ڈاکٹر وزیرآغا ۔۔۔تم سے مجھ تک
22 مئی 2018

وہ بھی رمضان کا مہینہ تھا ۔پندرھویں صدی کا اکتیسواں سال اور غالباًاٹھائیسواں روزہ تھا جب مجھے برطانیہ سے ڈاکٹرخورشیدرضوی صاحب کا برقی سندیسہ ملاکہ ڈاکٹروزیرآغااب اس دنیامیں نہیں رہے۔ برطانیہ سے قاہرہ پہنچنے والایہ پیغام ایک غریب الوطن مسافر کو اداس کردینے کے لیے کافی تھا ۔نگاہوں پر ان کے ساتھ تعلق خاطر کے مناظرابھر نے لگے ۔وہ راقم کی علمی زندگی کا ابتدائی دورتھا جب ان سے ملاقات ہوئی انھوں نے میری پہلی نثری کتاب اور اب تک کے آخری شعری مجموعے’’ نظم مجھ سے کلام کرتی ہے‘‘دونوکے فلیپ لکھے بلکہ اس شعری مجموعے کے نام میں بھی انھوں نے ایک بنیادی تبدیلی کی۔ راقم نے مجموعے کانام اپنی ایک نظم کے عنوان : ’’نظم تم سے کلام کرتی ہے‘‘ کوقراردیاتھا ۔شاعر کے پیشِ نظر’’ تم ‘‘ کا خطاب موالیدثلاثہ بلکہ تمام مظاہر کائنات سے تھا کہ بہ قولِ ذوق ؂
میں وہ نہیں کہ تم ہوکہیں اور کہیں ہوں میں
میں ہوں تمھارے ساتھ جہاں تم وہیں ہوں میں
آغاصاحب نے فرمایاکہ اس نام میں’’ تم ‘‘ کی جگہ’’ مجھ ‘‘ کردیاجائے تو معنویت کی ایک کہکشاں روشن ہوجائے گی ۔ان کا خیال تھاکہ ’’ تم ‘‘ سے ذہن صرف اس کے رومانوی معنی کی طرف منتقل ہوتاہے ۔راقم اگرچہ کہہ سکتاتھاکہ اس ’’ تم ‘‘میں ’’ مجھ ‘‘ بھی شامل ہے مگراس نے ان کی رائے کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور کتاب کانام بدل دیااس میں کیا شبہہ ہے کہ اپنی جگہ یہ رائے بہت قیمتی تھی ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ راقم کی اوّلین نثری کتاب کا ایک فلیپ جناب احمد ندیم قاسمی نے اور دوسرا فلیپ ڈاکٹر وزیرآغانے لکھا حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ان دونو اکابرین ادب کی یکجائی ناممکنات میں سے تھی ۔راقم کو یہ افتخارحاصل ہے کہ اسے ان دونو بزرگوں سے نیازمندی رہی اور اس نے ان دونوکونہایت مہذب اور مہربان شخصیات پایا۔آغاصاحب، اوّلین کتاب کے بعد بھی راقم کی ادبی کاوشوں پر اظہارخیال فرماتے رہے،اس کی ایک اورنثری کتاب کا دیباچہ بھی لکھا، اپنے ایک انٹرویو میں بھی انھوں نے جدید نظم کے مستقبل سے اچھی امیدیں وابستہ کرتے ہوئے راقم کا ذکرکیا، ان سے ہونے والی ہر ملاقات ادب وتنقیدکی دنیاکے کچھ نئے دَر،وَاکردینے کا باعث بناکرتی تھی ۔قاہرہ کے لیے رخصت ہونے سے قبل راقم نے جن لوگوں سے اہتمام کے ساتھ ملاقات کی ان میں آغاصاحب بھی شامل تھے، اس موقعے پر سروہم سر، ہم دونو ان سے ملنے گئے،وہ بے حد خوش ہوئے ،انھوں نے مصر اور اس کی قدیم تہذیب کے حوالے سے گفتگو کی اور ہمارے اس سفرکو نئی دنیاؤں کی دریافت کا سفرقراردیا۔ ان کی صاحبزادی میناصاحبہ بھی ان کے پاس ہی تھیں ،وہ بھی کچھ بیرونی ممالک کے اسفارکرچکی تھیں، انھوں نے ہمیں اپنے سفرشام کے مشاہدات سے آگاہ کیا۔
نفسیات کی زبان میں ڈاکٹروزیرآغا کی شخصیت ’ ’درون بین‘‘ تھی لیکن ادب کی سلطنت انھیں حصارِذات سے باہر لے آتی تھی ،وہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کیاکرتے تھے ۔نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، دوسروں میں دل چسپی لیے بغیرممکن نہیں ،راقم اپنے ربع صدی سے زیادہ عرصے پر پھیلے ہوئے تجربے کی روشنی میں یہ بات بے خوف تردید کہہ سکتاہے
کہ انھیں دوسرے لکھنے والوں اور ان کی تحریروں میں دل چسپی تھی۔حال ہی میں شائع ہونے والے یادنگاری کے ایک مجموعے میں ان کے بارے میں یہ لکھاگیاہے کہ وہ صرف خودکو اور اپنے بیٹے سلیم آغاکو انشائیہ نگار سمجھتے تھے(دیکھیے جناب فاروق عادل کے مجموعے’’ جو صورت نظر آئی‘‘ اسلام آباد:دوست پبلی کیشنز ۲۰۱۷ء میں ڈاکٹر وزیر آغا کا خاکہ بہ عنوان ’صاحب اوراق‘ ص۲۰۶) اگرایساہوتا تو انشائیہ نگاروں کی وہ کھیپ کہاں سے سامنے آتی جس کا ظہور صرف ان کے جریدے ’’اوراق‘‘ کے صفحات پر ہوا۔راقم نے تو یہ دیکھاکہ ان کے پاس نئے لکھنے والوں کی محفل جمی رہتی تھی ،نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا یہ عالم تھا کہ ایک نومشق شاعرہ نے راقم کو اپنا کلام دکھایا ، وزن کے فقدان کو دیکھتے ہوئے راقم نے اسے شعری اوزان سے آگہی کامشورہ دیا لیکن وہی’ شاعرہ‘ جب ڈاکٹر وزیرآغاکے ہاں پہنچی تو ان کی حوصلہ افزائی نے اسے نثری نظم کی شاعرہ بنادیا ۔
وہ ایک جینوئن ادیب تھے ۔انھوں نے عمربھرکسی دنیوی منصب کی آرزویاجستجونہیں کی حالانکہ اگروہ چاہتے تو انھیں کسی بڑے ادبی ادارے کی سربراہی مل سکتی تھی لیکن وہ اس سے بالاترہی رہے،شاید انھوں نے بغیر کسی ایسے تجربے کے یہ سمجھ لیاتھاکہ ہمارے ہاں ادارے فکروفن کی دنیا میں کوئی کرداراداکرنے کی بجائے پست سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور جینوئن فن کاروں کے لیے تضیع اوقات کا باعث بنتے ہیں ۔ یوں بھی جی حضوری اور پابندی ان کی طبیعت میں نہیں تھی۔ سرگودھامیں جب کوئی سربراہ حکومت یاکوئی اور بڑا حکومتی عہدیدارآتا تو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے معززین شہرکو بلایاجاتا تھا،وہ ایسی دعوتوں کو بھی ناپسندکرتے تھے اور کہاکرتے کہ کسی دنیوی حکمران سے ملنے کی خاطر گھنٹوں کے لیے صف بندہوناکونسی دانائی ہے ۔حکومت پاکستان کی طرف سے انھیں دوبار قومی اعزازت سے نوازاگیا۔جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں صدرِ پاکستان کی طرف سے ۲۳؍مارچ ۱۹۸۵ ء کو انھیں تمغہ امتیازدیاگیا ۔اسی طرح ۲۳؍مارچ ۱۹۹۹ء کوجسٹس رفیق تارڑ کے زمانہ صدارت میں انھیں ستارۂ امتیاز عطاکیاگیا لیکن دونو مرتبہ یہ اعلیٰ سول اعزازات لینے کے لیے وہ ایوان صدر اسلام آبادنہیں گئے اور یہ دونو اعزاز ان کے عزیزوں نے وصول کیے ۔ایک بار وزیراعظم ہاؤس سے کھانے کی دعوت موصول ہوئی تو کہنے لگے کہ صرف کھاناکھانے کے لیے اسلام آبادجانا کونسی عقل مندی ہے اور میں تو ویسے بھی پرہیزی کھاناکھاتاہوں۔عالمی مجلس فروغ اردوادب دوحہ( قطر)نے انھیں اردوادب کے فروغ میں گراں قدرخدمات انجام دینے پر عالمی اردوادب اوارڈ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ اوارڈ وصول کرنے کے لیے اس مجلس کی طرف سے اوارڈ پانے والی شخصیت کے اعزاز میں دوحہ (قطر)میں ایک جلسہ منعقد کیاجاتاہے جس میں اس شخصیت کی خدمات کا تعارف کروایااوراعتراف کیاجاتاہے اور اس کی خدمت میں ایک بڑی رقم کے ساتھ یہ اوارڈ پیش کیاجاتاہے۔ آغاصاحب نے اس زحمت کشی سے بھی معذرت کرلی اوراوارڈ وصول نہیں کیا ۔انھوں نے اپنے لیے ادب کی جو سلطنت منتخب کرلی تھی وہ اسی میں رہناچاہتے تھے ۔ ایسے محسوس ہوتاتھاکہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں بلکہ ایک بار میں نے ان سے پوچھ ہی لیاکہ آپ اپنے اسلوب حیات سے مطمئن ہیں تو انھوں نے اس کا تحریری جواب دیاکہ’’ جی ہاں بالکل مطمئن ہوں‘‘اس سوال کے جواب میں کہ آپ کو اپنی زندگی میں کوئی کمی بھی محسوس ہوتی ہے انھوں نے فرمایاکہ وہ پانچ برس کے تھے جب ان پر ٹائیفائڈ کا حملہ ہوا ،ن دنوں ٹائیفائڈ کا کوئی علاج نہیں تھابجز اس کے کہ ڈاکٹر ، بخارکی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرتا اور ماں دن رات سجدے میں گری رہتی، میں ٹائیفائڈ سے تو بچ گیا لیکن اس کے اثرات باقی رہے چنانچہ جسم نارمل اندازمیں بڑھ نہ سکا، ہڈیاں کمزوررہ گئیں ۔میں نے اسکول اور کالج کے ایام میں کھیلوں میں حصہ لیا، ورزش بھی کی مگرجسم سکڑا سمٹاہی رہا ۔اس کمی کا مجھے تمام عمر شدت سے احساس رہا ،قدرت نے اس کی تلافی ضرورکی اورمیں علمی ادبی میدانوں میں خاصا فعال رہا لیکن اس کمی نے مجھے ہمیشہ بہت دکھ دیا کہ مجھے ایسا جسم کیوں نہ ملا جو مجھے قوت اور تحفظ عطاکرتا ۔۔۔؟
اس بار دوسرے ہی روزے ان کی سال گرہ کادن آیا ۔وہ ۱۸؍مئی ۱۹۲۲ء کو پیداہوئے اور ۷؍ستمبر ۲۰۱۰ء کو ہمیشہ کے لیے دنیائے رنگ وبوکو خیربادکہا۔۔۔ہے زمانے کی روش کیسی تغیر آفریں۔۔۔ کہ سال رواں میں دنیاسے ان کی رخصتی کے مہینے ہی میں ان کی سال گرہ آگئی ہے ۔پروفیسرغلام جیلانی اصغرصاحب اور پروفیسرچودھری عبدالحمید صاحب کے بعد سرگودھا میں کشش پہلے ہی کم ہوگئی تھی ،آغا صاحب کے چلے جانے سے تو دبستان سرگودھا کا باب ختم ہی ہوگیا۔ وزیرآغارخصت ہوگئے مگر ان کی یادکبھی رخصت نہیں ہوگی ،انھی کا شعرہے ؂
زخم، دروازہ نہیں ہے کہ مقفل کر لیں
زخم ہر حال میں آغوش کشا ہوتا ہے


ای پیپر