قرآن و رمضان کی شفاعت
22 May 2019 (21:58) 2019-05-22

نبی کریم نے فرمایا”مجھے یہ پسند ہے کہ سورہ الملک ہر مومن کے دل میں

حافظ غلام فرید

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ حضور نبی کریم نے فرمایا:”روزے اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت فرمائیں گے۔ روزے کہیں گے: اے رب کریم! میں نے اس بندے کو رمضان کے دنوں میں، کھانے پینے اور خواہشات کی تسکین سے روکا، اس لئے اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ قرآن پاک کہے گا: میں نے اسے رات کو سونے سے روکا، اس لئے اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی“۔ (مشکوة)

قبر و حشر میں نماز، روزہ، حج، زکوة، صدقات و خیرات، ذکر و تلاوت، صبر و شکر، تبلیغ دین، روحانی رہنمائی، فلاحی کام اور دوسرے ”اعمال خیر“ سب اپنی اپنی نوعیت کے مطابق، حسن و جمال، روشنی، خوشبو اور ایسی نعمتوں اور دلکش آسائشوں کا روپ دھار لیں گے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ ان کے اجرو ثواب کی معنوی صورت ہو گی۔ قبر میں اور قیامت کے دن یہی اعمال، طاقت ور نورانی پیکروں میں ڈھل جائیں گے اور اس بندے کی بھرپور مدد فرمائیں گے، جو ان کا عامل و پابند رہا ہو گا اور اس نے حقوق و آداب کے ساتھ یہ فرائض ادا کئے ہوں گے، یہ مددگار اعمال اپنی قوت و سطوت، محبوبیت و مقبولیت اور بے پناہ اہمیت کی وجہ سے ہر مشکل اور نازک مرحلے پر بندے کی شفاعت و حمایت اور مکمل دفاع کریں گے تاآنکہ اسے نجات دلادیں گے، خصوصاً قرآن اور رمضان کی شفاعت بڑی ہی زبردست اور حیرت انگیز ہو گی۔ قرآن اور رمضان کی شفاعت کا انداز کتنا پیار بھرا اور زور دار ہوگا، احادیث میں اس کی ایمان افروز تفصیلات اس طرح ہیں:

سورہ السجدہ کی شفاعت

اکیسویں پارے کی سورہ ”الم تنزیل السجدہ“ کی ابتدائی چودہ آیات کے بعد پندرہویں آیت ”آیت سجدہ“ ہے، اس کے بعد پھر چودہ آیات ہیں۔ حضور نبی کریم نے اس کی خصوصیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”بے شک یہ سورہ قبر میں، اپنے ساتھی کے لئے باقاعدہ جھگڑتی ہے اور اس کی حمایت کرتے ہوئے کہتی ہے: اے اللہ! اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو اس بندے کے بارے میں میری شفاعت ضرور منظور فرما اور اگر میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں، تو مجھے اس میں سے نکال دے“۔

ظاہر ہے یہ سورت قرآن پاک ہی کا ایک حصہ ہے، اسے اس میں سے خارج کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لئے مطلب یہ ہے کہ چونکہ میں قطعی طور پر قرآن پاک کا ایک حصہ ہوں اور یہ بندہ میری تلاوت کرتا رہا ہے، اس لئے اسے اجر عظیم عطا فرما اور اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ چنانچہ اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

حضرت خالد بن معدان ؓ فرماتے ہیں: ”نجات دینے والی سورت پڑھا کرو اور وہ ”الم تنزیل“ ہے۔ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ ایک شخص اس کی تلاوت کیا کرتا تھا اس کے سوا اور کچھ نہیں پڑھتا تھا۔ حد سے زیادہ گناہگار بھی تھا مگر اس سورت نے اسے اپنی حفاظت وپناہ میں لے لیا اور اللہ کی بارگاہ میں دُعا کی: اے میرے رب: اسے بخش دے، کیونکہ یہ کثرت سے میری تلاوت کیا کرتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی شفاعت قبول فرمائی اور فرشتوں کو حکم دیا: ”اس کے ہر گناہ کی جگہ نیکی لکھ دو اور درجات بلند کردو“۔

”سورہ الملک“ کی اہمیت و شفاعت

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم نے ”سورہ الملک“ کی اہمیت اس طرح واضح فرمائی ہے۔ وددت ان تبارک الذی بیدہ الملک فی قلب کل مومن۔”مجھے یہ پسند ہے کہ سورہ الملک ہر مومن کے دل میں ہو“۔ یعنی ہر کوئی اسے زبانی یاد کرے اور کثرت سے پڑھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں: ”بے شک قرآن میں ایک سورت ہے، جس کی تیس آیات ہیں اس نے ایک شخص کی شفاعت کی (تو اس کی شفاعت قبول کی گئی) اور اس شخص کو بخش دیا گیا۔ وہ سورہ الملک ہے“۔

قبر میں اعمالِ صالحہ کی مدد

حضرت کعب ؓ کی روایت ہے: تمام ارکان اسلام نماز، روزہ، حج، جہاد، زکوة و صدقات قبر میں آنے والے کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں اور اپنی حفاظت میں لے کر اس کا مکمل دفاع کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ عذاب کے فرشتوں کو اس کے قریب نہیں آنے دیتے۔ اگر سر کی طرف سے آئیں، تو رمضان اس کا دفاع کرتا ہے اور فرشتوں سے کہتا ہے: اس شخص نے اللہ کی رضا کے لئے بہت بھوک پیاس برداشت کی ہے، اس لئے تم اس سے کوئی تعرض نہ کرو۔ اگر پاﺅں کی طرف سے آئیں تو نماز اس کا دفاع کرتی ہے اور کہتی ہے یہ نماز کے لئے چل کر آتا اور قیام کرتا تھا، اس لئے تم اسے کچھ نہ کہو۔ اگر ہاتھوں کی طرف سے آئیں تو صدقات اس کا دفاع کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ شخص غرباءو مساکین پر دونوں ہاتھوں سے دولت نچھاور کیا کرتا تھا اور اللہ کی رضا کے لئے ان کی ضروریات کا خیال رکھتا تھا اس لئے تم اس سے درگزر کرو۔ اگر وہ جسم کے کسی اور حصے کی طرف سے آئیں تو حج اور جہاد ان کا راستہ روکتے ہیں اور کہتے ہیں، اس نے راہ خدا میں بہت مشقتیں اٹھائیں، اللہ کی رضا کے لئے اپنے جسم کی توانائیوں کو خرچ کیا۔ اس لئے تم اس کا خیال چھوڑ دو، ہم تمہیں اس کے قریب نہیں جانے دیں گے۔

فرشتے خوش ہو کر، کہتے ہیں، تو کتنا خوش نصیب ہے۔”تجھے مبارک ہو، تو زندگی میں بھی کامیاب تھا اور اب مرنے کے بعد بھی کامیاب ہے“۔ ”اللہ تیری اس آخری آرامگاہ کو بابرکت بنائے، یہاں تجھے کتنے اچھے اور مہربان ساتھی نصیب ہوئے ہیں، جو بہترین مددگار ہیں“۔

سورہ البقرہ اور آل عمران

میدان قیامت میں سورہ السجدہ کی طرح، سورہ البقرہ شریف اور آل عمران بھی ان خوش نصیبوں کے آرام و سکون کا خیال رکھیں گی جنہوں نے دنیا میں ان کی تلاوت کی ہو گی، سب جانتے ہیں میدان حشر کی گرمی برداشت سے باہر ہو گی، جس میں سائے کے لئے لوگ ترسیں گے، مگر شدت کی گرمی اور تیز دھوپ سے بچاﺅ کے لئے کوئی سائبان اور کوئی گھنا بادل میسر نہیں ہو گا۔ اس عالم میں یہ دونوں سورتیں، گہرے اور گھنے بادل کا روپ دھار لیں گی، یا پرندوں کے غول میں تبدیل ہوجائیں گی اور اپنے ساتھیوں پر سایہ کریں گی۔

حضرت ابو امامہ ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا:”سورہ البقرہ اور آل عمران دو پُرنور سورتیں ہیں، انہیں پڑھو، کیونکہ یہ میدان میں اس طرح آئیں گی، گویا دو بادل ہیں، یا دو گھنے سائے ہیں جس میں روشنی موجود ہے، یا پرندوں کی دو ڈاریں ہیں، جو فضا میں صف بستہ ہیں اور ہوا میں تیر رہی ہیں۔ یہ اپنے ساتھی کی شفاعت اور دفاع کریں گے اور بخشوانے کے لئے فرشتوں سے باقاعدہ جھگڑیں گی اور عذاب سے بچائیں گی۔ بچانے اور دفاع کرنے کا انداز اتنا زبردست اور جارحانہ ہو گا کہ اس پر جھگڑنے کا گمان ہوگا“۔

روزے کی دفاعی طاقت

لڑائی جھگڑا اور دفاع و مقابلہ وہی کر سکتا ہے جس کے صحت مند جسم میں جان اور بازوﺅں میں تاب و تواں ہو اور وہ جم کر اپنے طاقت ور حریف کا سامنا کر سکتا ہو، جس کے بازوﺅں میں طاقت اور جسم میں جان نہ ہو، وہ کسی کا دفاع نہیں کر سکتا، پہلے واضح کر دیا گیا ہے کہ روزہ، قبر میں اور آخرت کے ہر مرحلے پر روزہ دار کی بھرپور مدد اور اس کا زبردست دفاع کرتا ہے، چونکہ دفاع وہی کر سکتا ہے جو خود طاقت ور ہو، اس لئے روزے کا طاقت ور ہونا ضروری ہے۔

اس کی طاقت مادی خوراک نہیں ہے، بلکہ اس کی طاقت یہ ہے کہ اسے روحانی آداب کے مطابق رکھا جائے اور اس کے جتنے حقوق ہیں، وہ خوش دلی سے ادا کئے جائیں، ایسا روزہ جب بارگاہ خداوندی میں پیش ہوتا ہے تو نہ صرف روزہ دار کی تعریف کرتا ہے، بلکہ اس کے لئے بخشش کا بھی طالب ہوتا ہے اور اس کے راستے میں حائل ہونے والی تمام شیطانی قوتوں کو شکست فاش دے دیتا ہے۔

جب روزہ بارگاہ خداوندی میں پیش کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے۔ کیا میرے بندے نے تیرا احترام کیا؟ اور تیرے حقوق ادا کئے؟ اگر روزہ دار نے صحیح روزہ رکھا ہو تو وہ ہاں میں جواب دیتا ہے اور عرض کرتا ہے، یا اللہ! اس نے میرا احترام کیا، نماز پڑھی، قرآن پاک کی تلاوت کی اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچایا، میں اس سے خوش ہوں تو بھی اسے خوشی عطا کر۔

٭٭٭


ای پیپر