ڈالر بائیکاٹ مہم میں ناکامی کی وجہ
22 May 2019 2019-05-22

روپے کی گرتی ہوئی قدر کے پیش نظر اس وقت ملک میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک ڈالر بائیکاٹ مہم چلائی جا رہی ہے مگر اس کے با وجود ڈالر کی قیمت میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ مہم وہ عام شہری چلا رہے ہیں جن کا ڈالر کی خرید و فروخت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ڈالر میں اضافے کے پیچھے مقامی طلب کے علاوہ پاکستانی کرنسی کی بین الاقوامی مارکیٹ میں Floatibility ہے ۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ جیسے ہی ڈالر مہنگا ہونا شروع ہوتا تھا تو سٹیٹ بینک اپنے ذخائر سے کافی مقدار میں ڈالر مقامی مارکیٹ میں لے آتے تھے جس سے بحران رک جاتا تھا بلکہ بڑھنے والی قیمت واپس آنا شروع ہو جاتی تھی مگر اب نئے قوانین کے مطابق سٹیٹ بینک اس میں مداخلت نہیں کرے گا اس لیے ڈالر کا ریٹ قابو سے باہر ہے۔

اگر پاکستانی عوام دیانت داری سے ڈالر کو نیچے لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی امپورٹ کم کرنا ہوں گی اس کی چند مثالیں ملاحظہ کریں۔ جب بھی آپ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوا رہے ہوتے ہیں تو یاد رکھیں آپ پٹرول کی مانگ میں اضافہ کرتے ہیں جو کہ بیرون ملک سے ڈالر کے عوض خریدا جاتا ہے گویا آپ ڈالر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اسی طرح چائے کا ہر ایک کپ پیتے وقت ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ چائے مکمل طور پر باہر سے در آمد ہو رہی ہے ۔ ہم اس کا استعمال جتنا زیادہ کریں گے ڈالر کو اتنا ہی فروغ ملے گا یہی حال ہمارے کچن میں استعمال ہونے والے کوکنگ آئل کا ہے۔ اسی طرح جب آپ نیا موبائل فون گاڑی یا موٹر سائیکل خریدتے ہیں تو وہ پیسہ بھی ڈالر کی شکل میں باہر جا رہا ہوتا ہے۔ ڈالر بائیکاٹ مہم 10-20 ڈالر کے نوٹ پکڑ کر کیمرا کے سامنے انہیں نذر آتش کرنے سے کامیاب نہیں ہو گی یہ محض ایک ڈرامہ ہے۔ پاکستان ہر سال 14 بلیئن ڈالر کا تو صرف پٹرول امپورٹ کرتا ہے۔

پاکستانی روپے پر اصل دبائو اس وجہ سے ہے کہ ہماری بر آمدات کم اور در آمدات زیادہ ہیں جب تک ان میں توازن نہیں آئے گا اصلاح احوال ممکن نہیں ہو گی ۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ موجودہ بحران کے دوران موقع پرست عناصر نے کرنسی مارکیٹ سے بڑی تعداد میں ڈالر خریدے ہیں جس سے مارکیٹ میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے ایک عام آدمی تو یہ نہیں کر سکتا اس میں زیادہ تر کرنسی ڈیلر ملوث ہیں جو اپنے سٹاک کو بیچنے پر آمادہ نہیں ہیں ان پر حکومت کا اختیار بھی نہیں ہے جب انٹر بینک میں ڈالر بڑھے گا تو ظاہر سے کرنسی مارکیٹ میں بھی اسی حساب سے اضافہ ہوتا جائے گا۔

اس ہفتے شرح سود میں 1.5 فیصد اضافہ کے ساتھ ملک میں مجموعی شرح سود 12.5 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ جو کہ ایک ریکارڈ ہے اس میں ملک میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی آئے گی اور معیشت مزید کساد بازاری کا شکار ہو گی۔ یاد رہے کہ جنوری 2018 ء میں شرح سود 8 فیصد تھی اور اس میں کمی بیشی 0.5 فیصد کے حساب سے ہوا کرتی تھی ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ بیک وقت ڈیڑھ فیصد اضافہ کیا گیا ہے اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ وقتی طور پر بینکنگ سیکٹر کو فائدہ ہو گا مگر طویل مدت میں بینک نقصان اٹھائیں گے کیونکہ اتنی بلند شرح پر عوام قرض نہیں لیں گے جس سے بینکوں کا کاروبار مندی کا شکار ہو جائے گا ۔ کاروبار ہمیشہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب کاروبار کرنے کے اخراجات کاروباری طبقے کے لیے مناسب ہوں۔ اب جو فرد ایک سال پہلے 8 فیصد سود پر قرضہ لینا تھا وہی رقم اب اسے 12.5 فیصد یا اس سے بھی زیادہ میں لینی پڑے گی تو اس کے لیے مشکلات میںاضافہ ہو گا۔ اس کے نتیجے میں سمال بزنس انڈسٹری تباہ ہو جائے گی۔ جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا اور عوام کی خریداری کی طاقت ختم ہو جائے گی۔ یہ پورا ایک ٹریڈ سائیکل ہے جو اگر سیدھا گھومتا ہے تو ملک ترقی کر رہا ہوتا ہے مگر یہی سائیکل جب الٹا چل پڑے تو اس سے ملک کو نقصان ہو گا اور معیشت بحال ہونے کی بجائے بد حال ہو جائے گی اور اگر ایک دفعہ اکانومی گر جائے تو اسے واپس اپنے مقام پر لانا بہت پیچیدہ اور سست رفتار ہوتا ہے۔ اس وقت آثار جو نظر آ رہے ہیں ان کے مطابق ہماری معیشت دن بدن نیچے جا رہی ہے۔

ڈالر کی ڈیمانڈ اور امپورٹ کے لیے ڈالر کی پاکستان سے باہر ترسیل کے سلسلے میں یہاں پر کریم ٹیکسی سروس کا ذکر کرنا مناسب ہو گا ۔ جب بھی آپ کریم ٹیکسی سروس میں سفر کرتے ہیں تو آپ کے 100 روپے میں سے 20 روپے پاکستان سے باہر چلے جاتے ہیں اسے آپ سرمائے کا فرار کہہ سکتے ہیں۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ کریم ٹیکسی سروس کے مالک کے پاس اپنی ایک بھی ٹیکسی نہیں ہے اس نے صرف ایک کمپیوٹر ایپ ایجاد کی ہے جس میں سواری اور ٹیکسی کے درمیان رابطہ کروانا ان کا کام ہے جس پر وہ 20 فیصد وصول کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کیوں انہیں پاکستان میں کاروبار کرنے کا لائیسنس دیا ہے۔ وجوہات پر غور کریں تو پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ بری طرح Under serviced ہے یعنی پاکستانی مہنگے داموں ناقص سروس حاصل کرنے پر مجبور تھے جس کی وجہ سے کریم کو اس قدر کامیابی ملی ہے۔ یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے کہ لاہور میں بعض دفعہ کریم ٹیکسی کا ر کا ریٹ آٹو رکشہ کے کرائے سے بھی کم ہے۔ اگر یہاں کی ٹرانسپورٹ سروس تسلی بخش اور مناسب قیمت ہوتی تو کریم کبھی بھی یہاں کامیاب نہ ہوتی۔ جتنے سفر میں عام آٹو رکشہ 200 سے 250 روپے کرایہ مانگتا ہے کریم آٹو رکشہ وہ سفر صرف 100 روپے میں مہیا کرتا ہے۔ اگر مقامی ٹرانسپورٹ اپنی جگہ صحیح کام کنا شروع کر دے تو کریم ٹیکسی والے دیوالیہ ہو کر یہاں سے نکل جائیں گے۔ مگر ایسا اس لیے ممکن نہیں کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ بہت بری طرح عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے بلکہ یہی حال رہا تو کریم یا Uber یا اس طرح کی کوئی ملٹی نیشنل کمپنی بین الاضلاعی سفر میں بھی اپنی خدمات لے آئے گی مثلاً لاہور اسلام آباد چلنے والی ڈائیو بسیں اس وقت دوگنے کرائے وصول کر رہی ہیں اگر کوئی اچھی کمپنی مارکیٹ میں آ گئی تو ان کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت جو تبدیلی کے نام پر بر سر اقتدار آئی ہے ابھی تک معاشی سرگرمیوں میں استحکام کا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے صرف 6 ارب ڈالر کے عوض سخت شرائط ماننے پر رضا مندی کی وجہ سے ملک میں معیار زندگی بہت زیادہ مہنگا ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جب تک ملک اندر سے مستحکم نہیں ہو گا پاکستان عالمی چیلنجزکا سامنا نہیں کر سکے گا ۔ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خطرات بڑھ چکے ہیں۔ امریکہ سعودی عرب اور اسرائیل ایران کو سبق سکھانا چاہتے ہیں ایران چونکہ افغانستان کی طرح پاکستان کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھتا ہے اس لیے اس جنگ کے اثرات سے پاکستان لازمی متاثر ہو گا اور یہ جنگ طویل ہو گئی تو پاکستان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گا۔

دوسری طرف اپوزیشن کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے جس کا نیب چیئر مین نے جواب دیا ہے کہ نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ احتساب کے معاملے پر ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے۔ تحریک انصاف یہ سمجھتی تھی کہ ہم منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر بھجوایا گیا پیسہ واپس لے آئیں گے مگر ابھی تک اس میں پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔اس میں حکومت بیک فٹ پر نظر آتی ہے۔ میاں نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل واپسی کے بعد ان کی خاموشی اور مریم نواز کی دوبارہ سیاسی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ معاملات طے پار رہے ہیں۔ اسی اثناء میں مریم نواز کی بلاول بھٹو کی افطار پارٹی میں شمولیت سب سے بڑا موضوع ہے۔ اس سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں میں اعلیٰ سطح پر جانشینی کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور پارٹی اقتدار اگلی نسل کو منتقل ہو چکا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان موجود ایک خاموش چارٹر آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہا ہے مگر کسی بھی وقت کوئی سرپرائز اس اتحاد کا راستہ روک سکتی ہے۔ پاکستانی سیاست کے بارے میں پیش گوئی بہت مشکل ہے۔


ای پیپر