بھارتی انتخابات۔۔۔بی جی پی اکثریتی پارٹی کے طور پر اُبھر سکے گی؟
22 May 2019 (22:05) 2019-05-22

جیت کے لیے ممکنہ سیٹوں تک رسائی نہ ہونا کانگریس کی بد قسمتی ہو گی۔۔۔۔ تجزیاتی رپورٹ

امتیاز کاظم

کانگریس یا بی جے پی جو بھی برسراقتدار آجائے پاکستان کو اس سے غرض نہیں کیونکہ دونوں پاکستان مخالف ہوںگی تاہم نظریاتی طور پر کانگریس کا اقتدار میں آنا بھارتی مسلمانوں کے لیے قدرے خوش آئند ہو گا۔ پی جے پی ایک کٹر جنونی بنیاد پرست ہندوتوا کی حامی نظریاتی جماعت ہے جب کہ کانگریس گاندھی جی کے افکار کی حامل ہے جو ”ستیہ“ اور ”اہنسا“ (سچ اور غیرمتشدد) کو سیاسی نظریے کی بنیاد بناتے تھے۔ گائے کے پجاری تو ضرور تھے لیکن بھاجپا کی طرز پر گﺅ رکھشا اُن کی سیاست کی بنیاد نہ تھی۔ بی جے پی اور آرایس ایس ایک ہی ہلکے کے دو رُخ ہیں، یہ اپنے پُرکھوں کی روایات کے بھی منافی چلتے ہیں۔ ”پتنجلی“ ایشوز کو آتما سے الگ مانتا تھا، یہ ”شاستریوگ“ کا باقی ہے لیکن نظریاتی طور پر بھاجپا جیسا کٹر بنیاد پرست نہ تھا۔ شنکراچاریہ ”ویدانت فلسفہ“ کا پرچارک تھا اور یہ نظریہ رکھتا تھا کہ کائنات میں جو کچھ ہے سب برہما دیوتا سے نکلا ہے اور برہما ہی میں واپس چلا جائے گا۔ ویدانت فلسفہ ہندوﺅں کی مذہبی کتاب ”اپ نشد“ میں درج ہے۔ اپ نشد کی تعداد 112 سے زائد ہے تاہم ”دارالشکوہ“ نے ”50“ اپ نشدوں کا ترجمہ کرایا تھا۔ آٹھویں صدی کے آخر میں شیوگرو کے ہاں دریائے الور کے کنارے ایک گاﺅں کلڑی میں پیدا ہوا اور تمام ہندو فرقوں کو دعوت دی کہ وہ فرقے ختم کر کے ایک ”ویدک دھرم“ میں آجائیں، ہندو تو تھا لیکن بھاجپا کی طرز کا نہ تھا۔ ”رامانج“ بھگتی تحریک کا بانی سمجھا جاتا تھا۔ اس نے شنکر اچاریہ کی نامکمل نظریاتی بنیاد کو مکمل کیا۔ رامانج کے مطابق برہما اور ایشور ایک ہی ہیں۔ ان سے ہی روح اور مادے نکلے ہیں اور اپنی ہستی کے لیے اس کے محتاج ہیں جبکہ روح خدا کو بھگتی سے حاصل کر سکتی ہے۔ بھگتی مسلک کی شکل واضح طور پر اسلام سے مشابہت رکھتی ہے۔ رامانج ہندو ضرور تھا لیکن بھاجپا کی طرح جنونی اور بنیادپرست نہ تھا۔ ”لنگائت فرقہ“ کاگرو ”بساﺅ“ تھا۔ یہ بھی ایک خدا کو مانتے تھے۔ ان میں ذات پات کی تمیز نہیں ہے۔ بھاجپا کی طرح برہمن اور ٹھاکر کا غرور ان میں نہیں ملتا۔ بابا گرونانک تو واضح طور پر اسلام کے قریب ترین تھے۔ جدید تحریکوں میں برہمو سماج کو دیکھ لیں۔ اس کا بانی راجہ رام موہن رائے ہے۔ 1774ءمیں پیدا ہوا۔ 15سال کی عمر میں بت پرستی کے خلاف بنگالی زبان میں پمفلٹ شائع کیا۔ توحید کے پرچار کی وجہ سے والدین سے الگ ہونا پڑا۔ عربی، فارسی، بنگالی، سنسکرت، انگریزی، فرانسیسی، لاطینی، یونانی، عبرانی تمام زبانیں جانتا تھا اور تمام مذاہب کی کتب کا عمیق مطالعہ رکھتا تھا۔ ہندوﺅں میں ”ستی“ کی رسم کا خاتمہ اسی کی مرہون منت ہے۔

بھگتی تحریک کے بڑے پرچارک پنڈت بجوجے کرشناگو سوامی کہتے تھے کہ انسان محض اپنی عقل کے ذریعے سے روحانی پیاس بجھا سکتا تھا۔ اس کے لیے ریاضت ضروری ہے۔ بجوجے کی بھاجپا کی طرح کٹربنیاد پرست نہ تھے۔

آریہ سماج کا بانی ”سوامی دیانند سرسوتی“ برہمن خاندان کا چشم وچراغ تھا۔ 1875ءمیں بمبئی میں آریہ سماج کی بنیاد ڈالی ۔ ستیارتھ پرکاش لکھی جس کا 14واں باب اسلام کے مخالف لکھا تاہم بھاجپا کی طرح کٹرجنونی نہ تھا۔ بس صرف ویدوں کی تحریر کے زمانے میں ”سوامی دیانند“ گائے کو ذبح کرنے کو جرم قرار دیتے ہیں۔ اتھروید میں ہے کہ ”ساراجہاں اور کل دیوتا گویا گائے ہی کا سراپا ہیں“۔ ویدوں میں مذکور ہے کہ ”پرجاپتی دیوتا (خالق کائنات) پر مشیٹھی دیوتا اس کے دو سینگ ہیں۔ ”اِندر“ اس کا سر ہے ”اگنی“ (دیوتا) اس کی پیشانی ہے۔ یم دیوتا اس کے گلے کی گھنڈی ہے۔ سوم دیوتا اس کا مغز ہے۔ آسمان اس کا اُوپر کا جبڑا ہے اور زمین اس کا نچلا جبڑا ہے“۔ دھرم شاستر میں لکھا ہے کہ اس کا گوبر اور پیشاب پینا معافی گناہ کا ذریعہ ہے۔ آر ایس ایس کی بنیاد بھی 1925ءمیں ایک ثقافتی تنظیم کی طرز پر رکھی گئی۔ ایم ایس گول والکر جو کہ آرایس ایس کے طویل عرصہ تک سربراہ رہے، یہ عیسائیوں، ملحد، کمیونسٹوں اور مسلمانوں کو ملک کا مرکزی دُشمن قرار دیتے تھے اور اس RSS یعنی راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ میں مودی جی 8 سال کی کچی عمر میں جونیئر کیڈٹ کے طور پر شامل ہو گئے تھے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب یہ ”ویدنگر“ کے ریلوے سٹیشن پر اپنے بھائی اور باپ کے ساتھ چائے بیچتے تھے کہ لکشمن راﺅ انعام دار کے ہتھے چڑھ گئے جس نے انہیں آر ایس ایس میں متعارف کرایا۔ آر ایس ایس کا وجود 1925ءکا ہے جب کہ اس سے پہلے 1923ءمیں وی۔ڈی سوارکر نے اپنی کتاب ہندوتوا ”Hindutva“ میں اپنے نظریات شائع کر دیئے تھے جس سے RSS نے استفادہ کیا۔ سوارکر متحدہ ہندوستان کا حامی تھا جس پر ہندوﺅں کی حکمرانی ہو اور باقی تمام قومیں ان کے زیرسایہ سانس لیں۔ سوارکر دراصل ”لالہ لاجپت رائے“ کو بھول گئے۔ لالہ لاجپت رائے نے 1899ءمیں یعنی قائداعظم سے بھی پہلے دو قومی نظریہ کا اعلان کر دیا تھا۔ آج کے بھارت میں بھاجپا کے مدمقابل صرف مسلمان ہیں جن کو اذیت ناک طریقے سے جینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ہر عروج کو ایک زوال ضرور ہے اور غالباً مودی کے عروج کا زمانہ گزر چکا ہے۔ مودی کا ہیجان خیز رویہ۔ فکرمندی کے آثار اور ماتھے کی شکنیں یہ بتا رہی ہیں کہ وہ بے یقینی کا شکار ہے اور زوال کی طرف مائل ہے۔ بھارتی انتخابات کی پیچیدگی دراصل کوئی پیش گوئی کرنے کے قابل نہیں رکھتی۔ سات مراحل میں لمحہ بہ لمحہ اپنے انجام کی طرف بڑھتے ہوئے انتخابات میں اگر یہ کہا جائے کہ مودی جیت نہیں رہے ہیں تو تب بھی یہی بات ہے اور اگر کہا جائے کہ مودی ہار رہے ہیں شاید تو تب بھی یہ ہی بات ہے کہ فکر مندی اس کے لب ولہجہ اور ماتھا شکنی سے عیاں ہے۔ اب مودی میں وہ چرب زنی اور تیزطراری نہیں آتی جو الیکشن سے قبل یا الیکشن کے شروع میں تھی لیکن بھارت کا اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟ کیا راہول گاندھی؟ لیکن کیا وہ 272 نشستیں جیت سکے گا یا اپنے ساتھ کچھ جماعتوں کو ملا کر حکومت تشکیل دے گا جب کہ مقابلے پر اور بھی بہت سے اُمیدوار ہیں مثلاً مغربی بنگال کی ٹائیکون ”ممتابینرجی“ بھی کافی مضبوط دکھائی دیتی ہیں۔ یوپی (اُترپردیش) کی مایاوتی نے بھی خود کو ابھی تک ناقابل شکست دکھایا ہے جبکہ چندرشیکھرراﺅ (تلنگانہ کے وزیراعلیٰ) بھی وزارت عظمیٰ کی لائن کے نمایاں اُمیدواروں میں شامل ہیں۔ ایک اور سوال اُٹھ رہا ہے کیا RSS اور مودی میں اختلافات پیدا ہو چکے ہیں؟ کیونکہ الیکشن سے پہلے اور آغاز سے ہی یہ دیکھنے میں آیا کہ راشٹریہ سوائم سیوک اور بھاجپا میں وہ گرمی دکھائی نہیں دیتی جو پہلے تھی۔ کیا اس کی وجہ کابینہ کے وزیر ”نیتن گڈکری“ تو نہیں ہیں؟ یا راشٹریہ سوائم سیوک (RSS) نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ”مائنس مودی“ کے فارمولے پر عمل کیا جائے اور مودی کی جگہ نیتن گڈکری کو دی جائے۔ ایسی صورت میں راشٹریہ الیکشن کے بعد کی صورتحال کی منتظر رہے گی اور گڈکری کو لانے کے لیے اپنے جیتے ہوئے اُمیدواروں کو بھاجپا کی جھولی میں ڈال دے گی۔ سوال پھر اُٹھتا ہے کہ کیا بھاجپا پھر سے حکومت سازی کے لیے پُرامید ہے؟ لیکن ”مائنس مودی“ فارمولے پر بھی بڑی شد ومد سے کام ہو رہا ہے۔ کانگریس کی جیت کے لیے ممکنہ سیٹوں تک رسائی نہ ہونا کانگریس کی بدقسمتی ہو گی اور کہا جا سکتا ہے کہ کانگریس الیکشن کو پوری طرح سنبھال نہیں سکی۔ اگر مایاوتی اور ممتابینرجی راہول کے ساتھ مل جائیں تو پوزیشن کافی مضبوط ہو سکتی ہے۔

48سالہ راہول گاندھی، نہرو اور گاندھی خاندان کا چشم وچراغ ہے اور کچھ پارٹیوں کے ساتھ الحاق کر کے اگلا وزیراعظم بننے کا خواہش مند بھی ہے جبکہ تجزیہ کار مودی کے بہت کم مارجن سے جیتنے کی خبر بھی دے رہے ہیں تاہم یہ سب قبل ازوقت باتیں ہیں جس میں 7 ریاستوں کی 59 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل ہوا۔ سات ریاستوں میں ہریانہ، بہار، جھاڑکھنڈ، مدھیہ پردیش، اُترپردیش، نئی دہلی، مغربی بنگال جبکہ آخری مرحلہ میں آج 19مئی کو 8 ریاستوں کی 59 نشستوں پر ہونے والی ووٹنگ ہے۔ ان ریاستوں میں ہماچل پردیش، اُترپردیش، جھاڑکھنڈ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، پنجاب، مغربی بنگال، بہار شامل تھیں۔ پانچویں مرحلے تک ووٹرز کا ٹرن آﺅٹ تقریباً 67% رہا تھا۔ 2014ءمیں بھی تقریباً اتنا ہی تھا۔ ملک بھر کے ایک ملین پولنگ سٹیشن پر 900 ملین رجسٹرڈ ووٹرز ووٹ ڈالیں گے جبکہ 2354 سیاسی پارٹیاں میدان میں ہیں۔ بھاجپا کی جیت کی صورت میں گڈکری یا مودی جبکہ دوسری راہول، ممتابینرجی اور مایاوتی، عوام کی طرف سے آج فیصلہ ہو جائے گا جب کہ جوڑ توڑ کا سلسلہ ابھی باقی ہے۔

میڈیا پولزہوں یا مبصرین کے تجزیہ وہ سب باور کراتے ہیں کہ اس مرتبہ مقابلہ کانٹے دار ہے۔ گزشتہ عام الیکشن کے برعکس نریندر مودی کی بھارتیہ جنتاپارٹی کے واضح اکثریت حاصل کرنے کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امکان ہے کہ وہ گزشتہ الیکشن میں حاصل کردہ نشستوں میں سے نوے کے لگ بھگ کھو دے گی۔ نہرو خاندان کے وارث راہول گاندھی نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اور خاص کر حالیہ چند ماہ کے دوران اپنے آپ کو ایک اعتدال پسند اور اقلیتوں کے ہمدرد لیڈر کے طور پر منوایا ہے۔ کانگریس نے جو منشور پیش کیا وہ بی جے پی کے برعکس متوازن اور ایک لبرل پارٹی کے شایان شان نظرآتا ہے۔ بی جے پی اپنی الیکشن مہم میں اس مرتبہ ترقی، خوشحالی اور روزگار کی فراہمی کے خوش نما وعدوں کو گھول کر گئی۔ اس کے برعکس بی جے پی کی لیڈر شپ نے نیشنل سیکورٹی اور خاص کر پاکستان اور کشمیری حریت پسندوں کو تنقید کے نشانے پر رکھا۔ سارا زور پاکستان کو نشانہ عبرت بنانے پر رکھا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ خود وزیراعظم مودی کا لب ولہجہ محض جارہانہ نہیں بلکہ لشکرانہ رہا۔چنانچہ شہہ پاکر دیگر بی جے پی لیڈروں نے بھی خوب ہرزہ سرائی کی۔کانگریس اور دیگر علاقائی جماعتوں خاص کر سماج وادی پارٹی، عام آدمی پارٹی، کمیونسٹ پارٹی ، ترنمول کانگریس آف بنگال، اور بہوجن سماج پارٹی جیسی طاقتور مگر علاقائی جماعتوں نے بی جے پی کے طرز سیاست کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سیکورٹی فورسز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کا بھی اس پر الزام لگایاگیا۔ بدقسمتی کے ساتھ یہ جماعتیں کانگریس کیساتھ قبل از الیکشن کوئی اتحاد تشکیل نہ دے پائیں۔ان کا ووٹ تقسیم ہونے اور بی جے پی کو فائد ہونے کا اندیشہ ہے۔

سارے بھارت میں دس ریاستیں اور یونین ٹیریرٹوریز ایسی ہیں جنہیں ہندی بلٹ کہا جاتا ہے۔ بہار، مدھیہ پردیش، راجھستان اور اترپردیش جیسی بڑی ریاستیں بھی ان میں شامل ہیں۔ امکان ہے کہ اترپردیش کو چھوڑ کر باقی ریاستوں میں بی جے پی نمایاں برتری حاصل کر لے گی۔اس کے برعکس جنوبی اور مشرقی انڈیا کی ریاستوں میں کانگریس اور علاقائی جماعتوں کو عدی برتری حاصل ہونے کا امکان ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مرتبہ مسلمانوں کا ووٹ بینک الیکشن مہم میں کم ہی زیر بحث آیا۔ بی جے پی کی لیڈر شپ تو رونا روتی ہے کہ کانگریس کی حکومتوں نے مسلمانوں کی خاطر اکثریتی آبادی یعنی ہندووں کو جائز حقوق نہیں دیئے۔ دیگر جماعتیں بھی بی جے پی کے خوف سے مسلمانوں کو اگلی صفوں میں جگہ دینے کو تیار نہیں۔ اترپردیش میں چار کروڑ مسلمان آباد ہیں لیکن سیاسی جماعتیں انہیں الیکشن کے معرکے میں اتارنے سے کتراتی رہیں۔کہا جاتا ہے کہ اب کی بار بھارتی مسلمان کسی ایک جماعت یا شخصیت کی حمایت کرنے کے بجائے اپنے مقامی مفادات کے مطابق ووٹ کرتا رہا۔ یہ طرزعمل زیادہ دانشمندانہ فیصلہ نظر آتاہے۔ جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے وہاں کی تین نشستوں پر الیکشن کو ایک ناکام مشق قرار دیا جا سکتاہے۔ کچھ علاقوں بالخصوص ترال، پلوامہ اورشوپیاں میں ڈھائی فی صد ووٹ پڑے۔ عمومی طور پر کل اٹھارہ فی صد ووٹنگ ہوئی۔سمجھ نہیں آتی کہ اس قدر کم ووٹ حاصل کرنے کے بعد بھی لوگ پارلیمنٹ میں جا کر عوامی نمائندگی کا دعویٰ کس منہ سے کرتے ہیں۔ امکان ہے کہ بی جے پی بمشکل سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر اُبھرے گی۔

٭٭٭


ای پیپر