وائٹ سپر میسی
22 مئی 2018 2018-05-22

پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کے وحشیانہ قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ امریکی معاشرے میں ہلاکت خیز ہتھیار رکھنے کا جنون یا پھر گوروں کے ذہنوں میں ’’ وائٹ سپر میسی ‘‘ کے نام پر پلتا ہوا نسلی بالا دستی کا جان لیوا نظریہ۔جو ان کو سیاہ فاموں اور ایشیائی تارکین وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اکساتا ہے۔شاید یہی وہ جنون ہے جس نے سیاسی میدان میں قدامت پسند امریکیوں کے ہاتھوں تارکین وطن سے کھلم کھلانفرت کے پر چارک،ارب پتی کاروباری ڈونالڈ ٹرمپ کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا صدر منتخب کر دیا۔ یہی وہ وجہ ہے جو ان کو آزاد خود مختار ممالک پر حملوں کیلئے اکساتی ہے۔یہی وہ منفی سوچ ہے جو مغرور بد دماغ گوروں کو اپنے ہی جیسے انسانوں جن کی رنگت سیاہ،زرد یا سانولی ہوتی ہے کو مکھیوں و مچھروں کی طرح شکار کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ امریکی ہی نہیں دیگر یورپی معاشروں میں اچانک بغیر کسی فوری اشتعال کے اپنے ارد گرد کے لوگوں کوقتل کرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ساری دنیا کو قانون،انصاف کی بالا دستی کا سبق سکھانے والے اس معاشرے میں ایسے کسی بھی سانحے کے ملزموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا۔ امریکی میڈیا جو دنیا بھر میں خبر کے تعاقب میں رہتا ہے۔نہ جانے کیوں ایسے سانحات کا فالو اپ نہیں کرتا۔اس کو دلچسپی نہیں یا پھر اس کا منہ بند کر دیا جاتا ہے۔ دباؤ سے،لالچ سے دولت کے انبار سے کچھ معلوم نہیں۔امریکی میڈیا کے تعصب و جا نبداری کا تو یہ عالم ہے کہ وہ ایسے واقعات کو سرے سے دہشت گردی ڈیکلیئر کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ ان کی تان ایسے دہشت گرد قاتلوں کو نفسیاتی مریض قرار دینے پر ٹوٹتی ہے۔ آج تک کسی گورے قاتل کو امریکی،مغربی میڈیا نے عیسائی دہشت گرد یا سفید قاتل کا ٹائٹل نہیں دیا۔ البتہ دنیا کے کسی بھی کونے میں قتل و غارت کے کسی بھی واقعے کو مسلم دہشت گردی کا شاخسانہ قرار دینے میں لمحہ بھر کی بھی تاخیر نہیں کی جاتی۔یورپی ممالک اور امریکہ میں غیر عیسائی تارکین وطن بالخصوص مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت پبلک مقامات پر ہراساں کرنے،تیزاب گردی کی وار داتوں میں غیر معمولی اضافہ اسی بات کا ثبوت ہے کہ مغرب کے چہرے پر سجاخوش نما نقاب دھیرے دھیرے سرک رہا ہے۔اور اس کے اندر سے سفا ک قاتل روپ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ سبیکا شیخ اور اس کے ساتھ دس ہم جماعت طلبہ کے بہیمانہ قتل نے ایک مرتبہ پھر وہ ریسرچ پیپر،وہ اعداد و شمار یاد دلا دیے جن پر کئی مرتبہ قلم اٹھایا جا چکا۔امریکی اداروں کے اپنے مرتب کردہ اعدادوشمار ایک مرتبہ پھر ناظرین کیلئے از سر نو جمع کر کے حاضر خدمت ہیں۔
امریکہ میں 30 لاکھ کے قریب پناہ گزین ہیں۔ متعصب امریکی عام طور پر تارکین وطن کو جرائم اور دہشت گردی کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔لیکن اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔امریکی تاریخ میں صرف چار سوپناہ گزینوں کے خلاف دہشت گردی کا الزام لگا۔لیکن گزشتہ چالیس سالوں میں کسی ایک کے خلاف بھی قتل کا الزام ثابت نہیں ہوا۔ ان چالیس برسوں میں صرف تین قتل کے واقعات ایسے ہیں جن میں تارک وطن پر شبہ کیا گیا۔ جبکہ امریکی تاریخ بتاتی ہے اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں 7 لاکھ امریکی مارے جا چکے۔شاید یہ امریکی تعصب تھا جس کی بنیاد پر صدر ٹرمپ نے بر سر اقتدار آتے ہی سات اسلامی ممالک کے شہریوں کے یو ایس اے میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔جس کا مطلب ہے کہ آزاد ممالک کے 13 کروڑ 40 لاکھ شہری امریکہ میں داخلہ کے حق سے محروم ہوگئے۔ محرومین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس کار آمد ویزا اور گرین کارڈ موجود تھا۔ امریکی اداروں کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2015ء تک امریکی شہریوں کے ہاتھوں سر عام شوٹنگ میں تیس ہزار سے زائد غیر ملکی قتل ہوئے۔گزشتہ تین سال سے تادم تحریر تقریباً ایک ہزار افراد مزید سکولوں،ہسپتالوں،مارکیٹوں،کلبوں اور ہوٹلوں میں بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں جان کی بازی ہار گئے۔ امریکی معاشرے میں قدیم قبائلی معاشروں کی طرح اسلحہ رکھنے کا شوق، جنون کی حدود سے بھی آگے گزر چکا ہے۔ ماضی کی بہ نسبت یہ جنون سوفیصد زیادہ بڑھاہے۔ امریکہ کی تیس کروڑ آبادی میں تقریباً اتنی ہی آٹو میٹک رائفلیں ہیں۔اور سب سے موثر ترین لابی امریکن رائفلز ایسو سی ایشن ہے۔ 88 فیصد امریکی شہری ایسے ہیں جنہوں نے اپنے گھروں پر بندوقوں کا باقاعدہ ذخیرہ رکھا ہوا ہے۔ جبکہ ایک ملین امریکی شہری ایسے ہیں جو دفتر،مارکیٹ یا محض پکنک پر جاتے ہوئے بھی مہلک آٹو میٹک اسلحہ اپنے ہمراہ رکھتے ہیں۔حیرت ناک بات یہ ہے کہ دنیا بھر کو قواعد و ضوابط،قانون کا راستہ اختیار کرنے کا داعی امریکہ ایسا ملک ہے جس کی چند ریاستوں کے سوا کسی بھی علاقے میں اسلحہ خریدنے،اپنی تحویل میں رکھنے کیلئے پرمٹ حاصل کرنے کی پابندی نہیں۔ جبکہ ایمونیشن خریدنے کیلئے کوئی مقدار متعین نہیں۔ بعض ریاستیں تو ایسی ہیں جن میں شہری ہر تین ماہ بعد نیا ہتھیار خریداجا سکتا ہے۔ ایک محتاط اندازہ ہے کہ صرف 12 فی صد امریکی شہری اپنے پاس اجازت نامہ رکھتے ہیں۔امریکی محکمہ پولیس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک کے طول و عرض میں سالانہ 207 ملین سالانہ ہینڈ گن فروخت ہوتی ہے۔ جبکہ ایمونیشن ٹنوں کے حساب سے بکتا ہے۔یہ اسلحہ کہاں اور کیسے استعمال ہوتا ہے۔یہ اعداد وشمار ایسے ہیں کہ ان کو پڑھ کر افریقہ اور افغانستان ایسے معاشروں میں بسنے والے افراد کو بھی مسکین اور شریف النفس طبقہ لگیں گے۔ امریکہ میں یومیہ 75 افراد براہ راست یا اندھی گولی کا ٹارگٹ بنتے ہیں۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی کم نہیں لیکن 40 فیصد ایسے ہیں جو جلد یا بدیر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
2011ء میں ناروے کے ایک متعصب سفید فام عیسائی نے فائرنگ کر کے 77 افراد کو قتل کیا۔ چند ماہ قبل ڈیٹرایئٹ میں سفید فام نے فائرنگ کر کے 0 5 افراد کو نشانہ بنایا۔ قاتل کے کمرے سے بائیس رائفلیں برآمد ہوئیں۔ امریکہ کی ایک تنظیم ساؤدرن پاورٹی لا سنٹر کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں سفید فام نسلی تفاخر پر مبنی تنظیموں کی تعداد صرف تیرہ تھی۔اب ان تنظیموں کی تعداد 109 تک پہنچ گئی ہے۔یہ تنظیمیں سیافاموں اور ایشیائی تارکین وطن کو بزور بازو امریکہ سے نکالنے پر یقین رکھتی ہیں۔ 2016ء سے لے کر اب تک مسلمانوں اور سیاہ فاموں کے خلاف ایک ہزار سے زائد متشددانہ واقعات ہوئے ہیں۔ طالبہ سبیکا شیخ کا وحشیانہ قتل کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف اسلحہ ہی نہیں بلکہ وائٹ سپر میسی کا خناس امریکی معاشرے کا ناسور بنتا جا رہا ہے۔


ای پیپر