’’پکو۔۔۔ڑے‘‘۔۔۔
22 مئی 2018

دوستو، رمضان المبارک میں وقت افطار جب دسترخوان سجا ہو تو پکوڑے کچھ اس طرح نظر آتے ہیں جیسے آسمان پہ کسی نے چمکدار تارے ٹانک دیئے ہوں۔پکوڑوں کو افطار میں وہی اہمیت حاصل ہے جو سیاست میں ’’بھٹو ‘‘ کو حاصل ہے۔رمضان المبارک آتے ہی سڑکوں اورچوراہوں پرسموسوں اورپکوڑوں کے سٹالز لگ جاتے ہیں، افطاری کیلئے کم وبیش ہرکوئی سموسوں اورپکوڑوں کی خریداری کرتا ہے، کھجور، دہی بڑے ،فروٹ چاٹ کے ساتھ سموسے اورپکوڑے دسترخوان کی شان بن جاتے ہیں،افطار کے موقع پر پکوڑے تقریباً ہر گھر کے دسترخوان کی زینت ہوتے ہیں۔ سالہاسال پکوڑوں کی خریدو فروخت جاری رہتی ہے لیکن ماہ رمضان میں اس کی اہمیت دوبالا ہو جاتی ہے۔
لفظ’’پکوڑا‘‘ سنسکرت زبان کے لفظ’’ پکواتا‘‘ سے ماخوذ ہے،پکواکا معنی’’ پکا ہوا‘‘ اور واتا کا معنی’’سوجن ‘‘ ہے۔ اس کو کھانے کی ابتداء برصغیر پاک و ہند سے ہوئی ، عصر حاضر میں یہ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ پکوڑوں کی کئی اقسام ہیں ، اس میں شامل کیے جانے والے بنیادی اجزاء میں پیاز، سبز مرچیں اور مصالحہ جات ہیں جن کو بیسن اور پانی کے پیسٹ میں ملایا جاتا ہے۔ بعد ازاں اسے گھی میں فرائی کرکے پکوڑے بنائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پکوڑے کھانے کا کوئی موسم نہیں، اسے موڈ کے مطابق کھایا ہی جاتا ہے ، لیکن پکوڑے گرمیوں کی چھٹیوں، برسات کے موسم، رمضان کے مہینے اور شام کی چائے کے ہمراہ شوق سے کھائے جاتے ہیں۔
پکوڑوں کی فضیلت پر بات کرنے سے پہلے آپ کو بتاتے چلیں ، بھارت میں پکوڑوں کے مختلف نام ہیں۔جنوبی بھارت میں اسے ’’بھجیا‘‘۔اڑیسہ اور مغربی بنگال میں اسے ’’پیاجی‘‘۔راجستھان میں، خاص طور پر جودھ پور میں’’مرچی بڑا‘‘۔جموں کشمیر میں اسے ’’کڑ ‘‘کہا جا تا ہے۔جنوبی افریقہ کے کئی علاقوں میں انہیں ’’دھلجیس‘‘ کہا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ ’’ پکوڑا‘‘یا’’ پکووڑا‘‘ کہلاتے ہیں۔ چین اور نیپال میں انہیں پکوڈا ،جب کہ صومالیہ میں انہیں’’ بیجیئے‘‘ کہا جاتا ہے۔جب کہ امریکا میں ’’برت جل‘‘۔یورپ میں ’’فریٹرس‘‘ اور جاپان میں ’’ٹیمپورہ‘‘ کہتے ہیں۔انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا پکوڑوں کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے "انڈین پکوڑے گوبھی، بینگن، یا دیگر سبزیوں پر مشتمل تیل میں تلے ہوئے چٹ پٹے کیک ہوتے ہیں۔ فریٹو میسٹو ایک اطالوی پکوان ہے، جو مکھن سے لتھڑے گوشت، سی فوڈ، اور سبزیوں سے بھرا ہوتا ہے، اور اسے زیتون کے تل میں تلا جاتا ہے۔اگر آپ پاکستان یا ہندوستان میں پلے بڑھے ہیں تو یقیناً جانتے ہوں گے کہ پکوڑا کیا ہے۔ یہ ایک ایسی دیسی ہلکی پھلکی غذا ہے جو سردی ہو یا گرمی ہر گلی کے کونے میں مل جاتی ہے۔ پکوڑا ایک مقبول سٹریٹ فوڈ ہے اور ایک عام گھریلو ساختہ پکوان بھی ہے۔پاکستان میں ہر علاقے میں اسے پکوڑے ہی کہتے ہیں۔
پکوڑا کس قوم کی ایجاد ہے اور پہلی بار اسے کہاں ، کس کے پاس اور کیا کرتے دیکھا گیا ؟مورخین کی اکثریت اس پر خاموش ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہوکہ جب وہ بتانا چاہ رہے ہوں گے تو ان کا منہ پکوڑے سے بندہوگا۔یعنی ممکنہ طور پر مورخین اجتماعی طور پر پکوڑے کھانے میں مصروف ہوں گے، یا پھر کھانے کے بعد چکنائی کی وجہ سے قلم نہ پکڑا جاتا ہو اور پھسل پھسل کر نکل جاتا ہو۔ بہرحال وجہ جو بھی ہو اس کا نقصان یہ نکلا کہ ہم پکوڑے کے نقطہ آغاز کے بارے میں الجھن کا شکار ہو گئے۔ایک مورخ نے اس کا موجد ایک مکرانی کو قرار دیا۔ جس نے بیسن کی کچھ ٹکیاں بلاوجہ تیل میں پھینکیں اور چولہا جلانا بھول گیا۔ پھر جب کافی دیر تک وہ نہ پکیں تو مکرانی غصے میں " پکو ۔۔۔ ڑے " چلایا اور بس یہی پکوڑوں کا نقطہ آغاز ہے۔
پکوڑوں کی فضیلت کے بارے میں’’راویان‘‘ بتاتے ہیں کہ یہ افطاری کا دوسرا اہم رکن ہے۔ پہلا رکن’’آف کورس‘‘ کھجور ہی ہوتے ہیں۔یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ گھر کے بنے ہوئے پکوڑے افضل ہیں اور ثواب بھی زیادہ ہے۔ رمضان کے روزے بغیر کسی شک و شبہ تمام مسلمانوں پر فرض ہیں، لیکن پکوڑے اہالیان برصغیر کے حصے میں آئے۔ضرورت ایجاد کی ماں ہے مگر پکوڑوں کا شجرہ نسب تا حال معلوم نہیں ہوسکا مگر ان کو بنانے کا کام ہمیشہ ماؤں کو کرتے دیکھا گیا۔ پکوڑے ہر سائز اور مختلف اشکال کے بنائے جاتے ہیں۔پکوڑوں کو مختلف چٹنیوں کے ساتھ کھانا ثابت ہے لیکن عصر جدید میں کیچیپ وغیرہ کا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔ اب تک پکوڑوں کی سب سے زیادہ قسمیں شیف ذاکر اور زبیدہ آپامرحومہ نے ایجاد کی ہیں۔۔۔ ابھی تک پکوڑوں کو کسی بھی محاورے کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا مگر بعض افراد کی ناک کو پکوڑے سے تشبیہ دی جاتی ہے جو کہ اخلاقی طور پر درست نہیں۔ کچھ مورخین یہ بھی لکھتے ہیں کہ سکندراعظم اس خطے میں صرف پکوڑے کھانے آیا تھا لیکن یہ کوئی ثابت نہ کرسکا۔
پکوڑے کے بارے میں کئی ایسی دلچسپ تاریخی باتیں ہیں جو سننے سے تعلق رکھتی ہیں۔کہتے ہیں کہ ہندوستان میں پہلے پکوڑا آیا۔ پھر انگریز آیا۔ اور آخر میں مرغا آیا۔ انڈے کا معلوم نہیں کب آیا۔ تقسیم سے قبل اور جنگ آزادی کے بعد یہ واقعہ بھی بڑا مشہور ہوا تھا کہ، ایک بار ایک انگریز نے رمضان میں مسلمانوں کو تنگ کرنے کا سوچا اور افطار سے چند گھڑی قبل مسلمانوں کے ایک گروہ کے پاس جا پہنچا جو روزہ کھلنے کے منتظر تھے۔ انگریز نے نخوت بھرے انداز میں ان سے پوچھا کہ آخر انہیں اس طرح پورے دن بھوکے پیاسے رہ کر ملتا کیا ہے ؟ مسلمان حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور انگریز انہیں لاجواب جان کر مزید تقریر جھاڑنے لگا۔ آخر ایک بزرگ نے نوجوان کو سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا " یہ کہہ کیا رہا ہے ؟ " نوجوان نے آہستگی سے جواب دیا " بابا معلوم نہیں انگریزی میں لگا ہوا ہے ، شاید اس کا بھی پکوڑے کھانے کا دل کرتا ہو گا‘‘۔۔۔ چنانچہ انگریز کو فوراً دو لذیذ پکوڑے پکڑا ددیئے گئے۔راوی لکھتا ہے کہ انہیں کھا کر انگریز پر عجیب رقت طاری ہو گئی۔ پھر بقیہ ساری زندگی اس نے گوشہ نشینی میں گزاری اور اکثر اس کے کمرے سے رو رو کر پکوڑے طلب کرنے کی آوازیں آتیں۔ لیکن رمضان ختم ہوچکے تھے اس لئے کسی نے اس کی خواہش پوری نہیں کی اور وہ پکوڑے،پکوڑے کرتے چل بسا،اس انگریز کے مرنے کے بعد ایک روز ایک عورت قبرستان گئی تو الٹے پیروں واپس لوٹ آئی اور بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش میں آئی تو چند گھڑی ادھر ادھر دیکھا اور پھر بے ہوش ہو گئی۔ دم کرنے کی خاطر مولوی صاحب کو بلایا گیا تو عورت نے ہوش میں آنے کے بعد مولوی صاحب کو بتایا کہ انگریز کی قبر سے پکوڑے تلنے کی بو اور چیخوں کی آوازیں آتی ہیں۔ مولوی صاحب نے عورت کو خصوصی تلقین کی کہ ایسی باتوں پر پردہ ڈالنا چاہئے اور اسے ہرگز کسی کو بتانا نہیں چاہئے۔ سو چند دنوں میں یہ خبر پورے ہندوستان میں پھیل گئی اور خوب چرچا ہوا۔
پاکستان میں پکوڑوں پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے مگر یہ اختلاف جھگڑے کا باعث نہیں بنتا بلکہ باعث رحمت و برکت ہے۔ مثلا اگر آپ کے ہاں پالک کے پکوڑے بنتے ہیں تو کسی ایسے پڑوسی کے ہاں بھیج دیں جس کے ہاں یہ قسم نہیں پائی جاتی۔ وہ اس مختلف پکوڑے پر جھگڑا نہیں کرے گا بلکہ کچھ دنوں بعد ایک پلیٹ میں آپ کے ہاں کوئی نئی قسم کا پکوڑا بھیجے گا۔ اس طرح مختلف پکوڑے اسلامی معاشرے میں امن اور محبت کا باعث بن سکتے ہیں ۔سو اس ترکیب پر عمل ضرور کیجیے گا۔


ای پیپر