رمضان اور فہمِ قرآن
22 مئی 2018 2018-05-22

قرآن ِ حکیم کے مقصد کو ا گر مختصرالفاظ میں بیان کیا جائے تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ اللہ کی وہ آخری ہدایت ہے جس پرعمل پیرا ہونے سے ہماری خیر و فلاح ممکن ہے۔ قرآن جن حقائق کو بیان کرتے ہوئے انسان کو انھیں قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے ساتھ ہی وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ان حقائق کو قبول اور رد کرنے سے انسانی زندگی اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ قرآن کے نزول کا مقصد ہمیں یہ بھی بتانا ہے کہ ہم اپنے رب کی رضاکے حصول کے لیے کن چیزوں پر عمل کریں ۔ قرآن کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمیں اپنی خواہشوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی خواہشوں کو قرآنی قوانین اور احکا مات کے تابع کرنا ہے۔ قرآن مجید میں رسولوں کی بعثت کو اللہ نے مومنوں پر احسان بتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ رسول اللہ کی آیات لوگوں کو پڑھ کر سناتے ہیں، توحید کی تبلیغ اور برائیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ لوگوں کا تزکیہ کرتے ہیں اور لوگوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں کہ وہ قرآن کی انقلابی تعلیم سے بہر ہ مند ہوکر دنیا میں فوز و فلاح اور آخرت میں ابدی کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن ِ مبین میں اس فرقان عظیم کی جو خصوصیات بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک خصوصیت سورہ یٰسین کی آیت نمبر ۲ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ " قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھر پور کتاب ہے"۔ کوئی شک نہیں کہ قرآن ِ کے مطالعہ سے انسانی ذہن کو وہ تدبر اور وسعت حاصل ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ اپنے عہد کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے ۔ قرآنی فکر کے ایک مبلغ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن پاک ایک ایسی عظیم اور پر حکمت کتاب ہے جو قدیم کی تخریب میں بے رحم اور جدید کی تعمیر میں ہمدرد ہے۔ یہ حیوانیت سے انسانیت اور انسانیت سے یزدانیت کی طرف ارتقاء کرنے میں نوعِ انسانی کی پیشوائی کرتی ہے۔ حکمتِ قرآنی سے استفادہ کے لئے ضروری ہے کہ اس کو اسی طرح پڑھا اور سمجھا جائے جیسا کہ اس کا حکم ہے۔ قرآن پر غوروفکر کی تلقین کرتے ہوئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۱۲۱ میں ارشاد ربانی ہے"جن لوگوں کو ہم نے یہ کتاب عنایت کی ہے وہ اس کو (ایسا)ہی پڑھتے ہیں جیسا کہ اس کوپڑھنے کا حق ہے یہ ہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں اور جو لوگ اس کو نہیں مانتے وہ خسارہ پانے والے ہیں۔" قرآن کریم سے منشاء الہٰی کے مطابق سبق حاصل کرنے کے لئے لازم ہے کہ قرآن کی تلاوت اس کے پورے اہتمام کے ساتھ کی جائے۔ ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں ہم تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ عام طور پر قرآن کو ترجمے کے بغیر پڑھا جاتا ہے جو تلاوت کے معنی ومفہوم کے بلکل برعکس ہے۔ تلاوت کی روح اور اس کا حق کیا ہے؟ حضور اکرمؐ کی حدیث مبارکہ ہے " قرآن کی تلاوت سے ہر حرف پر دس نیکی کا ثواب ملتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک ہی حرف ہے بلکہ الف ایک الگ حرف ہے ، لام ایک جدا حرف ہے اور میم بھی ایک علیحدہ حرف ہے‘‘۔ اصحابِ علم و بصیرت اس حدیث مبارکہ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ الم کو پڑھنے سے ۳۰ نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ اس حدیث کے ساتھ اگر لفظ تلاوت کے معنی کو سامنے رکھا جائے تو اس حدیث مبارکہ کا مفہوم پوری طرح واضح ہو جا تا ہے۔ لفظ تلاوت کا مادہ ہے " تلو" جس کے معنی ہیں پیروی کرنا ۔ لفظ تلاوت عربی کا ایک ایسا وسیع المعانی لفظ ہے جس میں پڑھنے سے لے کر پیروی کرنے تک سب کچھ داخل و شامل ہے لہٰذا اس روشنی میں مندرجہ بالا حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر قرآن ِ پاک کو فہم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی نیت سے پڑھا جائے تو حضورؐ کے مندرجہ بالا ارشاد کے مطابق ثواب حاصل ہو گا لیکن اگر قرآن پاک کو اس کے مفہوم کو سمجھے بغیر پڑھا جائے تو یہ عمل بیان کردہ حدیث مبارکہ کے بالکل برعکس ہے۔ ظاہر ہے کہ جب مفہوم ہی سے آشنائی نہ ہو گی تو عمل کس طرح ممکن ہے۔ قرآنی تعلیمات پر عمل اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم قرآن کو ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں۔ بدقسمتی سے جس کا رجحان بہت کم ہے۔
ماہر القادری مرحوم اپنی مشہور نظم ’’ قرآن کی فریاد‘‘ میں قرآن سے ہماری بے اعتنائی اور عدم توجہی کی نہایت گرفتہ دل کے ساتھ تصویر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں:
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں،آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویز بنایا جاتا ہوں،دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں
جب قول و قسم لینے کے لیے تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے، ہاتھوں میں اٹھایا جاتا ہوں
دل سوز سے خالی رہتے ہیں، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
کہنے کو میں اِک اِک جلسہ میں پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں
تلاوتِ قرآن ِ ایک ابتدائی قدم ہے فہم و تدبر اور عمل و اخلاص کا ٗمحض تلاوت تنہا کوئی چیز نہیں یہ ایک ضروری کڑی ہے جو اپنے پورے سلسلے کی دوسری کڑیوں کے ساتھ مل کر اپنی قدروقیمت معین کرتی ہے، تلاوت قرآن صرف ادائے الفاظ نہیں اس کے ساتھ فہم قرآن پھر تدبر قرآن ہے اور پھر عمل کی کوشش ہے یہ تمام کڑیاں مل کر لفظ تلاوت کی تشریح کرتی ہیں اگر تلاوت قرآن ِ پاک کے وقت یہ تمام سلسلے ملحوظِ خاطر نہ ہوں تو تنہا تلاوت سے نہ فہم حاصل ہو سکتا ہے اور نہ تدبر اور ظاہر ہے کہ جب کسی چیز کا فہم ہی نہ ہو گا اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ لہٰذقرآنِ پاک سے استفادہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب اسے اس کے مفہوم کے ساتھ پڑھا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے اسرار و رموز ہم پر عیاں ہوں اور مسلمان ایک بار پھر طبقات سے پاک توحیدی معاشرہ قائم کر سکیں۔
قرآن فہمی کو عام کرنے میں ہماری مساجد کا اہم اور بنیادی کردار ہوسکتا ہے۔ جہاں ہونا یہ چایئے کہ قرآن کریم کی چند مخصوص آیات و سورہ مبارکہ کو ہر نماز میں دہرانے کی بجائے قرآن کی تمام آیات کی تلاوت کو معمول بنانے کے ساتھ ساتھ نمازباجماعت سے پہلے نماز میں پڑھی جانے والی آیات کا مفہوم بھی مختصرا بیان کیا جائے ۔ یہ عام تجربہ ہے کہ جن آیات کے معنی و مفہوم سے ہم آشنائی رکھتے ہیں ان کی قرات سننے سے ہمارے قلوب و اذہان میں ایک منفرد سرور اور جذبے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ قرآنی فکر کو نئی نسل کے اذہان میں منتقل کرنے کے لیے اربابِ اختیار کو چایئے کہ نصاب میں عربی کو لازمی مضمون کا درجہ قرار دیں ۔ ہمیں بھی اپنے گھروں میں بچوں کو ترجمے کے ساتھ قرآن مجید پڑھانا چاہیے تاکہ ان میں قرآنی تعلیمات کو سمجھنے اور عمل کرنے کا شعور پیدا ہوسکے اور ایک باوقار اور پُر اعتمادمستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اقبال ؔ نے ایسی ہی صورتحال کے لیے تلقین کرتے ہوئے کہاتھا کہ:
ہو قرآن میں غوطہ زن اے مرد مسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار


ای پیپر