Photo Credit INP

نوازشریف جیل جانے کےلئے تیار ہیں :وزیرا عظم
22 مئی 2018 (23:11)

اسلام آباد:وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ انتخابات میں تاخیر ممکن نہیں ، کوشش ہے کہ اتفاق رائے سے نگران وزیراعظم کا فیصلہ ہو، نوازشریف کا ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، نوازشریف جیل جانے کےلئے تیار ہیں ، وہ پہلے بھی جیل جا چکے ہیں ، نوازشریف ڈیل نہیں کریں گے ، نیب کالا قانون ہے ، یہ سیاسی مخالف کے لئے استعمال ہوتا ہے، ہماری غلطی ہے کہ نیب کا کالا قانون ختم نہ کر سکے ، نیب صرف مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کےلئے بنائی گئی ، چیئرمین نیب نے نوازشریف کا نام لے کر الزام لگایا وہ پارلیمنٹ آکر جواب دیں ۔

الیکشن خلائی مخلوق کرائے یا زمینی مخلوق جیتے گی مسلم لیگ (ن) ہی ، مریم نواز پارٹی معاملات میں مداخلت نہیں کرتیں ، نوازشریف ، شہباز شریف اور ہم سب ایک پیج پر ہیں ، نوازشریف نے یہ بات نہیں کہی کہ دانستہ طور پر لوگ پاکستان سے ہندوستان بھیجے گئے ۔ منگل کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے نام کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے ، نگران وزیراعظم کے بارے میں مشاورت جاری ہے ، میں نگران وزیراعظم کے لئے اپنی جانب سے دیے گئے نام بتا سکتا ہوں اور نہ ہی پیپلز پارٹی کی جانب سے دیے گئے نام بتا سکتا ہوں ، نگران وزیراعظم کےلئے کسی ریٹائرڈ جنرل کا نام زیر غور نہیں ، ہم غیر متنازعہ شخص چاہتے ہیں ، نگران وزیراعظم کے لئے دو یا تین دن میں فائنل فائنل ہوجائیں گے ۔

انتخابات میں تاخیر ممکن نہیں ، آئین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے ، کوشش ہے کہ اتفاق رائے سے نگران حکومت کا فیصلہ ہو،خورشید شاہ کے ساتھ بدھ کو دوبارہ گفتگو ہوئی اور اگر فیصلہ نہ ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا ، جمعرات تک فیصلہ ہو جائے گا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن خلائی مخلوق کرائے یا زمینی مخلوق جیتے گی مسلم لیگ (ن) ہی ، ہماری کوشش ہے کہ 25,26,27جولائی کو عام انتخابات ہو جائیں ، کوشش ہے کہ نگران وزیراعظم شفاف انتخابات کروائے ، میں جلیل عباس جیلانی کو 30برس سے جانتا ہوں ، آئین میں نگران حکومت میں توسیع کی گنجائش نہیں ہے ، انتخابات میں مختلف تشبیحات دی جاتی ہیں ، خلائی مخلو جیسی تشبیحات میں کوئی نئی بات نہیں ہے ، میں نے پارٹی کی مشاورت سے خورشید شاہ کو نگران وزیراعظم کے نام دیے ۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نوازشریف کا ممبئی حملوں سے متعلق بیان کسی نے پڑھا ہی نہیں ، اگلے دن تک اس بیان پر کوئی بحث پاکستان میں نہیں ہوئی ، بعد میں ہمارے میڈیا نے ہندوستان کے میڈیا کا بیان اٹھا کر اسے بڑھا چڑھا کر پیش کردیا ، نوازشریف کے بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا،قومی سلامتی کے اجلاس بعد ہم نے پریس ریلیز جاری کی جس کے مطابق نوازشریف کا بیان مس رپورٹنگ پر مبنی ہے اور ہر جانب سے جو الزامات لگائے گئے ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے ، اس ایشو پر پاکستان کے ہر آدمی نے بات کی ہے ۔

میری پریس کانفرنس میں پوچھے جانے والے سوالات اور جوابات سے غلط تاثر ابھرتا، میں نے پریس کانفرنس نہیں بلکہ پریس ٹاک کی تھی جس میں 20سے25صحافی موجود تھے ، نوازشریف نے کہا کہ میں نے یہ بات نہیں کہی کہ دانستہ طور پر لوگ پاکستان سے ہندوستان بھیجے گئے ، ہماری یہ پالیسی نہیں ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک پر حملہ آور ہونے کےلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے ، ممبئی حملے سے متعلق تو جنرل مشرف جنرل درانی نے بھی باتیں کی تھیں ، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس باہمی مشاورت سے بلایا گیا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ہفتے میں میری نوازشریف سے تین ملاقاتیں ہوئیں ، بعض میں شہباز شریف بھی تھے ، ہم سب ایک پیج پر ہیں ، مسلم لیگ (ن) میں سب سے زیادہ جمہوریت ہے ، نوازشریف کا نام پانامہ میں نہیں ہے ، یہ ہماری غلطی ہے کہ نیب کا کالا قانون ختم نہ کر سکے ، چوہدری نثار جماعت میں اور اسمبلی میں پرانے ترین رکن ہیں ، ہر شخص کی اپنی رائے ہوتی ہے ، جماعت کے فیصلے سے الگ نہیں ہونا چاہیے ، پارٹی چھوڑنے والے لوگوں نے کسی میٹنگ میں کوئی شکایت نہیں کی ، پارٹی چھوڑنے والوں کی سیاست دیکھ لیں ، 12سے بھی کم لوگ پارٹی کو چھوڑ کر گئے ہیں ، مریم نواز نے کسی پارٹی میٹنگ میں حصہ نہیں لیا ، مریم نواز پارٹی معاملات میں مداخلت نہیں کرتیں ، وہ کیس میں اپنے والد کے ساتھ نامزد ہیں ، کسی ایم این اے اور عہدیدار سے ان کا ڈائریکٹ تعلق نہیں ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف جیل جانے کےلئے تیار ہیں ، وہ پہلے بھی جیل جا چکے ہیں ، اس کیس کی حقیقت دیکھنی پڑے گی ، نیب کی عدالت میں نوازشریف کو انصاف نہیں ملے گا ، نیب کے کسی کیس میں مہینے میں دو پیشیاں نہیں ہوئیں ، نوازشریف کو بھی دوسرے مقدمات کی طرح ٹریٹ کیا جاناچا ہیے نوازشریف کے خلاف کیس میں کوئی حقیقت نہیں،انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے ، ڈاکٹر عاصم کے کیس میں ایک سال میں تین پیشیاں ہوئیں ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف ڈیل نہیں کریں گے ،ہمیں بھی جنرل مشرف کے دور میں این آر او آفر ہوا تھا مگر ہم نے نہیں کیا، نیب صرف مسلم لیگ (ن) توڑنے کے لئے بنائی گئی تھی ، نیب کالا قانون ہے ، یہ سیاسی مخالف کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔

اگر قومی اسمبلی چیئرمین نیب کو طلب کرتی ہے تو ان کو پیش ہونا چاہیے ، اگر کوئی ادارہ یا اس کا سربراہ سابق وزیراعظم پر پیسے باہر بھیجنے کا الزام لگائے اور سربراہ بعد میں پارلیمانی کمیٹی میں پیش نہ ہو تو جمہوریت کا چلنا مشکل ہے ، ہم سینکڑوں ارب روپے کے منصوبے روزانہ شروع کر رہے ہیں ، ہم نے ہائی ویز ، موٹرویز ، ایئرپورٹ اور سی پیک بنایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت کا بجٹ اتنا نہیں ہے جتنا نواز شریف پر 4.9 ارب ڈالر باہر بھجوانے کا الزام لگایا گیا۔


ای پیپر