹ

اعجاز احمد اعجاز

پاکستان اور چین کے بارے میں جب بھی بات کی جاتی ہے تو اس موضوع پاک چین دوستی اور دونوں ممالک کے مثالی تعلقات ہوتے ہیں۔ سی پیک نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نہ صرف مزید گہرائی و گیرائی بخشی ہے بلکہ یہ امید بھی دلا دی ہے کہ اب پاکستان برس ہا برس کی اقتصادی پسماندگی سے باہر نکل آئے گا۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے چینی مردوں کے ساتھ پاکستانی لڑکیوں کی شادی قومی اور بین الاقوامی میڈیا کا موضوع بنا ہوا ہے۔

اس موضوع پر آج کل خوب شور ہو رہا ہے، ملکی سکیورٹی ادارے بھی خاصے سرگرم نظر آرہے ہیں، چینی سفارتخانہ بھی خوب ایکشن لیتا دکھائی دے رہا ہے، ہیومن رائٹس واچ انٹرنیشنل کی رپورٹ بھی سامنے آگئی ہے، ملک بھر کے مختلف تھانوں میں بچیوں کی بازیابی کے لیے درخواستیں جمع کروائی جا رہی ہیں، ہزاروں بچیوں کے والدین ”عزت“ کی خاطر سب اچھا ہے کی رپورٹ دے رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ اپنے دل کے ٹکڑوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیںاور تو اور پکڑے جانیوالے گروہ بڑی سفاکی سے یہ اعتراف کرتے نظر آرہے ہیں کہ ہاں انہوں نے شادیاں ضرور کیں مگر اُن کی ”بیویاں“ نہ جانے چین میں کہاں ہیں، کیوں کہ انہوں نے اپنی بیویوں کو چینی میرج بیوروز کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔

یقینا کوئی بھی صاحب اولاد ایسی گھناﺅنی اور خوفناک کہانیاں سننے کے بعد سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا.... پاکستانی بچیوں سے چینی لڑکوں کی شادی کا موضوع یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کیا ہم ”فلپائن“ بننے جا رہے ہیںکیوں کہ چین میں ایک عرصہ سے فلپائن سے لڑکیاں ”امپورٹ“ کی جا رہی ہیںاورگروپ میں دلہنیں امپورٹ ہوتی ہیں۔ چین کے کئی شہروں میں ایسے دفاتر موجود ہیں جو دیگر ممالک سے دلہنیں لا کر شادیاں کراتے ہیں یہ شادیاں بھاری معاوضے کے عوض کرائی جاتی ہیں۔ ابھی تک سب سے زیادہ شادیاں فلپائن میں ہوتی ہیں۔ 1990ءسے قبل تک چینی کی کسی اور ملک میں شادی ایک خبر ہوتی تھی کہ ایسا خال خال ہوتا تھا ۔ لیکن 2010ءمیں یہ شرح دس گنا تک بڑھ چکی تھی۔ چینی مرد فلپائنی عورتوں سے شادی کو ترجیح دیتے تھے اور اس کی ایک وجہ شاید نین نقش کا ایک سا ہونا ہے۔ اس کو ’چی فلا پینو‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ویت نام، منگولیا، کوریا وغیرہ سے لڑکیاں چینی لڑکوں کے لئے آنے لگی۔ تاہم جب فلپائنی لڑکیوں نے چینی مردوں کو ٹھیک ٹھاک دھوکے دیئے تو انہوں نے مشرقی ایشیا کے علاوہ آپشن بھی استعمال کرنا شروع کیا۔ اس ضمن میں پاکستان، بنگلہ دیش اور کسی حد تک بھارت وجہ انتخاب ٹھہرے۔

آج جب یہ مسئلہ کھل کر سامنے آگیا ہے اور ہم سب کا اجتماعی مسئلہ بن گیا ہے تو یہاں یہ بتاتا چلوںاس ملک سے 2015ء(سی پیک کے آغاز) سے لے کر آج تک ایک عام اندازے کے مطابق 17ہزار سے زائد خواتین کو چین میں بھیجا جا چکا ہے۔اس سلسلے میں محض 2000ءکے قریب ہی خواتین ” رپورٹ “ ہو سکی ہیں جب کہ باقی کے خاندان والے سامنے آنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ آج ہر طرف سے کہا جا رہا ہے کہ فلاں علاقے سے چینی گروہ پکڑا گیا اور فلاں علاقے سے اُس کے پاکستانی سہولت کار پکڑے گئے تو ایسے میں ایف آئی اے کی کارکردگی واقعی تعریف کے قابل ہے مگر اس ادارے سے شکوہ یہ بھی ہے کہ ہم اُن ہزاروں لڑکیوں کو موت کے منہ میں دھکیل کر ہی ہوش میں کیوں آتے ہیں؟

کیا ہم ان کہانیوں کو جھیلنے کے لیے رہ گئے ہیں جن میں کوئی لڑکی اپنے بیان میں یہ کہہ رہی ہے کہ اُسے چین میں لے جا کر نشہ آور اشیاءدے کر جسم فروشی جیسے غلط کروائے جاتے، کچھ لڑکیاں جو وہاں سے بھاگ کر پاکستانی سفارت خانے پہنچیں اُن کے مطابق اُن کے شوہر نے انہیں ایک کمرے میں بند رکھا ہوا تھا، جہاں رات کو کئی مرد آیا کرتے تھے وغیرہ ۔ کچھ لڑکیاں بتا رہی ہیں کہ چینی لوگ لڑکی کے والدین کو 5 سے 10 لاکھ روپے تک ادا کرتے ہیں جب کہ شادی کے تمام اخراجات چینی لڑکوں کی طرف سے کیے جاتے، کچھ شادیوں میں شادی کے بعد بھی لڑکی کے والدین کو ماہانہ 20 سے 30 ہزار روپے دیے گئے ہیں۔ لاہور کے ڈیوائن روڈ اور ایڈن گارڈن کے علاقوں میں ایک قطار میں گھر بنے ہیں جن میں چینی باشندے رہتے ہیں جو کام کی غرض سے مختلف کمپنیوں سے منسلک ہیں۔ ان میں سے چند چینی ایسے بھی ہیں جو پاکستان کی چین کی جانب نرم ویزا پالیسی کے نتیجے میں تھوک کے حساب سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ یہ کیا کام کرتے ہیں، بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ ایف آئی اے خود کہہ رہی ہے کہ اب تک لاہور، منڈی بہاوالدین، فیصل آباد، پتوکی، ساہیوال سمیت دیگر شہروں کی لڑکیوں کے شادی کے کیس سامنے آئے ہیں۔ یہ گروہ پورے پاکستان میں کام کر رہا ہے اوریہ شادیوں کا سلسلہ گزشتہ 3، 4 سال سے جاری ہے۔

حقیقت میں چین میں خواتین کی قدرومنزلت بے پناہ ہے جو جنس نایاب تو نہیں جنس کمیاب ضرور ہیں اس کی بڑی وجہ وہاں ”ایک بچہ پالیسی ہے۔“ اسی ایک پابندی نے وہاں کے سماج کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہاں کئی رشتے تو یکسر ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ خالہ، ماموں، چچا، پھپو کے رشتے ختم ہو چکے ہیں، سبب سے بڑا مسئلہ عورتوں اور مردوں کی تعداد میں فرق ہے، وہاں 100 مردوں کے مقابلے میں فقط 87 خواتین دستیاب ہیں۔اور چونکہ پاکستان میں خواتین کی شرح مردوں کے مقابلے میں نسبتاََ زیادہ ہے اس لیے یہاں خواتین کے رشتوں کے مسائل کی وجہ سے اور غربت کی وجہ سے بھی والدین فوری رشتہ کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں لیکن اس سلسلے میں کیا قانون سازی ہونی چاہیے؟ کیا ہماری بیٹیوں کی یونہی بولی لگتی رہے گی؟ کیا حکمران اُس وقت ہوش میں آئیں گے جب ہماری بچیاں اور ہمارے خاندان دنیا بھر بدنام ہو جائیں گے؟ کیا ایمل کانسی کیس میں امریکی اٹارنی جنرل کی بات سچ تھی جس نے کہا تھا کہ ”پاکستانی وہ قوم ہیں جو پیسے کے لیے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں“۔

حالانکہ دنیا بھر میں اس قسم کی شادیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن وہاں اس حوالے سے مکمل قانون سازی ہو چکی ہے۔ میں امریکہ میں اکثر جاتا رہتا ہوں تو وہاں میں نے دیکھا ہے کہ اگر میں کسی امریکی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو میرے لیے وہاں کے قوانین اس قدر سخت ہیں کہ میں فراڈ کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وہاں چرچ میں جا کر شادی کرنا محض ایک رسم ہوتا ہے ۔ لیکن اس کے بعد قانونی طور پر جب شادی کرنی ہو تو جج کے پاس جوڑا حاضر ہوتا ہے۔ اُس کے بعد جج انہیں تاریخ دیتا ہے۔ تاریخ دے کر انہیں سوچنے کا موقع دےتا ہے ۔ اس کے بعد دونوں سے مکمل دستاویزات مانگی جاتی ہے۔ انہیں بار بار تاریخوں پر بلایا جاتا ہے۔ مختلف زاویوں سے پرکھا جاتا ہے۔ اور یہ پراسس تقریباََ ایک سال میں مکمل ہوتا ہے۔ تب تک 50 فیصد سے زائد جوڑے الگ ہو چکے ہوتے ہیں۔ جبکہ وہاں ایسا بالکل نہیں ہے کہ مسجد میں گئے، نکاح خواں نے نکاح پڑھوایا، دستخط ہوئے، اور لڑکا لڑکی لے کر نکل گیا۔50 فیصد بھی اسی لیے کامیاب ہوتے ہیں کہ ایشین لوگ امریکی زبان اور کلچر کو سمجھتے ہیں، یورپ اور امریکا میں پاکستان اور انڈیا کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو زبان سمجھ آتی ہے۔ چونکہ انگریزوں نے اس خطے پر سو سال تک حکومت کی ہے اس لیے انہیں بھی ہماری زبان کچھ نہ کچھ سمجھ آتی ہے۔

مگر چین کا کلچر اور زبان سے ہمارا معاشرہ بالکل نابلد ہے۔ نہ وہاں کی زبان ہمیں آتی ہے، اور نہ ہی وہاں کی ثقافت۔ چینیوں کا لہجہ، باڈی لینگوئج ہی بالکل مختلف ہے۔ صرف چند دہائیاں پہلے تک کسی کو علم ہی نہیں تھا کہ چین بھی کوئی ملک ہے، یا وہاں کیسے لوگ رہتے ہیں۔کیوں کہ ہمالیہ اور قراقرم نے چین کو ہم سے علیحدہ کیے رکھا تھا۔ پھر ٹیکنالوجی آئی اور ہم لوگ 20 ہزار فٹ اونچے پہاڑ پھلانگ کر ایک دوسرے مانوس ہونے کے قابل ہوئے۔ لہٰذاحکومت کو فوری طور پر اس حوالے سے قانون سازی کرنی چاہیے یا حکومت کو شادی پر ہی پابندی لگا دینی چاہیے۔ ورنہ چین کو ہمارے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اور اگر اس بارے سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو پاکستان ایک دوسرا فلپائن بن سکتا ہے جہاں سے غریب گھرانوں کی لڑکیوں کے بڑے بڑے گروہ چین بھیجے جائیں گے، جہاں ان کی شادیاں کرائی جائیں گے۔ جرائم پیشہ گروہ بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکومت اور سنجیدہ حلقوں کو اس صورتحال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان پاکستانی لڑکیوں کے حقوق کے حوالے سے لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی زندگیاں تباہ نہ ہوں۔ اور جو بچیاں وہاں جا کر پھنس چکی ہیں ان کی باعزت بازیابی بھی اس حکومت پر قرض ہے۔ سی پیک جیسا معاہدہ اپنی جگہ مگر دو ملکوں کے درمیان حدود و قیود بھی کوئی معنی رکھتی ہیں اس لیے اس ملک کی عزت نفس کے ساتھ ہر گز کھلواڑ نہیں ہونا چاہیے!

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض لڑکیوں کو چین میں جسم فروشی پر مجبورکیا گیا اور انھیں حکم نہ ماننے پر تشدد کو نشانہ بھی بنایا گیا۔ یہ لوگ منظم گروہ کے طور پرکام کرتے ہیں، ملزمان کو مقامی لوگوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ یہ سب کچھ سرکاری اداروں کی موجودگی میں ہوتا رہا، لیکن پتہ تک نہ ہلا۔ دوسرا ہماری مشرقی روایات کا جنازہ جس دھوم سے نکلا ہے اس نے سماج کے عیبوں کو واضح کیا ہے۔

آخرکیسے ماں باپ نے بغیر تحقیق، اپنی بیٹیوں کے یہ رشتے کر ڈالے، صرف دولت کی چکاچوند دیکھ کر ، چین والوں سے نہ تو ہماری روایات ملتی ہیں نہ مذہب اور نہ زبان۔ بیٹیاں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں انھیں بوجھ سمجھ کر یوں اجنبیوں کے حوالے کر دینا کہاں کی سمجھ داری ہے۔” فارن رشتہ“ کی سوچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ یہ بات لاکھ درست سہی ، کہ چین ہمارا دوست ملک ہے اور سی پیک منصوبہ گیم چینجر ہے۔ لیکن ہمیں کسی بھی طور پر اپنے قومی تشخص اور وقارکا سودا نہیں کرنا چاہیے، مجرمانہ ذہینت کے حامل گروہ یوں ہماری عزتوں کو پامال کریں یہ ہمیں بطور قوم کسی طور پرگوارہ نہیں۔ چائنہ میں پاکستان ایمبیسی مظلوم لڑکیوں کو بازیاب کروائے۔ حکام پاکستانی لڑکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور حرف آخر ان شادیوں پر فوری پابندی عائدکی جائے تاکہ مزید انسانی المیوں سے بچا جا سکے۔

٭٭٭


ای پیپر