مختلف ممالک میں پھانسی کی سزا اور عملدرآمد کا طریقہ کار حیران کن حقائق
22 May 2019 (22:39) 2019-05-22

رمضان المبارک کے احترام میں پاکستان کی جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کی پھانسی پر عملدآمد روک دیا گیا تھا

امریکہ موت کی سزا دینے والا پانچوں بڑا ملک، چین میں پھانسیوں کے ریکارڈ کو خفیہ رکھا جاتا ہے

وسیم سرحدی

رمضان المبارک کے احترام میں ملک بھر کی جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کی پھانسی پر عملدآمد روک دیا گیا تھا۔ فیصلے کے مطابق یکم رمضان سے عید الفطر کی چھٹیوں تک ملک کی کسی بھی جیل میں کسی مجرم کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔ اور صدر مملکت بھی اس عرصے کے دوران کسی مجرم کی رحم کی اپیل پرکوئی حتمی فیصلہ نہیں کریں گے۔ اس فیصلے کے بعد رمضان کے آغاز اور عید الفطر کی وجہ سے ملزمان کے رشتہ داروں نے مقتول خاندانوں سے راضی نامہ کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔ اس وقت ملک بھر کی دیگر جیلوں کے علاوہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سزائے موت کے 289 مجرمان قید ہیں جن میں 12 خواتین مجرمان بھی شامل ہیں جن کی سزاو¿ں کے خلاف اپیلیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں جبکہ 18 رحم کی اپیلیں صدر مملکت کے پاس ہیں۔

پوری دنیا میں جرائم کی روک تھام اور عوام کے تحفظ کےلئے سزاﺅں کے مختلف قوانین رائج ہیں، کہیں پر یہ قوانین قدرے نرم جبکہ کہیں پر سخت ترین سزاﺅں پر مشتمل ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جزا اور سزا کا تصور قرآن میں پروردگار کے احکامات کی شکل میں قدم قدم پر ہماری راہنمائی کرتا ہے بلکہ رب کریم کے جنت اور دوزخ کو بنانے کا عمل جزا اور سزا کے تصور کی ابتدا ءہے، خود رب کریم نے اپنے باغیوں اور نا فرمانوں کے لئے دوزخ بنا کر سزا جبکہ اپنے پیاروں اور اطاعت گزاروں کےلئے جنت بنا کر جزا اور انعام کا راستہ دکھا دیا۔ اسی طرح اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو کئی انبیاءکرام ؑ کی دعا پر رب کریم نے ان کی قوموں پر آسمان سے عذاب نازل فرمائے، اور متعدد قوموں کے عذاب ٹال دیئے، جزا اور سزا کے اسی تصور پر دنیا بھر کے ممالک نے سزاﺅں کے قوانین لاگو کئے اور سب سے بڑا اور سخت گیر قانون سزائے موت رکھا گیا ہے، جہاں تک اس قانون کے اجراءاور آغاز کا تعلق ہے تو اس سے متعلق تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ 1754 سال قبل مسیح عراق میں دنیا کی قدیم ترین بابل کی تہذیب سے اس سزا کا آغاز ہوا، وہاں سے ملنے والے حمورابی کے ضابطہ قانون میں سزائے موت کا ذکر ملتا ہے، اس پر عمل درآمد کے لئے آج تک پھانسی کا طریقہ سب سے زیادہ عام ہے۔

پھانسی پر عملدرآمد کاطریقہ کار

آج بھی جن ممالک میں سزائے موت لاگو ہے وہاں اکثر ممالک میں پھانسی کے ذریعے ہی اس سزا پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔اس میں مجرم کی گردن کے گرد پھندا ڈال کر اسے اونچی جگہ سے لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ وہ گردن کی ہڈی ٹوٹنے یا دم گھٹنے سے مر جائے، پاکستان، افغانستان، بھارت اور ایران سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو سزائے موت پھانسی کے ذریعے دی جاتی ہے جبکہ مختلف ممالک میں اس سزا کے مختلف طریقہ کار ہیں،کچھ ممالک میں مجرم کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کچھ ممالک میں بجلی کی کرسی پر بٹھاکر اورکہیں زہر کا انجکشن لگا کر سزائے موت دی جاتی ہے ،حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پھانسیاں دینے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور 1989ءکے بعد کسی بھی سال اتنے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں جتنی 2015ءکے دوران دی گئیں تھیں۔ رپورٹ کے مطابق 2015ء کے دوران دنیا بھر میں کم از کم 1634 افراد کو پھانسی دی گئی جو کہ اس سے قبل والے سال کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ ہے ۔ایمنسٹی انٹر نیشنل رپورٹ کے مطابق دنیا میں دی جانے والی پھانسیوں میں ایران، سعودی عرب اور پاکستان کا حصہ 89 فیصد بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس میں چین میں دی جانے والی پھانسیوں کا ذکر نہیں اور امکان ہے کہ اگر چین میں دی جانے والی پھانسیاں بھی شامل کر لی جائیں تو مجموعی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہو جائے کیونکہ چین میں پھانسیوں کے ریکارڈ کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق چین بھی پھانسی دینے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ اندازے کے مطابق 2015 ءمیں ہزاروں افراد کو پھانسی جبکہ اس کے مساوی افراد کو موت کی سزا سنائی گئی، البتہ چین میں حالیہ برسوں موت کی سزا دینے میں کمی آئی ہے تاہم سزائے موت کو خفیہ رکھنے کی وجہ سے یقینی طور پر اس کی تصدیق کرنا ناممکن ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں چار سال قبل 977 افراد کو پھانسی دی گئی اور ان میں سے اکثریت کو منشیات سے متعلق جرائم پر پھانسی ہوئی جبکہ 2014 ءمیں 743 افراد کو پھانسی دی گئی جبکہ اسی عرصہ میں پاکستان میں 326 افراد کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا اور یہ ملکی تاریخ میں ایک برس میں دی جانے والی سب سے زیادہ پھانسیاں ہیں۔ سعودی عرب میں 2014ءکے مقابلے میں 2015ءمیں موت کی سزا دینے میں 76 فیصد اضافہ ہوا اور 158 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔ سعودی عرب میں زیادہ تر کے سر قلم کیے گئے جبکہ بعض کی سزا پر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے عمل درآمد کیا گیا اور بعض اوقات لاشوں کو عوامی مقامات پر بھی دکھایا گیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2014ءمیں پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پھانسیوں پر عائد غیر اعلانیہ پابندی ہٹا لی گئی تھی جس کے بعد پاکستان میں پھانسیاں دینے میں تیزی آئی۔ 2015ءکے دوران پاکستان میں 324 افراد کو پھانسی پر لٹکایا گیا جن میں زیادہ تر ایسے مجرم شامل تھے جن کا دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں پھانسیوں کی وجہ سے پاکستان سے سب سے زیادہ پھانسیاں دینے والے ملکوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گیا۔، ایک برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے اب تک 351 افراد کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

بڑی تعداد میں لوگوں کو پھانسیاں دینے پر عالمی سطح پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایاگیا جبکہ پاکستان کے اندر بڑی حد تک اس کی پذیرائی بھی ہوئی، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں پھانسی کی سزائیں روکنے پر قتل کی وارداتوں میں حیران کن اضافہ ہوا، صرف لاہور شہر میں 2014ءکے پہلے 6 ماہ میں267 شہریوں کو قتل کر دیا گیا، جبکہ پنجاب بھر میں قتل کی وارداتوں میں ملوث ملزموں کی تعداد 20 ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے پنجاب کی جیلوں میں قتل کی وارداتوں کے ملزمان کی تعداد ساڑھے 19 ہزار سے زائد ہے جن میں 411 خواتین بھی شامل ہیں، 1416 مرد اور 4 خواتین قیدیوں کو پھانسی کی سزا کی منظوری دی جا چکی ہے، موت کی سزا دینے والا پانچوں بڑا ملک امریکہ ہے جہاں 2015ءمیں 28 افراد کو موت کی سزا دی گئی اور یہ تعداد 1991ءکے بعد سب سے کم ہے۔ گزشتہ 25 برسوں کے درمیان کبھی بھی دنیا بھر میں حکومتوں نے اتنے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی تھیں، پاکستان میں دی جانے والی پھانسیوں میں سب سے زیادہ پھانسیاں صوبہ پنجاب میں دی گئیں جن کی تعداد 170سے زائد ہے ، صوبہ پنجاب میں جیلوں کی تعداد 36 ہے جبکہ ان جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے، پنجاب میں ان پھانسیوں پر عمل درآمد کے لیے صرف دو افراد بھرتی کیے گئے ہیں جو مختلف جیلوں میں جاکر مجرموں کو تختہ دار پر لٹکاتے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک مجرم کو پھانسی پر لٹکانے کے صرف 500 روپے دیئے جاتے ہیں، پاکستان میں 15 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے جلاد صابر مسیح نے بتایا کہ ان کی زندگی میں خطرات بدستور موجود ہیں، مرغے پالنے کے شوقین صابر مسیح کے مطابق انھیں لوگوں کو تختہ دار پر لٹکانے سے نہ تو کبھی خوف آیا ہے اور نہ ہی کبھی شرمندگی ہوئی، لوگوں کو پھانسی پر چڑھانا ان کا خاندانی پیشہ ہے۔ صابر مسیح کے مطابق ان کے دادا قیام پاکستان سے پہلے انگریزوں کے دور میں بھی لوگوں کو پھانسیاں دیا کرتے تھے اور اس وقت اس کی اجرت 20 روپے ملا کرتی تھی، ان کے والد کالا مسیح اور چچا تارا مسیح 40 سال تک اس شعبہ سے وابستہ رہے ہیں اور اس عرصے کے دوران وہ ہزاروں افراد کو تختہ دار پر لٹکا چکے ہیں، تارا مسیح نے سابق فوجی صدر ضیاءالحق کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پھانسی دی تھی۔

پھانسی کے واقعات جنہیں عالمی شہرت ملی

تاریخ میں کئی ایسی نامور شخصیات بھی گزری ہیں جنہیں پھانسی کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا، ان میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979ءکو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پھانسی دی گئی۔ جبکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن سنگھ کو پاکستان کی عدالت نے 2017ءمیں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی جسے بھارت نے عالمی عدالت میں چیلنج کر دیا۔

لیبیا کی تحریک آزادی کے رہنما عمر مختار کو 16 ستمبر 1931ءکو قابض اطالوی افواج نے پھانسی دی۔ اسی سال یعنی 1931ءمیں 23 مارچ کو لاہور میں برطانوی راج نے بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی دی تھی، 17 ستمبر 1961ءکو ترکی میں فوج نے سابق وزیراعظم عدنان میندریس کو آئین کی خلاف ورزی پر پھانسی دے دی۔ عراق میں صدام حسین، بھارت میں افضل گورو اور بنگلا دیش میں عبد القادر ملا کی پھانسی کے واقعات نے بھی عالمی شہرت حاصل کی۔

پھانسی کا رسہ

پاکستان میں پھانسی لگنے سے ایک دن پہلے مجرم کا کپڑے اتار کر وزن کیا جاتا ہے اور وزن کے مطابق مجرم کے گلے میں ڈالنے کے لیے رسہ تیار کیا جاتا ہے، پھانسی دینے کے لیے جو رسی استعمال کی جاتی ہے وہ تین چوتھائی انچ سے لے کر سوا انچ تک موٹی ہوتی ہے، اسے پھانسی سے قبل گرم پانی میں اُبالا جاتا ہے اور خوب کھینچ تان کر سخت کیا جاتا ہے تاکہ اس میں لچک اور گھماو¿ ختم ہو جائے، رسی میں جو گرہ لگائی جاتی ہے اسے موم یا صابن سے خوب چکنا کیا جاتا ہے تاکہ تختہ کھینچنے کے بعد وہ پھندے کو گردن کے گرد اچھی طرح کسنے میں مدد دے۔ پھانسی سے قبل قیدی کے ہاتھ اور ٹانگیں دونوں باندھے جاتے ہیں اور چہرے کو ڈھانپ دیا جاتا ہے، پھانسی سے پہلے مجرم کو کالے کپڑے پہنائے جاتے ہیں جو اس کی موت کے بعد اتار لیے جاتے ہیں ، کم وزن والے مجرم کے لیے لمبا جبکہ زیادہ وزن والے مجرم کے لیے چھوٹا رسہ تیار کیا جاتا ہے، جلاد کے مطابق تختہ دار پر چڑھانے کے بعد کم وزن والے مجرم کا دم نکلنے میں آٹھ سے دس سیکنڈ لگتے ہیں جبکہ بھاری بھرکم مجرم کا دم نکلنے میں دو سے تین سیکنڈ لگتے ہیں، لیکن قانون کے مطابق مجرم کو آدھے گھنٹے تک تختہ دار پر لٹکایا جانا ضروری ہوتا ہے، ڈاکٹر کی طرف سے مجرم کے ہلاک ہونے کی تصدیق کے باوجود مجرم کی لاش کو دس منٹ تک مزید لٹکے رہنے دیا جاتا ہے، اس کے بعد اس کے کپڑے تبدیل کر کے لاش ورثا کے حوالے کر دی جاتی ہے۔

پھانسی کا وقت الصبح ہی کیوں؟

پاکستان سمیت جن ممالک میں بھی سزائے موت کے قیدی کو پھانسی دی جاتی ہے تو اس کا وقت علی الصبح ہی مقرر کیا جاتا ہے جس کی بے شمار وجوہات ہیں، چونکہ پھانسی پر عملدرآمد جیل حکام کےلئے اس دن کا سب سے اہم کام ہوتا ہے لہٰذا وہ صبح سویرے اس کام کو اس لیے انجام دیتے ہیں کہ پھانسی کی وجہ سے جیل کے دیگر روزمرہ معمولات متاثر نہ ہوں، صبح کے وقت پھانسی دینے کا ایک اخلاقی جواز یہ بھی ہے کہ مجرم کو دن بھر پھانسی کے انتظار کی اذیت سے نہ گزرنا پڑے ورنہ اس کی ذہنی حالت پر اس کا برا اثر ہوسکتا ہے، لہٰذا مجرم کو رات کے وقت آرام کرنے دیا جاتا ہے اور پھانسی کے وقت سے چند گھنٹے قبل اٹھا کر غسل کروایا جاتا ہے جس کے بعد وہ چاہے تو عبادت کر سکتا ہے۔ پھر اسے پھانسی گھاٹ پر لے جایا جاتاہے اور پھانسی دے دی جاتی ہے۔ صبح کے وقت انسان کے اعضا تروتازہ ہوتے ہیں جس سے پھانسی کے وقت تکلیف کم ہوتی ہے جب کہ دن کے وقت اعضا سخت ہوتے ہیں اور مجرم کو زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اسی لیے پھانسی دینے کےلیے صبح کے وقت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پھانسی علی الصبح دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پھانسی دیئے جانے کی خبر کا اثر معاشرے پر منفی انداز میں پڑتا ہے لہٰذا معاشرے میں موجود افراد کو کوئی صدمہ نہ پہنچے، اس لیے پھانسی دینے کا وقت ایسا مقرر کیاگیا ہے جب سب لوگ سو رہے ہوں۔

7 ہزار سے زائد لوگوں کی سزائے موت کو عملی جامہ پہنانے والا جلاد

واصیلی بلوفن روسی جلاد کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں خاص طور پر لکھا گیا ہے جس نے 1939ءمیں محض 28 دن کے دوران 7 ہزار سے زائد لوگوں کی سزائے موت کو عملی جامہ پہنایا۔ اس وقت کے روسی ڈکٹیٹر سٹالن نے 1939ءمیں پولینڈ کے قیدی بنائے گئے 20 ہزار سے زائد فوجیوں کے قتل کا حکم دیا تو بلوفن اس قتل عام کو سرانجام دینے والوں میں سر فہرست تھا۔ ان فوجیوں کو سزائے موت دینے کیلئے بنائے گئے ایک خصوصی کمرے میں لایا جاتا جہاں ان کے سر کے پچھلی طرف گولی مار ان کی زندگی کا خاتمہ کیا جاتاتھا۔ وہ ہر رات تقریباً 300 قیدیوں کو اپنے ہاتھ سے گولی مارتا رہا۔ یہ پستول جرمن فوجی استعمال کرتے تھے اور اسے استعمال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی مارے گئے قیدیوں کی لاشیں دریافت ہوں تو الزام جرمن فوج پر لگایا جا سکے اور پھر یہی ہوا کہ جب 1943ءمیں پولینڈ کے فوجیوں کی اجتماعی خبروں کا انکشاف ہوا تو روس نے جرمنی پر الزام لگا دیا۔ بالآخر 1990ءمیں میخائل گور با چوف کے دور میں اصل حقائق دنیا کے سامنے آگئے، سٹالن نے بلوفن کو خفیہ طور پر روس کے اعلیٰ فوجی اعزاز آرڈرآف دی ریڈ بینر سے بھی نوازا تھا، بلوفن نے اس قتل عام کے بعد کئی سال مجنوﺅں کی طرح زندگی گزاری اور بالآخر پاگل ہوگیا اور 1995ءمیں خود کشی کر لی۔

٭٭٭


ای پیپر