رمضان ۔۔۔ برکت ۔۔۔اور بابرکت!!
22 مئی 2018 2018-05-22

جس طرح بعض ایام مبارک ہوتے ہیں، ان میں کی گئی عبادات کا اجر، اثر اور تاثیر دو چند اور سہ چند ہوتی ہے‘ اسی طرح بعض مقامات بھی عام مقامات کی نسبت زیادہ پْر تاثیر اور بابرکت ہوتے ہیں۔ وہاں حاضری کے دوران میں کیے جانے والے اذکار کسی اور جگہ تسبیح و تہلیل سے زیادہ اثر پذیر ہوتے ہیں۔ یہ زمان و مکان پانی کی لہروں کی مانند ہے۔۔۔ کہیں بھنور ہیں اور کہیں آبشاریں، کہیں گدلا پن اور کہیں ایسی شفافیت کہ اپنا چہرہ نظر آنے لگے۔۔۔ خود آگہی کی منزلیں طے ہونے لگیں۔ زمان و مکان کی لہریں جس طرح انسانی وجود سے متاثر ہوتی ہیں‘ اس طرح متاثر کرتی بھی ہیں۔ شب معراج کی فضیلت واقعہ معراج اور صاحبِِ معراجؐ سے ہے۔ ریاض الجنۃ کی فضیلت رسول کریمؐ کے قدمین مبارک سے ہے۔۔۔ آپؐ کے حجرہ مبارک اور مسجدِ نبویؐ کے منبرکے درمیان وہ قطہِ زمین جو مسلسل دس برس تک کریم آقاؐ کے قدم مبارک چومتی رہا ۔۔۔ لازم تھا کہ زمین جنت کے باغوں میں سے ہوتا۔ اسی طرح محرم الحرام کی نسبت اصحابِ کربلا اور امامِ عالی مقامؑ سے ہے۔۔۔محرم کے ایام مقدس کہلائے اور وہ مقامِ کرب و بلا ‘کربلائے معلیٰ کے نام سے معروف ہوا۔ عالی وجود زمان و مکان کو متاثر کرتا ہے اور عامی ان متاثر کن ایام و مقامات سے متاثر ہوتا ہے۔
اس کائناتِ رنگ و بو میں حسن، تاثیر اور خوشبو انسان کے دم سے ہے۔ انسان جب تک الانسان صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوشِ قدم تک نہیں پہنچتا‘ اس پر عظمتِ انسان عیاں نہیں ہوتی۔ رب انسان کے پردے میں بولتا ہے۔۔۔ وہ ایسا فاعلِ حقیقی ہے کہ اپنے فعل کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔۔۔ وہ نہاں ہے اور انسان عیاں ہے۔۔۔اپنے مالک کے افعال کا واسطہ اور وسیلہ بننے کا شرف صرف انسان کو حاصل ہے۔ خارجی کائنات میں جس طرح حیات و ممات کا سلسلہ جاری ہے، اسی طرح زمان و مکاں کے بابرکت ہونے کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔۔۔ دما دم صدائے کن فیکون سے زمان و مکان کی لہریں ہمہ دم مرتعش ہیں۔
شمس و قمر کے دائرے اس طرح تشکیل دیے گئے ہیں کہ ہمارے قمر کا قرص ہمارے شمسی سال کو ہر سال بابرکت کر دیتا ہے۔ یوں دنیا کے خطے میں کوئی موسم ایسا نہیں جسے رمضان ثمر بار نہیں کرتا۔ قمر کا تعلق قلب و روح سے ہے، شمس کا عقل و وجود سے۔ تسکین قلب پاتا ہے، معاش وجود کا حصہ ہے۔ عقل دل کے تابع ہوگی تو عقلِ سلیم کہلائے گی۔۔۔ بصورتِ دیگر حدیثِ دل کو صدائے
جنوں سمجھ کر ٹھٹھہ اڑائے گی۔۔۔ اور اوندھے منہ آتشِ غرور میں جاگرے گی۔
قرآنِ کریم میں رمضان کے روزوں کی کی فرضیت کی غائت یہ بتائی گئی ۔۔۔ ’’تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو‘‘۔ بالعموم تقویٰ کا مفہوم ’’اللہ سے ڈرنا‘‘ سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے۔ یہ’’ڈرنا‘‘ دراصل اللہ کی ناراضی سے ڈرنا ہے۔ انسان جس سے محبت کرتا ہے‘ سب سے زیادہ اسی سے ڈرتا ہے۔۔۔ہمہ حال اسی کے ناراض ہونے سے خائف اور لرزہ براندام رہتا ہے۔ تقویٰ دل میں ہوتا ہے۔۔۔ کیونکہ محبت دل میں ہوتی ہے۔خشیعت کا مقام بھی دل ہے!!
ماہِ رمضان ہمارا سونے جاگنے کا بگڑا ہوا ٹائم ٹیبل درست کرتا ہے۔ تہجد کے وقت اٹھنا آسان کام نہیں، گرم اور نرم بستر کو چھوڑنا کہاں اتنا آسان ہوتا ہے۔ روزہ مشکل کو آسان کر دکھاتا ہے۔ فجر کی پابندی اور وہ بھی باجماعت فجر۔۔۔سحری کی برکتوں کا حصہ ہے۔ بھوک پیاس کو برداشت کرنا عام دنوں میں دشوار ہوتا ہے۔۔۔ روزہ اس دشواری کو آسان کر دیتا ہے۔ مونس وغم خواری کا جذبہ رمضان میں اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ غریب اور محروم لوگوں کی محرومی کو محسوس کرنا رمضان میں آسان ہو جاتا ہے۔ جو حالتِ صوم میں آجاتا ہے‘ اس کے شیاطین واقعی جکڑ دیے جاتے ہیں!!
روزہ محض بھوک ہڑتال نہیں، محض کھانے پینے سے رکنا روزہ نہیں۔ روزہ بقائمی ہوش و حواس تمام حواس کا روزہ ہوتا ہے۔ اگر منہ لذتِ طعام سے دور رہے لیکن دل دل ہی دل میں طرح طرح کی لذاتِ کام و دہن سوچتا رہے۔۔۔ تو سوچنا چاہیے کہ ہم کس منہ سے روزہ دار کہلاتے ہیں۔ روزہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے۔ اسے سوشل سرگرمی نہیں بنانا چاہیے۔ طرح طرح کے پْر لذت دسترخوان ، افطار پارٹیاں اور پھر جواب آں غزل دعوتوں سے احتراز کرنا چاہیے۔ سحری اور افطاری کے لمحاتِ قرب کو معاشرتی میل ملاپ کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ سحری اور افطاری کو سادہ رکھا جائے تو اس میں برکت کا احساس زیادہ ہو گا۔ اپنے دسترخوان کو سادہ کر دیا جائے اور کسی سادہ بندے کا دسترخوان پُرتکلف کردیا جائے تو سحری اور افطاری کی برکت دو چند ہو جائے گی!!
کم کھانا، کم بولنا اور کم سونا حکمت بتایا گیا ہے۔ جب عام دنوں میں اسے حکمت قرار دیا گیا ہے تو ماہِ صیام میں اس کی اہمیت لامحالہ کئی گنا بڑھ جاتی ہے ۔ حکمت کے جس پروٹوکول کا اہتمام ہمیں رمضان میں زیادہ کر نا چاہیے‘ اسی مہینے میں اگرہم زیادہ کھائیں، زیادہ سوئیں اور زیادہ گپ شپ اور ٹاک شوز سنیں اور سنائیں‘ تو ایسے میں حکمت کی خو بو ہم سے اجنبی ہو کر گزر جائے تو تعجب نہ ہو نا چاہیے ۔ یاد رہے کہ بھوک رکھ کرکر کھانے کا حکم رمضان میں بھی بدستور قابلِ عمل ہے۔ سحری میں اگراس طرح ٹھونس ٹھونس کر بھر لیا جائے کہ سانس لینا بھی دوبھر ہوجائے تو ایسے میں سحری کے کھانے میں برکت کیسے حاصل کر سکیں گے۔ سحری سحر گاہی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی!!
سحری کے فوراً بعد سونے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دن کو ایک خوبصورت آغاز دینے کا حسین موقع ہم نے برباد کر دیا ہے۔ سحری کو سحر گاہی تک لے جانے کا طریقہ یہ ہے کہ طلوعِ آفتاب تک خود کو تلاوت اور تسبیحات ومناجات میں مشغول رکھا جائے۔فاطر کی بنائی ہوئی فطرت میں کچھ ایسا انتظام رکھا گیا ہے کہ ہمارے جسم میں کارٹیسول نامی ہارمون صبحدم اپنے نقطہِ عروج پر ہوتا ہے۔ یہ ہارمون ہمارے جسم میں چستی کی لہر پیدا کرتا ہے۔۔۔ ہمارے وجود میں ذہنی اور جسمانی مہمیز اور تحریک پیدا کرتا ہے۔ گویا صبح خیزی عین فطرت کے تقاضوں میں سے ہے۔ ہمارا دین دینِ فطرت ہے۔ فطرت اسی فاطر کا بنایاہوا ایک پروٹوکول۔ جب کوئی مسلمان پروفیسر اپنے میڈیسن کے لیکچر میں یوں گویا ہوتاہے کہ’’ فطرت نے ہمارے جسم یہ چیز یوں پیدا کی ہے‘‘۔۔۔Nature has arranged this mechanism in our body۔۔۔تو اس کے جملے کی ترکیب اورہیئت دیکھ کر طبیعت سلیمہ منقبض ہو جاتی ہے۔ ایک دہریہ سائنسدان اگر فاطر کے تصور سے بچنے کیلئے لفظ فطرت استعمال کرتا ہے تو اس کی مجبوری سمجھ میں آسکتی ہے۔۔۔ لیکن ایک کلمہ گو کو آخر کیا دقت پیش آرہی ہے کہ وہ اعلان نہیں کرتا کہ اللہ فاطر السمٰوات والارض نے یہ چیز یوں اور یوں پیدا کی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے ’’ ایک کافر اپنے کفر پر نازاں پھرتا ہے‘ ایک مومن اپنے ایمان پر فخر کیوں نہیں کرتا!!‘‘
رمضان کی برکتیں سمیٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس میں دولت سمیٹنے کی طرف توجہ کم کر دی جائے۔ بابرکت ایام اور مقامات پر اگر کسی انسان کو تکلیف اور ایذا پہنچائی جائے تو اس کا عذاب بھی دو چند ہوتا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس مہینے میں دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی روش ہمارے لیے کہیں ثواب کی جگہ عذاب ہی رقم نہ کر رہی ہو!! اس مہینے میں لوگوں میں خیرات کے ساتھ ساتھ آسانیاں بھی بانٹنی چاہئیں ۔


ای پیپر