حرمین کا ایک سفر
22 May 2019 (22:53) 2019-05-22

مکہ وہ مقدس سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی جائے ولادت بنایا

حافظ طارق عزیز:

ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک دفعہ ضرور حرمین کا سفر کرے۔ ہم بھی اکثر دل ہی دل میں یہی دُعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ایک بار حاضری نصیب ہو جائے۔ لیکن یہ یقین بالکل نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ہماری دُعا اتنی جلدی قبول فرمائیں گے اور ہم یہ سعادت حاصل کر سکیں گے۔ سپرئیر یونیورسٹی سے میری وابستگی کم و بیش 18سال پرانی ہے اور ان ہی کے میڈیا گروپ کے ساتھ سے پہلے دن سے منسلک ہوں۔ اس ادارے سے رشتہ گھر جیسا ہے۔ کیوں کہ اس ادارے کے روح رواں چیئرمین سپرئیر گروپ پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمن نہایت مہربان شخصیت کے مالک ہیں اس لیے ان کی شفقت کی وجہ سے ادارہ چھوڑنے یا کسی اور جگہ کام کرنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ چند ماہ قبل ادارہ نے اپنے نئے کیمپس ”سپیرئیر گولڈ کیمپس“ کا افتتاح کیا جس میں تمام اساتذہ اور منتظمین مدعو تھے۔ راقم چونکہ تدریس کے شعبہ سے بھی وابستہ ہے اس لیے وہیں موجود تھا۔ اس دن تقریب کے آخر میں حاضرین کے لیے قرعہ اندازی کے ذریعے ایک بڑے انعام کا اعلان کیا گیا.... وہ انعام تھا “عمرہ کا ٹکٹ“....۔ ایک ہزار کے قریب سٹاف میں سے اللہ تعالیٰ نے حاضری کے لیے مجھے چُنا۔ یقینا یہ میرے لیے سعادت سے کم نہیں تھا۔ راقم نے چیئرمین صاحب سے فیملی عمرہ پیکج کی درخواست کر ڈالی جو انہوں نے فوری طور پر مان لی اور مجھے اپنی فیملی کے ہمراہ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔

گزشتہ ماہ لاہور سے روانگی تھی، اس اہم ترین مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے تھوڑی بہت تیاری بھی کی تھی مگر تھوڑی سی گھبراہٹ کا احساس بھی تھا کیونکہ ہم پہلی بار ہوائی سفر کر رہے تھے۔ لاہور ائیر پورٹ پر ہی احرام باندھا اور نفل پڑھے، اس کے بعد ہماری پرواز جدہ کے لیے روانہ ہو گئی، چند گھنٹے بعد ہم جدہ پہنچے۔ جدہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے اور کچھ گھنٹوں کی مسافت کے بعد مکہ پہنچے۔ جیسے ہی مکہ کی زمین پر پاو¿ں رکھے دل کی کیفیات بے قابو ہو گئیں۔ مکہ دنیا میں آ کے سب سے پہلے گھر کی سرزمین ہے، اسی مقدس سر زمین پر حضرت آدم ؑ و اماں حوا ؑ کی پہلی ملاقات کی ہوئی۔ مکہ سیدہ ہاجرہ علیہ سلام کے صبر کی نشانی ہے۔ مکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی سرزمین ہے۔ مکہ امتحان خلیل اللہ کی سر زمین ہے۔ مکہ بے شمار انبیا کرام ؑ کا مسکن ، مکہ بے شمار انبیاءکرام ؑکی گزرگاہ ہے۔ مکہ.... جہاں زم زم ہے۔ مکہ.... جہاں میدان عرفات منی و مزدلفہ ہے.... مکہ، جسے اللہ نے اسماعیلؑ ذبیح اللہ کا مسکن قرار دیا۔ مکہ جہاں سے اولاد ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

اور.... مکہ.... جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی جائے ولادت قرار دیا۔ مکہ جس نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بچپن دیکھا۔ مکہ کی سر زمین وہ خوبصورت زمین ہے جس نے میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدموں کو چوما۔ مکہ جس نے صادق اور امین کی صداقت اور ایمانداری کو دیکھا۔ مکہ جس نے تاجدار انبیاءکے تحمل اور بردباری کو دیکھا۔ مکہ نے دنیا کے سب سے ایمان دار تاجر کو دیکھا۔ مکہ جہاں سرور کونین کی شادی مومنوں کی ماں سیدہ خدیجہ الکبری علیہ سلام سے ہوئی۔ مکہ جس کی مسجد الحرام سے تاجدار کائنات نے سفر معراج شروع کیا. مکہ جسے ہمارے پیارے نبی کی 53 سال کی میزبانی کا شرف حاصل رہا۔ اس کی آب و ہوا اندر تک تروتازہ کر گئی۔ ہم بارگاہ خداوندی کے جاہ و جلال کے تصور سے لرزتے ہوئے اندر داخل ہوئے ۔ جیسے ہی صحن میں قدم رکھا دل کی دھڑکنوں کو قابو کرنا مشکل ہو گیا کہ آج تو دعاو¿ں کا ثمر ملنے والا تھا، ان گنت لوگ اپنے کام میں مشغول تھے۔ گویا یوں محسوس ہو رہا تھا ہر بندہ نیکیاں کمانے کے لیے جلدی میں ہے۔ ہم لوگ صحن میں بیٹھ گئے کیونکہ عشاءکی نماز کا وقت ہونے لگا تھا۔ عشاءکی اذان ہوئی تو ایسے محسوس ہوا جیسے یہ آواز اندر تک روح میں تحلیل ہو گئی ہو۔ عشاءکی نماز ادا کی۔ دل مسلسل اللہ کا گھر دیکھنے کے لئے تڑپ رہا تھا۔ نماز کے بعد جیسے ہی رش ختم ہوا تو ہم بیت اللہ شریف کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم حرم شریف کے گیٹ نمبر 90 سے داخل ہوئے۔ سیڑھیوں سے اتر کر نیچے کی طرف آئے تو دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی، جب اوپر منہ کیا تو سامنے خانہ کعبہ پر نظر پڑی، ناقابلِ بیان منظر تھا، آنکھیں آنسوو¿ں سے تر ہوگئیں، ہاتھ دُعا کو اٹھ گئے.... الفاظ ساتھ چھوڑ گئے۔ میری آنکھوں کے سامنے دنیا کا حسین ترین منظر تھا، اتنی رونق، اتنی روشنی، بے حد نور، اتنا سکون سب سے بڑھ کر اس سکون کی خاطر تو رختِ سفر باندھا۔ سبحان اللہ آج ہم اس جگہ تھے جہاں جانے کے لئے اللہ سے کتنی دعائیں مانگی تھیں، میری دعاو¿ں کی تکمیل ہو چکی تھیں۔ میں بیت اللہ شریف کے سامنے تھا، سیاہ و سفید لباس میں ملبوس دنیا بھر سے آئے پاکیزہ لوگوں میں ایک گناہگار آدمی کھڑا تھا۔ سب کی زبانوں پر اللہ کا ذکر تھا۔ سب اپنے کاموں میں مصروف تھے،کوئی حجر اسود کو بوسہ دینے کی کوشش میں تھا گویا وہ اس بہشت سے آئے پتھر پر اپنے ہونٹوں کے غائبانہ نشان چھوڑنا چاہتے تھے تاکہ بہشت میں شفاعت کروائی جا سکے، کوئی اللہ کے ذکر میں مصروف مسلسل طواف کر رہا تھا۔ ہر کوئی دُعا مانگ رہاتھا۔ ہر انسان کو اللہ سے محبت کی تڑپ لائی تھی کسی کو پتہ نہیں تھا ان پاکیزہ لوگوں کے بیچ مجھ جیسا گناہگار انسان بھی کھڑا ہے، اپنے گناہوں پر ایک نگاہ ڈالی جسم پسینے سے شرابور ہو گیا.... زبان پر آیا کہ اے اللہ تو کس قدر غفور رحیم ہے میرے پروردگار تو کس قدر احسان کرنے والا ہے، بے اختیار آنسوو¿ں کا ایک ریلا، میری آنکھوں سے بہہ نکلا۔ ایک شدت سے جی چاہا کہ سجدہ ریز ہو جاو¿ں اور پھوٹ پھوٹ کر اپنے رب سے کہوں تو کس قدر مہربان ہے۔ میرے اللہ! میرے گناہوں کا پردہ رکھنا، بہتی آنکھوں، کپکپاتے لبوں کے ساتھ الفاظ ادا کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ اللہ تو بہت غفور رحیم ہے، مجھے دین اسلام اس وقت سب سے بڑی نعمت لگی۔ اللہ نے مجھے اسلام جیسی دولت سے نوازا، میں غفلت میں ڈوبا ہوا انسان ہوں جس کا پور پور دنیاوی غفلتوں میں لت پت ہے۔ اللہ تو کتنا غفور و رحیم ہے، مجھے دنیا کے سامنے رسوا نہ کیا، مجھے کسی کے آگے ذلیل و خوار نہ ہونے دیا اور بجائے سزا دینے کے مجھے اپنے در پہ بلا لیا۔ یااللہ میں ساری زندگی بھی سجدے میں گزار دوں تو تیرا یہ قرض نہیں چکا پاو¿ں گا۔ میرے مالک میں بہت گنہگار ہوں، میرے آقا! میرے اللہ ! تو نے مجھ پر کس قدر عظیم احسان کیا ہے، تو تو مالک دو جہاں ہے، عزت و زلت تیرے اختیار میں ہے، کیا یہ احسان نہیں کہ تو نے میری جھولی میں میرے گناہوں کی سزا میں زلت نہ ڈالی، مجھے معاف کر دے، میرے اللہ مجھے معاف کر دے، مجھے میرے والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔ کپکپاتے لب الفاظ کی ادائیگی نہیں کر پا رہے تھے۔ اللہ تو میرے ابو کو بخش دے۔ اللہ تو ان کے درجات بلند کر، آنسو پھر سے بہہ کر گالوں تک آگئے تھے۔

دُعا درمیان میں رہ گئی جب اچانک یاد آیا میں اکیلا نہیں ہوں، حجر اسود کے سامنے لگی سبز روشنی سے ہم نے طواف کا آغاز کیا۔ میرے نزدیک دُعا احساس اور جذبات کا نام ہے، میں نے طواف کے دوران بھی اللہ سے خوب دعائیں مانگیں، ہجر اسو کے سامنے ہمارے سات چکر مکمل ہوئے، اس عمل میں میرا بیٹا شایان میرے ساتھ تھا، میں کبھی اسے اپنے کندھے پر اٹھا لیتا اور کبھی وہ خود چل کر طواف کرنے لگ جاتا۔ پھر دو نوافل ادا کئے اور سعی کے لئے صفہ مروہ کی طرف روانہ ہوئے۔ صفہ پہاڑی سے چکر شروع کیا، مسلسل دل میں حضرت بی بی حاجرہ (رضی اللہ عنہ) کے صبر اور ان کے اللہ پر یقین کو ذہن میں رکھتے ہوئے صفہ سے مروہ اور مروہ سے صفہ تک چکر لگائے، بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو کعبہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان کے درمیان طواف کرے اور جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے تو بے شک اللہ قدردان اور جاننے والا ہے (سورة البقرہ)

مرہ پہاڑی پر آکے ہمارے سات چکر مکمل ہوئے، واجب الادا عمرہ کے دو نوافل ادا کئے، پھر بال کٹوا کر اپنا عمرہ مکمل کیا، یہ تقریباً رات کے ڈیڑھ بجے کا وقت تھا جب ہم ہوٹل پہنچے، پہلے 8 دن مکہ پاک میں تھے۔ حرم شریف میں جو دلی سکون تھا گویا دل چھوٹے بچے کا ہو۔ ہر قسم کی فکر سے آزاد ہو ہم نے الحمداللہ عمرے کیے طواف کیے۔ حرم شریف کے اندر کے راستوں کو اس طرح خوب ذہن نشین کر لیا گویا یہاں سے کبھی جانا ہی نہ ہو، ہر نماز کے وقت ایسے محسوس ہوتا جیسے پہلے سے زیادہ رش ہو۔ لوگ جوق در جوق نیکیاں کمانے کے لئے اللہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہاں میں نے بڑی تعداد کے قافلے بھی دیکھے اور تقریباً لوگوں کو اعلیٰ اخلاق کے پہلے درجے پر پایا۔ میں نے تو آب زمزم خوب پیٹ بھر کر پیا۔ جتنی مرتبہ خانہ کعبہ کو دیکھتے اسے دیکھنے کی حسرت اور بڑھ جاتی اور ہم پھر خانہ کعبہ کو دیکھتے رہنے کے لئے جگہ ڈھونڈتے۔ الحمداللہ کئی نمازیں خانہ کعبہ کے سامنے ادا کیں۔ اس سارے وقت میں اللہ کو اپنے بہت قریب محسوس کیا۔ جو دُعا مانگی وہ مجھے قبول ہوتی نظر آئی اور اکثر تو فوراً ہی قبول ہو جاتیں۔ باقی دعاو¿ں کی اللہ نے اس طرح تسلی دی گویا مجھے وہ دُعا قبولیت کے قریب قریب نظر آئی۔ (جاری ہے)

٭٭٭


ای پیپر