سیاست کیا اتنی بے رحم ہوتی ہے؟؟
22 مئی 2018 2018-05-22

کیا نوازشریف ہوش و حواس سے فارغ ہو چکے ہیں؟یا پھر ملک دشمنی میں اتنا آگے نکل گئے کہ متنازع بیان دیتے وقت یہ بھی نہ سوچا کہ اس پر دشمن بغلیں بجائیں گے، پاکستان پر لگا ہوا دہشت گرد ملک کا لیبل کچھ اور پکا ہو جائے گا اور ہم پر ہمہ وقت چڑھ دوڑنے کو تیار بھارت اپنے سلطانی گواہ (جو تین دفعہ ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہے، اور عملاً اب بھی اس کی اس ملک پر حکومت ہے) کی گواہی کو ہمارے خلاف کیسے کیسے اور کہاں کہاں نہ استعمال کرے گا؟ خدا کی پناہ اتنا زہرناک بیان، اتنا خطرناک وار، وہ بھی سابق سربراہِ حکومت کی جانب سے اور حد یہ کہ اس بیان کے بعد میاں نوازشریف نے بجائے معذرتی رویے کے اس کا دفاع کیا ہے اور اپنے مؤقف سے ہرگز بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ انہیں دیکھ کرخیال آتا ہے کیا نریندر مودی یہ کہہ سکتا ہے کہ بلوچستان اور کراچی کے امن کی تباہی میں اس کی انٹیلی جنس کا ہاتھ ہے، جبکہ کلبھوشن یادیو کی شکل میں جاسوسی نیٹ ورک کا ٹھوس ثبوت بھی موجود ہے۔ کیا ٹرمپ معذرتی انداز میں یہ کہہ سکتا ہے کہ عراق اور افغانستان کی تباہی سراسر بش انتظامیہ کی زیادتی تھی اور میں اس پر شرمندہ ہوں۔ کیا نیتن یاہو اور ایہود براک یہ اعتراف کر سکتے ہیں کہ گزشتہ ستر برسوں سے فلسطینیوں کے حقوق، آزادی اور وطن چھیننے کا ظلم صہیونی پالیسی ہے اور یہ نہیں ہونا چاہئے۔ کیا بشارالاسد جس نے آدھا ملک اپنی ضد کے پیچھے کھنڈر کر دیا ہے اور لاکھوں شامیوں پر قیامت ڈھا رکھی ہے کیا یہ بیان جاری کر سکتا ہے کہ اس جنگ کی آگ ملک کے تحفظ اور دفاع کے لئے نہیں، بلکہ اقتدار بچانے کی ہوس کے تحت بھڑکائی گئی ہے۔
اس قدر خطرناک بیان دیتے وقت اگر نوازشریف ذہنی لحاظ سے تندرست تھے تو پھر اس کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے پاکستان دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے ملک میں یہ آگ لگائی ہے۔ جس کے بعد ملک کے طول و عرض سے نہایت شدید ردعمل ظاہر ہوا ہے، یہ ردعمل سیاسی جماعتوں اور سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر صرف اور صرف وطن کی سلامتی سے متعلق ہے، جس پر اس ملک کے رہنے والے کبھی کمپرومائز نہیں کر سکتے۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے ، کسی بھی طبقۂ فکر اور کسی بھی مسلک اور مذہب سے ہو۔ یہی وجہ جب سے یہ خطرناک بیان سامنے آیا ہے، اس ملک کے اداروں، سیاسی جماعتوں اور عام شہریوں کے غم و غصے میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ دو دفعہ قومی سلامتی کے نہایت حساس اجلاس بلائے جا چکے ہیں، جن کے علامیے میں ہمارے کٹھ پتلی وزیراعظم اور وفاقی وزیر اطلاعات کو بھی مجبوراً اپنے پیرومرشد کے زہرناک بیانیے سے لاتعلقی اختیار کرنا پڑ گئی ہے۔ حکومت گرچہ چند دن کی مہمان ہے، مگر ان حالات میں یہ چند دن بھی حکومت کو گزارنے مشکل ہو چکے ہیں۔ پارٹی میں شدید ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی ہے۔ اس بیانیے نے ن لیگیوں کو سیاسی وفاداریاں بدلنے کے لئے ایک ٹھوس وجہ مہیا کر دی ہے، لہٰذا وہ لوگ جو پہلے اس ضمن میں کسی نہ کسی وجہ سے ہچکچاہٹ کا شکار تھے، وہ دھڑادھڑ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں، کہ نوازشریف اس وقت جس دلدل میں گر چکے ہیں اس میں سوائے مریم بی بی اور پرویز رشید کے شاید اور کوئی بھی کودنے کو تیار نہیں۔ سبھی اپنا اپنا دامن بچا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ جناب خادمِ اعلیٰ بھی۔ جن کے ان دنوں پنجاب میں کھڑکی توڑ شو شروع ہیں۔ کچا پکا اورنج ٹرین شو چلا کر انہوں نے اپنے تئیں اس ووٹ کو اپنے بیلٹ بکس میں محفوظ کر لیا ہے، جس کی عزت کا خیال بڑے میاں صاحب کو آیا بھی تو کب، جب ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ ڈرامہ ہو کر گزر گیا، نااہلی پکی ہو گئی، اور میاں صاحب کا سیاسی مستقبل گہرے سیاہ بادلوں میں گم ہو گیا، اس وقت انہیں ووٹ کی عزت کا بیٹھے بٹھائے ’’الہام‘‘ ہوا، اور وہ دیوانہ وار ووٹ کی عزت بچانے نکل کھڑے ہوئے، اس ایپی سوڈ کا المیہ انجام، ممبئی حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی شکل میں سامنے آ گیا، تو ’’ووٹوں‘‘ کو نہ صرف اپنی عزت کا اندازہ ہو گیا بلکہ انہیں کسی شک و شبہے کے بغیر معلوم ہو گیا کہ اس ڈرامے کا مقصد کیا تھا۔
مگر خادمِ اعلیٰ صاحب اس تمام سیناریوں میں بڑے بھائی جان کے ملک دشمن بیانیے سے دامن بچا کر دھڑا دھڑ ادھورے منصوبوں کے افتتاح میں جتے ہوئے ہیں، تاکہ ان کے نام کی تختی پکی ہو جائے اور آنے والے انتخابات میں لاہور کو پیرس اور مال روڈ کو شانزے لیزے بنانے کے عوض، لاہوریوں کی وفاداریاں اور ہمدردیاں خریدی جا سکیں۔ میو ہوسپٹل کا ایک وارڈ جو گزشتہ دس برسوں سے زیر تعمیر تھا اس کے ہنگامی افتتاح کے موقع پر ہوسپٹل کے مریضوں پر جو گزری، اس کا آنکھوں دیکھا حال، تمام ٹی وی چینلز دکھا چکے ہیں، سیریس مریض، مع ڈرپوں اور زخموں پر بندھی پٹیوں کے ہسپتال کے پچھواڑے، وہیل چیئرز پر جس کسمپرسی کے عالم میں پائے گئے، اسے دیکھ کر جناب خادم اعلیٰ کی خدا ترسی، رحم دلی اور رفاہ عامہ کے کاموں میں دلچسپی خوب ظاہر ہو گئی۔ ان مریضوں سے کچھ منچلے رپورٹرز کی بات چیت سن کر مزید رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کے آپریشن اس افتتاحی پروگرام کی وجہ سے ملتوی کیے گئے تھے، کچھ ایسے تھے جن کے آکسیجن ماسک وارڈز میں رہ گئے تھے اور کچھ ایسے جو ناتوانی اور تکلیف کے مارے بولنے کے بھی قابل نہ تھے۔ اس وارڈ کا ہنگامی افتتاح جس عجلت میں ہوا اور جس انداز سے ہوا، اسے دیکھ کر دیگر منصوبہ جات کی کامیابی کا اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں۔ وقت کم اور مقابلہ سخت کے اصول کے مطابق، چھوٹے میاں صاحب دھڑا دھڑ جن کے فیتے کاٹتے جا رہے ہیں۔ بھکھی پاور پلانٹ کا افتتاح بھی اسی عجلت میں ہوا، اور ساتھ ہی یہ بربکنگ نیوز بھی چل گئی کہ نندی پور بند ہو گیا ہے۔ یہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے مہنگے منصوبے، جن سے وابستہ میگا کرپشن کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ ان کے دھڑا دھڑ افتتاحی پروگراموں سے ذرا ہٹ کر اگر جناب خادم اعلیٰ صاحب، میٹرو روٹ پر پچھلے آٹھ دنوں سے بیٹھے، نابینا افراد کی کسمپرسی کا بھی جائزہ لے لیتے، تو شاید پورے ہفتے سے بند میٹرو بھی چل پڑتی اور ان بے کسوں کا بھی بھلا ہو جاتا، جو اپنے مطالبات کی خاطر بار بار سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ دھرنے دیتے ہیں، لاٹھیاں کھاتے ہیں اور بے نیل مرام بالآخر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ یہی ’’حسن انتظام‘‘ اور یہ انداز حکمرانی پچھلے پانچ برسوں سے دیکھتے آ رہے ہیں ہم اس صوبے میں، جس میں بقول
خادم اعلیٰ صاحب دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں اور یہاں رہنے والے گویا جنت میں رہتے ہیں۔ جبکہ صورت حال یہ ہے کہ سٹریٹ کرائم سے لے کر بچوں کے اغوا تک جرائم میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ رکھی ہے۔ صاف پانی، تعلیم، بنیادی صحت اور روزگار جیسے بنیادی مسائل کو نہ حل شدہ سمجھ کر ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔ اور اشتہاری منصوبہ جات کی تشہیر پر سارا زور لگا دیا گیا ہے۔ ییلو کیپ، آشیانہ سکیم ، دانش سکول، لیپ ٹاپ تقسیم پروگرام وغیرہم اس ضمن میں چند مثالیں ہیں۔ جو نہ صرف پنجاب حکومت کے خزانے کا بوجھ ثابت ہو چکے ہیں بلکہ ان سے عوام کو بھی کچھ حاصل نہیں ہوا، البتہ احد چیمہ ٹائپ کے لوگ ہی نوازے گئے ہیں مگر اس کے باوجود میاں برادران ہیں، کہ بدستور اس ضد پر قائم ہیں کہ انہوں نے جو طرز حکمرانی قائم کیا ، وہ سراسر فلاحی ہے، عوامی ہے اور وہ اتنے محب وطن ہیں کہ سارا ملک کھنگال لیں، ان جیسا محب وطن کہیں نہ ملے گا۔ اگر یہ فلاح کے انداز ہیں اور حب الوطنی کے ، تو پھر فلاح اور حب الوطنی کا اللہ ہی حافظ۔ سیاست کیا اتنی بے رحم ، اقتدار کیا اتنا بدباطن ہوتا ہے کہ اس کی خاطر لوگ اصول، اقدار ، سچائی، رحم اور حب الوطنی کو بھی بیچ کھاتے ہیں؟


ای پیپر