آئی ایم ایف یاترا اور ملکی معیشت
22 May 2019 (22:00) 2019-05-22

کیا عالمی مالیاتی ادارے سے قرض لینے کا عمل آخری ثابت ہوگا؟

نعیم سلہری

ہر حکومت کو مالیاتی امور چلانے کے لئے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے، یہ پیسہ ٹیکسز اور دیگر قومی وسائل و ذرائع کے علاوہ قرض کی صورت میں حاصل کیا جاتا ہے۔ قرض کے لئے عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے رجوع کیا جاتا ہے۔ یہ مالیاتی ادارے قرض دینے کے ساتھ کچھ شرائط بھی عائد کرتے ہیں جن پر عمل درآمد یقینی بنانا قرض لینے والے ملک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسی طرح کے معاملات پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چلتے ہیں۔ اور اب بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا قرض دینے کے ساتھ سخت شرائط عائد کی ہیں۔

حکومت سنبھالنے سے پہلے اور فوری بعد جب موجودہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گی یا اُن کی ترجیحات میں یہ شامل نہیں تو آئی ایم ایف نے پراسرار خاموشی قائم کیے رکھی۔ ویٹ اینڈ واچ کی پالیسی کے بعد جب دوست ممالک سے پاکستان کو فوری طور پرخاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی توآئی ایم ایف نے پہلے سے زائد تگڑی شرائط پر پاکستان کو قرض سے نوازنے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دینے میں احتیاط سے کام لے۔ لہٰذاآئی ایم ایف نے قرض فراہم کرنے سے پہلے ہی اپنی شرائط منوانے کا فیصلہ کر لیا۔ حکومت ان شرائط کو پیشگی تسلیم اور لاگو کرتی رہی جن میں بجلی، سوئی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے لے کر مختلف سبسڈیز کے خاتمے تک تمام شرائط کو من و عن لاگو کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جیسے تیسے کر کے عوامی تنقید کے جلال کا سامنا کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ڈالر کی قدر میں بھی اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ عوامی اور سنجیدہ حلقوں کو حیرت اس بات پر ہوئی کہ ان تمام شرائط کے باوجود قرض نہیں ملا اور پھر خبر آئی کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو نئی شرائط پر قرضہ دینے کی منظوری دے دی۔ جس کے تحت پاکستان کو 6 ارب ڈالر ملیں گے۔ اس شرط کے تحت پاکستان روپے کی قدر کنٹرول کرنے کی پالیسی ترک کرے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کا تعین مارکیٹ خود کرے اور حکومت نئی ایکسچینج ریٹ پالیسی کا باقاعدہ اعلان بھی کرے تاکہ مارکیٹ میں ابہام ختم ہو۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہوا تو ڈالر 160سے 180روپے تک چلا جائے گا جو حکومت کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اب موجودہ حکومت کے برعکس سابقہ حکومتوں کو فوری قرضہ ملنے کی دوہی وجوہات رہ جاتی ہیں کہ یا تو سابقہ حکومتیں فوری طور پر آئی ایم ایف کے سامنے سرخم تسلیم کر لیتی تھیں یا اُن کا مکمل دارومدار ہی آئی ایم ایف پر ہوتا تھا۔ جبکہ اس کے برخلاف موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط میں نرمی بھی چاہی اور ساتھ دوست ممالک سے بھی رابطے میں رہی۔

وجوہات کچھ بھی ہوں مگر عمران خان کی حکومت ہر حوالے سے سخت دباﺅ کا شکار ہے اور اسے شائد صحیح طرح سے یہ واضع کرنے میں بھی دشواری ہو رہی ہے کہ موجودہ حالات کے اصل ذمہ دار وہ نہیں بلکہ سابقہ حکومتیں ہیں جو اپنے دور حکومت میں ایک ایک نہیں بلکہ 3،3 بیل آﺅٹ پیکج لیا کرتی تھیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ جب پی پی دور حکومت میں جب شوکت ترین وزیر خزانہ تھے، انہوں نے فوری طور پر اس وقت کے 8.6 فیصد جاری کھاتے کے خسارے سے نمٹنے کیلئے مقامی طور پر تیارکردہ منصوبہ نافذ کیا۔ وہ خاصا کڑا وقت تھا کیوںکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 147ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ تاہم شوکت ترین جولائی 2008ءمیں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ بنے اور ستمبر 2008ءمیں آئی ایم ایف سے معاملات طے کئے ، آئی ایم ایف کی مکمل شرائط سے اکتفاءبھی کیا اور 5 ارب ڈالر بھی وصول کیے اس کے بعد 2013ءکے انتخابات جیتنے کے بعد اسحاق ڈار نے 7 جون کو وزیرخزانہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور فوری طور پر عملی اقدامات لینے کیلئے ایک دن اور دو راتیں وزارت خزانہ میں گزاریں، جس کے بعد وہ 12جون کو وفاقی بجٹ لے کر آگئے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حوالے سے انہوں نے 19اقدامات کا اعلان کیا تاکہ بیل آوٹ پیکیج لیا جا سکے۔ اسحاق ڈار نے بھی مختصر عرصے میں 4 جولائی 2013ءکو 6.4 ارب ڈالر کا بیل آوٹ پیکج لینے میں ”کامیاب“ رہے۔ کامیاب اس حوالے سے کہ انہوں نے بھی قرض لیتے وقت آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے چوں چراں سے کام نہ لیا۔ اور وکٹری کا نشان بنا کر آئی ایم ایف کے آفس سے باہر نکلے جیسے کشمیر فتح کرنے کا اعلان کر کے آرہے ہوں۔اس کے بعد بھی سابقہ حکومت نے جیسے ہی دوبارہ آئی ایم ایف سے رجوع کیا انہیں فوری قرضہ نصیب ہوا۔

اور ویسے بھی بین الاقوامی قوانین کے مطابق آئی ایم ایف ان ممالک کو قرضہ دینے کا پابند ہے جو اس کے پلیٹ فارم پر آتے ہیں۔ اس مالیاتی ادارے کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ 1930ءکے معاشی مسائل اور اس کے بعد دوسری جنگ عظیم نے یورپی ممالک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا۔ خصوصاً جنگ کے اخراجات کی وجہ سے ان کا ادائیگیوں کا توازن بہت بگڑ گیا۔ جس کے بعد بنک بریٹن ووڈز کا معاہدہ جو 1945ءمیں ہوا۔ اس کے مطابق ایک ایسے ادارہ کی ضرورت تھی جو دنیا کے لیے ایک نیا اور پراعتماد مالیاتی نظام تشکیل دے۔ ان ممالک کی مدد کرے جو توازنِ ادائیگی کے مسائل کا شکار ہیں۔ ارکان ممالک کی زر مبادلہ کی شرح کا درست تعین کرنا اور اس کے لیے ایک نظام وضع کرے۔ چنانچہ دسمبر 1945ءمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایک ایف )کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد ورلڈ بنک بھی بنایا گیا مگر ورلڈ بنک ہمیشہ کسی پراجیکٹ پر پیسہ لگانے کے لیے قرض فراہم کرتا ہے۔ ابتدا میں اس کے 29 ارکان تھے جن میں کیوبا شامل تھا جو بعد میں نکل گیا۔ جبکہ آج اس کے ممبر ممالک کی تعداد 186کے قریب ہے۔

خیر پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان تعلق کوئی نئی بات نہیں، دونوں ایک دوسرے سے سال 1958ءسے جڑے ہیں، اس دوران دونوں کے مابین 21 بار قرضوں کے لین دین کے معاہدے ہوئے۔ پاکستان 1980ءکی دہائی کے اواخر سے اب تک کئی بار آئی ایم ایف سے قرضے لے چکا ہے۔ پاکستان نے برسہا برس آئی ایم ایف سے قرض لیا اورہر آنے والی حکومت نے اس قرض کا مزہ چکھا ہے، سوائے جنرل ضیا الحق کے دور حکومت کے، کیوں کہ اس زمانے میں افغان جنگ کی وجہ سے ملک میں ڈالر کی اتنی ریل پیل تھی کہ انہیں قرض لینے کی کچھ خاص ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ آخری مرتبہ یہ قرضے سال 2018ءمیں لیے گئے تھے۔1958ءسے 1977ءتک چند لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا۔ 1980ءمیں 1.3ارب ڈالر،1981ءمیں 1ارب ڈالر، 1988ءمیں 70کروڑ ڈالر، 1993ءمیں 30کروڑ ڈالر، 1994ءمیں1.2ارب ڈالر، 1995ءمیں 60 کروڑ ڈالر، 1997ءمیں 1.1ارب ڈالر، 2000ءمیں 50کروڑ ڈالر، 2001ءمیں 1ارب ڈالر، 2008ء8ارب ڈالر جب کہ 2013ءسے2018ءتک 17ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا۔ آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضوں کی واپسی کیلئے ساڑھے تین سے پانچ سال کا ہدف مقرر کیا جاتا ہے، جس کے تحت چھوٹے اور درمیانی درجے کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرضے کی فراہمی کیلئے تین سال کی مدت دی جاتی ہے، تاہم 12 سے 18 ماہ میں ہی قرضہ فراہم کر دیا جاتا ہے۔

بہرکیف پاکستان کو سابقہ حکمرانوں نے ایسے عالمی مالیاتی چنگل میں پھنسا دیا ہے جہاں سے اُس کا نکلنا ناممکن نظر آتا ہے، اسے پاکستان کا شوق سمجھ لیں یا مجبوری لیکن جس ملک میں آئی ایم ایف کا پروگرام جاری ہو وہاں انویسٹر بھی آتے ہیں کیوں کہ وہ آئی ایم ایف کو ”گارنٹی“ سمجھتے ہیں۔ لیکن آج حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ مالیاتی ادارہ ہمارے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ اور یہ دنیا کا اصول ہے کہ قرض دینے میں شرائط صرف دینے والے اور اوپر والے ہاتھ کی ہوتی ہیں نیچے والا ہاتھ تو حالات سے مجبور ہوتا ہے اور مجبور ی کی کوئی شرط نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو اس کی پرکاہ برابر اہمیت نہیں ہوتی۔ اس کھینچا تانی میں شرائط تو آئی ایم یف ہی کی تھیں اور حکومت ان شرائط کو نرم کرانے کے لیے کوشاں رہی ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت کی اہم ترین کاوش بھی ہے۔ کیوں کہ پاکستان کی ماضی میں ریت رسم تو یہ تھی کہ قرض کی ایک اور قسط سے ماضی کے قرض کی قسطیں ادا کی جاتی تھیں۔ اس طرح ملک قرض در قرض کے گھن چکر کا شکار تھا۔ حد تو یہ کہ اب ہر بچہ مقروض پیدا ہوتا تھا۔ گویا معصوم نسلوں کو بھی ناکردہ جرم کی سزا مل رہی تھی۔ قرض کے پیسوں سے بڑے بڑے منصوبے لگ رہے تھے، عیاشیاں اور اللے تللے جاری تھے۔ غیر ترقیاتی اخراجات کے نام پر جاری عیاشیاں اسی قرض سے چل رہی تھیں۔ آئی ایم ایف بھی ہماری ان حرکتوں سے تنگ آچکا تھا۔ رہی سہی کسر سی پیک نے پوری کر دی تھی۔ مغربی ممالک کی آنکھوں میں یہ منصوبہ خار کی طرح کھٹک رہا ہے اور اس منصوبے کی وجہ سے مغربی ملکوں کا رویہ سخت سے سخت تر ہو رہا تھا چوں کہ عالمی مالیاتی ادارے مغربی ممالک بالخصوص امریکا کے زیر اثر ہیں اس لیے یہ ادارے کچھ اور ناز نخرے دکھانے لگے ہیں اس لیے ہمیں ہر طرف دیکھ کر چلنا ہو گا، عالمی لابنگ کا بھی حصہ بنناپڑے گا۔

گویا نئے مالیاتی پیکج ملنے کے بعد مہنگائی کا ایک اور جن مئی جون میں عوام کو دبوچنے کو تیار بیٹھا ہے۔ آئی ایم ایف کی اس قسط سے قومی معیشت کو ایک اور نشہ آور انجکشن لگ جائے گا۔ وقتی طور پر جاں بہ لب مریض کو اس سے قرار بھی آجائے گا مگر مرض اپنی جگہ موجود رہے گا۔ حکومت یقین کے ساتھ باربار اسے آخری بیل آو¿ٹ پیکیج قرار دے رہی ہے مگر اس دعوے اور عملی حقیقت میں صدیوں کا فاصلہ ہے۔ برآمدات بڑھائے اور درآمدات کم کیے بغیر اور ٹیکس دہندگان کا دائرہ وسیع کیے بغیر یہ دعویٰ عملی شکل میں ڈھلتا نظر نہیں آتا۔ اس لیے فی الحال آئی ایم ایف پیکج شوق سے زیادہ زیادہ مجبوری بن چکا ہے جس کے بغیر شاید گزارہ بھی نہیں!

شوق ہو یا مجبوری، اب جب کہ ایک بار پھر پاکستان آئی ایم ایف سے قرض لے چکا ہے تو اسے آئندہ کے لئے ایسی حکمت عملی اپنانی چاہئے جو ہمیں اس قابل بنا دے کہ ملکی معاملات چلانے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کی ضرورت نہ پڑے۔ حکومت وقت اس بات کا بارہا عندیہ دے چکی ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کا یہ عمل آخری ثابت ہوگا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو کیونکہ قرض پر پلنے اور چلنے والا ملک یا انسان کبھی بھی خود محتار یا خوشحال نہیں ہو سکتا۔


ای پیپر