افطاری اتنی بھاری
22 May 2019 2019-05-22

اپوزیشن جماعتوں کی افطار پارٹی پر مزید لکھنے کا ارادہ نہ تھا۔ لیکن پھر کسی مہربان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی کچھ جھلکیاں سنا دیں۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس اب ہر منگل کو ہوتا ہے۔ بہت اچھی بات ہے۔ ایک بات کا کریڈٹ تو دینا پڑھتا ہے۔ قلمکار کے دل میں تعصب غالب آجائے تو ناانصافی کا احتمال رہتا ہے۔ کوشش رہتی ہے کہ ناپ تول پورا رہے۔ اور کہیں دانستہ یا نادانستہ ڈنڈی نہ ماری جائے۔ بات کسی اور طرف نکل جائے گی۔ عمران خان صاحب کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اب وفاقی کا بینہ کے اجلاس باقاعدگی سے ہوتے ہیں۔ایجنڈا بھی بہت بھاری ہوتا ہے۔ کبھی کبھی تو بیس سے زائد ایجنڈا آئٹم بھی نمٹائے جاتے ہیں۔ ورنہ گزشتہ دور میں تو کئی کئی ماہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے اجلاس ہی منعقد نہیں ہوا کرتے تھے۔ فیصلہ بالا ہی بالا ہوجایا کرتے۔ یہ اور بات ہے کہ بہرحال فیصلہ سازی کی رفتار بہت تیز ہوتی تھی۔ نواز شریف مزاجاً سرخ فیتے کی کارروائیوں سے چڑتے تھے۔ عمران خان بھی بیوروکرسی کے جکڑ بندیوں کو پسند نہیں کرتے۔ البتہ ضابطے اور قاعدے کی کارروائیوں سے انحراف نہیں کرتے۔ یہ اور بات ہے کئی ایسے فیصلے ہیں کہ کابینہ نے فیصلہ کیا لیکن اس پر عمل در آمد نہ کیا۔گیس کے بلوں کی مد میں اضافی چارجز لگائے گئے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا۔ وزیر اعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ اضافی بلوں کی رقم واپس کی جائے گی۔ کئی مہینے گزر گئے۔ وزیر اعظم کا فیصلہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بھی بلا جواز ہے۔ اعلان کیا گیا کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی لیکن وہ وعدہ وفا نہ ہوا۔ بہر حال منگل کے روز وفاقی کا بینہ کا اجلاس ہوا۔ پہلے ہفتہ کے روز پانچ نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا۔ پھر منگل کی صبح پانچ مزید ایجنڈا آئٹم جاری کیے گیے۔ بغور پڑھا کہ ضرور اس میں ڈالر کی بڑھتی قیمت پر تبادلہ خیال ہوگا۔ سٹیٹ بنک کے گورنر کو طلب کر کے سر زنش کی جائے گی۔ مہنگائی میں کمی کیلئے کوئی آوٹ آف باکس حل تلاش کیا جاے گا۔ عوام کو ریلیف دینے کی کوئی ترکیب سوچی جائے گی۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کا کوئی فارمولہ وضع کیا جاے گا۔ وفاقی بجٹ میں کمر توڑ مہنگائی سے نجات کا کوئی راستہ تلاش کیا جائے گا۔ لیکن ہم ایسوں کی مرادیں اتنی جلدی بر آئیں یہ کیسے ممکن ہے۔ دس نکات میں ایک بھی ایسا پوائنٹ نہ تھا۔ پھر سوچاایسا بھی ہوتا کہ سیکریسی کے نکتہ نظر سے دوران اجلاس خصوصی ایجنڈا آئٹم کے طور اہم چیزیں ڈال دی جاتی ہیں۔ اجلاس کے اختتام کا انتظار رہا۔ معمول کے تمام ایجنڈا آئٹم نمٹا دیے گئے۔ جو فیصلے ہوئے وہ بھی سنا دیئے گئے۔ لیکن کچھ معلوم نہ ہوا کہ آخر کئی گھنٹے کی میٹنگ میں کو ن سی تیر اندازی ہوئی۔ افطار میں ایک حکومتی کل پرزے سے ملاقات ہوگئی۔ کابینہ اجلاس کا احوال پوچھا تو فوراً مڑ آئے۔ بولے آج تو خوب لتے لئے۔ اپوزیشن پر خوب تنقید ہوئی۔ ساری ناکامیوں کی ذمہ دار اپوزیشن ہی تو ہے۔ ڈالر کی قیمت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور کرپشن۔ سب اپوزیشن کا قصور ہے۔ لہٰذا ہم نے اپوزیشن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ جتنی مرضی افطاریاں کرلے۔ دباو میں نہیں آئیں گے۔ ڈرتے عرض کیا کہ حکومتیں کام کیا کرتی ہیں۔ مقابلہ بازی نہیں۔ فورا بولے بھائی یہ فلسفے چھوڑو۔ اپنی تو یہی ڈیوٹی ہے کہ اپوزیشن کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔ پوچھا کہ آج کے اجلاس میں اپوزیشن کی افطاری کے علاوہ کیا ڈسکس ہوا۔ بولے اس افطاری کو کاونٹر کیسے کرنا ہے۔ موصوف افطار ڈنر سے فارغ ہوکر بولے ایک بات یاد رکھنا ہم نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔ دھرنوں اور احتجاج کا ہمیں بھی بڑا تجربہ ہے۔ موصوف تو چلے گئے ۔ لیکن بندہ ناچیز کو سوچ میں ڈال گئے۔ ہر روز ان گنت افطاریاں ہوتی ہیں۔اس بندہ ناچیز نے اب بارہ افطاریاں اٹینڈ کی ہیں۔ اس افطار ڈنر میں کیا بات ہے۔ ایسا کیا ہو گیا کہ ایک افطار ڈنر اتنی بڑی دبنگ حکومت اور اس کی کابینہ پر حاوی ہوگیا۔ بھاری پڑ گیا۔ ابھی تک جواب نہیں ملا۔


ای پیپر