موجودہ حالات میں اپوزیشن کا اکٹھا ہونا ضروری ہے : اسحاق ڈار
22 May 2019 (22:29) 2019-05-22

لندن:سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک میں روپے کی قدر میں کمی کو حکومت کا معاشی دہشتگردی کا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اپوزیشن کا اکٹھا ہونا ضروری ہے کیونکہ ملک اس وقت معاشی دہشت گردی کی وجہ سے ایک سنجیدہ خطرے کی جانب جا چکا ہے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر بدانتظامی کا نتیجہ ہے ،جب بھی روپے کی قدر گرتی ہے تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور جب مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ شرح سود بڑھاتے ہیں ،حکومت نے شرح سود5.7فیصد سے بڑھا کر 12.25فیصد کر دیا ہے ،یہ چیز نہ تو بزنس مین اور تاجربرادری کیلئے اچھی ہے اور نہ ہی انڈسٹری کیلئے اچھی ہے ،یہ چیز مہنگائی کا جو طوفان آچکا ہے اس کو مزید آگ لگائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں قدر میں کمی کو الگ نظریے سے دیکھتا ہوں ،قدر میں کمی کے ٹول کو جو دنیا میں استعمال کیا گیا وہ آپ اگر مہاتیر محمد کا پچھلا دور دیکھ لیں تو اس میں قدر میں کمی کے ذریعے اس ملک کی کرنسی کو غیر مستحکم کیا گیا اور وہ اس وقت فارغ ہوئے، اسی طرح حال ہی میں ترکی میں اس طرح کی ایک کوشش کی گئی جس پر صدر طیب اردگان کو بیان دینا پڑا کہ ہماری کرنسی پر حملہ کیا گیا ۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ جب آپ قدر میں کمی کرتے ہیں تو آپ کے تمام عشاریے غلط طرف جاتے ہیں ،ابھی جو قدر میں کمی کی گئی تھی اس پر معیشت دان کہتے تھے کہ یہ چیز برآمدات کو بڑھانے میں مدد کرے گی ،ا تنی بڑی قدر میں کمی کے باوجود ہماری برآمدات منفی ہے اور ہمارے کرنٹ اکائونٹ خسارے میں بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا ،میں سمجھتا ہوں کہ جو قدر میں کمی والا راستہ اختیار کیا گیا ہے یہ ایک قاتل ہے اور میرا یقین ہے کہ یہ پاکستان کے اوپر ایک معاشی دہشت گردی ہے ،اگر حکومت نے اسے نہیں روکا اور قابو نہیں کیا جو کہ قابو کیا جاسکتا ہے تو حالات مزید خراب ہوں گے ۔


ای پیپر