برائلر کا فنڈا
22 May 2019 2019-05-22

یہ بات اس وقت شروع ہوئی جب میں نے گلشن راوی کے رمضان بازار میں اس امر کی نشاندہی کی کہ وہاں مختلف آئٹم عام بازاروں سے بھی مہنگے فروخت ہو رہے ہیں جیسے کہ تربوز شہر بھر میں پچیس سے 30روپے کلو مل رہا ہے مگررمضان بازار کا ریٹ 35روپے ہے، خربوزہ بھی اسی طرح پانچ سے دس روپے مہنگا ہے، دہی پھلکیوں کی بھلیاں 120روپے کلو مل رہی ہیں مگر رمضان بازار میں نرخ 160 روپے ہیں اور سب سے اہم معاملہ تو برائلر مرغی کے گوشت کے ساتھ ہے کہ اچھرے جیسے عام بازاروں میں اس کا ریٹ جس روز 200سے 220روپے فی کلو کے درمیان ہے تو ضلعی حکومت کا جاری کردہ نرخ نامہ 233روپے کلو کاہے اور دس روپے کی سب سڈی کے ساتھ 223روپے کلو رمضا ن بازار میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ میرے سامنے سٹال ہولڈر چیخ پڑے اور انہوں نے پاکستان برائلر ایسوسی ایشن کے ایک عہدے دار کا نام لے کر الزام عائد کیا کہ وہ انہیں ہول سیل میںمہنگا برائلر خریدنے پر مجبو ر کرتے ہیں اور اگر ان کی مرضی کا ریٹ نہ لگایا جائے تو وہ سٹال کینسل کرنے اور مقدمہ درج کروا کے گرفتار کروانے کی بھی دھمکی دیتے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ انہیں اس سلسلے میںحکومت کی پوری سرپرستی حاصل ہے۔

بتایا گیا کہ اس امر پر ضلعی حکومت نے برائلر ایسوسی ایشن کو طلب کیا، شکایت کرنے والے شخص سے حلف نامہ لیا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ رضا خورسند پاکستان برائلر ایسوسی ایشن کے سرپرست اور پرانے مہربان ہیں،ا نہوں نے شکوہ کیا کہ ان کاموقف بھی سامنے آنا چاہئے۔ رضا خورسند کے ساتھ مہربان چہرے والے چیئرمین برائلر ایسوسی ایشن پنجاب چودھری محمد نصرت طاہر،چیئرمین برائلر ونگ محمد عظمت چودھری اور پنجاب بھر کے تین سو سے زائد رمضا ن بازاروں کے کنوینر سردار تجمل بھی تھے۔ دلچسپ بات تو یہ معلوم ہوئی کہ پنجاب حکومت رمضان بازاروں میں برائلر گوشت پر ایک روپے کی بھی سب سڈی نہیں دے رہی بلکہ ضلعی حکومت کے جاری کردہ نرخ پر دس روپے کی رعایت خود ایسوسی ایشن دیتی ہیں یعنی حکومت دیتی کچھ نہیں صرف کریڈٹ لیتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ سب سے زیادہ سب سڈی پیاز اور اس کے بعد چینی پر ہے، چینی پر کیوں ہے اس کا سب کو علم ہے اور پیاز پر اتنی زیادہ سب سڈی کیوں ہے اس پر بعد بات میں کرتے ہیںکہ معاملہ اس وقت برائلر گوشت کا ہے جس کی فروخت اس وقت شہر میں بکرے کے گوشت سے دس سے بارہ گنا زیادہ جبکہ گائے کے گوشت سے پانچ سے چھ گنا زیادہ ہے۔ شہر کے رمضان بازاروں میں ایسوسی ایشن کے مطابق مٹن دو ہزار کلو، بیف چار ہزارکلو جبکہ چکن چوبیس ہزار کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ مٹن اتنا مہنگا ہو گیا کہ عام آدمی خرید ہی نہیں سکتا بلکہ مجھے تو ایسے بہت سارے محنت کش ملتے ہیں جو کہتے ہیںکہ وہ برائلر مرغی بھی نہیں خرید سکتے حالانکہ وہ مٹن کے مقابلے میں ایک چوتھائی سے بھی کم نرخوں پر دستیاب ہے۔ ایسوسی ایشن کہتی ہے کہ اس وقت فی کلو برائلر زندہ مرغ انہیں فارم پر 170روپے کلو پڑتا ہے مگر وہ مارکیٹ کمپی ٹیشن اور اسے محفوظ نہ رکھ سکنے کی وجہ سے ڈیڑھ سو روپے کلوزندہ سے بھی کچھ کم پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں یعنی گھاٹا کھا کر لوگوں کو چکن فراہم کر رہے ہیں۔

سوال رمضان بازار میں مہنگے چکن کا ہے تواس جواب کے دو پہلو ہیں، پہلا یہ کہ رمضان بازار میں سٹینڈرڈ ویٹ کی مرغی ہی فروخت کی جاتی ہے جو اٹھارہ سو گرام سے پچیس سو گرام کے درمیان ہوتی ہے جبکہ اس سے کم وزن کی مرغی کا ریٹ بھی کم ہوتا ہے اور عام مارکیٹ میںوہی سستی مرغی لا کر بیچی جاتی ہے تاکہ گاہک کو کم قیمت پر راغب کیا جا سکے مگردوسرا معاملہ کہیں زیادہ سنگین ہے، ایسوسی ایشن کے مطابق لاہور میں اگر دس ہزار مرغی فروش ہیں تو ان میں سے پانچ ہزار ایک ہزار گرام ( ایک کلو) کی بجائے آٹھ سو گرام تولتے ہیں یعنی جب آپ دو کلو کی ایک مرغی خریدتے ہیں تو آپ ڈیڑھ کلو کے لگ بھگ گوشت لے رہے ہوتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے عہدے داروں کے پاس کچھ ایسی ویڈیوز بھی ہیں جن میں دکانداروں نے باٹوں کے نیچے سوراخ بڑے کر رکھے ہیں جس سے باٹ کا وزن دو سو گرام تک کم کر لیا جاتا ہے اوراس کے نتیجے میں جو دکاندار پینتالیس روپے کی چوری کرتا ہے وہ قیمت بھی پندرہ سے بیس روپے کم کردیتا ہے تاکہ گاہک اس کی طرف لپکے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ باٹ وزن میں پورے ہوں اس کو چیک کرنے کی ذمہ داری وزارت صنعت اور ضلعی حکومت کے کچھ اداروں کی ہے مگر بہت ساروں نے نشاندہی کی کہ خود متعلقہ وزیر کے سمن آباد میں واقع ڈیرے کے بہت قریب ایک مرغی فرو ش دھڑلے سے ایک سو اسی سے دو سو روپے کلو مرغی بیچ رہا ہے جس روز رمضان بازار میں سب سڈائزڈ ریٹ 223روپے ہے، وہ کیسے بیچ رہا ہے اب یہ وزارت صنعت اورضلعی حکومت جانے۔

کیا یہ ایک بڑا المیہ نہیں ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت میں آدھے سے زیادہ مرغی فروش کم وزن کی مرغی باقاعدہ بورڈز لگا کے فروخت کر رہے ہیں اور مرغی تیار کرنے والوں کی ایسوسی ایشن کے مطابق یہ سب کے سب چور اور بے ایمان ہیں۔ ایک وقت تھا کہ حمزہ شہباز پر برائلر مرغی کے کاروبار کا ’ الزام‘ لگایا جاتا تھا اور جب بھی مرغی مہنگی ہوتی تھی تب سوشل میڈیا پر شور مچا دیا جاتا تھا کہ حمزہ نے مرغی مہنگی کر دی مگر ایسوس ایشن والوں کے مطابق ان کا اس کاروبار میں شئیر ایک سے دو فیصد بھی نہیں ہے بلکہ وہ برائلر کے بجائے فیڈ کے کاروبار میں زیادہ ہیں ۔ یہاں ذکر کرنے کامقصد یہ ہے کہ اگر حمزہ شہباز بھی اس کاروبار میں ہے توحکومت کے لئے بہت اچھا موقع ہے کہ وہ اس کاروبار کی دھاندلیاں پکڑے مگر اس کے برعکس یا تو یہ حکومتی ذمہ داروں کی نااہلی سامنے آ رہی ہے چاہے وہ کسی بھی درجے پر ہوں یا ان کی باقاعدہ ملی بھگت ۔ اگر یہ جواز مان لیا جائے کہ شہر بھر میں رمضان بازار سے کم قیمت پر فروخت ہونے والی مرغی بیچنے والے بے ایمان اور چور ہیں، وہ کم وزن پر بیچتے ہیں تو سوال ضرورت زندگی کی ہر اس شے کا ہے جو ہم خریدتے ہیں اور یہ کہاجا سکتا ہے کہ اس وجہ سے ہر روز صارفین کے جیب پر اربوں روپوں کا ڈاکا ڈالا جا رہا ہے مگر ذمہ دار حکام شکایات کا ازالہ کے بجائے شکایات کرنے والوں کو ڈرا دھمکا کے جعلی حلف نامے اوربیان لینے میں مصروف ہیں۔

چلتے ، چلتے چینی اور پیازکی بھی بات کر لیں، عام بازار میں اچھی خاصی باون، پچپن روپے کلو مل رہی تھی کہ رمضان سے پہلے ریٹ ستر روپے سے بھی اوپر چلا گیا اور اب اربوں روپوں کی سب سڈی کے ساتھ پچپن روپے کی ایک کلو لائن میں لگ کر ملتی ہے ۔ پیاز مارکیٹ میں پچاس روپے کلو ہے مگر رمضان بازار میں اس پر سب سڈی ستائیس روپے کی ہے اورفی کلو قیمت تئیس روپے ہے۔ لگتا ہے کہ معاملہ صرف چینی کے مشہور و معروف کارخانہ داروں کا ہی نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں نے پیاز بھی ضرورت سے زیادہ کاشت کر لیا تھا جس کی فروخت کو رمضان بازاروں میں ریکارڈ سب سڈی دیتے ہوئے یقینی بنا لیا گیا ہے، اب وہاں بھی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔


ای پیپر