اپوزیشن کی تحریک… مشتری ہوشیار باش
22 May 2019 2019-05-22

گزشتہ اتوار کے روز بلاول زرداری بھٹو کی دعوت افطار پر ملک بھر کی 11 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا اجتماع بلا شبہ متاثر کن تھا مگر پاکستان کی سیاسی اور معاشی گاڑی کو اس کی پٹری یا راہ راست پر لانے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو گا یا نہیں، اس کے بارے میں ظاہر ہے سر دست کچھ نہیں کہا جا سکتا… ابھی شروعات ہیں لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اپوزیشن کے اس اجتماع میں صرف ایک مریم نوازکی شرکت نے ایوان ہائے اقتدار میں تشویش کی لہر ابھار دی اور ملک بھر میں قومی و سیاسی امور پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کی توجہات کو بھی اپنی جانب مرکوز کرلیا… اسے ایک بڑا اور اثر انگیز اجتماع قرار دیا گیا جو آنے والے دنوں کی قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے… اگرچہ یہ پہلا قدم تھا اور اگلے کے طور پر مولانا فضل الرحمن کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ عید کے بعد کل جماعتی کانفرنس یا ’اے پی سی‘ بلائیں… جس میں حکومت کی خراب تر معاشی پالیسیوں اور بگڑتے سیاسی حالات پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا… دوران اجتماع ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے قائد نواز شریف کے بیانیہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ پر پورے عزم و ارادے کے ساتھ کھڑی ہے… اور یہ کہ ان کا مطمع نظر سویلین بالادستی کو یقینی بنانا ہے… چونکہ کسی اپوزیشن رہنما کی جانب سے اس نقطہ نظر سے اختلاف کا اظہار نہیں کیا گیا، اس لیے یہ سمجھنا غلط نہ ہو گا کہ اپوزیشن جماعتیں جو راہ عمل بھی اختیار کریں گی، اس میں سب کا ہدف ایک ہے… خواہ اسے ووٹ کو عزت دینا اور سویلین بالادستی کو یقینی بنانا کہا جائے یاآئین پاکستان کی حقیقی معنوں میں فرمانروائی اور اس کے تحت منتخب پارلیمنٹ کی حکمرانی سے تعبیر کیا جائے… اصل نکتہ ایک ہی ہو گا کہ عوام کو ان کا حق حکمرانی لوٹا دیا جائے… کوئی تیسری یا غیر آئینی قوت سامنے آ کر یا پس پردہ اپنے فیصلوں کو عوام یا ملک و قوم پر مسلط کرانے کی پوزیشن میں نہ رہے… ظاہر ہے پاکستان کے زمینی حقائق اور اس کی بدقسمت 70 سالہ تاریخ کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ آسان کام نہیں ہو گا… تاہم حکومت کی ناقص ترین اقتصادی پالیسیوں نے جس طرح عام آدمی کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے… روپے کی قیمت مسلسل گرنے کی وجہ سے اس کی قوت خرید میں روزانہ کے حساب سے کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں اوربڑھتی ہوئی بیروزگاری ان کی حرماں نصیبی میں اضافے کا باعث بنتی چلی جا رہی ہے… ان حالات میں غریب آدمی کیا متوسط طبقات میں بھی جو بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے… اس کے پیش نظر یہ اندازہ لگانا درست ہو گا کہ اپوزیشن جماعتیں مل کر صدائے احتجاج بلند کریں گی تو لوگ ان کی باتوں کو توجہ سے سنیں گے اور حالات کی بہتری کی خاطر ان کے ساتھ مل کر چلنے کو بھی تیار ہوں گے… اس لحاظ سے دیکھا جائے تو گزشتہ اتوار کو بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر اپوزیشن جماعتوں کا اکٹھے مل بیٹھنا قومی سیاست کے اندر حقیقی اور بامعنی تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے…

تاہم اس حقیقت نفس امری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کا اجتماع اور مشترکہ لائحہ عمل کے لیے ارادہ باندھنا اور ایسی تحریک برپا کرنا جو حکومت وقت کی چولیں ہلا کر رکھ دے پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا… ہماری ستر سالہ تاریخ کئی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے… جب اپوزیشن جماعتیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں… لیڈروں نے ایک دوسرے کے کندھے کے ساتھ کندھا ملایا اور حکومت وقت کے گلے سڑے نظام کی جڑیں اکھاڑ کر پھینک دینے کا ارادہ باندھا… بظاہر کامیابی ہوتی بھی نظر آئی… مگر اچانک اور آخری مرحلوں پر جبکہ دو چار ہاتھ لب بام رہ گیا تو اچانک تیسری قوت آگے بڑھی، اس نے اپوزیشن کی تمام تر کارروائیوں کو اپنے حق میں استعمال کیا … اس کی پکائی ہوئی دیگ پر مصالحہ چھڑکا اور اسے اچک لیا حکومت پر قبضہ جما لیا… ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک گول میز کانفرنس کی شکل میں حکومت اور اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس پر منتج ہوئی تو اپوزیشن لیڈروں میں سے دو ایک کی ہوس اقتدار نے اپنا رنگ دکھایا اور انتخابات کے نتائج آتے ہی ایک دوسرے سے منہ موڑ کر بیٹھ گئے … جنرل یحییٰ کا پاکستانی قوم و ملک کے لیے مہلک ترین مارشل لاء نافذ ہو گیا… نمازیں بخشوانے گئے تھے روزے مسلط کر دیئے گئے … اس کے بعد بھی تحریکیں چلیں خالصتاً آئین کی حکمرانی اور مکمل جمہوریت کی بحالی کی خاطر تحفہ میں ملے آٹھ دس اور گیارہ سالہ کی وہ آمریتیں جنہوں نے اپنے ناجائز اقتدار کو امریکہ کے پاس رہن رکھ کر ملک کے مسلمہ جمہوری اداروں کے ساتھ وہ کھلواڑ کیا کہ اب تک ہم اس کے اثرات میں جکڑے چلے آ رہے ہیں… اگر مارشل لاء یا براہ راست فوجی حکمرانی نہیں ہوتی تو نت نئے طریقوں کے مطابق پیچھے بیٹھ کر ڈوریاں ہلائی جاتی ہیں… ذوالفقار علی بھٹو نے 1977ء کے انتخابات میں مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی خاطر دھاندلی کا بازار گرم کیا کہ پاکستان قومی اتحاد کی نو جماعتی قیادت میں ملک کے لوگ بے اختیاری کے عالم میں احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آنکلے…ایسی تحریک چلی کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے انا پسند لیڈر کو عوامی مطالبے کے آگے سر جھکانا پڑا… ازسرنو انتخابات کے لئے مذاکرات ہوئے مگر قبل اس کے کہ یہ مفاہمت فیصلے کی شکل اختیار کرتی ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سب کچھ اکھاڑ کر رکھ دیا… لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی خاطر 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کا وعدہ کیا مگر 11 سالہ آمریت کا تحفہ دے کر خود ایک ہوائی حادثے کی نذر ہو گئے… جنرل پرویز مشرف کو 12 اکتوبر 1999ء کو شب خون مارنے کے لیے کسی عوامی تحریک کے کندھوں پر بھی سوار نہ ہونا پڑا… انہوں نے کارگل کی اپنی ناکام مہم جوئی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی چپقلش سے فائدہ اٹھایا اور منتخب وزیراعظم کو نکال کر جیل میں پھینکا… یہ ہیں ہمارے ملک میں چلائی جانے والی آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کی تحریکوں کے انجام کی کچھ جھلکیاں…

لہٰذا اب جو اپوزیشن جماعتیں ایک دفعہ پھر کمر کس کر میدان میں نکلنے کا ارادہ باندھ رہی ہیں، تو حفظ ماتقدم کے طور پر وہ تمام اقدامات کرنے ہوں گے، جن کے نتیجے میں پہلے کی سی صورت حال پیدا نہ ہو اور اگر جیسا کہ مختلف اپوزیشن لیڈروں نے ارادہ اور خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ از سر نو شفاف اور آزادانہ انتخابات کرا کر سلیکٹڈ کے بجائے عوام کا حقیقی معنوں میں منتخب کردہ وزیراعظم لانا چاہتی ہیں… انہیں نے پچھلے تمام تجربات اور غلطیوں کو پیش نظر رکھنا ہو گا تا کہ اس مرتبہ وہ تاریخ نہ دہرائی جائے کہ کھیرپکائی جتن سے آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا والی صورت حال پید اہو جائے لہٰذا مشتری ہوشیار باش … عید کے بعد مولانا فضل الرحمن کل جماعتی کانفرنس یا اے پی سی کا انعقاد کریں تو یہ امر اولین ترجیح کے طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ اپنی صفوں میں سے ہر اس گندے انڈے کو نکال باہر پھینکیں، جو کسی نہ کسی بہانے کی آڑ میں تیسری قوت کا ناٹک رچانے کی خاموش یا نظر آنے والی کوشش کر رہا ہو… یہ قوتیں اتنی تجربہ کار ہو چکی ہیں کہ انہیں آنکھوں میں دھول ڈالنے کے کئی کرتب آتے ہیں… سب پر نگاہ رکھنی ہو گی… یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ اصل مطمع نظر عمران خان یا اس کی جماعت سے ٹکر لینا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن کے اندر شفاف اور آزادانہ انتخابات منعقد ہوں اور اُن میں عمران خان اور ان کی تحریک انصاف بھی پوری سیاسی قوت کے ساتھ حصہ لیں اور اس بات کا موقع ملک کے عوام کو دیا جائے کہ وہ عمران خان کو قبول کرتے ہیں یا اُن کی جگہ کسی اور جماعت کی حکمرانی اور اس کا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں… فیصلہ لازماً بیلٹ بکس پر ہونا چاہیے… اگر اپوزیشن کی نئی تحریک جس کی بساط ابھی بچھائی جانے والی ہے، اس بات کا تہیہ کر لے کہ اس نے محض ایک حکومت کو گرانے کا شوق نہیں پورا کرنا بلکہ اس کی جگہ شفاف اور آزادانہ انتخابات کی کوکھ سے جنم لینے والی ایسی حکومت کو برسر اقتدار لانا ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا وہ عمران خان کی ہو یا کسی اور کی مگر وہ قدم قدم پر پارلیمنٹ سے رہنمائی حاصل کرے نہ کہ اسے کوئی ڈکٹیشن دینے والا ہو… تو صرف یہی امر ملک کی سیاسی قسمت کا پانسہ بدل کر رکھ سکتا ہے… اس وقت ہمارا ملک عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے… حکومت عمران خان کی ہے… اپنی اچھی بری کابینہ کے اجلاس کی صدارت وہ کرتے ہیں… لیکن دفاعی اور خارجہ امور پر فیصلے کوئی اور کرتا ہے جبکہ ملک کی اقتصادی رگ جاں مکمل طور پر آئی ایم ایف کے پنجے میں دے دی گئی ہے اور ہم تیزی سے اس مقام کی جانب بڑھتے چلے جا رہے ہیں جب خان بہادر کے پاس پروٹوکول انجوائے کرنے کے علاوہ کچھ باقی نہ رہے گا… اقتدار کا نشہ بلا شبہ بری چیز ہے، یہ آدمی کو سوچنے کے قابل نہیں رہنے دیتا لیکن میرے خیال میں خان بہادر کے قریبی مشیروں میں دو چار ایسے بالغ نظر اور دور کی نگاہ رکھنے والے ان کے اور پاکستان تحریک انصاف کے ہمدرد ضرور ہوں گے جو انہیں مشورہ دیں کہ قبل اس کے کہ اپوزیشن کی تحریک مکمل اٹھان لے لے اس کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالیں اور باہمی افہام و تفہیم سے ایسے نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کریں جو ملک کو اس مصیبت سے نجات دلانے میں مدد گار ثابت ہو جس میں اسے آج ڈال دیا گیا ہے… اور جہاں ہمارے وطن عزیز کو ایک نہیں کئی حکومتیں چلا رہی ہیں… عمران خان کا ایسا قدم انہیں بھی ایک بڑے جنجال سے چھٹکارا دلا سکتا ہے جس میں وہ مسلسل پھنستے جا رہے ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ ان کی مفاہمت پورے ملک اور عوام کو بھی کسی ایسی کھائی میں جا گرنے سے روک سکتی ہے جہاں سے نکلنا مشکل تر ہو جائے گا… یہ موقع ہے کہ اپوزیشن کی وہ قیادت جسے نئی جنریشن کہا جا رہا ہے،اور موجودہ حکومت جو اگر اپنی اور ملک دونوں کی بھلائی چاہتی ہے باہمی مل کر وطن عزیز کو حقیقی جمہوریت اور عوام کی قسمت کو بیرونی اداروں کے شکنجے سے نکال باہر لانے میں فیصلہ کن اقدامات کریں۔


ای پیپر